| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
ضابطہ بروجہ سوم کہ توزیع احکام کرے حکم تین ہیں: ۱۔ سب پاک ۲۔ سب ناپاک ۳۔ صرف حصہ بالا پاک۔ اس ضابطہ میں ہر حکم کی صورتیں جُدا کی جائیں گی۔ فاقول اگر(۱) آب طاہر آب نجس سے نہ کثیر ہو کر ملا نہ بعد کو اُبلا نہ نجاست غیر مرئیہ میں صغیر کو بہایا نہ باقیہ میں بہا کر دہ در دہ پر ٹھہرا تو ان (عہ۱) اٹھائیس۲۸ صورتوں میں دونوں حصّے مطلقاً ناپاک ہیں اور(۲) اگر حوض قسم دوم سے ہو یا چہارم میں صغیر تابع قابل اجرا نہ ہو اور دونوں صورتوں میں آب طاہرکثیر ہو کر نجس سے ملا یا(۳) بعد کو اُبلا، یا(۴) آب نجس حوض صغیر تابع خواہ مستقل میں قابل اجرا تھا اور نجاست غیر مرئیہ(عہ۲) رہ گئی تھی اگرچہ دہ در دہ سے کم پر ٹھہرا، یا(۵) مرئیہ میں وہ صغیر تابع تھا اگرچہ راسبہ ہوا اور اُسے بہا کر(عہ۳) کثرت پر ٹھہرایا(۶) بعد کو اُبلا، یا(۷) صغیر مستقل تھا اور نجاست طافیہ اور بہا کر کثرت پر ٹھہرا (عہ۴)، ان ستر۷۰ صورتوں میں دونوں حصے مطلقاً پاک رہیں اور اگر صغیر مستقل تھا اور آنے والے پانی نے اُسے نہ بہایا کہ جگہ نہ تھی خواہ نجس پانی اس کی حدود سے باہر تھا یا بہایا تو نجاست راسبہ تھی اور ان دونوں صورتوں میں پانی۸،۹ اُس نجس سے کثیر ہو کر ملا خواہ صورت اخیرہ میں بہا کر کثرت پر ٹھہرا یا (۱۰،۱۱) دونوں صورتوں میں بعد کو اُبلایا(۱۲) نجاست طافیہ تھی اور قلت پر ٹھہر کر آخر میں اُبلا ان (عہ۵) بائیس صورتوں میں اسفل ناپاک اعلیٰ پاک۔
(عہ۱) حوض قسم دوم سے ہے یا صغیر ناجاری تابع خواہ مستقل بہرحال مبدء یا مبدء ومنتہی دونوں قلیل بہرصورت نجاست چاروں قسم کے کسی کی۔ ۲۴ یہ ہُوئیں اور صغیر جاری سے تابع خواہ مستقل اور نہ کثرت پر ٹھہرا نہ بعد کو اُبلا بہر تقدیر نجاست طافیہ ہے یا راسبہ چار یہ ہوئیں جملہ ۲۸ اور ضابطہ میں ایک ۱۲ منہ (م( (عہ۲)غیر مرئیہ رہ جانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ نجاست سرے سے غیر مرئیہ تھی یا تھی مرئیہ اور قبل جریان نکال دی گئی کہ غیر مرئیہ رہ گئی ۱۲ منہ (م( (عہ۳) کثرت پر ٹھہرنا دونوں صورتوں کو شامل ہے ابتدا ہی سے کثیر ہو کر ملا یا کثیر ہو کر جریان پر ٹھہرا ۱۲ منہ (م( (عہ۴) حوض قسم دوم سے یا صغیر ناجاری تابع۔ بہرحال اگر مبدء کثیر ہے تو بعد کو اُبلے نہ اُبلے یا(۳) بعد کو اُبلا تو منتہی کثیر یا قلیل۔ یہ آٹھ صورتیں ہوئیں ہر صورت پر نجاست کی ہر قسم حاصل ۳۲۔ اور ضابطہ میں دو۔ اور (۴) اگر صغیر جاری ہے تابع خواہ مستقل اور نجاست غیر مرئیہ خواہ مخرجہ۔ چار ہوئیں۔ بہرصورت مبدء کثیر ہے یا قلیل اور منتہی کثیر یا دونوں قلیل بارہ۱۲ ہوئیں بہرصورت اُبلا یا نہیں، حاصل ۲۴۔ اور ضابطہ میں ایک اور(۵) صغیر جاری تابع میں مبدء کثیر ہے یا منتہی بہرحال اُبلا یا نہیں چار یہ اور پانچویں یہ کہ(۶) دونوں قلیل اور اُبلا بہرصورت نجاست طافیہ یا راسبہ حاصل ۱۰۔ اور ضابطہ میں دو(۷) صغیر جاری مستقل اور نجاست طافیہ اور منتہٰی کثیر اس میں ممکن کو مبدء کثیر تھا یا قلیل بہرحال اُبلا یا نہیں حاصل ۴۔ اور ضابطہ میں ایک مجموع ستّر۷۰ اور ضابطہ میں چھ۔ منہ (م( (عہ۵) صغیر(۸) مستقل ناجاری میں اگر مبدء کثیر ہے تو اُبلے خواہ نہیں اور(۹) اُبلا ہے تو منتہیٰ کثیر ہو یا قلیل۔ یہ چار ہوئیں اور بہر تقدیر نجاست کی ہر قسم۔ حاصل ۱۶ اور صغیر(۱۰) مستقل جاری میں مبد وکثیر ہو یا منتہی بہرحال اُبلے یا نہیں اور نجاست خاص راسبہ۔ یہ چار ہوئیں اور(۱۱) اگر دونوں قلیل ہیں اور اُبلا تو نجاست راسبہ ہو خواہ(۱۲) طافیہ یہ دو مل کر چھ(۶) ہوئیں، حاصل۲۲، اور ضابطہ میں ۵۔ مجموع ۱۲۰، اور ضابطہ میں ۱۲۔ منہ (م(
اقول اولا یہیں سے ظاہر ہوا کہ کلام علمائے کرام حوض قسم دوم میں ہے ورنہ بانوے۹۲ صورتوں سے نقض وارد ہو جن میں سے ستّر میں طہارت کل یقینی ہے اور بائیس میں طہارت اعلیٰ۔ تردّد ہے تو نجاست اسفل میں اور حوض قسم دوم میں بیشک حکم یہی ہے کہ اعلیٰ اسفل سب ناپاک صرف دو استثنا ہیں جن میں سب پاک ہوگا ایک یہ کہ بھر کر اُبل جائے یہ صراحۃً اُن کے کلماتِ عالیہ میں مذکور حلیہ وبدائع وفتح سے گزرا امتلأ ولم یخرج منہ شیئ (وہ بھر گیا اور اس سے کوئی چیز خارج نہ ہوئی۔ ت) دوسرے یہ کہ آنے والا پانی کثیر ہو کہ اُس نجس سے ملے یہ بجائے خود معلوم ومعہود کہ کثیر بے تغیر نجاست قبول نہیں کرتا تو اطلاق علمائے کرام صحیح وبے غبار ہے اور تحقیق بازغ وتنقیح بالغ یہ ہے جو بتوفیقہ عزّوجل قلبِ فقیر پر القا ہوئی۔ ثانیا نیز یہ بھی واضح(۱) ہوا کہ قول دوم بھی بے وجہ نہیں بلکہ وہ اُن ستّر صور پر محمول جن میں سب پانی پاک رہتا ہے وباللہ التوفیق۔ ثالثا یہ بھی لائح ہوا کہ یہ محل(۲) ایک قول کی تصحیح دوسرے کی تضعیف کا نہیں بلکہ دونوں اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں،
وللّٰہ الحمد کثیرا طیبا مبارکا فیہ کما یجب ربنا ویرضی، وصلی اللّٰہ تعالٰی وبارک وسلّم علی المصطفٰی الارضی، واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ ما علت سماء ارضا، والحمدللّٰہ ربّ العٰلمین واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اللہ ہی کیلئے بہت پاکیزہ حمد ہے اس میں برکت ہو جتنی ہمارے رب کو پسند ہے اور اتنے درود وسلام ہوں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر آپ کی آل، اصحاب، اولاد، گروہ سب پر جب تک آسمان زمین سے بلند رہے، والحمدللہ رب العالمین واللہ سبحٰنہ تعالٰی اعلم۔ (ت(