| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
فاقول: وباللہ ربی استعین اولاً: حوض اگر قسمِ دوم سے ہو یا قسم چہارم سے اور صغیر ناقابل اجرا تابع خواہ مستقل اور بہرحال نہ کثیر المبدء تھا نہ بھر کر اُبلا تو مطلقاً سب ناپاک ہوگیا عام ازیں نجاست کسی قسم کی ہو اور منتہی قلیل ہو یا کثیر کہ جتنا پانی نجاست سے ملتا گیا نجس ہوتا گیا اور نجس کثیر ہو کر طاہر نہیں ہوسکتا یہ تین صورتیں ہوئیں بلکہ ایک ہی کہ ناقابلِ اجرا سب کو شامل ہے اور تفصیلاًبالحاظ کثرت وقلت منتہی واقسام نجاست چوبیس۲۴۔ ثانیاً: انہی صور ثلثہ سے پہلی دو۲ صورتوں یعنی قسم دوم وناجاری تابع میں اگر کثیر المبدء تھا یا بھر کر اُبلا تو مطلقاً سب پاک ہوگیا یہ چار صورتیں ہوئیں بلکہ دو ہی کہ نامستقل دونوں کو شامل اور تفصیلاً بتیس۳۲ کو کثیر المبدء اُبلے یا نہیں اور اُبلنے والے قلیل المبدء میں منتہی قلیل ہو یا کثیر اور ہرایک قسم دوم سے ہو یا ناجاری تابع اور بہرحال نجاست کسی قسم کی۔ ثالثاً: انہی کی صورت سوم ناجاری مستقل میں کثرتِ مبدء یا اُبلنے سے حوضِ بالا مطلقاً پاک رہے گا کہ اُس کا پانی ناپاک پانی سے کثیر ہو کر ملا (اصل ۸) یا بعد کو بہ گیا (اصل ۱) اور صغیر مطلقا ناپاک ہونا چاہئے۔ اگرچہ نجاست غیر مرئیہ ہو کر بہا نہیں اور مستقل ہے (جواب۴) تو نجاست موجود اور سبب تطہیر مفقود صورت کثرت مبدء تو واضح ہے اور صورت اجرا میں بھی ظاہر یہی ہے کہ اس کا استقلال اس کے اجرا کو اس کا اجرا ہونے سے مانع ہوگا اگر کہیے کہ مانع نہ ہوگا
2_25.jpg
ج میں ج ح اور ر ک زمین کے ٹکڑے جنہوں نے حائل ہو کر ہ ط کو ا ء سے ممتاز شکل کر دیا اگر ہٹا دئے جائیں تو شک نہیں کہ ا ب کا اجرا تمام شکل ا ک کا اجرا ہوگا جس میں ہ ط بھی داخل تو اتنے ٹکڑے کم کر لینے سے اثر اجرا کہ ہ ط تک پہنچتا تھا ہ ر پر کیوں ختم ہوجائیگا تو جواب وہی ہے کہ وہ ٹکڑے ہٹ جائیں تو ر ک شکل واحد میں سب پانی ایک ہے بخلاف اس صورت کے کہ اب دو شکلوں میں دو پانی ہیں فلیتأمل یہ دو صورتیں ہوئیں اور تفصیلاً اُسی طرح سولہ۱۶۔ رابعا: صغیر قابلِ اجرا اور نہ ہوگا مگر قسم چہارم سے کہ قسم دوم اصلاً قابلِ اجرا نہیں جب تک سارا حوض بھر کر نہ بہے ظاہر ہے کہ اب جو پانی اُوپر سے آئیگا ضرور اُسے بھر کر بہا دے گا (اصل۵) تو اُس وقت اس کی طہارت میں کلام نہیں (اصل۱) عام ازیں کہ مستقل ہویا تابع کہ اجرا سے طہارت کے لئے کوئی مقدار شرط نہیں (اصل۲) اب اگر نجاست غیر مرئیہ یا مخرجہ ہے تو عود نجاست کی کوئی وجہ نہیں کہ جریان اس نجاست کو فنا کردیتا ہے (اصل۱۰) تو مطلقاً زیرو بالا دونوں حصّے پاک ہیں اگرچہ نہ مبدء کثیر ہو نہ منتہیٰ کہ جریان کیلئے کوئی حد خاص مقدر نہیں (اصل۴) خواہ بھر کر اُبلے یا نہیں کہ طاہر کو اجرا کی حاجت نہیں یہ چار صورتیں ہوئیں کہ قابل اجرا تابع یا مستقل اور نجاست غیر مرئیہ یا مخرجہ بلکہ ایک ہی کہ قابل اجرا اور نجاست غیر مرئیہ کہ بعد اخراج مرئیہ بھی غیر مرئیہ ہے اور تفصیلاً چوبیس۲۴ کہ ہر تقدیر پر مبدء کثیر ہو یا قلیل اور منتہیٰ کثیر یا وہ بھی قلیل اور ہر صورت پر اُبلے یا نہیں۔ خامسا: اسی صورت قابل اجرا میں نجاست باقیہ ہو تو مبدء یا منتہی کثیر ہونے کی حالت میں اگر نجاست طافیہ ہے مطلقاً دونوں حصے پاک رہیں گے صغیر تابع ہو یا مستقل کبیر اُبلے یا نہ اُبلے کہ جریان صغیر نے اُسے پاک کردیا اور وہ اگرچہ مستقل ہو نجاست کہ طافیہ تھی اس میں نہ رہی آبِ بالا کی طرف منتقل ہوگئی اور یہ آب بالا اُسے بہانے والا اُس سے متاثر نہ ہوا اگر کثیر تھا تو ظاہر (اصل۸) اور قلیل تھا جب بھی بحالتِ جریان توپاک تھا ہی (اصل۴) اور یہ جریان منتہی نہ ہوا جب تک اُس فضائے حوض کبیر کو کہ محاذات صغیر میں ہے بھر نہ دیا (اصل۴) کہ عرض میں پھیلنا جریان کا مانع نہیں (اصل۷) اور اس وقت دہ در دہ ہوچکا تھا بہرحال قا بل قبول نجاست نہ ہوا یوں ہی اگر راسبہ ہے اور صغیر تابع کہ اگرچہ وقوف جریان کے وقت نجاست اُس میں موجود تھی مگر آبِ بالا بوجہ کثرت متاثر نہ ہوا اور یہ بوجہ تبیعت اُس کے ساتھ شَے واحد ہے تو پاک ہی رہے گااور جریان بالا کی حاجت نہیں جیسے حوض قسم دوم کا اسفل ہے اگرچہ مساحت میں کتنا ہی کم رہ جائے اور اُس میں نجاست موجود ہو جب اوپر کثیر ہے یا اجرا ہوجائے کوئی حصہ ناپاک نہ رہے گا ہاں اس صورت میں اگر صغیر مستقل ہے تو کبیر کہ کثیر ہے پاک رہے گا اور صغیر پھر ناپاک ہونا چاہئے کہ اُس سطح کے بھرتے ہی جریان ٹھہر گیا اور اُس وقت نجاست خود اس میں موجود ہے اور یہ تابع نہیں تو جریان بالا بھی اگر ہوا سے مفید نہیں اور اگر مبدء ومنتہیٰ دونوں قلیل ہیں اور حوض بالا بہا بھی نہیں تو مطلقاً دونوں حصے ناپاک رہیں گے صغیر تابع ہو یا مستقل اور نجاست طافیہ ہو یا راسبہ کہ اگرچہ اجرائے صغیر نے اسے پاک کیا اور اُس وقت تک وہ آنے والا پانی بھی پاک تھا مگر جریان ٹھہرا قلت پر تو آب قلیل ساکن میں نجاست موجود ہے خواہ بالا میں اگر طافیہ ہے یا زیریں میں اگر راسبہ تو وہ نجس ہوگیا (اصل۶) اور دوسرا قلیل کہ اوّل میں زیریں اور دوم میں بالا ہے اس آبِ نجس سے متصل ہے تو دونوں نجس ہوگئے اور بعد کو جو پانی بڑھا بطنِ حوض میں متحرک ہوا تو دوبارہ اجرا نہ ہوا (اصل ۳ و ۵) اس بڑھنے میں سیلان سہی مگر وہ جریان کیلئے کافی نہیں (اصل۹) اور اگر حوض بالا بہا اور صغیر تابع ہے تو سب پاک اگرچہ نجاست راسبہ ہو لمامر اٰنفا (جیسے ابھی گزرا۔ ت) اور مستقل ہے تو صغیر بوجہ اتصال نجاست ناپاک ہونا چاہئے اگرچہ طافیہ ہو کہ وقوف جریان کے وقت بالا بسبب قلت ناپاک ہوگیا تھا اور یہ اُس سے متصل پھر جب بالا کا جریان ہوا وہ بوجہ استقلال اس کا جریان نہ ٹھہرنا چاہئے تو یہ نجس ہی رہا اور کبیر بوجہ جریان خود پاک ہوگیا یہ نو صورتیں ہیں کہ کثرت مبدء یا منتہٰی ہر ایک میں تین ہیں طافیہ مطلق اور راسبہ میں صغیر تابع یا مستقل یونہی قلت ہر دو میں تین ہیں عدمِ جریان بالا مطلق اور جریان میں تبعیت واستقلال بلکہ چھ۶ ہی ہیں کہ دونوں کثرتیں وقوف علی الکثرۃ میں آگئیں اور تفصیلاً چوبیس کہ کثرتِ مبدء یامنتہٰی یا قلتِ ہر دو ہر ایک میں نجاست طافیہ ہے یا راسبہ۔ صغیر تابع ہے یا مستقل بالا بہایا نہیں آٹھ آٹھ ہو کر چوبیس۲۴ ہوئیں مجموع ایک سو بیس اور ضابطہ میں بیس۲۰ ہی بلکہ صرف بارہ۱۲۔
اختصار ھذا الضابط اقول: ان کان جوف الحوض النجس لایجری بدخول الماء الطاھر فان کثر المبدء اوجری الکبیر طھر الکل لوالصغیر تابعا والکبیر فقط لومستقلا والا تنجس الکل وان کان یجری بہ و النجاسۃ غیر مرئیۃ طھر الکل وان باقیۃ فان وقف عن الجریان کثیرا وھی طافیۃ اوالصغیر تابع طھر الکل والا فالکبیر وحدہ وان وقف قلیلا ولم یجر الکبیر تنجس الکل وان جری طھر الکل لو الصغیر تابعا والکبیر فقط لومستقلا۔
ضابطہ کا اختصار میں کہتا ہوں اگر ناپاک حوض کی تہ پاک پانی کے داخل ہونے سے جاری نہیں ہوتی ہے، تو اگر مبدء زائد ہوگیایا بڑا جاری ہوا، تو کُل پاک ہے اگر صغیر تابع ہے اور کبیر فقط اگر مستقل ہو ورنہ سب ناپاک ہوگیا، اور اگر اس کے ساتھ جاری ہو اور نجاست مرئیہ نہ ہو تو کُل پاک اور اگرچہ نجاست باقی ہو تو اگر جاری ہونے سے بہت دیر رک جائے اور نجاست اوپر تیرتی ہو یا صغیر تابع ہو تو کل پاک ورنہ کبیر صرف پاک ہوگا، اور اگر تھوڑی دیر ٹھہرا اور کبیر جاری نہ ہوا تو کل ناپاک ہوا، اور اگر جاری ہوا تو کل پاک ہوا اگر صغیر تابع ہو اور کبیر فقط اگر مستقل ہو۔ (ت( ضابطہ بر وجہ دوم متفرق کہ ہر حصہ کی طہارت کا جدا ضابطہ۔ ۱۔ آب طاہر کثیر ہو کر نجس تک پہنچے، یا ۲۔ حوض بھر کر ابل جائے، یا ۳۔ صغیر کو بہائے اور نجاست غیر مرئیہ رہ گئی ہو، یا ۴۔ صغیر کو بہا کر دہ در دہ پر ٹھرے۔ اور طہارت زیریں تابع مطلقاً تابع طہارت بالا ہے اور طہارت زیریں مستقل کو تین شرطیں درکار: اوّل: اس کا جاری ہونا۔ دوم: نجاست کا راسبہ ہونا۔ سوم: یا تو نجاست غیر مرئیہ ہو یا طافیہ ہے تو جریان حد کثرت پر ٹھہرے اُنہی کے اجتماع وافتراق سے زیروبالا کے احکام پیدا ہوں گے طہارت بالا کی اگر کوئی صورت نہ پائی جائے دونوں حصّے مطلقاً نجس ہیں کہ اس مسئلہ میں نجاست بالا وطہارتِ زیریں معقول نہیں اور اگر اُن میں سے کوئی صورت متحقق ہو اور اُس کے ساتھ غیر صغیرمستقل نہ ہو یا ہو تو اُس کی تینوں شرطیں جمع ہوں تو سب پاک ہے اور اگر طہارت بالا کی کوئی صورت پائی گئی اور صغیر مستقل ہے اور اس کی کوئی شرط منتفی ہوئی تو اسفل ناپاک اعلیٰ پاک۔