Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
99 - 176
تنبیہ جلیل

وتشیید التفریع والتاصیل، وعلی اللّٰہ ثم علی رسولہ التعویل، جل وعلاوصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بالتبجیل،
تنبیہ جلیل

اور اصل بیان کرنے اور فروعی مسائل کا استنباط کرنے کی بنیاد، اور بھروسا اللہ عَزَّوجَلَّ پر ہے پھراس کے رسول پر ہے، اللہ تعالٰی ان پر عظمت والا درود بھیجے۔ (ت(

اصل سوم میں گزرا کہ دخول وخروج دونوں اس جریان کے رکن ہیں اُن میں سے جو نہ پایا جائے گا جریان نہ ہوگا اور اصل نہم میں ردالمحتار وضیاء وجامع المضمرات وبزازیہ وخلاصہ وفتاوٰی سے گزرا کہ لوٹے کی دھار جب تک ہاتھ پر نہ پہنچی جاری ہے حالانکہ یہ محض خروج بلا دخول ہے۔ اقول: وباللّٰہ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق (اللہ ہی کی توفیق سے میں کہتا ہوں اور اسی کی مدد سے تحقیق کی گہرائی تک پہنچنا ہے۔ ت) اس کی تنقیح وتطبیق ایک اور خلافیہ کی توضیح وتوفیق پر مبنی ہے علما(۱) مختلف ہوئے کہ جاری ہونے کیلئے اوپر سے مدد آنا بھی ضرور ہے یا بلا مدد کسی مائع کا آپ بہنا بھی جریان ہے محقق علی الاطلاق نے اول کو ترجیح دی فتح میں فرمایا:
الحقوا بالجاری حوض الحمام اذا کان الماء ینزل من اعلاہ حتی لوادخلت القصعۃ النجسۃ اوالید النجسۃ فیہ لاینجس وھل یشترط مع ذلک تدارک اغتراف الناس منہ فیہ خلاف ذکرہ فی المنیۃ ثم لابد من کون جریانہ لمدد لہ کما فی العین والنھر ھو المختار ۱؎ اھ ۔
جاری پانی کے ساتھ حمام کے حوض کو بھی شامل کیا گیا ہے، جبکہ پانی اس کے اُوپر سے اُتر رہا ہو یہاں تک کہ اگر اس میں ناپاک پیالہ یا ناپاک ہاتھ ڈالا تو ناپاک نہ ہوگا اور آیا اس میں یہ شرط بھی ہے کہ لوگ پے درپے اس میں سے چُلّو بھر کر پانی نکالتے ہوں؟ اس میں اختلاف ہے، اس کو منیہ میں ذکر کیا، پھر اس کے جاری رہنے کیلئے اس کو مدد دینے والی چیز ضروری ہے جیسا کہ چشمہ اور نہر میں ہوتا ہے یہی مختار ہے اھ
 (۱؎ فتح القدیر    بحث الماء الجاری    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۶۹)
ثم ذکر مسألۃ الاستنجاء بالقمقمۃ ونقل عن التجنیس النظر فیہ بعین مانظر الامام حسام الدین ثم قال قال ای المصنّف فی التجنیس(۲) ونظیرہ ما اوردہ المشائخ فی الکتب ان المسافر اذا کان معہ میزاب واسع (ای یسع لان یتوضأ فیہ) واداوۃ ماء یحتاج الیہ ولا یتیقن وجود الماء لکنہ(عہ۱) علی طمعہ قبل ینبغی ان یأمر احدا یصب الماء فی طرف المیزاب وھو یتوضؤ وعند الطرف الاٰخر اناء طاھر یجتمع فیہ الماء فانہ یکون الماء طاھرا وطھورا لانہ جار قال بعضکم ھذا لیس بشیئ لان الجاری انما لایصیر مستعملا اذا کان لہ مدد کالعین والنھر وما اشبھہ ومما اشبھہ حوضان صغیران یخرج الماء من احدھما ویدخل فی الاٰخر فتوضأ فی خلال ذلک جاز لانہ جار وکذا اذا قطع(۱) الجاری من فوق وقد بقی جری الماء کان جائزا ان یتوضأ بما یجری فی النھر قبل استقرارہ ۱؎ اھ بالتقاط۔
