Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
106 - 126
قلت کذلک البیع للتقرب مثل القرب والتقرب جائز فکذا البیع لہ بل یلزم علیہ جواز البیع للاکل ایضا لجواز الاکل بنص القراٰن العظیم فالحق فی التعلیل ماقدمنا عن الامام الزیلعی من انہ قربۃ ۱؎ وحینئذ لابد من کلیۃ الکبرٰی القائلۃ بان کل قربۃ تجوزہہنا ینتج ان البیع للتصدق یجوز ہہنا وبہ یتضح جواز سائر القرب وضوح الشمس فی رابعۃ النہار ہذا وللعبد الضعیف لطف بہ القوی اللطیف تقدیر آخر اشمل واظہر لبیان الفرق تظہربہ المسائل جمیعا ان شاء اﷲ تعالٰی۔
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تاویل بعینہٖ دیگر کا رثواب میں بھی جاری ہے کہ یہ سارے کار ثواب جائزہیں، تو اس کے لئے بیع بھی جائز ہونا چاہئے بلکہ اس توجیہ سے تو اشیائے مستہلکہ کے عوض بیچنا بھی جائز ہونا چاہئے۔ مثلا غلہ کے عوض کھال بیچیں اور غلہ کو اپنے استعمال میں لائیں کہ قربانی کو کھانا جائز اور بیع اس کے حصول کا ذریعہ، اور جو حکم مقصد کا وہی ذریعہ کا، تویہ بیع بھی جائز۔ حالانکہ اس بیع کے ناجائز ہونے کا جزئیہ کلام ائمہ میں موجود ہے۔

تو ثابت ہوا کہ اصل علت جوا زیہ نہیں کہ وسیلہ مقاصد کے حکم میں ہے بلکہ اصل علت وہی ہےکہ حصول زر اور تمول کی غرض سے بیع ناجائز ہے۔ اور مقاصد خیر کی غرض سے جائز، جیسا کہ امام زیلعی نے اس کے جواز کی علت میں فرمایا: ''لانہ قربۃ'' (اس لئے کہ یہ کار ثواب ہے) اور منطق کی زبان میں یہ قول قیاس کا صغرٰی ہوا اور نتیجہ دینے کے لئے کبرٰی کاکلیہ ہونا ضروری ہے۔ جو اس طرح ہوگا، ہر قربت جائز ہے تو بات نصف النہار کی طرح واضح ہوگئی کہ ہر قربت اور کار ثواب کے لئے بیع جائز ہے۔ وﷲ الحمد
 (۱؎ تبیین الحقائق   کتاب الاضحیہ     المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ بولاق مصر    ۶/ ۹)
فاقول: وباﷲ التوفیق الجہات ثلث الاکل والادخار والائتجار وہو طلب الاجر بای وجہ کان فقد اخرج ابوداؤد فی سننہ بسند صحیح رواتہ کلہم من رجال الصحیحین ماخلا مسددافثقۃ حافظ من شیوخ البخاری عن نبیشہ الخیر الہذلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انا کنا نہینا کم عن لحومہا ان تاکلوہا فوق ثلث لکی تسعکم جاء اﷲ بالسعۃ فکلوا وادخروا وائتجروا الا وان ہذا الایام ایام اکل و شرب وذکر اﷲ عزوجل ۱؎ اھ والائتجار باطلاقہ یشتمل التصدق وسائر وجوہ التقرب کما لایخفی فان فسرہ مفسر بالتصدق فلیکن التصدق فی کلامہ بالمعنی الاعم علی ماسیأتیک تحقیقہ ان شاء اﷲ تعالٰی۔
ایک دوسری تقریر: شرعا قربانی کے مصرف کے تین جہتیں ہیں: اکل (کھانا) ادخار (جمع کرنا) ایتجار (کار ثواب) میں صر ف کرنا چاہے کون سابھی کار ثواب ہو، جیسا کہ ابوداؤد نے ایک ایسی سند سے جس کے تمام راوی بخاری اور مسلم کے رواۃ میں ہیں، ایک صاحب حضرت مسدد ایسے نہیں تو وہ ثقہ ہیں، حافظ ہیں، اورامام بخاری کے اساتذہ میں ہیں، الغرض یہ حدیث صحیح حضرت نبیشہ ہذلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے: ''حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ہم تم کو قربانی کا گوشت تین دن سے زائد روکنے سے منع کرتے تھے، اس کا مقصد مسکینوں پر آسانی تھی، اب اللہ تعالٰی نے کشادگی فرمادی، تو اب کھاؤ، جمع کرو اور کارثواب میں صرف کرو۔ سنو یہ دن ہی کھانے پینے اور ذکر الہٰی کے دن ہیں'' تو اس حدیث سے مطلقا ہر کار ثواب کے لئے بیچنا جائز ہوا۔
