Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
95 - 176
وما ذکرنا من انتقالھا عند ائمۃ بلخ وبخاری وماوراء النھر فی الجواب الثالث فذاک انتقال فی الماء لا عن الماء۔
اور جو ہم نے تیسرے جواب میں ذکر کیاکہ یہ منتقل ہوجائیگی ائمہ بلخ یہ بخاری اور ماور ا لنہر کے نزدیک ہے تو یہ پانی میں منتقل ہونا ہے نہ کہ پانی سے۔ (ت(
اور جب آبِ راکد نجاست پر وارد ہو جیسے کپڑا یا بدن پاک کرنے میں، تو یہاں انتقال ہے یعنی نجاست اُس کپڑے یا بدن سے منتقل ہو کر اس پانی میں آجائے گی وہ پاک ہوجائے گا اور یہ ناپاک۔ اور جب آب(۲) جاری نجاست پر وارد ہو جیسے حوض وغیرہ کی صورتوں میں گزرا تو یہ صورت استیصال کی ہے یعنی وہ بھی پاک ہوگیا اور یہ پانی بھی پاک رہا نجاست کہیں باقی ہی نہ رہی، ہاں جاری وکثیر اگر نجاست سے متغیر ہوجائیں تو دونوں صورتوں میں قلیل راکد کی طرح ہیں بالجملہ ورود آب بر نجاست ہیں اگر یہ پانی صرف رافع ہے تو نجاست اُس شے سے دُور کرکے اپنے اوپر لے لے گا کہ اس میں دفع کی قوت نہیں اور اگر دافع بھی ہے تو فنا کردے گا کہ اُس ناپاک شدہ شے سے رفع کی اور اپنے اوپر سے دفع کی اس کیلئے کوئی محل ہی نہ رکھا اصل ۴ میں ظہیریہ کی عبارت گزری کہ حوض بھی پاک ہوگیا اور یہ پانی جو اُس سے باہر نکل گیا اُسے اُٹھا کر کسی نے وضو کیا تو وضو ہوگیا ظاہر ہے کہ یہ اعمال ہوا نہ انتقال ہوا کہ پانی خود بھی پاک رہا نہ اہمال ہوا کہ وہ ہوتا تو اُس وقت تک ہوتا کہ پانی بَہ رہا تھا جب ٹھہر گیا اور ہے قلیل تو نجاست اگر رہتی واجب تھا کہ عمل کرتی جیسا کہ اصل ۶ میں گزرا لیکن یہ بھی نہ ہوا اور اس پانی کو اٹھا کر اُس سے وضو جائز ہُوا تو یہ نہیں مگر نجاست کا استیصال۔ اسی طرح تصریح فرماتے ہیں کہ ناپاک(۳) زمین پر پانی بہا یا کہ ہاتھ بھر بَہ گیا زمین بھی پاک ہوگئی اور یہ پانی بھی پاک رہا،
فی ردالمحتار عن الذخیرۃ عن الحسن بن ابی مطیع اذا صب علیھا الماء فجری قدر ذراع طھرت الارض والماء طاھربمنزلۃ الماء الجاری قال ش فھذا نص فی المقصود وللّٰہ الحمد ۱؎ اھ۔
ردالمحتار میں ذخیرہ سے حسن بن ابی مطیع سے ہے کہ جب اس پر پانی بہایا گیا اور ایک ذراع کی مقدار اس پر جاری ہوا تو زمین اور پانی پاک ہیں بمنزلہ جاری پانی کے، "ش" نے فرمایا یہ عبارت ہمارے مقصود پر نص صریح ہے وللہ الحمد اھ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب المیاہ    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۳۸)
یوں ہی تصریحات ہیں کہ دو برتن(۱)ہیں ایک میں مثلاً پانی یا دُودھ پاک ہے دوسرے میں ناپاک، دونوں کی دھار ہوا میں ملا کر چھوڑی کہ ایک ہو کہ تیسرے برتن میں پہنچی یا(۲) دونوں کو ملا کر مثلاً پاک پکی چھت پر بہایا کہ ایک دھار ہوکر بہے سب پاک ہوگیا خزانہ وخلاصۃ وبزازیہ وردالمحتار میں ہے:
اناء ان ماء احدھما طاھر والاٰخر نجس فصبا من مکان عال فاختلطا فی الھواء ثم نزلا طھر کلہ ولو اجری ماء الاناء ین فی الارض صار بمنزلۃ ماء جار ۲؎۔
