Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
94 - 176
ردالمحتار میں ہے:الورود یشمل مااذا جری علیھا وھی علی ارض اوسطح وما اذا صب فوقھا فی اٰنیۃ بدون جریان ۲؎۔
ورود کا لفظ اس صورت کو بھی شامل ہے جب پانی نجاست پر بہے اور وہ زمین یا سطح پر ہو اور اس صورت کو بھی شامل ہے کہ جب پانی نجاست کے اوپر بہایا جائے کسی برتن میں اور اس میں جریان نہ ہو۔ (ت(
 (۲؎ ردالمحتار     فصل الانجاس       مصطفی البابی مصر    ۱/۲۳۸)
بحرالرائق میں ہے:القیاس یقتضی تنجس الماء باول الملاقاۃ للنجاسۃ لکن سقط للضرورۃ سواء کان الثوب فی اجانۃ و اورد الماء علیہ اوبالعکس عندنا فھو طاھر(۲) فی المحل نجس اذا انفصل سواء تغیرا ولا وھذا فی الماءین اتفاقا اما الثالث فھو نجس عندہ لان طہارتہ فی المحل ضرورۃ تطہیرہ وقد زالت طاھر عندھما اذا انفصل والاولی(۳) فی غسل الثوب النجس وضعہ فی الاجانۃ من غیرماء ثم صب الماء علیہ لاوضع الماء اولا خروجا من خلاف الامام الشافعی فانہ یقول بنجاسۃ الماء ۱؎۔
قیاس یہ چاہتا ہے کہ پانی پہلی ہی ملاقاۃ میں ناپاک ہوجاتا ہے نجاست کی وجہ سے لیکن ضرورت کی وجہ سے قیاس ساقط ہوگیا خواہ کپڑا ٹب میں ہو اور اس پر پانی وارد ہو یا بالعکس ہو یہ ہمارے نزدیک ہے، تو یہ اپنے محل میں طاہر ہے اور جب جُدا ہوگا تو نجس ہوگا خواہ متغیر ہو یا نہ ہو، یہ دو پانیوں میں اتفاقاً ہے، اور تیسرا تو وہ ان کے نزدیک نجس ہے کیونکہ اس کی طہارت محل میں ضرورت کی وجہ سے ہے، اور یہ ضرورت محل کی طہارت کی ہے اور وہ ضرورت زائل ہوگئی، صاحبین کے نزدیک جُدا ہوتے ہی پاک ہوجائیگا نجس کپڑے کو دھونے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس کو خشک ٹب میں رکھا جائے پھر اس پر پانی بہایا جائے یہ نہیں کہ پہلے ٹب میں پانی موجود ہو امام شافعی کے اختلاف سے بچنے کیلئے اس میں امام شافعی کا قول ہے کہ پانی نجس ہوجائیگا۔ (ت(
 (۱؎ ردالمحتار    باب الانجاس        مصطفی البابی مصر    ۱/۲۳۹)
ردالمحتار میں اس کے بعد فرمایا:ولا فرق(۱) علی المعتمد بین الثوب المتنجس والعضو ۲؎ اھ۔ یشیر الی خلاف ابی یوسف لاشتراط الصب فی العضو کما فی البدائع۔
معتمد قول کے مطابق ناپاک کپڑے اور عضو کے درمیان کوئی فرق نہیں اھ ط اھ اس میں ابو یوسف کے اختلاف کی طرف اشارہ ہے وہ عضو پر پانی بہانے کو شرط قرار دیتے ہیں، جیسا کہ بدائع میں ہے۔ (ت(
 (۲؎ ردالمحتار    باب الانجاس        مصطفی البابی مصر    ۱/۲۳۹)
اقول وظاھر التعلیل بضرورۃ تطھیر الثوب انہ طاھر فی حق ذلک الثوب لاغیر(۲) فلو وضع الثوب النجس فی اجانۃ وصب الماء فوقع فیہ ثوب اٰخر طاھر یتنجس وان لم ینفصل الماء عن الثوب الاول بعد لان ماکان بضرورۃ تقدر بقدرھا فمن کان یصلی و وقع طرف ردائہ فی الاجانۃ فاصابہ اکثر من الدرھم وھو یتحرک بتحرکہ لم تجز صلاتہ ھذا ماظھر فلیحرر واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں، اور بظاہر تعلیل یہ ہے کہ یہ کپڑا ضرورۃً پاک ہے تو یہ پاکی اِسی کپڑے تک محدود رہے گی لہٰذا اگر ایک ناپاک کپڑا طشت میں رکھا گیا اور اس پر پانی