 (۱؎ سنن ابی داؤد    کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۳۳)
فان قلت الوارد فی حدیث احمد والبخاری ومسلم وغیرہم عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کلوا وادخروا وتصدقوا۱؎، فلیحمل الائتجار علی التصدق لا تحاد الحکم والحادثۃ۔

قلت کلا فان الامر ہہنا لیس للوجوب باجماع عامۃ العلماء الامۃ، منہم ساداتنا الائمۃ الاربعۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم، وقد نصوا فی غیر ماکتاب ان لو اکلہ کلہ ولم یتصدق بشیئ منہ لا شیئ علیہ ومعلوم ان الترخیص والترغیب فی مقید لاینا فی الترغیب والترخیص فی مطلق، فلا معنی للحمل ولا داعی الیہ۔
سوال وجواب: اگر کوئی آدمی یہ کہے کہ کار ثواب سے مراد وہی فقراء پر صدق کرنا ہے۔ توہمیں اصرار ہے کہ حدیث شریف کا لفظ ایتجار تمام امور خیر کو عام ہے۔ اس کو تملیک فقراء والے صدقہ میں منحصر کرناتحکم ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی صاحب حدیث عام کو صدقہ خاص پرمحمول کرنے کی یہ دلیل دیں، بخاری ومسلم وغیرہ کتب احادیث میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ایک حدیث مروی ہے جس میں ایتجار کے بجائے تصدقوا کا لفظ ہے۔ تو ان دونوں حدیثوں میں تطبیق دینے کے لئے کیوں نہ ہم لفظ ایتجار(کار ثواب) کو صدقہ پر محمول کریں کیونکہ اصول کا مسئلہ یہ ہے کہ جب حکم اور واقعہ ایک ہو تو عام کو خاص پر محمول کیا جاتاہے اور یہاں پر ایسا ہی ہے کہ واقعہ دونوں حدیثوں میں قربانی کے جانور کا ہے اور حکم بھی دونوں جگہ ایک ہی ہے، بس فرق یہ ہے کہ ابو داؤد شریف کی حدیث میں  صدقہ عام کاحکم ہے۔ اور صحیحین کی حدیث میں صدقہ خاص کا لہذا یہاں ایتجار سے مراد صدقہ ہی ہے۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات صحیح ہے کہ جب حکم اور واقعہ ایک ہی ہو تو عام کو خاص پر محمول کیا جائے گا لیکن یہ حکم عمومی نہیں کہ ہر واجب و مستحب کو عام ہو، بلکہ صرف حکم وجوبی کے ساتھ خاص ہے کہ احکام واجبہ میں اتحاد حکم وواقعہ کے وقت عام کو خاص پر محمول کیا جائے گا اور قربانی کے مصرف کے سلسلہ میں جو حکم ہے استحبابی ہے اس بات پر چاروں اماموں کا اجما ع ہے لہذا مطلق کو مطلق اور مقید کو مقید رکھا جائے گا ایک کو دوسرے پرمحمول کرنےکی ضرورت نہیں تو جس حدیث میں تصدق کا لفظ ہے اس سے وہی مراد لیں گے اور جس میں مطلقا کار ثواب کالفظ ہے اس سے جمیع وجوہ خیر مراد لیں گے۔ حضو رصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے باری باری دونوں ہی امور کی طرف رغبت دلائی۔
(۱؎ صحیح مسلم  کتاب الاضاحی باب ماکان من النہی عن اکل لحوم الاضاحی الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی  ۲/ ۱۵۸)
و سر المقام ان الحمل عندنا ضروری لایصار الیہ الالضرورۃ وہو ان یتمانعا بحیث لایمکن العمل بہما اما حیث لا تمانع فتحن نجری المطلق علی اطلاقہ حملا للفظ علی ظاہرہ وعملا بالدلیل بتمامہ قال المولی المحقق علی الاطلاق محمد بن الہمام قدس سرہ فی فتح القدیر اجیب عنابانا انما نحمل فی الحادثۃ الواحدۃ للضرورۃ ۱؎ الخ، وقال فی تشیید ہذا الجواب تحقیقۃ ان الحمل لما یجب الا للضرورۃ وہی المعارضۃ بین المطلق والمقید ۲؎ الخ۔ فالمناط عند التنقیح ہو التمانع دون اتحاد الحکم والحادثۃ۔