دو برتن ہیں ان میں ایک کا پانی پاک اور دوسرے کا ناپاک ہے، اب دونوں سے اوپر سے پانی بہایا پھر یہ دونوں پانی ہوا میں باہم مل گئے پھر نیچے آئے تو پاک ہیں، اور اگر دونوں برتنوں کا پانی زمین پر بہادیا گیا تو دونوں بمنزلہ جاری پانی کے ہوگئے۔ (ت(
 (۲؎ ردالمحتار    باب الانجاس     مصطفی البابی مصر     ۱/۲۳۹)
اشارات تقریر سابق سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ ثمرہ استیصال علی الاطلاق نجاست غیر مرئیہ میں ہے مرئیہ جب تک باقی ہے معدوم نہیں کہی جاسکتی، ہاں کثیر وجاری میں اثر نہ کرسکے گی قلیل و راکد ہوتے ہی اپنا عمل دکھائے گی مگر یہ کہ اس سے پہلے نجاست نکال دی یا پانی(۳) میں مستہلک یا مٹی(۴) کی طرف مستحیل ہوگئی تھی کہ پہلی دو صورتوں میں مرئیہ نہ رہی غیر مرئیہ ہوگئی اور پچھلی میں نجاست ہی نہ رہی منحۃ الخالق میں ہے:
قال العلامۃ عبدالرحمٰن افندی العمادی مفتی دمشق فی کتابہ ھدیۃ ابن العماد قال صاحب مجمع الفتاوٰی فی الخزانۃ ماء الثلج اذا جری علی طریق فیہ سرقین ونجاسۃ ان تغیبت النجاسۃ واختلطت حتی لایری اثرھا یتوضؤ منہ ۳؎۔
علّامہ عبدالرحمن آفندی عمادی مفتی دمشق نے اپنی کتاب ہدیۃ ابن العماد میں فرمایا صاحب مجمع الفتاوٰی نے خزانہ میں فرمایا کہ برف کا پانی ایسے راستے میں بہا جس پر گوبر پڑا ہوا تھا اور نجاست بھی تھی اگر نجاست اس میں اس طرح گُھل مل گئی کہ اس کا اثر نظر نہیں آتا تو اُس سے وضو کیا جائے گا۔ (ت(
 (۳؎ منحۃ الخالق علی حاشیۃ بحرالرائق    بحث الماء الجاری    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۵)
یوں ہی بزازیہ وخلاصہ وفتاوٰی سمرقند میں ہے شرح ہدیہ میں بعد کلام مذکور اصل ۶ فرمایا:
فالحوض نجس الی ان یصیر الزبل فی اسفلہ حمأۃ وھی الطین الاسود فلا یکون نجسا حینئذ واذا کان الحوض کبیرا فالامر فیہ یسیر ۱؎۔
تو حوض اس وقت ناپاک ہے جب تک کہ جو گندگی اس کے نیچے ہے کیچڑ میں تبدیل ہوجائے تو اس وقت وہ ناپاک نہ ہوگا، اور اگر حوض بڑا ہو تو معاملہ آسان ہے۔ (ت(
 (۱؎ منحۃ الخالق علی حاشیۃ بحرالرائق    بحث الماء الجاری    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۵)
منحہ میں ہے:یعنی اذ اجری بعد ذلک لابمجرد صیرورۃ الزبل حمأۃ کمایعلم ممامر ۲؎ اھ
یعنی اس کے بعد پانی جاری بھی ہوا ہو کیونکہ محض کیچڑ بن جانا کافی نہیں، جیسا کہ سابقہ بیان سے معلوم ہوتا ہے۔ (ت(
 (۲؎ منحۃ الخالق علی حاشیۃ بحرالرائق    بحث الماء الجاری    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۵)
اقول تبین مما حققنا ان المراد بالماء فی قولھم ماء ورد علی نجس نجس کعکسہ ھو الماء الراکد القلیل اذبہ تستقیم القضیتان علی عمومھما وقد اشار الیہ ملک العلماء حیث قال لاخلاف ان النجس یطھر بالغسل فی الماء الجاری وکذا بالغسل بصب الماء الجاری وکذا بالغسل بصب الماء علیہ واختلف ھل یطھر بالغسل فی الاوانی قال ابو حنیفۃ ومحمد یطھر حتی یخرج من الاجانۃ الثالثۃ طاھرا ،