پھر استنجاء ٹونٹی کے ساتھ کا مسئلہ نقل کیا اور پھر تجنیس سے نقل کیا کہ اس میں نظر ہے یہ وہی نظر ہے جو حسام الدین نے کی تھی، پھر کہا کہ مصنّف نے تجنیس میں کہا ہے اور اس کی نظیر مشائخ کا یہ قول ہے کہ مسافر کے پاس جب واسع پر نالہ ہو (یعنی اس میں اتنی گنجائش ہو کہ اس میں وضو کیا جاسکے( اور پانی کا برتن ہو جس کی ضرورت ہو اور پانی کا پایا جانا یقینی نہ ہو لیکن ملنے کی امید ہو، تو ایک قول یہ ہے کہ وہ کسی کو حکم دے کہ وہ پر نالے کے ایک کنارے سے پانی بہائے اور وہ شخص وضو کرے اور پر نالے کی دوسری طرف ایک پاک برتن ہو جس میں پانی جمع ہوتا ہو تو وہ پانی طاہر اور طہور ہوگا کیونکہ وہ جاری ہے بعض علماء نے فرمایا یہ کچھ نہیں کیونکہ جاری پانی مستعمل نہیں ہوتا ہے جبکہ اس میں نیا پانی شامل ہو رہا ہو جیسے چشمہ اور نہر اور اس کے مشابہ چیزیں، اور اس کے مشابہ دو چھوٹے حوض ہیں جن میں سے ایک میں سے پانی نکل کر دوسرے میں داخل ہورہا ہو تو کسی نے اس کے درمیان کے پانی سے وضو کیا تو جائز ہے کیونکہ یہ جاری ہے اور اسی طرح اگر اوپر سے جاری پانی کو قطع کیا اور پانی کا جاری رہنا باقی ہو تو یہ جائز ہے کہ جو پانی نہر میں جاری ہو اس سے وضو کرلے اس کے استقرار سے قبل اھ (ت(
 (عہ۱) اقول لعل وجہ التقیید بہ التنصیص علی انہ یجوز ھذا الاحتیال وان کان علی من الماء فعند عدمہ اولی ۱۲ منہ غفرلہ (م(

اس قید کی وجہ شاید یہ ہو کہ اس بات پر نص کرنا مقصود ہو کہ یہ حیلہ جائز ہے اگرچہ پانی ملنے کی امید ہو تو جب امید نہ ہو تو بدرجہ اولیٰ جائز ہوگا۔ (ت(
 (۱؎ فتح القدیر    بحث الماء الجاری    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۶۹)
اور علامہ حدادی نے سراج وہاج اور علامہ سراج ہندی نے توشیح میں دوم کی تصحیح کی بحر وتنویر ودُر وغیرہا میں اسی پر اعتماد کیا بحر میں بعد نقل ترجیح فتح فرمایا:
وفی السراج الوھاج ولایشترط فی الماء الجاری المدد ھو الصحیح ۲؎ اھ ثم ذکر فی البحر عن التجنیس والمعراج وغیرھا مسألۃ جواز الوضوء بما یجری فی نھر سد من فوقہ ۳؎۔
اور سراج الوہاج میں ہے کہ جاری پانی میں مدد کی شرط نہیں اور یہی صحیح ہے اھ پھر بحر میں تجنیس اور معراج وغیرہ سے یہ مسئلہ منقول ہے کہ وہ نہر جو اُوپر سے بند ہو اس میں جاری پانی سے وضو جائز ہے۔ (ت(
 (۲؎ بحرالرائق   بحث الماء الجاری       ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۶)

(۳؎ بحرالرائق   بحث الماء الجاری       ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۶)
اقول ای فیہ اوبہ اذا وقع فیہ نجس کما لایخفی ثم رأیت فی الحلیۃ اخذ بمثلہ علی متنہ اذقال ظاھر عبارتھم فی ھذہ المسألۃ کما فی الذخیرۃ وواقعات الناطفی اذاسد من فوق فتوضاء بما یجری فی النھر جاز اھ ان یکون الوضوء فی النھر فکان علی المصنف ان یذکر فیہ لان من الواضح جدا جواز الوضوء بہ جاریا کان اوغیر جار خارجہ اما باغتراف اواخذ منہ باناء فلا یقع التقیید ببقاء جریان الماء موقعا ثم ھم اعلی کعبا من ذکر مثلہ ۱؎ اھ