بہایا گیا پھر اسی طشت میں کوئی اور پاک کپڑا گِر گیا تو وہ ناپاک ہوجائے گا اگرچہ اب تک پہلے کپڑے سے پانی جُدا نہ ہوا ہو کیونکہ جو چیز بوجہ ضرورت ہوتی ہے وہ بقدرِ ضرورت ہی رہتی ہے، اب اگر کوئی شخص نماز پڑھا رہا ہے اور اُس کے کپڑے کا کنارہ ٹب میں گر گیا تو اگر درہم سے زائد ہو اور وہ کپڑے کے ہلنے سے حرکت کرے تو اس کی نماز جائز نہ ہوگی یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا اس کو اچھی طرح سمجھ لیں واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت(
اس نفیس فائدہ سے اصل ۳ پر یہ تو ہم زائل ہوگیا کہ پانی تالاب کے اِس کنارے سے اُس کنارے تک بہتا پہنچا پھر جاری کیوں نہ ہوا یہ سیلان ہے جریان نہیں اور وہ فرق کھل گیا جو اصل ۸ میں ہم نے ذکر کیا کہ تالاب کے اندر مدخل آب کے قریب نجاست ہے اور پانی اس پر ہو کر گزرا ناپاک ہوگیا کہ وہ سائل ہے جاری نہیں اور تالاب کے باہر زمین پر کنارے کے قریب نجاست ہے اور پانی اُس پر گزرتا تالاب میں داخل ہوا تو ناپاک نہ ہوا جب تک وصف نہ بدلے کہ وہ جاری ہے اور اس کی نظیر وہ مسئلہ ہے کہ جوف زخم کے اندر خون کا سیلان معتبر نہیں جوف سے باہر بہے تو ناقض وضو ہے فافہم یہی مبنی ہے اس مسئلہ(۱) کا کہ استنجاء کرنے کو لوٹے سے پانی کی دھار ڈالی ہاتھ تک پہنچنے سے پہلے اُس دھار پر پیشاب کی چھینٹ پڑ گئی دھار ناپاک نہ ہوگی کہ جاری ہے اور یہی دھار استنجا کرنے سے ناپاک ہوجائے گی کہ بدن پر جاری نہیں ردالمحتار میں ہے:
قال فی الضیاء ذکر فی الواقعات الحسامیۃ لواخذ الاناء فصب الماء علی یدہ للاستنجاء فوصلت قطرۃ بول الی الماء النازل قبل ان یصل الی یدہ قال بعض المشائخ لاینجس لانہ جار قال حسام الدین ھذا القول لیس بشیئ والا لزم ان تکون غسالۃ الاستنجاء غیر نجسۃ قال فی المضمرات وفیہ نظر والفرق ان الماء علی کف المستنجی لیس بجار والنازل من الماء قبل وصولہ الی الکف جار ولا یظھر فیہ اثر القطرۃ فالقیاس ان لایصیر نجسا وما قالہ حسام الدین احتیاط اھ ویؤید عدم التنجس ماذکرنا من الفروع واللّٰہ تعالی اعلم ۱؎ اھ
ضیاء میں کہا ''واقعات حسامیہ میں ہے کہ اگر برتن سے استنجاء کرنے کیلئے اپنے ہاتھ پر پانی ڈالا، اور پیشاب کا کوئی قطرہ اس پانی تک کسی طرح پہنچ گیا جو اوپر سے آرہا ہے اور ابھی تک عضو تک نہیں پہنچا تھا تو بعض مشائخ فرماتے ہیں ناپاک نہ ہوگا کیونکہ یہ جاری پانی ہے، حسام الدین نے فرمایا اس قول کی کوئی حیثیت نہیں ورنہ تو لازم کہ استنجاء کا دھوون ناپاک نہ ہو۔ مضمرات میں فرمایا اس میں نظر ہے اور فرق یہ ہے استنجاء کرنے والے کے ہاتھ میں جو پانی ہے وہ جاری نہیں اور اُوپر سے آنے والا پانی جو ہنوز ہاتھ تک نہیں پہنچا ہے جاری پانی ہے اس میں قطرہ کا اثر ظاہر نہ ہوگا تو قیاس یہی ہے کہ نجس نہ ہو اور حسام الدین نے جو فرمایا ہے وہ بطور احتیاط ہے اھ اور ناپاک نہ ہونے پر وہ فروع دلالت کرتی ہیں جو ہم نے ذکر کی ہیں واللہ تعالٰی اعلم اھ (ت(
 (۱؎ ردالمحتار    باب الانجاس        مصطفی البابی مصر    ۱/۲۳۹)
