Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
103 - 126
مسئلہ ۲۸۶: از کانپور     مرسلہ مولوی سلیمان صاحب

قربانی کے چمڑا کا روپیہ مسکینوں کو نہ دے بلکہ اس روپیہ سے فوائد عوام کے واسطے کتب خانہ میں قرآن شریف وکتب عربیہ وفارسیہ وانگریزی وبنگلہ وغیرہ خرید کرکے رکھنا جائز ہے یانہیں؟
الجواب :جائز ہے جبکہ وہ دینی کتابیں ہوں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۷: از بارہ بنکی مسئولہ ریاض حسین ناظم انجمن نور الاسلام ۱۶صفر ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قربانی کی کھال کی قیمت ایک ایسی انجمن میں جس کے اغراض ومقاصد دستور العمل منسلکہ سے واضح رائے عالی ہونگے،صرف ہوسکتی ہے؟
الجواب :مقاصد کے عام الفاظ ہمیشہ دل خوش کن ہوتے ہیں، اعتبار واقع کاہے۔ اگر یہ انجمن حقیقۃ اہلسنت کی ہے۔ جن کے عقائد وہابیت ودیوبندیت وغیرہما ضلالت سے پاک ہیں،اور بچوں کو اسی مذہب حق کے مطابق تعلیم ہوتی ہے۔ تو بیشک چرم قربانی اس میں صرف کرنے کو دیا جاسکتاہے۔ اور اس کے مصارف کے لئے بیچ کر قیمت بھی اس میں دی جاسکتی ہے۔ تبیین الحقائق امام زیلعی میں ہے:
لانہ قربۃ کالتصدق ۱؎
 (کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ تبیین الحقائق     کتاب الاضحیۃ     المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ بولاق مصر    ۶ /۹)
مسئلہ ۲۸۸: از پٹنہ سٹی اشرف منزل مرسلہ سید محمد فرید الدین صاحب ۲۰ / ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہمارے شہر پٹنہ میں ایک انجمن جس کا نام حفظ المساجد ہے قائم ہوئی ہے۔ اس کا مقصد محض مرمت ومساجد وتعمیر منہدم مسجد وں کی ہے۔ اس انجمن میں تمامی امراء وغرباء علی قدر مراتب دامے درمے امداد کرتے ہیں، اب یہ انجمن چاہتی ہے کہ چرم قربانی عیدالاضحی بھی اس کی مدد میں شامل کیا جائے اگرچرم قربانی عید الاضحی یا قیمت چرم اس انجمن میں دیا جائے تو جائز ہے یاناجائز؟ بینوا توجروا
الجواب : جائز ہے
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وائتجروا ۲؎
 (حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: اجر وثواب حاصل کرو۔ (ت)
 (۲؎ سنن ابی داؤد    کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی     آفتاب عالم پریس لاہور     ۲/ ۳۳)
زیلعی وعالمگیری میں ہے:
لانہ قربۃ کالتصدق ۱؂
 (کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ تبیین الحقائق     کتاب الاضحیۃ     المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر    ۶ /۹)

(فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الاضحیۃ  الباب السادس     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۰۱)
