فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
105 - 126
الجواب: الحمد ﷲ وبہ نستعین، والصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلین محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین۔ ماتقرب الی اﷲ تعالٰی بالقرابین، نعم اذا باعہ بالدراہم لالمال یتمول او ربح یتحصل، بل لیصرفہ الی وجوہ القرب، ومرضات الرب، جازلہ ذالک وان لم یوجد تملیک ھنالک، فان المطلوب فی الاضاحی مطلق التقرب دون خصوص التملیک من الفقیر ولذا جازت الاباحۃ ولو لغنی۔
جواب : اللہ تعالٰی کے لئے تعریف ہے اور ہم اسی سے مدد مانگتے ہیں درود وسلام سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر اور ان کی آل واصحاب پر، جب تک لوگ خدا کے لئے قربانی کرتے رہیں، قربانی کی کھال کو تمول کی غرض سے نہ بیچاہو بلکہ کار ثواب میں صرف کرنے کی غرض سے بیچا ہو، تو یہ بھی جائزہے اور ان مصارف میں اس کا صرف کرنا بھی جائز ہے، اگر چہ وہاں فقیر کو مالک نہ بنایا گیا ہو، کیونکہ قربانی کا مقصد مطلق کا ر ثواب ہی ہے۔ فقیر کو مالک بنانا نہیں، اسی لئے قربانی کا گوشت وغیرہ مالدارکو دینا بھی جائز ہے۔
والمعنٰی المانع فی البیع انما ہو التصرف علی قصدالتمول کما نص علیہ الائمۃ الاعلام، قال فی الہدایۃ لایشتری بہ مالا ینتفع بہ الاباستھلاکہ کالخل والابازیر اعتبارا بالبیع بالدراہم والمعنی فیہ انہ تصرف علی قصد التمول ۱؎ اھ۔
اصل میں قربانی کی کھال کی بیع اس وقت منع ہے جب اس کو اپنی ذات کے تمول کے لئے بیچا ہو، اسی کی علماء اعلام کے کلام میں تصریح ہے صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
مسئلہ کے جزئیات: ''قربانی کی کھال سے ایسی چیز نہ خریدے جس کو فنا کئے بغیر اس سے فائدہ نہ اٹھایا جاسکے جیسے سرکہ یاغلہ سے بدلنا (کہ ان کو ختم کرکے ہی ان سے فائدہ اٹھایا جاسکتاہے) دراہم کے ساتھ بیع کرنے کی ممانعت کی وجہ بھی یہی ہے کہ ا س نے کارثواب کی چیز کو اپنی ذات کے نفع اور مالداری کے لئے برتا'' ۔
(۱؎ الہدایہ کتاب الاضحیۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸)
وفی مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر لا یبیعہ بالدراہم لینفق الدراہم علی نفسہ وعیالہ والمعنی انہ لا یتصرف علی قصد التمول ۲؎ اھ ومثلہ فی البنایۃ شرح الہدایۃ للعلامۃ البدر وغیرہ من اسفار العلماء، الغر، وظاھر ان البیع للقرب لیس من التمول فی شیئ فلا وجہ لمنعہ بل ہو قربۃ لکونہ فعل لا جل قربۃ، فیکون اقامۃ للمطلوب الشرعی لادخولا فی الوجہ المنہی،
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے: ''روپیہ کے بدلے بیچنا اس وقت منع ہے کہی وہ روپیہ اپنے اور بال بچوں پرصرف کرکے کہ یہی'' تصرف علی وجہ المتول'' ہے'' یہی بات بنایہ وغیرہ کتب کبارمیں ہے۔ تو ثابت ہو اکہ کھال کی وہی بیع منع ہے جو اپنی ذات کے نفع کے لئے دراہم یا برتنے سے ختم ہوجانے والی چیز کے بدلے میں ہو اور یہ امر بالکل ظاہر ہے کہ کار ثواب کے لئے بیچنے کا ا س سے کچھ علاقہ نہیں، توایسی بیع ممنوع ہونے کی کیا وجہ ہے بلکہ یہ تو اسی مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے جس کے لئے قربانی ہوئی، تو اس کو بدرجہ اولٰی جائز ہونا چاہئے۔
(۲؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۵۲۱)
