فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۰(کتاب الغصب، کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ)
100 - 126
(۵) اسے باقی رکھ کریا باقی رہنے والی چیز سے بدل کر اسے کرائے پر نہیں دے سکتا مثلا کھال کی مشک بنائی یا اس سے کوئی برتن خریدا، اور اس مشک یابرتن کو کرایہ پر دیا یہ ناجائز ہے۔ اس کرائے کو تصدق کرنا ہوگا۔
درمختارمیں ہے :
لا یوجرھا فان فعل تصدق بالاجرۃ ۱۔
نہ اجرت پر دے اگر اجرت لی تو صدقہ کردے (ت)
(۱؎درمختار کتاب الاضحیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۴)
حاوی الفتاوٰی ۔ فتاوٰی ظہیریہ، پھر درمنقٰی پھر ردالمحتارمیں ہے:
لو عمل الجلد جرابا واٰجرہ لم یجز، وعلیہ التصدق بالاجرۃ ۲؎۔
اگر کھال تھیلا بنایا اور اجرت پر دیا تو اجرت کو صدقہ کرے۔ اجرت لینا جائز نہیں۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۰۹)
(۶)اپنے اوپر کسی آتے ہوئے کے بدلے میں، مثلا نوکرکی تنخواہ یا کسی کام کی اجرت میں نہیں دے سکتے
فانہ ایضا فی معنی البیع للتمول
(کیونکہ یہ بھی تمول کے معنی میں ہے۔ ت)
درمختارمیں ہے :
لایعطی اجر الجزار منہا لانہ کبیع ۳؎۔
قصاب کو اجرت میں نہ دے کیونکہ یہ بیع کی طرح ہے۔ (ت)
(۳؎ درمختار کتاب الاضحیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۴)
جب فقیر کو زکوٰۃ کی نیت سے گوشت دے تو ظاہر الروایۃ میں زکوٰۃ نہ ہوگی۔ (ت)
(۵؎ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۰۹)
(۸) فقراء کو دینے کی نیت سے داموں کو بھی بیچ سکتے ہیں کہ یہ اپنے لئے تمول نہیں،
تبیین الحقائق پھر عالمگیریہ میں ہے :
لایبیعہ بالدراھم لینفق الدارھم علی نفسہ وعیالہ، ولو باعہا بالدراہم لیتصدق بہا جاز لانہ قربۃ کالتصدق ۱؎۔
دراہم کے عوض اپنے یا اپنے عیال پر خرچ کرنے کے لئے فروخت نہ کرے اگر دراہم کے عوض فروخت کیا دراہم کو صدقہ کرنے کے لئے تو جائز ہے کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔ (ت)
(۱؎تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ ۶ /۹ و فتاوی ہندیہ کتاب الاضحیۃ الباب السادس ۵ /۳۰۱)
(۹) غنی کو ہبہ کرسکتے ہیں کہ وہ اپنا تمول نہیں۔ پھر اس غنی کو اختیا رہے چاہے داموں کو بیچ کر اپنے خرچ میں لائے چاہے کسی کی اجرت یا تنخواہ میں دے چاہے اپنی زکوٰۃ میں دے اور اس کی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی کہ اب حکم اضحیہ منقطع ہوگیا، وہ اس کی ملک ہے جو چاہے کرے۔
لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ھو لہا صدقۃ ولنا ھدیۃ ۲؎۔
حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے اس ارشاد کی وجہ یہ ہے کہ اس کے لئے صدقہ اور ہمارے لے ہدیہ ہے۔ (ت)
(۲؎صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ باب الصدقات علی مولی ازواج النبی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۰۲)
قنیہ پھر جامع الرموز پھر ردالمحتارمیں بعبارت مذکورہ ہے۔
لکن اذا دفع لغنی ثم دفع الیہ بنیتھا یحسب ۳ اھ ای دفع الموھوب لہ بنیۃ الزکوٰۃ جاز واجزأ۔
لیکن اگر غنی کو دیا اورغنی نے اپنی زکوٰۃ میں دیا تو زکوٰۃ شمار ہوگی، یعنی موہوب لہ اپنی زکوٰۃ کی نیت سے دے تو جائز ہے۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار باب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۰۹)
(۱۰) مسجد میں دے سکتے ہیں:
لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وائتجروا ۴ رواہ ابوداؤد عن نبشہ الہذلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے اس ارشاد کی بنا پر کہ اجر کماؤ، اس کو ابوداؤد نے حضرت نبشہ ہذلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