اس کارمزیہ ہے کہ علمائے احناف کے نزدیک مطلق کو مقید پر حمل کرنے کاحکم بدرجہ مجبوری ہے یعنی جب مطلق اور مقید دونوں کو اپنے اپنے محل پر حمل کرنا ممکن نہ ہو، اور جہاں ایسا ممکن ہو حمل کرنے کی بالکل ضرورت نہیں، امام ابن ہمام فرماتے ہیں: ''حادثہ واحدہ میں مطلق کو مقید پر حمل کرنے کاحکم بضرورت ہے جب مطلق اور مقید کے حکم میں تعارض ہو تو مطلق کو مقید پر حمل کیا جائے کہ مجبوری ہے'' تو ثابت ہوا کہ اصل مطلق کو مقیدپر حمل کرنے کا سبب مطلقا اتحاد حکم وحادثہ نہیں بلکہ دونوں حکموں کا تعارض اور منافاۃ ہے۔
 (۱؎ فتح القدیر) (۲؎ فتح القدیر)
یجزم بذٰلک من عاشرعرائس نفائس عباراتہم فقد حکموا ان لاحمل ان وردافی السبب اذ لاتجاذب فی الاسباب والا ان کان منفیین لامکان الجمع بالامتناع مطلقا وانہ یجب الحمل ان اتیافی حکمین مختلفین یوجب احدہما تقیید الاخر بتوسط لازم، وذٰلک کان ینفی المقید لازم اطلاق المطلق فینتفی بانتفائہ فیتقید لامحالۃ کما فی اعتق عنی رقبۃ ولا تملکنی رقبۃ کافرۃ فان النہی عن تملیک کافرۃ ینفی جواز اعتاقہا عنہ، اذ لا عتاق عنہ بدون تملیکھا عنہ۔
مزید وضاحت کے لئے ہم کلام علماء سے چند مثالیں پیش کرتے ہیں:

(الف) تلویح وغیرہ میں ہے: ''مطلق اور مقید اگر اسباب کے بیان میں واردہوں تو مطلق کو مقید پر حمل نہیں کیا جاسکتا اس لئے کہ ایک شیئ کے چند اسباب ہوسکتے ہیں، تو تعارض نہیں، توحمل کی ضروت نہیں۔''

 (ب) تلویح میں اسباب متعدد اور اختلاف حوادث کی صورت میں بھی مطلق مقید پر حمل کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ''اگر ایک ہی حادثہ میں ایک حکم میں مطلق کی نفی ہو اوردوسرے میں مقید کی نفی، تو مطلق کو مقید پر محمول نہیں کیا جائے گا، کہ ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں، اصل مراد دونوں کی نفی ہے۔
ہاں دو ایسے مختلف احکام میں مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا، جہاں ایک حکم دوسرے کی تقیید کو مستلزم ہو، جیسے کسی نے کسی سے کہا ہماری طر ف سے ایک غلام آزاد کرو۔ اور مجھے کسی مشرک غلام کا مالک نہ بنانا، ایسی صورت میں آمر کی طرف سے صرف مسلمان خرید کرہی آزاد کیا جائے گا اگر چہ حکم مطلقا آزاد کرنے کا ہے۔ لیکن مشرک غلام کی ملکیت کی نفی نے تملیک کو صرف مسلم غلام تک خاص رکھا اور اسے مالک بنائے بغیر اس کی طرف سے آزاد نہیں ہوسکتا تو جس کا مالک بناسکتاہے یعنی مسلمان کا، اسی کو آزاد بھی کرے گا، آزادی کا حکم لاکھ عام ہو۔ـ''
وقد اجابوا القائلین بالحمل فی الاسباب واختلاف الحوادث بعدم التعارض کما فی التلویح وغیرہ، وعللوا وجوب الحمل عند الاتحاد بامتناع الجمع ممثلین لہ بقولہ تعالٰی فصیام ثلثۃ ایام ۱؎ مع قرائۃ ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ بزیادۃ متتابعات، قالوا فان المطلق یوجب اجزاء غیر المتتابع والمقید یوجب عدم اجزائہ کما فی التوضیح ۲؎ وغیرہ فقد افاد وان الحمل خاص بالایجاب دون الجواز و الاستحباب،
Flag Counter