فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
102 - 126
پس اگر ایشاں درغیر صور قرب استہلاک کردندے۔ ہیچ مانع نبودے کہ آنکہ تمول کرد مضحی نبود، وآنکہ مضحی بود تمول نہ کرد، کما اذا تصدق بہ علی فقیر فباعہ بدراھم لنفقتہ، ایں جاکہ صرف ہم بامور قر بت ست، وقربت خود یکے از مصارف اضحیہ است لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وائتجروا رواہ ابوداؤد۲؎ عن نبشۃ الہذلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ ومن فقیر درفتاوٰی خودم بقدر کفایت، ودررسالہ ''الضافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ'' (۱۳۰۷ھ) بمالا مزید علیہ تحقیق نمودہ کہ آگر مضحی بخودی خود بے تحلل تملیک بدیگرے جلد اضاحی رابمہچو امور قربت صرف نماید محذورے نیاید، لاجرم ایں صورت اولٰی بجواز ست کما لا یخفی علی اولی النہی، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
اگر قربانی کی کھال کو قربت کے علاوہ بھی صرف کریں تو کوئی مانع نہیں ہےکیونکہ قربانی والا تمول نہیں بنا تا اور تمول والے نے قربانی نہ بنائی مثلا جب فقیر پر صدقہ کیا اور فقیر نے دراہم کے عوض فروخت کردی تو یہاں کھال قربت میں صرف ہوئی جبکہ قربت خود احکام قربانی سے ہے۔ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے اس ارشاد کی بناء پر کہ ''ثواب کماؤ'' اس کوابوداؤد نے حضرت نبشہ الہذلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ا ور اس فقیر نے اپنے فتاوٰی میں بقدر کفایت اور رسالہ
''الصافیۃ الموحیہ لحکم جلود الاضحیۃ''
میں انتہائی بیان کردیاہے کہ اگر قربانی والا خود بلا واسطہ تملیک دوسرے کو خود صرف کرلے تو کوئی حرج نہیں تویہ صورت بطریق اولٰی جائز ہوگی، جیسا کہ صاحب فہم پر مخفی نہیں ہے۔ واللہ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳)
مسئلہ ۲۸۳: از سہسرام ضلع مرسلہ حکیم سراج الدین احمد صاحب ۳/ جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ
قیمت کھال قربانی جو پہلے سے بیوہ وبیکس، یتیم وبے بس۔ مساکین سکنائے جار واقربائے دیار پر تقسیم ہوتی، ومساجد کے فرش،جانماز، روشنی، ڈول، رسی، وجھاڑو وغیرہ کے مصارف میں صرف ہوا کرتی تھی جس کو اہالیان مدرسہ ناجائز مشتہر کراکے اب مسلم کھال یا کل قیمت باغوائے اہلیان مدرسہ باغوائے بیان واعظین داخل مدرسہ جاتی ہے۔ اور مسکینان محروم رہتے ہیں، ستم ہے یانہیں؟ اور اہلیان ومہتمان مدرسہ کو اس رقم کا لینا درست ہے یانہیں؟
الجواب : چرم قربانی کے بارے میں یہ ہے کہ اسے بغیر بیع اپنے کسی صرف میں لائے تو لاسکتاہے۔ مثلا کتابوں کی جلدیں بنائے یا مشک، ڈول بنوائے، اور ایسے کاموں کے لئے کسی غنی کو ہدیہ بھی دے سکتاہے۔ اور بہتر یہ ہے کہ اسے صارف خیر میں کرے۔ مثلا یتامٰی وبیوگاں ومساکین کو دیں یا مساجد کے مصارف مستحبہ میں صرف کرنا یا سنی مدارس دینیہ میں امداد علم دین کے لئے دینا، یہ سب صورتیں جائز ہیں
لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کلوا وادخروا وائتجروا ۱؎
(حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کے ارشاد کی بناء پر کہ کھاؤ، ذخیرہ بناؤ اور ثواب کماؤ۔ ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الضحایا آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳)