میں کہتا ہوں جو تحقیق ہم نے کی اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ان کے قول ماء ورد علی نجس نجس کعکسہ میں ماء سے مراد وہ تھوڑا پانی ہے جو ٹھہرا ہوا ہو، کیونکہ اسی تشریح سے دونوں قضیے درست ہوں گے اور ان کا عموم صحیح قرار پائیگا اور ملک العلماء نے اسی طرف اشارہ کیا ہے وہ فرماتے ہیں اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ نجس چیز جاری پانی میں دھونے سے پاک ہوجائے گی اور اسی طرح اگر اس پر پانی بہاکر اس کو دھودیا جائے تو پاک ہوجائے گی، اس میں اختلاف ہے کہ آیا برتنوں میں دھو کر بھی پاک ہوگی یا نہیں؟ ابو حنیفہ اور محمد فرماتے ہیں پاک ہوجائے گی یہاں تک کہ تیسرے ٹب سے پاک نکلے گا،
وقال ابو یوسف لایطھر البدن مالم یصب علیہ الماء وفی الثوب عنہ روایتان وجہ قول ابی یوسف القیاس یابی الطھارۃ بالغسل اصلا لان الماء متی لاقی النجاسۃ یتنجس سواء ورد الماء علی النجاسۃ او وردت النجاسۃ علی الماء الا انا حکمنا بالطھارۃ لحاجۃالناس والحاجۃ تندفع بالحکم بالطھارۃ عند ورود الماء علی النجاسۃ فبقی ما وراء ذلک علی القیاس فعلی ھذہ لایفرق بین البدن والثوب ووجہ الفرق لہ علی روایۃ ان فی الثوب ضرورۃ اذکل من تنجس ثوبہ لایجد من یصب ولا یمکنہ الصب بنفسہ،
اور ابو یوسف نے فرمایا بدن اس وقت تک پاک نہ ہوگا جب تک کہ اس کے اوپر پانی نہ بہایا جائے اور کپڑے کے بارے میں اُن سے دو روایتیں ہیں، ابو یوسف کے قول کی وجہ یہ ہے کہ قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ دھونے سے طہارت بالکل نہ ہو کیونکہ پانی جب نجاست سے ملاقی ہوگا تو ناپاک ہوجائیگا خواہ پانی نجاست پر وارد ہو یا نجاست پانی پر وارد ہو، مگر ہم نے لوگوں کی ضرورت کی وجہ سے طہارت کا حکم دیا۔ اور حاجت پانی کے نجاست پر وارد ہونے کی صورت میں پاکی کے حکم کے ساتھ رفع ہوجاتی ہے تو اُس کے علاوہ قیاس کے مطابق رہے گا، اس بنا پر بدن اور کپڑے میں فرق نہیں کیا جائیگا، اور ان کے نزدیک وجہ فرق ایک روایت پر یہ ہے کہ کپڑے میں ضرورت ہے کیونکہ ہر وہ شخص جس کا کپڑا ناپاک ہوجائے اس کو یہ سہولت حاصل نہیں ہوتی کہ کوئی اس کے کپڑے پر اُوپر سے پانی بہائے اور خود بھی وہ نہیں بہا سکتا ہے،
وجہ قولھما ان القیاس متروک فی الفصلین لتحقق الضرورۃ فی المحلین اذلیس کل من اصابت النجاسۃ بدنہ یجد ماء جاریا او من یصب وقد لایتمکن من الصب بنفسہ مع ان ماذکرہ من القیاس غیر صحیح لان الماء لاینجس اصلا مادام علی المحل النجس ۱؎ اھ مختصرا فقد افاد مرتین ان القضیتین فی غیر الجاری ای وما فی حکمہ من الکثیر،
اور طرفین کے قول کی وجہ یہ ہے کہ قیاس دونوں صورتوں میں متروک ہے کیونکہ دونوں جگہ ضرورت متحقق ہے کیونکہ ہر وہ شخص جس کو نجاست لگ جائے نہ تو بہتا ہوا پانی پاتا ہے اور نہ ہی کسی بہانے والے کو پاتا ہے، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ خود بھی نہیں بہا سکتا ہے، اور اس کے علاوہ جو قیاس اُنہوں نے ذکر کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے کیونکہ پانی جب تک نجس جگہ پر رہے ناپاک نہیں ہوتا ہے اھ مختصر، تو دو مرتبہ انہوں نے بتایا کہ دونوں قضیے غیر جاری پانی میں ہیں یعنی اُس پانی میں جو جاری پانی کے حکم میں ہو، مثلاً کثیر پانی،
 (۱؎ بدائع الصنائع    اما طریق التطہیر بالغسل    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۷)
Flag Counter