مسئلہ ۲۸۹: از قصبہ کٹرہ تحصیل تلہر ضلع شاہجہانپور محلہ مڑھی مرسلہ عبدالغفار خاں ۱۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میں نے اگلے سال گائے قربانی کی تھی، اس کی کھال فروخت کرکے اور وہ روپیہ میں نے خداکی راہ میں اس طرح پر خیرات کیا کہ کھانا پکایا اور بھوکوں کو تقسیم کیا، اورمجھ کو محرم میں چھٹی ملی،اور ادھر اُدھر نہیں ملی، تو مجھ سے دو چار لوگوں نے کہا یہ بیکار خرچ کیا، اس کا عذاب تا قیامت تجھ کو ہوگا، اس واسطے کہ تم نے محرم میں اماموں کو خیرات دی، تم کو چاہئے کہ مسجد یا اسلامیہ مدرسہ میں فرش دئے ہوتے۔ یا یہاں ایک فقیر صاحب ایک پیر کا عرس کرتے ہیں ان کو دیاہوتا۔ تو تم کو تاقیامت ثواب ہوتا، ورنہ تم عذاب میں داخل ہوگئے، یا حضرات کو بھیجوا دئے ہوتے تو ثواب ہوتا۔
جناب !یہاں اسلامیہ مدرسہ میں سرکاری انتظام ہے۔ اور مسجد میں بھی بہت فر ش تھے اس وجہ سے بھوکوں کو کھلادیا میں نے اچھا سمجھ کر، اور آپ کا حال نہیں معلوم تھا کہ جناب کو کٹرہ والے روپیہ روانہ کردیا کرتے ہیں، خیر مجھ سے خطا ہوئی، اب جو حضرت ارشاد فرمائیں وہ فدیہ کرے یا تو اگلے سال کا حرجہ دے یا اس سال کا بھی ویسے ہی خرچ کردے، مجھ کو محرم میں چھٹی ہوگی، بینوا توجروا

(فدویہ مدرسہ نسواں اسلامیہ کٹرہ)
الجواب : آپ نے بہت اچھا کیا کہ مساکین کو کھانا کھلایا، یہ بہت بڑے ثواب کی بات ہے نہ کہ عذاب کی ان لوگوں کاکہنا محض غلط ہے۔ خیرات مولٰی تعالٰی کے نام پر ہوتی ہے۔ اور اس کا ثواب اماموں کی ارواح پاک کو پہنچا سکتے ہیں، اور وہ ان پر تصدق نہیں بلکہ ان کی نذر ہے۔ یہ فقیر بفضلہ تعالٰی غنی ہے اموال خیرات نہیں لے سکتا، ہاں یہ دوسری بات ہے کہ احباب اچھے مصارف میں صرف کرنے کے لئے زکوٰۃ وصدقات کے اموال بھی بھیجتے ہیں کہ اپنی رائے سے مصارف خیر میں صرف کرو۔ اور وہ بفضلہ تعالٰی صرف کردئے جاتے ہیں، زکوٰۃ اس کی جگہ اور دیگر صدقات ان کی جگہ، یوں یہ فقیر بھی ان احباب کا شریک ثواب ہوجاتاہےکہ صدقہ اگر سو ہاتھوں پر نکلے گا سب کو ثواب ملے گا، ایک روٹی کا ٹکڑا کہ زید کے مال سے پکا، اور زیدکی بی بی نے خادمہ کے ہاتھ دروازہ کے سائل کو بھیجا، تو زید جس کا مال ہے۔ اور بی بی جس نے بھیجا اور خادمہ جس نے جاکر فقیرکو دیا تینوں یکساں شریک ثواب ہے۔ اور مولٰی تعالٰی کا فضل بہت بڑا ہے۔ وھو تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۰: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ سلطان روم کے ساتھ اور غیر قوم ملکی جو لڑ رہاہے۔ یہ اظہر من الشمس ہے اور اس س لڑائی کے خرچہ کے بابت اس دیا رکے بڑے بڑے آدمی مل کر مجلس کررہاہے۔ کہ اس سال قربانی کاچمڑا ک قیمت جتنا ہوگا وہ سب وہاں بھیجنا ہوگا، اور وہاں بھیجنے سے ہم لوگوں کا ثواب بہت ہوگا اور جہاد کا رتبہ ملے گا، اور ہم لوگ جاکر سلطان کی لشکر کے ساتھ ہمراہونے کا کچھ تو سرانجام نہیں رکھتا ہوں یہ ہم لوگوں کے واسطے بس ہے، بعد اس کے کہئے کہ اس دیار فقراء وغرباء لوگ یہ کہہ رہاہے کہ اس برس سلطان کی جہت سے ہم لوگ سب کے سب شاید مارا جاوے گا، یہ سب آہ وزاری انھوں کا سن کے کوئی بیچارہ تھوڑا ہی کچھ علم رکھتا تھا، وہ اپنی زبان سے یہ کلام باہر کیا کہ یہ جو بڑے آدمی اور بعض دو عالم،سلطان کی خیرا خواہی کے واسطے جو کمیٹی کیاہے شاید یہ خیر خواہی نہ ہو گابلکہ یہ بدخواہی ہوگا کیونکہ ہر سال جویہاں کا فقراء وغرباء ومساکین لوگ یہ سب چمڑا کا قیمت اپنے دوزن وفرزند لے کر خوشی سے اوقات بسر کرینگے، اس سال وہ لوگ غم میں د و اوقات بسر کرتے ہیں، اور یہ سب روپیہ اچھانہیں ہے کیونکہ یہ فقیروں کا حق ہے۔ اور مجھ کو خوف ہے کہ میرے سلطان المعظم کو کچھ نقصان آجائے اب بڑے دو آدمیوں کو اور بڑے دو عالموں کو جنھوں نے یہ رواج کیاہے۔ یہ سزاوارہے۔ کہ گاؤں بگاؤں مجلس کرکے ہر ایک مسلمان سے دو (عہ)طاقت کے مطابق کچھ چندہ وغیرہ مقرر کرکے سب کو ملا کر وہاں بھیجنے سے اولٰی ہوگا، اور وہ مسکین لوگ اپنا حصہ پاکر اگر خوشی سے دیوے تو بھی بہترہوگا۔ جیسے کہ اور جگہ کے فقیر لوگ دے رہا ہے۔ اور یہ بھی بہتر ہوگا کہ اس موسم میں ہم لوگوں کواپنے دو حصہ کے مطابق فقیروں کو اور غریبوں کو کچھ للہ دیویں، اور بواسطہ اس کے میرے سلطان مدظلہ العظیم کے لئے خدا عزوجل سے مدد چاہوں یہ بات ان بیچارے کا کوئی بڑے آدمی سنتے ہے۔ وہ بیچارے کو لعن طعن کررہا ہے۔ احقر حضور سے یہ امید کرتاہے کہ کون حق پر ہے اوراگر وہ آدمی ناحق پر ہے تو اس کا کیاحکم ہے؟
	عہ:  سوال میں جگہ جگہ دو کا لفظ سائل کا تکیہ کلام ہے۔ ۱۲ عبدالمنان
الجواب : قربانی کا چمڑا کچھ خاص حق فقراء نہیں، ہر کار ثواب میں صرف ہوسکتاہے۔ حدیث میں فرمایا:
کلوا وادخروا وائتجروا ۱؎
(کھاؤ، ذخیرہ کرو اور ثواب کماؤ۔ ت) اور واقعی جہاں تک معلوم ہے۔
 (۱؎ سنن ابی داؤد  کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۳۳)
مجاہدین کو اس وقت امداد کی بہت ضرورت ہے۔ اور اس دین کی بڑی منفعت ہے ان شاء اللہ تعالٰی اور اسی جگہ حکم ہے کہ وہی کام اختیار کریں جس کی حاجت شدیدہو، اور شک نہیں کہ وہاں کی حاجت شدید ہے۔ فقراء کی خبر گیری جہاں تک شرعا ضروری ہے اہل مال پر لازم ہے وہ اگرنہ کریں ان کی بے سعادتی ہے مگر یہ کھالیں جن میں شرع نے فقراء کا کوئی حق معین نہ فرمایا، یہ اگر نہ دی جائیں دوسرے کاراہم میں صرف کی جائیں تو اس پر ان کی ناراضی کی کوئی وجہ نہیں، نہ اس پر ان کا رزق موقوف ہے۔ نہ عام طور پر یہ کھالیں ان کو دی جاتی تھیں بلکہ مدارس کو دی جاتی تھیں اور شریعت میں ضرر عام کالحاظ ضرر خاص سے زیادہ اہم ہے، یہاں تک کہ ضرر عام کے دفع کے لئے ضرر خاص کا تحمل کیا جاتاہے
کما فی الاشباہ والنظائر وغیرہ ۱؎
 (جیسا کہا اشباہ والنظائر وغیرہ میں ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ الاشباہ والنظائر     الفن الاول   القاعدۃ الخامسۃ     ادارۃ االقرآن کراچی     ۱/ ۱۲۱)
Flag Counter