(۴؎ سنن ابی داؤد کتاب الاضحیۃ باب حبس الاضاحی آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳)
پھر مہتممان مسجدکو اختیارہےکہ اسے بیچ کرجس کام میں چاہیں لائیں اگر چہ امام یا مؤذن یا فراش کی تنخواہ میں۔
لان صار ملک المسجد کمسألۃ الغنی المذکورفا نقطع حکم الاضحیۃ۔
کیونکہ مسجد کی ملک ہوگئی جس طرح غنی والا مذکور مسئلہ تو قربانی کا حکم ختم ہوگیا۔ (ت)
ہبہ کے طور تملیک کی صحت مسجد کے لئے ممکن ہے اور اس طریقہ سے مسجد کی ملک ثابت کرنا صحیح ہے تو ہبہ قبضہ سے تام ہوجائیگا (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الواقعات الحسامیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۴۶۰)
فتاوٰی عتابیہ پھر عالمگیریہ میں ہے :
یصح بطریق التملیک اذا سلمہ للقیم ۲؎۔
جب منتظم کو سونپ دیا تو تملیک کاطریقہ صحیح ہوگیا۔ (ت)
(۲؎فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الفتاوٰی العتابیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۴۶۰)
(۱۱) یونہی ہر قربت کے کام میں صرف کرسکتے ہیں جیسے مدرسہ دینیہ کی اعانت۔
لا طلاق عموم قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وائتجروا ۳؎۔
حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ارشاد کہ ''ثواب کماؤ''کے اطلاق کی بناء پر۔(ت)
(۳؎سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳)
امام زیلعی سے گزرا :
لانہ قربۃ کالتصدق ۴؎
(کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔ ت)
(۴؎ تبیین الحقائق کتا ب الاضحیۃ المطعبۃ الکبرٰی الامیریہ بولاق مصر ۶ /۹)
(۱۲) اس کارقربت مثل مسجد یا مدرسہ دینیہ یا تعلیم یتیماں میں صرف کرنے کے لئے یہ بھی جائز ہے کہ خود اس نیت سے بیچ کر اس کارخیر میں صرف کرنے والوں کو دے دیں۔
لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انما الاعمال بالنیات وانما لکل امرٰی مانوی ۵؎۔ وتقدم فرق الامام فخر الدین بین ما اذا باع بالدارھم لینفقہا علی نفسہ وعیالہ وامااذا باعہا لاجل الفقراء۔
حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ارشاد کہ ''عمل صرف نیت سے اور ہر ایک کو اس کی نیت کے مطابق ملا، اور امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ تعالٰی کا بیانکردہ گزرا کہ اپنے اور اپنی عیال کے لئے دراہم کے عوض فروخت میں فقراء کے لئے فروخت میں فرق ہے۔ (ت)
(۵؎ صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲)
جب یہ احکام معلوم ہولئے، بعونہٖ تعالٰی سوال کی چاروں صورتوں کا حکم واضح ہوگیا۔
(۱) مدرسہ دنیوی میں نہ دیں کہ وہ قربت نہیں، اور مدرسان مدرسہ دینی اگر اس کے نوکر ہیں جن کی تنخواہ اس پر واجب ہوتی ہے اس میں نہیں دے سکتا کہ یہ اس پر آتاہے ورنہ مہتمم مدرسہ کو دے دے وہ تنخواہ میں دے، یا جس کار دینی مدرسہ دینیہ میں چاہے صرف کرے۔
(۲) مدرسہ دینیہ کی عمارت میں خرچ کرسکتاہے کہ قربت ہے۔
(۳) لا الہ الا اللہ سود حرام قطعی ہے ۔ صحیح حدیث میں ہےکہ سودکھاناسترباراپنی ماں سے زناکرنےسےبدترہے ۱؎۔
(۱؎ شعب الایمان حدیث ۵۵۲۰ دارالفکر بیروت ۴/ ۳۹۳)
ہاں جو عمارت کارخیر مثل تعلیم القرآن علم دین کے لئے وقف کریں کہ اس کے کرایہ سے وہ کار خیر جاری ہو، اس کی تعمیر میں صرف کرسکتاہے۔
(۴) اسے کتابوں سے بدل کر طلبہ کو دے سکتے ہیں اگر چہ وہ طلبہ غنی ہوں کہ کتاب باقی رہ کر کام آتی ہے۔ اور ایسی چیز کے عوض اپنے لئے بیچنا جائزہے۔ طلبہ کے لئے بدرجہ اولٰی ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