فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
101 - 126
مسئلہ ۲۸۰:مرسلہ حافظ محمود حسین صاحب مدرس تلمیذ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی ہفتم ذیقعدہ ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قیمت پوست قربانی کو تنخواہ میں دینا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجرا
الجواب: جو مدرسہ تعلیم علوم دینیہ کے لئے چندہ سے مقرر ہوا اس میں قربانی کی کھال خواہ بیچ کر اس کی قیمت بھیجنا کہ مصارف مدرسہ مثل تنخواہ مدرسین وخوراک طلباء وغیرہ میں صرف کی جائے۔ مذہب صحیح پر جائز ہے کہ ایسے مدارس اعانت قربت ہے۔ اور قربات میں صرف کرنے کے لئے گوشت پوست قربانی بیچنے کو مطلقا اجازت ہے۔
ہندیہ میں ہے کہ اپنے اور اپنے عیال پر دراہم خرچ کرنے کے لئے فروخت نہ کرے اور گوشت بمنزلہ کھال ہے صحیح قول میں اور دراہم فقیر کو صدقہ کرنے کی غرض سے فروخت کیا تو جائز ہے کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے یوں تبیین ہدایہ اور کافی میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الاضحیۃ الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۰۱)
مسئلہ ۲۸۱: از بنارس محلہ کنڈی گڈ ٹولہ مسجد بی بی راجی شفا خانہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور صاحب ۲۵ محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مال زکوٰۃ چرم قربانی سے اعانت مدرسہ کی کی جائے یا نہیں۔ مصارف مدرسہ میں تنخواہ مدرسین کے لئے اور وہ اپنی اُجرت لیتاہے۔ اور یہ امر ظاہر ہے کہ اجرت میں مال زکوٰۃ یا چرم قربانی دینا جائز نہیں؟
الجواب : زکوٰۃ میں تملیک بلاعوض بہ نیت زکوٰۃ درکار ہے۔ بے اس کے اور وجوہ تقرب مثل مسجد ومدرسہ وتکفین موتی وغیرہا میں اس کا صرف کافی نہیں، ہاں مثلا جو طلبہ علم مصرف ہوں، انھیں نقد یا کپڑے یا کتابیں بروجہ مذکور دے کر اعانت مدرسہ ممکن
کما یظہر من الدر وغیرہ
(جیسا کہ دروغیرہ سے ظاہر ہورہا ہے۔ ت) چرم قربانی میں تصدق بمعنی مسطور اصلا ضرور نہیں۔
منسک متوسط میں ہے :
لایجب التصدق بہ ۲؎
(اس کا صدقہ نہیں ۔ ت)
(۲؎المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط مع ارشاد الساری باب الہدایہ دارالکتب العربی بیروت ص۳۱۲)
مسلک متقسط میں ہے :
لابکلکہ ولاببعضہ ۳؎
(نہ کل نہ بعض ۔ )
(۳ المسلک المتقوط فی المنسک المتوسط مع ارشاد الساری باب الہدایہ دارالکتب العربی بیروت ص۳۱۲)
مطلق قرب رو اہے حدیث میں ہے حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثواب میں خرچ کرو، اس کو ابوداؤد نے نبشہ ہذلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
(۴؎ سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳)
امام زیلعی نے شرح کنز میں فرمایا:
لانہ قربۃ کالتصدق ۵؎
(کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔ ت)
(۵؎ تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ بولاق مصر ۶/ ۹)
ظاہر ہے کہ مدارس دینیہ بھی وجوہ قربت وائتجار سے ہیں اور وہ تنخواہ حق مدرس میں اجرت ہونا حق معطی الاعانۃ علم الدین میں قربت ہونے کی منافی نہیں، جیسے سقائے سقایہ وموذن مسجد کی اُجرت
اس کی تفصیل ہم نے اپنے رسالہ کافلہ کافیہ جس کا نام ہم نے ''الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ'' رکھا، میں بیان کی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۸۲ : از طالب پور ضلع مرشد آباد کوٹھی راجہ صاحب مرسلہ محمد جان صاحب محمد ۶/ رمضان مبارک
چہ مے فرمایند علمائے شریعت غرا اندریں مسئلہ کہ اگر چرم اضاحی بمتولیاں مدارس دینیہ تملیکا دادہ شود وایشاں بصواہدید خود یا باشارۃ استشارہ دہندگاں چرم او را در ضروریات مدرسہ صرف نمایند سمتے از جواز وارد یانہ؟ بینوا توجروا
روشن شریعت کے علماء کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں اگر چرم قربانی مدارس کے متولیوں کو تملیک کردی جائیں اور وہ اپنی صوابدیدہ پر یا دینے والوں کے مشورہ سے مدرسہ کی ضروریات میں صرف کریں تو جواز کی صورت ہے یانہیں؟ بیان کرو اجر پاؤ۔ (ت)
