| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
والعجب ان المدقق العلائی حمل الکلام علی الجاری فقال فی شرحہ (ورد) ای جری (نجس) اذا ورد کلہ اواکثرہ ولو اقلہ لاکجیفۃ فی نھر اونجاسۃ علی سطح لکن قدمنا ان العبرۃ للاثر (کعکسہ) ای اذا وردت النجاسۃ علی الماء تنجس الماء اجماعا ۲؎ اھ۔
تعجب ہے کہ مدقق علائی نے کلام کو جاری پانی پر محمول کیا ہے، اور اپنی شرح میں فرمایا ہے (ورد) یعنی جاری ہوا (ناپاک) جب وارد ہوا اس کا کل یا اکثر، اگر کم جاری ہوا تو یہ حکم نہیں ہوگا جیسا کہ نہر میں مردار یا چھت پر نجاست، لیکن ہم نے پہلے ذکر کیا کہ اعتبار اثر کا ہے (جیسا کہ اس کا عکس) یعنی جب کہ نجاست پانی پر وارد ہو تو پانی اجماعاً ناپاک ہوجائیگا اھ (ت(
(۲؎ الدرالمختار باب الانجاس مجتبائی دہلی ۱/۵۵)
اقول: بل لا(۱) یتنجس اجماعا اذا کان جاریا مالم یتغیر بھا فالمراد الراکد القلیل قطعا ولو حمل(۲) علیہ لم یحتج فی الاولی الی تقییدھا ولا الاستدراک علیھا والعجب ان السادات الثلثۃ ح وط و ش کلھم حملوہ علی مایعم الراکد والجاری فاعترض الاولان علی الشارح قائلین علی قولہ جری ھذا خاص بما اذا جری علی ارض اوسطح ولا یشمل ما اذا صب علی نجاسۃ لان الصب لایقال لہ جریان مع ان الحکم عام فالاولی ابقاء المصنف علی عمومہ ۱؎ اھ۔
میں کہتا ہوں بلکہ ناپاک نہ ہوگا اجماعاً جبکہ جاری ہو، جب تک متغیر نہ ہو، تو مراد تھوڑا سا ٹھہرا ہوا پانی ہے قطعاً، اور اگر اس پر محمول کیا جائے تو پہلی میں اس کی تقیید کی حاجت نہ ہوگی اور نہ ہی استدراک کی ضرورت ہوگی اور تعجب یہ ہے کہ سادات ثلثہ ح، ط اور ش نے اس کو ٹھہرے اور جاری پانی دونوں میں عام کر رکھا ہے تو پہلے دو نے شارح پر اعتراض کیا، اور کہا ہے کہ ان کا قول جری یہ اس صورت کے ساتھ خاص ہے جبکہ وہ پانی زمین یا سطح پر جاری ہو اور اس صورت کو شامل نہیں ہے جبکہ کسی نجاست پر بہایا جائے کیونکہ بہانے کو جاری ہونا نہیں کہا جاتا ہے حالانکہ حکم عام ہے، تو اولیٰ وہی ہے کہ مصنّف نے اس کو اس کے عموم پر باقی رکھا ہے اھ۔ (ت(
(۱؎ طحطاوی علی الدر المختار باب الانجاس بیروت ۱/۱۶۱)
اقول اترون(۳) ماء جاریا اوکثیرا ورد علی نجس اوبالعکس ھل یتنجس بالورود فاین العموم واشار الثالث الی جوابین فقال فسرالورود بہ لیتأتی لہ التفصیل والخلاف اللذان ذکرھما والا فالورود اعم وایضا فالجریان ابلغ من الصب فصرح بہ مع علم حکم الصب منہ بالاولی رفعا لتوھم عدم ارادتہ ۱؎ اھ
میں کہتا ہوں کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جاری پانی یا کثیر پانی جو کسی نجاست پر وارد ہو یا بالعکس، صرف وارد ہونے سے نجس ہوجائے گا؟ تو عموم کہاں ہوا؟ اور تیسرے نے دو جوابوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ورود کی تفسیر اس کے ساتھ اس لئے کی گئی ہے تاکہ وہ اس کی تفصیل کر سکیں اور اس کے خلاف کا بھی ذکر کریں جن کا انہوں نے ذکر کیا، ورنہ ورود اعم ہے اور نیز جاری ہونا ابلغ ہے بہانے سے، تو اس کی تصریح کردی حالانکہ بہانے کا حکم اس سے معلوم ہوگیا تھا بطریقِ اولیٰ، تاکہ ارادہ نہ کرنے کا وہم دفع ہوجائے اھ (ت(
(۱؎ ردالمحتار باب الانجاس مصطفی البابی مصر ۱/۲۳۸)
اقول: لاعموم(۱) وعلی فرضہ(۲) کیف یصح تفسیرہ بخاص لیتأتی لہ تقییدہ وجعلہ خلافیۃ بل کان علیہ ان یبقیہ علی عمومہ ویقول وان کان جاریا اذا ورد کلہ ۔۔۔الخ