ان میں سے جن میں زیادہ مناسب اورحاجت وقت کے ملائم جانے صرف کرے، کسی صورت کو ظلم نہیں کہہ سکتے، ہاں یتیموں ا وربیواؤں اورمسکینوں کی دینا جو ناجائز بتائے وہ ظلم کرتاہے کہ یہ اس کا شریعت مطہرہ پر افتراء ہے۔ یونہی اگر کچھ لوگ اپنے یہاں کی کھالیں حاجتمند یتیموں، بیواؤں، مسکینوں کو دینا چاہیں کہ ان کی صورت حاجت روائی یہی ہو، اسے کوئی واعظ یا مدرسہ والاروک کر مدرسہ کے لئے لے لے تو یہ اس کا ظلم ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۴: ۱۱ ذیقعدہ ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک غریب شخص کے یہاں لڑکی پیدا ہوئی، وہ اس قابل نہیں ہے کہ عقیقہ کرے ساتھ قربانی کے، مگر بسبب سنت ادا ہونے کے اس کو کسی شخص نے کچھ عطیہ کیا تھا اس کو فروخت کرکے اس نے قربانی کی، اور اس کے پاس کسی طرح کا مقدور نہیں ہے۔ اور اس قربانی کی کال کے دام اپنے خرچ میں لانا جائز ہے یاناجائز َ؟ بینوا توجروا
الجواب : عقیقہ کے احکام مثل اضحیہ ہیں۔ ا س سے بھی مثل اضحیہ تقرب الی اللہ عزوجل مقصود ہوتاہے اور جو چیز تقرب کے لئے رکھی گئی وہ تمول یعنی اپنا مال بنانے سے محفوظ رکھنا چاہئے۔ کھال بھی جانور کا جز ہے۔ تو داموں کو بیچ کر اپنے صرف میں لایاجیسا کہ اضحیہ میں ناجائز ہے۔ یہاں بھی ضرور نامناسب ہونا چاہئے۔کہ رجوع عن التقریب نہ ہو، ہاں اس سے کتاب کی جلد، یا مشک، ڈول بناکر اسے اپنے صرف میں لاسکتا ہے یا اسے کسی محتاج کو دے دے، پھر اس سے خفیف قیمت کو اس کی مرضی سےخریدکر دوسرے کے ہاتھ پوری قیمت کو بیچے
ھذا ماظہرلی
(یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۵: از تلہر، محلہ ہندو پٹی ضلع شہاجہانپور مرسلہ مولانا مولوی ضیاء الدین صاحب مدظلہ ۲۵ /رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قیمت جلد قربانی یا عقیقہ براہ است مسجد یا مدرسہ دینیہ میں صرف کی جاسکتی ہے۔ یا تملیک مسکین کی ضرورت واقع ہوگی،
بینوا بالدلیل وتوجروا بالاجرا لجزیل
(دلیل کے ساتھ بیان کرو اور کثیر اجر پاؤ۔ت)
الجواب : ہاں جلد براہ راست صرف کی جاسکتی ہے۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وائتجروا ۱؎.
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: اجر وثواب حاصل کرو۔ (ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳)
اور اگر مسجد ومدرسہ میں دینے کے لئے داموں کو فروخت کی تو دام بھی براہ راست صرف کئے جاسکتے ہیں،
تبیین الحقائق میں ہے :
لانہ قربۃ کالتصدق ۲؎
(کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔ ت)
(۲؎ تبیین الحقائق کتا ب الاضحیۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ بولاق مصر ۶/ ۹)
ان صورتوں میں تملیک مسکین ضروری جاننا شرع مطہر میں زیادت کرنا ہے جس پر کوئی دلیل نہیں، تو اپنی طرف سے
ایجاد ایجاب ہوا، ماانزال اﷲ بہا من سلطٰن ۳؎
(اللہ تعالٰی نے اس پر کوئی دلیل نہ فرمائی۔ ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۵۳ /۲۳)
ہاں اپنے خرچ میں لانے کے لئے داموں کو بیچے تو اس کی سبیل تصدق ہےکہ ملک خبیث ہے براہ راست مدرسہ ومسجد میں نہ دے،
فان اﷲ طیب لایقبل الا الطیب ۴؎
(بیشک اللہ تعالٰی طیب ہے اور صرف طیب کوم قبول فرماتاہے۔ ت)
(۴؎ مسند امام احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۳۲۸)
اس سوال کا جواب پہلے فتوٰی میں نظر نہ آنا عجیب نظر ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