| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ) |
مسئلہ ۲۹۱: مسئولہ عنایت بیگ منیجر کارخانہ گلاب کمپنی، سکندرہ راؤ، ضلع علی گڑھ بروز شنبہ ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ناصران شرع متین کہ ہمارے قصبہ سکندریہ راؤ میں مدرسہ اسلامیہ ہے۔ اس میں قرآن شریف، اردو، انگریزی پڑھائی جاتی ہے۔ ا س کی امداد کے لئے چرم قربانی دینا موجب ثواب ہے یانہیں، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس میں انگریزی کی تعلیم ہے اس لئے اس کی امداد ٹھیک نہیں ہے۔
الجواب : مصرف قربانی میں تین باتیں حدیث میں ارشاد ہوئی ہیں
کلوا وادخروا وائتجروا ۲؎
کھاؤ اور ذخیرہ کرو اور ثواب کا کام کرو۔ انگریزی پڑھنا بیشک کوئی ثواب کی نہیں، اگریہ احتیاط ہوسکے کہ اس کے دام صرف قرآن مجید وعلم دین کی تعلیم میں صرف کئے جائیں تو دے سکتے ہیں ورنہ نہیں واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی آفتاب عالم پریس لاہہور ۲/ ۳۳)
مسئلہ ۲۹۲: از شاہجہانپور تاجر خیل افضل المدارس مرسلہ مولوی محمد الدین صاحب ۷/ ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ تاج العلماء افضل الفضلاء حضرت! یہ استفتاء نہایت ضروری ہے مخالفین کا مقابلہ ہے۔ بہت جلد جواب سے مطلع فرمائے گا۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں، بعض جگہ دستور ہے چند گائے جمع کرلی گئیں، اور ان میں حصے مقرر کردئے، اور مالک حصص سے کہہ دیا کہ یہ گائے تمھاری طرف سے کی جاتی ہے۔ اس شرط پرکہ یہ چرم فلاں مدرسہ میں دینا ہوگا فلاں کام میں صرف کرنا ہوگا اس قسم کے شرائط عندالشرع جائز ہیں یا ناجائز؟ بینوا توجروا
الجواب : جبکہ کوئی شخص ان میں کسی معین گائے کا ایک حصہ یا چند حصص خریدے اور ان لوگوں کو اپنی طرف سے قربانی کرنے کی اجازت دے اور یہ شرط ٹھہرے کہ اس کی کھال مدرسہ دینیہ یا فلاں نیک کام میں صرف کرنا ہوگی تویہ جائز ہے۔ اس میں حرج نہیں۔
وھوان کان بیعا بشرط فلیس شرطا فیہ نفع احد المتعاقدین، اوالمعقود علیہ الصالح للاستحقاق۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
یہ اگر چہ بیع بالشرط ہے لیکن س شرط میں عاقدین اور معقود علیہ میں سے کسی کا نفع نہیں ہے معقود علیہ نفع کے استحقاق کا اہل نہیں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ (۱۳۰۷ھ) (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
مسئلہ ۲۹۳: بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ماقولکم دام فضلکم فیمن باع جلد اضحیتہ لیصرف ثمنہ فی وجوہ القرب کاعانۃ المدارس الاسلامیۃ وشراء حصر المساجد وزیت قنادیلہ وغیر ذٰلک من القربات التی لا تملیک فیہا۔ فہل ہو جائز والصرف الی تلک الوجوہ سائغ ام لا۔ بل یکون صدقۃ واجبۃ لایصرف الا فی مصارفہا افیدونا رحمکم اﷲ تعالٰی۔
خلاصۃ ''الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ''
مسئلہ: علمائے دین ا س مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ قربانی کی کھال کو راہ ثواب میں خرچ کرنے کے لئے بیچنا جیسے مدارس اسلامیہ کی اعانت مسجد کے لئے چٹائی، روشنی وغیرہ کارثواب جس میں کسی خاص فقیر کو مالک نہیں بناتے، جائز یا ناجائز؟ اور ایسا پیسہ ان مصارف میں صرف ہوسکتاہے یا وہ صدقہ واجبہ ہے اور اس کافقیر کو مالک بنانا ضروری ہے۔ بینوا توجروا