الا تری الی ماقال الامام العلامۃ فخر الدین الزیلعی فی تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق لو باعہا بالدراہم لیتصدق بہا جاز لانہ قربۃ کالتصدق ۱؎ اھ فانما علل الجواز بکونہ قربۃ، ومانحن فیہ ایضا کذلک، فیکون مثلہ فی حکم الجواز بکونہ قربۃ، ومانحن فیہ ایضا کذلک، فیکون مثلہ فی حکم الجواز، ویالیت شعری من این یحکم بوجوب التصدق مع انہ لم یکن معینا فی القربان راسا ولا حدث اٰخر ما یوجبہ عینا بخلاف ما اذا باع بالدراہم لینفقہا علی نفسہ وعیالہ حیث یجب التصدق لحدوث التمول المنہی عنہ
علامہ فخر الدین زیلعی اپنی شرح کنز میں فرماتے ہیں:''اگر کھال کو صدقہ کرنے کی نیت سے بیچا تو جائز ہے۔ کیونکہ یہ کار ثواب ہے۔ جیسے گوشت ہی صدقہ کردیتا۔'' امام زیلعی نے اپنے کلام میں بیع الدراہم کے جواز کی وجہ مطلقا کارثواب بتایا، بیع مسئولہ بھی کار ثواب کے لئے ہی ہے، پھر اس کے ناجائز ہونے کی کیا وجہ ہے۔ یہ بلاشبہ جائز ہے۔ ایسے پیسوں کا صدقہ واجب قرار دینا بالکل بے اصل بات ہے۔ جب خود قربانی کے گوشت اور کھال کا صدقہ کرنا واجب نہیں، تو اس کے دام کا صدقہ کس طرح واجب ہوگا، جبکہ صدقہ کو واجب کرنے والی کوئی نئی چیز پیدا بھی نہ ہوئی۔ ہاں وہ بیع بالدراہم جو اپنی ذات کے انتفاع کے لئے ہو، وہ ضرور بیع منہی عنہ ہے۔ کہ اس بیع کا مقصد مال حاصل کرناہے۔ اور یہ شرعا منع ہے۔
(۱؎ تبیین الحقائق کتا ب الاضحیہ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ بالاق مصر ۶/ ۹)
اقول: والسرفی ذٰلک مایستفاد من کلمات العلماء الکرام ان اصل القربۃ فی الاضحیۃ انما تقوم باراقۃ الدم لوجہ اﷲ تعالٰی فمالم یرق لایجوز الانتفاع بشیئ منہ حتی الصوف واللبن وغیر ذٰلک لانہ نوی اقامۃ القربۃ بجمیع اجزائہا فاذا اقیمت وحصل المقصود ساغ الانتفاع علی جمیع الوجوہ۔ بیدانہ لما کان شیئا تقرب بہ الی المولٰی سبحٰنہ وتعالٰی، والتقرب والتمول ضدان متباینان لایلتئمان فقد خرج بذٰلک عن جہۃ التمول بحیث لاعود الیہ ابدا فاذاقصد بشیئ منہ التمول فقد خالف واورث ذٰلک خبثا فی البدل، وایما مال حصل بوجہ خبیث فسبیلہ التصدق اما القربات فلا تنا فی التقرب بل تحققہ ولا تورث خبثا بل تزھقہ فمن این تحرم وتجب تصدقہ، قال الامام العینی فی البنایۃ المعنی فی اشتراء مالاینتفع بہ الابعد استہلاک انہ تصرف علی قصد التمول وہو قد خرج عن جہۃ التمول فاذا تمولتہ بالبیع وجب التصدق لان ہذا الثمن حصل بفعل مکروہ فیکون خبیثا، فیجب التصدق ۱؎ اھ
اس کا بھید یہ ہے کہ قربانی میں اصل کارثواب اللہ کے لئے خون کا بہانا ہے۔ اسی لئے جب تک جانور سے یہ اصل غرض حاصل نہیں ہوتی اس سے ہر قسم کا انتفاع مطلقا منع ہے۔ حد یہ ہے کہ اون اور دودھ سے بھی انتفاع جائز نہیں، نہ قربانی کرنے والے کو نہ غیر کو، اور جب اصل غرض حاصل ہوگئی تو اس کے تمام اجزاء سے ہر قسم کا انتفاع جائز ہوگیا، لیکن قربانی شدہ جانور کو کلاً یا بعضا کسب زر کے لئے بیچنا اس کی قرابت اور کارثواب سے پھیر کردینے کی طرف موڑ دینا ہے۔ اور کارثواب اور حصول زر میں منافات ہے۔ اسی لئے اس طرح بیع ناجائز اور منع ہوگی اور جو روپیہ اس طرح حاصل ہوگا وہ مال خبیث ہوگا اور مال خبیث کا شرعی حکم صدقہ کرنا ہی ہے۔ اور صدقہ کی غرض سے بیچنے اور قربانی میں کوئی منافات نہیں کہ یہ بھی کار ثواب اور وہ بھی کار ثواب، تو یہ ایک طرح سے اسی کی تکمیل ہے تو اس سے حاصل شدہ رقم خبیث نہ ہوگی، لہذا یہ بیع بھی حرام نہ ہوگی، اسی بات کو علامہ عینی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے بنایہ میں ارشاد فرمایا: ''جس چیز سے انتفاع اس کے فنا کے بغیر نہ حاصل ہو ایسی چیز سے بیع حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس قربانی سے بیع حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس قربانی کے جانور میں تمول کی غرض سے تصرف ہوا حالانکہ وہ جانور تمول کی جہت سے نکل کر ہمیشہ کے لئے تقرب کی جہت میں داخل ہوگیا ہے۔ تو جب سے بیع کے کسب زر کیا اس کا صدقہ واجب ہوا، اس لئے کہ یہ قیمت فعل مکروہ سے حاصل ہوئی، توہ خبیث ہوئی، اور اس کا صدقہ واجب ہوگیا''
(۱؎ البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب الاضحیہ المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمہ ۴/ ۱۹۰)
وبہ تبین وان کان (عہ) بینا بنفسہ ان لیس کل تبدل بمستھلک تمولا والالما جاز البیع بالدراہم بنیۃ التصدق ایضا لصدق التمول علیہ حینئذ فیکون تصرفا ممنوعا خبیثا وہو خلاف المنصوص علیہ ویکون التصدق اذذاک لازالۃ الخبث والخروج عن المآثم لا لاکتساب الثواب والتقرب الی رب الارباب ولایجوز لہ فیہ رجاء القبول، فان اﷲ طیب لایقبل الا الطیب ۲؎، ولو رجاء لباء باثم علی اثم فان ارتجاء القبول فی مال خبیث اثم بحیالہ کما صرحوا بہ وہذا کلہ باطل بالبداہۃ فثبت ان لیس کل تبدل بمستھلک تمولا و ان البیع للتصدق خارج عنہ فکذا السائر القرب اذلا فارق یقضی بکون ہذا تمول وذاک غیرہ ومن ادعاہ فلیات ببرہان علی دعواہ ولم یقدر علیہ ان شاء اﷲْ۔
سوال وجواب: یہاں اگر کوئی یہ کہے کہ یہ بات تو سب کے نزدیک مسلم ہے کہ کھال کی بیع بطور تمول ناجائز ہے۔ اور حاصل ہونے والی قیمت خبیث ہے۔ ہمارایہ کہنا ہے کہ کسی ایسی چیز کے بدلے بیچنا جو برتنے سے ختم ہوجائے یہ بھی بیع بطور تمول ہے تو کار ثواب کے لئے بھی اس طرح بیچنا بطور تمول ہوا۔ جس کو ناجائز ہونا چاہئے۔ اور قیمت کا صدقہ واجب ہونا چاہئے۔
جواب یہ ہے کہ اس خیال کی تردید امام عینی کاکلام کررہا ہے کیونکہ انھوں نے تصدق کے لئے مستہلک سے بھی بیع کو جائز قرار دیا ہے۔ حالانکہ اس پر بقول آپ کے بیع برائے تمول صادق آنا چاہئے۔ اور اس کو حرام ہونا چاہئے، اور اس کا تصدق بلانیت ثواب ضروری ہونا چاہئے جو مال خبیث کا حکم ہے اس سے ثواب کی امید رکھناگناہ بالائے گناہ ہونا چاہئے اور یہ سب باطل ہے۔ کیونکہ یہاں تصدق اور طلب ثواب کی نیت سے یہ بیع ہوئی،
پھر بھی امام عینی نے اس کو جائز قرار دیا، توثابت ہوگیا کہ مستملک سے بیع مطلقا تمول کے لئے نہیں ہوتی۔
عہ: فان نفس لفظ التمول یدل بعبارتہ علی المال وبہیئاتہ علی تحصیلہ لنفسہ کما لایخفی ۱۲ منہ قدس سرہ
کیونکہ تمول اپنے لفظ کے اعتبار سے مال پر اور صورت کے اعتبار سے اپنی ذات کے لئے تحصیل پر دلالت کرتاہے ۱۲ منہ قدس سرہ،
(۲؎ مسند امام احمد بن حنبل از مسند حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۳۲۸)
فان قال قائل انما جاز البیع للتصدق لان للوسائل حکم المقاصد فالبیع للتصدق مثل التصدق و التصدق جائز فکذا البیع لہ۔
ایک اور سوال وجواب: اگر کوئی یہ کہے کہ صدقہ کی غرض سے بیع جائز ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بیع صدقہ کا ذریعہ اور وسیلہ ہے اور جو حکم مقصد کا ہوتا ہے وہ وسیلہ کا بھی ہوتاہے صدقہ جائز ہے تو اس کا وسیلہ بیع بھی جائز ہوگا۔