الجواب: در جواز بعد اراقۃ دم واقامت قربت صورت مذکورہ جائے سخن نیست، متولیان اگر فقراء باشند ایں تملیک تصدق باشد ورنہ ہدیہ، وہیچک از ینہا در اجزائے اضحیہ ممنوع نیست، فی النقایہ وشرحہا للبرجندی یہب من یشاء علی سبیل التملیک فقیرا اوغنیا ۱؎ آنچہ کہ ممنوع ومکروہ است بیع بروجہ تمول ست لحدیث من باع اضحیتہ فلا اضحیۃ لہ ۱؎ رواہ الحاکم فی المستدرک و البیہقی فی السنن عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وپیدا ست کہ ہدیہ از بیع چیزے بناشد۔بالجملہ ایں مبنی خود درلحم اضحیہ رواست۔ وجلد بالاتر از ونیست، بالاتفاق،
قربانی کے خون بہادینے اور قربت قائم کردینے کے بعد مذکورہ صورت کے جواز میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ متولی حضرات اگر خود فقیرہوں تو ان پر صدقہ ہوگا ورنہ ہدیہ ہوگا، ان میں سے کوئی بھی قربانی کے اجزاء میں ممنوع نہیں ہے۔ نقایہ اور اس کی شرح برجندی میں ہے جس کو چاہے دے کر مالک بنا کر فقیر کو خواہ غنی کو اور منع صرف تمول کے طور پر فروخت کرنا ہے اس حدیث کی بناء پر کہ جس نے قربانی کی کھال فروخت کی اس کی قربانی نہیں ، اس کو حاکم نے مستدرک میں اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اور انھوں نے بنی کریم صلی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ہدیہ فروخت کی قسم نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ قربانی کے گوشت میں بھی یہ معنی موجود ہے جبکہ کھال اس سے اہم نہیں ہے بالاتفاق،
(۱؎ شرح النقایہ للبرجندی کتاب الاضحیۃ منشی نولکشور لکھنؤ ۳ /۱۹۹)
(۱؎ المستدرک کتاب التفسیر دارالفکر بیروت ۲ /۳۹۰)
وفی الہدایۃ والکافی والتبیین وغیرھا اللحم بمنزلۃ الجلد فی الصحیح ۲؎۔ باز آں گاہ کہ جلد بتملیک مضحی درملک متولی آمد، حکم اضحیہ منتہی شد، متولیاں راہر گونہ تصرف درو رواباشد لحصول المطلق وانتہاء الحاجز، وذٰلک قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی اللحم المتصدق بہ علی بریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا ھولہا صدقۃ ولنا ہدیۃ ۳؎ رواہ البخاری عن ام المؤمنین رضی اﷲ تعالٰی عنہا، ازیں جاست کہ اگر کسے لحم اضحیہ خودش بہ نیت زکوٰۃ بر فقیر تصدق کند زکوٰۃ ادانشود ، واگر بغنی ہدیہ داد او از زکوٰۃ خویش بدست فقیرے نہاد زکوٰتش ادا شود، زیرا کہ حکم اضحیہ بآں ہدیہ بپایاں رسید، حالاایں چیزےست ازآن آں غنی دررنگ سائر مملوکات اوکہ بانکہ ہر چہ خواہد کند،
اور ہدایہ ، کافی اور تبیین وغیرہا میں ہےکہ گوشت کھال کے حکم میں ہے صحیح قول میں، پھر جب کھال قربانی دینے والے کی طر ف سے متولی کی ملک کردی گئی تو قربانی کا حکم تام ہوگیا ، متولی حضرات کو اب ہر طرح اس میں تصرف کا اختیار ہے۔ ممانعت ہونے اور اجازت پائے جانے کی وجہ سے، اور یہ اس طرح کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ارشاد اس گوشت کے متعلق جو حضرت بریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو صدقہ ملا کہ وہ اس پر صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے اس حدیث کو بخاری نے حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے رویت کیاہے، اسی سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوا کہ اگر قربانی کا گوشت فقیر کو زکوٰۃ میں دے تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی اور اگر غنی کو ہدیہ کے طورپر دےا اور اس نے وہ زکوٰۃ میں دے دیاتو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی کیونکہ غنی کو ہدیہ دینے سے قربانی کاحکم تام ہوگیا اور اب غنی کے لئے یہ مملوکہ قرار پائی،
(۲؎ الہدایہ کتاب الاضحیۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۴۸)
(۳؎ صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ باب الصدقۃ علی موالی ازواج النبی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۰۲)
فی ردالمحتار اذا دفع الحم الی فقیر بنیۃ الزکوٰۃ لا یحسب عنہا فی ظاھر الروایۃ لکن اذ ادفع لغنی ثم دفعہ الیہ بینتھا یحسب ۱؎،
ردالمحتار میں ہے جب قربانی کا گوشت فقیر کوزکوٰۃ کی نیت سے دیا تو ظاہر الروایۃ میں زکوٰۃ میں شمار نہ ہوگا، لیکن جب غنی کو دیا اور غنی نے فقیر کو اپنی زکوٰۃ میں دیا تو غنی کی زکوٰۃ ادا ہوگی۔
(۱؎ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۰۹)