اقول وقد جزم بہ فی الخلاصۃ عازیا للفتاوٰی وفی البزازیۃ ولم یحکواخلافاہ نصھا فی مایتصل بالماء الجاری فی الفتاوی رجل استنجی فلما صب الماء من القمقمۃ علی یدہ لاقی الماء الذی یسیل من القمقمۃ البول قبل ان یقع علی یدہ بعض ماخرج فھو طاھر ۱؎ اھ
میں کہتا ہوں اس پر خلاصہ میں جزم کیا اور اس کو فتاوٰی کی طرف منسوب کیا اور بزازیہ میں کسی اختلاف کا ذکر نہیں کیا، اور اس کی اصل عبارت، جو جاری پانی سے متصل ہے فتاوٰی میں یہ ہے،کہ ایک شخص نے استنجاء کیا، تو جب اُس نے ٹونٹی سے اپنے ہاتھ پر پانی ڈالا تو وہ پانی ہاتھ پر گرنے سے قبل پیشاب کے قطرہ سے مل گیا، تو یہ پانی پاک ہے اھ
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی    وما تتصل بالماء الجاری    نولکشور لکھنؤ        ۱/۱۰)
قال ش بخلاف مسألۃ الجیفۃ فان الماء الجاری علیھا لم یذھب بالنجاسۃ ولم یستھلکھا بل ھی باقیۃ فی محلھا وعینھا قائمۃ علی ان فیھا اختلافا ولھذا استدرک الشارح بقولہ ولکن قدمنا ان العبرۃ للاثر ۲؎ اھ کلام الشامی وقدمنا ان مااستدرک بہ الشارح ھو المفتی بہ المعتمد واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
"ش" نے فرمایا یہ مسئلہ مردار کے مسئلہ کے خلاف ہے کیونکہ جو پانی اس پر گرتا یا جاری ہوتا ہے وہ نجاست کو بہا کر نہیں لے جاتا ہے اور نہ ہی نجاست کو ختم کرتا ہے بلکہ نجاست کا عین اپنی حالت پر ہی باقی رہتا ہے، پھر اس میں اختلاف بھی ہے اس لئے شارح نے یہ کہہ کر استدراک کیا ہے ولکن قدمنا ان العبرۃ للاثر اھ شامی کا کلام ختم ہوا اور ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں کہ جو استدراک شارح نے کیا ہے وہی مفتیٰ بہ اور معتمد ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت(
 (۲؎ ردالمحتار        باب الانجاس        مصطفی البابی مصر    ۱/۲۳۹)
اصل ۱۰: ہماری کتابو ں میں اتنا فرماتے ہیں کہ پانی نجاست پر وارد ہو یا نجاست پانی پر، دونوں کا یکساں حکم ہے
کما تقدم عن التنویر وذکر مثلہ الجم الغفیر وفی الغرر الوارد کالمورود
 (جیسا کہ تنویر سے گزرا اور اس کی مثل بہت سے لوگوں نے ذکر کیا ہے اور غرر میں ہے کہ وارد مورود کی طرح ہے۔ ت(
اقول وباللہ التوفیق یہاں ایک فرق ہے غامض ودقیق اور تحقیق انیق ہے قبول کی حقیق۔ نجاست(۱) حقیقیہ کے لئے ایک دفع ہے اور ایک رفع۔ دفع یہ کہ نجاست اثر نہ کرنے پائے اور رفع یہ کہ نجاست کا اثر موجود زائل ہوجائے دفع جاری وکثیر کے ساتھ خاص ہے اور رفع ہر مائع طاہر مزیل کیلئے اور ملاقات نجاست وآب کے ثمرے چار ہیں:

(۱)اعمال        (۲) اہمال

(۳) انتقال     (۴) استیصال

اعمال یہ کہ نجاست اپنا عمل کرے۔

اہمال یہ کہ عمل نہ کرسکے۔

انتقال یہ کہ اُس کا اثر جس شے پر تھا اُس سے دوسری چیز کی طرف منتقل ہوجائے۔

استیصال یہ کہ نجاست سرے سے فنا ہوجائے۔

نجاست جب آب قلیل راکد یعنی غیر جاری پر وارد ہو تو صرف اعمال ہے یعنی اُسے ناپاک کردے گی اور خود اُس میں باقی رہے گی اور جب آبِ(۱) جاری یا کثیر پر وارد ہو تو محض اہمال ہے یعنی باقی تو اس میں رہے گی مگر اثر کچھ نہ کرسکے گی،
Flag Counter