میں کہتا ہوں کوئی عموم نہیں ہے، اگر فرض کیا جائے تو اُس کی تفسیر خاص سے کیسے صحیح ہوسکتی ہے تاکہ وہ اس کو مقید کرسکیں اور اس کو اختلافی بنا سکیں، بلکہ ان پر لازم تھا کہ وہ اس کو اس کے عموم پر باقی رکھیں، اور کہیں کہ اگرچہ جاری ہو جبکہ اس کا کُل وارد ہو الخ (ت(
یہ جواہر زواہر بحمدہ تعالٰی عطیہ سرکار رسالت علیہ افضل الصّلوٰۃ والتحیۃ ہیں والحمدللّٰہ علی تواتر اٰلائہ، وافضل الصلاۃ والسلام علی سید انبیائہ، وعلیھم وعلیٰ اٰلہ وصحبہ واولیائہ، باقیین دائمین بدوامہ وبقائہ، اٰمین والحمدللّٰہ رب العٰلمین۔ جب یہ اصول عشرہ ممہد ہو لیے اب تفریعات کی طرف چلئے۔
فاقول: وباللّٰہ التوفیق اس مسئلہ میں ۱۲۰ صورتیں ہیں، جواب چہارم میں حوض کی قسمیں مذکور ہوئیں۔ قسم دوم وہ کہ اسفل اُسی کا جُز ہو شکل واحاطہ میں متمیز نہ ہو جیسے نصف دائرہ۔ قسم چہارم وہ کہ اسفل شکل جداگانہ ہو۔ صغیر تابع وہ کہ پچیس ہاتھ مساحت سے کم ہو مستقل وہ کہ پچیس ہاتھ یا زائد ہو مگر سَو سے کم ہو، حوضِ زیریں ناقابل اجرا ایک وہ کہ پانی اُس کی حدود سے باہر تک حوض بالا کے بطن میں بھرا ہو کہ باہر سے جو پانی آئیگا اُس کا بہاؤ اُس حوضِ صغیر میں داخل ہو کر نکلنا نہ ٹھہرے گا کہ اُس کا اجرا ہو بلکہ حوض بالا ہی کے بطن میں متحرک سمجھا جائے گا کہ جریان نہیں (اصل ۳ و ۵) ظاہر ہے کہ اگر دیگ میں ایک کٹورا رکھا اور نصف دیگ میں ناپاک پانی بھرا ہے لبالب بھر دینے سے بھی کٹورے کا پانی پاک نہ ہوگا نہ دیگ کا کہ اُن میں کسی کا اجرا نہ ہوا بخلاف اس کے کہ صرف کٹورے میں پانی ہو اور اُس پر پاک پانی ڈالیں یہاں تک کہ بھر کر اُبلے ضرور کٹورا اور اُس کا پانی پاک ہوجائیگا کہ اُس کا اجرا ہوگیا اگرچہ جوفِ دیگ میں (اصل ۲) دوسرا وہ کہ آگے اُبل کر بہنے کو جگہ نہ ہو جیسے اس صورت میں
2_23.jpg
کہ اگرچہ پانی صرف ح ع تک ہو آگے منتہی تک بلندی ہے۔ قابل اجرا وہ کہ پانی اُسی کے اندر اور آگے بہنے کو جگہ ہو قلت منتہی یہ کہ حوضِ بالا کی فضا کہ اس حوضِ زیریں کی محاذات میں ہے مع فضائے حوضِ زیریں دہ در دہ سے کم ہو جیسے اس شکل میں۔
2_24.jpg
ا ب کہ ا ب سَوہاتھ اور ح ع کم ہے کثرت منتہی یہ کہ یہاں بھی دہ در دہ ہو جیسے اسی شکل میں جب کہ سطح ح ع سَو ہاتھ اور سطح ا ب زائد ہو یا شکل سوم مذکور جواب چہارم میں کہ ا ب و ح ع دونوں مساوی ہیں کثرتِ مبدءیہ کہ ناپاک پانی جہاں تک بھرا ہے مثلاً بحالی قابلیت اجرا ھ سے ر تک یا بحال عدمِ قابلیت ی سے م تک وہاں سے مدخل آب تک اتنی جگہ ہے کہ آنے والا پاک پانی وہ دہ در دہ ہو کر ناپاک پانی سے ملے گا مثلاً ا سے جو پانی ح پر آیا اور پہلی صورت میں ہ سے ناپاک پانی تھا تو ہ تک پہنچنے سے پہلے سطح ح ہ میں سَو ہاتھ مساحت ہو اور دوسری صورت میں ی سے نجس پانی تھا تو ی سے اوپر اوپر سطح ح ی میں دہ در دہ کی وسعت ہو قلت مبدء یہ کہ اتنی جگہ نہیں بلکہ دہ در دہ سے کم رہ کر اُس سے ملے بہرحال نجاست مرئیہ پاک پانی داخل ہونے سے پہلے نکال لی گئی تو مخرجہ ہے ورنہ باقیہ راسبہ خواہ طافیہ ظاہر ہے کہ حوض زیر بحث قسم دوم سے ہوگا یا چہارم سے اور چہارم تابع یا مستقل اور دونوں قابل اجرا یا ناقابل یہ پانچ صورتیں ہوئیں اور ہر تقدیر پر مبدء کثیر ہوگا یا قلیل بروجہ دوم منتہی بھی قلیل ہوگا یا کثیر یہ تین ہو کر پندرہ۱۵ ہوئیں۔ بہرحال نجاست غیر مرئیہ ہوگی یا مرئیہ اور مرئیہ مخرجہ یا باقیہ اور باقیہ راسبہ یا طافیہ یہ چار ہو کر ساٹھ۶۰ ہوئیں بہر صورت حوض بالا بھر کر اُبلا یا نہیں جملہ ایک سو بیس۱۲۰۔ اب ہم بتوفیقہ تعالٰی ان کا ضبط کریں کہ ہر تقسیم اُسی صورت میں آئے جس سے وہاں حکم مختلف ہو۔