میں کہتا ہوں یعنی اس میں یا اُس سے جبکہ اس میں نجاست گر جائے کما لایخفی، پھر میں نے حلیہ میں دیکھا کہ متن میں انہوں نے اسی کو اختیار کیا ہے وہ فرماتے ہیں ان کی عبارت کا ظاہر اس مسئلہ میں جیسا کہ ذخیرہ اور واقعات ناطفی میں ہے کہ جب نہر کو اُوپر سے بند کر دیا جائے اور پھر کوئی شخص اس پانی سے وضو کرے جو نہر میں جاری ہے تو جائز ہے، اور یہ کہ وضو نہر میں ہو، تو مصنّف پر لازم تھا کہ ''فیہ'' کا ذکر کرتے کیونکہ اس سے وضو کا جواز بہت واضح ہے، خواہ وہ جاری ہو یا نہ ہو، وضو کرنے والا نہر سے باہر چلّو کے ذریعے نہر سے پانی لے کر یا کسی برتن کے ذریعے حاصل کرکے وضو کرے بہرصورت بقائے جریان کی قید درست نہیں پھر اُن کا مقام اس سے بہت بلند ہے کہ اس قسم کی چیزیں وہ ذکر کریں اھ (ت(
 (۱؎ حلیہ)
اقول ای عتب(۱) علی المصنف اذا کانوا ھم المعبرین بالباء دون فی فھذا محل التفسیر لاالاخذ کما فعل الفقیر قال البحر فھذا یشھد لما فی السراج ۲؎ اھ
میں کہتا ہوں جب وہ خود ''باء'' سے تعبیر کرتے ہیں تو مصنّف پر کیا اعتراض ہے، تو یہ تفسیر کا محل ہے نہ کہ گرفت کرنے کا، جیسا کہ فقیر نے کیا ہے، بحر نے فرمایا یہ اس چیز کی شہادت دیتا ہے جو سراج میں ہے اھ (ت(
 (۲؎ بحرالرائق        بحث الماء الجاری    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۶)
اقول نعم لکن(۲) لاینبغی عزوہ للتجنیس فانہ لیس جانحا الیہ بل ھو فی عداد ما رد علیہ کما یظھر من عبارۃ الفتح حیث نقل عن التجنیس فی مسئلۃ القمقمۃ ھذا لیس بشیئ ثم قال ونظیرہ فذکر مسألۃ المیزاب ثم قال وما اشبھہ وجعل منہ مسألۃ الحوضین وھذہ المسألۃ ثم قال فی البحر وذکر السراج الھندی عن الامام الزاھد ان من حفر(۱) نھرا من حوض صغیر واجری الماء فی النھر وتوضأ بذلک الماء فی حال جریانہ فاجتمع ذلک الماء فی مکان فحفر رجل اخر نھرا من ذلک المکان واجری الماء فیہ وتوضأ بہ حال جریانہ فاجتمع فی مکان اٰخر ففعل رجل ثالث کذلک جاز وضوء الکل لان کل واحد انما توضأ بالماء حال جریانہ والجاری لایحتمل النجاسۃ مالم یتغیر ۱؎ اھ
میں کہتا ہوں، ہاں، لیکن اس کو تجنیس کی طرف منسوب کرنا صحیح نہیں، کیونکہ وہ اس کی طرف مائل نہیں ہیں بلکہ وہ اس پر رد کرتے ہیں، جیسا کہ فتح کی عبارت سے ظاہر ہے کیونکہ انہوں نے ٹونٹی کے مسئلہ میں تجنیس سے نقل کیا ہے ''یہ کچھ نہیں'' پھر فرمایا اور اس کی نظیر اس کے بعد انہوں نے پر نالہ کا مسئلہ ذکر کیا، پھر فرمایا وما اشبھہ اور اس میں دو حوضوں کے مسئلہ کو شامل کیا اور اس مسئلہ کو بھی، پھر فرمایا بحر میں ''اور ذکر کیا سراج ہندی نے امام زاہدسے کہ اگر کسی شخص نے چھوٹے حوض سے ایک نہر نکالی اور نہر میں پانی چھوڑ دیا، اور جب پانی جاری ہوگیا تو اُس سے وضو کیا، پھر وہ پانی ایک جگہ جمع ہوگیا تو پھر کسی دوسرے شخص نے اس جگہ سے نہر نکالی اور اس میں پانی چھوڑ دیا اور اس پانی سے وضو کیا اس حال میں کہ پانی جاری تھا پھر وہ پانی کسی دوسری جگہ جمع ہوگیا پھر کسی تیسرے شخص نے بھی یہی عمل کیا تو سب کا وضو جائز ہے کیونکہ ہر ایک نے جاری پانی سے وضو کیا ہے اور جاری اس وقت ناپاک نہیں ہوتا ہے جب تک اس میں تغیر پیدا نہ ہو اھ (ت(
 (۱؎ بحرالرائق    الماء الجاری    سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۶)
اقول ای ان وقعت الحقیقیۃ  اوالحکمیۃ ان توضأ فیہ بغمس الاعضاء فلا ینبغی علی نجاسۃ المستعمل ثم ھذہ مثل مسألۃ الحوضین بل  ھی بعبارۃ ابسط وقد ذکرھا صاحب المنیۃ عن المحیط وفی الذخیرۃ عن القاضی الامام علی السغدی وفی الخانیۃ و غیرھا وقال فی الحلیۃ المصنّف نقل عن المحیط تقیید الجواز بما اذا کان بین المکانین مسافۃ وان کانت قلیلۃ یوافقہ ما فی الخانیۃ تاویلہ اذا کان بین المکانین قلیل مسافۃ وفی مسألۃ الحفرتین (ای یخرج من احدھما الماء و یدخل فی الاخری وھی مسألۃ الفتح) لوکان بینھما قلیل مسافۃ کان الماء الثانی (ای المجتمع فی الحفرۃ الاخری) طاھرا کذا قالہ خلف بن ایوب ونصیر بن یحیی وھذا لانہ اذا کان بین المکانین مسافۃ فالماء الذی استعملہ الاول یرد علیہ ماء جار قبل اجتماعہ فی المکان الثانی فلا یظھر حکم الاستعمال (ای لایثبت) اما اذا لم تکن بینہما مسافۃ فالماء الذی استعملہ الاول قبل ان یرد علیہ ماء جار یجتمع فی المکان(۱) الثانی فیصیر مستعملا فلا یطھر بعد ذلک انتھی وھذا کلہ بناء علی نجاسۃ المستعمل ۱؎ اھ
میں کہتا ہوں یعنی اس صورت میں جبکہ نجاست حقیقیہ یا حکمیہ اس میں گر گئی ہو، اگر اس نے اس میں اعضاء ڈبو کر وضو کیا تو اس کی بناء مستعمل کی نجاست پر نہ ہوگی یہ دو حوضوں کے مسئلہ کی طرح ہے بلکہ مختصر عبارت کے ساتھ یہ بعینہ وہی مسئلہ ہے اس کو صاحبِ مُنیہ نے محیط سے نقل کیا ہے اور ذخیرہ میں قاضی علی السغدی سے اور خانیہ وغیرہ میں، اور حلیہ میں کہا کہ مصنّف نے محیط سے جواز کی قید کو اس صورت میں نقل کیا ہے جبکہ دونوں جگہوں میں مسافت ہو خواہ کم ہی کیوں نہ ہو، خانیہ میں بھی اس کی موافق عبارت موجود ہے، اس کی تاویل یہ ہے کہ جبکہ دونوں جگہوں کے درمیان کم درجہ کی مسافت موجود ہو،اور دو گڑھوں کے مسئلہ میں (یعنی ایک گڑھے سے پانی نکلے اور دوسرے میں داخل ہو اور یہ فتح کا مسئلہ ہے) اگر دونوں کے درمیان کم مسافۃ ہے تو دوسرا پانی (یعنی جو دوسرے گڑھے میں اکٹھا ہے) پاک ہوگا، خلف بن ایوب اور نصیر بن یحییٰ نے ایسا ہی کہا ہے اور یہ اس لئے ہے کہ جب دونوں جگہوں میں مسافت ہو تو وہ پانی جس کو پہلے نے استعمال کیا ہو اس پر دوسرا جاری پانی وارد ہوگا قبل اس کے کہ وہ دوسری جگہ جمع ہو، تو استعمال کا حکم ظاہر نہ ہوگا (یعنی ثابت نہ ہوگا، اور جب اُن دونوں کے درمیان مسافت نہ ہو تو وہ پانی جس کو پہلے نے استعمال کیا دوسرے جاری پانی کے وارد ہونے سے پہلے وہ دوسری جگہ اکٹھا ہوجائیگا تو مستعمل ہوجائیگا اور اب طاہر نہیں ہوسکتا ہے انتہیٰ، اور یہ تمام اُس صورت میں ہے جب مستعمل پانی کو ناپاک قرار دیا جائے اھ (ت(
 (۱؎ حلیہ)
Flag Counter