Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
93 - 176
و فی ردالمحتار فی دیارنا انھار المساقط تجری بالنجاسات وترسب فیھا لکنھا فی النھار تتغیر ولا کلام فی نجاستھا ح وفی اللیل یزول تغیرھا فیجری فیھا الخلاف لجریان الماء فیھا فوق النجاسۃ قال فی خزانۃ الفتاوی لوکان(۱) جمیع بطن النھر نجسا فانکان الماء کثیرا لایری ماتحتہ فھو طاھر والافلا وفی الملتقط قال بعض المشائخ الماء طاھر وان قل اذا کان جاریا ۲؎ اھ۔
اور ردالمحتار میں ہے کہ ہمارے ملک میں گندگی گرنے کی جگہوں پر جو نہریں ہوتی ہیں ان میں نجاست جاری رہتی ہے اور پھر بہتی جاتی ہے اور یہ نجاست دن میں متغیر ہوجاتی ہے اور اس وقت ان کی نجاست میں کوئی کلام نہیں اور رات کو اُن کا تغیر زائل ہوجاتا ہے تو اس میں اختلاف ہے کیونکہ اس میں پانی نجاست کے اوپر جاری رہتا ہے، خزانۃ الفتاوٰی میں فرمایا ''اگر نہر کا کل پیٹ ناپاک ہو تو اگر پانی کثیر ہے کہ اس کی تہہ نظر نہ آتی ہو تو وہ پاک ہے ورنہ نہیں، اور ملتقط میں ہے کہ بعض مشائخ نے فرمایا پانی پاک ہے اگرچہ کم ہو جبکہ جاری ہو اھ (ت(
 (۲؎ ردالمحتار        باب المیاہ        مصطفی البابی مصر    ۱/۱۳۸)
اقول مافی الملتقط مبتن علی الصحیح المفتی بہ وما فی الخزانۃ علی القول الاٰخر الدائر فی کثیر من الکتب  الجاری ان جری نصفہ اواکثر علی نجاسۃ مرئیۃ تنجس وھی المرادۃ فی الخزانۃ لقول الھندیۃ عن المحیط اذا کانت الجیفۃ تری من تحت الماء لقلۃ الماء لالصفائہ کان الذی یلاقیھا اکثر اذا کان سدعرض الساقیۃ وان کانت لاتری اولم تاخذ الا الاقل من النصف لم یکن الذی یلاقیھا اکثر ۱؎ اھ
میں کہتا ہوں جو کچھ ملتقط میں ہے وہ صحیح مفتی بہ پر مبنی ہے، اور جو خزانہ میں ہے وہ دوسرے قول پر مبنی ہے جو بہت سی کتابوں میں مذکور ہے کہ جاری پانی اگر اس کا نصف یا زائد کسی نجاست مرئیہ پر جاری ہو تو ناپاک ہوجائے گا، اور یہی خزانہ میں مراد ہے، اس لئے کہ ہندیہ میں محیط سے ہے کہ جب مردار پانی کے نیچے نظر آئے اس کی کمی کے باعث نہ کہ پانی کی صفائی کے باعث تو جو اُس مردار سے متصل ہو جائے وہ زیادہ ہوگا، جبکہ نہر کی چوڑائی کو بند کردے، اور اگر مردار نظر نہ آئے یا آدھے سے کم راستے کو بند کرے تو جو اُس سے ملاقات کرتا ہے وہ پانی اکثر نہیں ہوگا اھ
 (۱؎ ہندیۃ    الفصل الاول فیما یجوز    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۷)
وایاک ان تظن ان کلام الخزانۃ علی ظاھر اطلاقہ ولو تنجس بطن النھر بغیر مرئیۃ توھما ان بطن النھر اذا کان نجسا وھو یری فقدمر الماء کلہ علی نجاسۃ مرئیۃ وان کان لایری لکثرۃ الماء لالکدرتہ فانما جری علی غیر مرئیۃ فلا یتأثر بالتغیر وذلک لان العبرۃ بالنجس لاالمتنجس کما بیناہ فی فتاوٰنا لکن لقائل ان یقول ان العلۃ فی غیر المرئیۃ انہ اذالم یظھر اثرھا علم ان الماء ذھب بعینھا کما فی البحر وغیرہ اما ھھنا فبطن النھر کلہ نجس فالماء اینما ذھب لایلاقی الا نجسا تأمل ولا حاجۃ فان الفتوی علی اعتبار الاثر مطلقا فی الجاری والکثیر معانعم(۱) ظاھر کلام سیدی وتقریر الشامی ھھنا ان الکثیر الملحق بالجاری لایلحق بہ فی التطھیر بزوال التغیر لقولہ وان استقر فی حوض کبیر فھو نجس وان زال تغیرہ بنفسہ فلیحرر ولینظر وجہہ فان الذی فی المنیۃ من فصل الحیاض فی مسألۃ حوض الحمام مانصہ الا تری ان الحوض الکبیر الحق بالماء الجاری علی کل حال لاجل الضرورۃ ۱؎ قال فی الحلیۃ الجملۃ من الذخیرۃ ۲؎ اھ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اور خزانہ کے کلام کو اُس کے ظاہر پر محمول نہ کرنا چاہئے اور اگر نہر کی تَہ نجاستِ غیر مرئیہ سے ناپاک ہوگئی اس تو ہم پر کہ نہر کی تہہ جس وقت ناپاک ہو اور وہ نظر آتی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کل پانی نجاستِ مرئیہ پر جاری ہوگیا، اگرچہ وہ نظر نہ آتی ہو پانی کی کثرت کے باعث، نہ کہ اس کے گدلے پن کے باعث، کیونکہ وہ پانی نجاستِ غیر مرئیہ پر جاری ہوا ہے تو وہ تغیر سے متاثر نہ ہوگا، کیونکہ اعتبار نجاست کا ہوگا نہ کہ ناپاک ہونے والی شَے کا، جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا، لیکن کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ علۃغیر مرئیہ میں یہ ہے کہ جب اس کا اثر ظاہر نہ ہوا تو اُس کا مطلب یہ ہے کہ اُس نجاست کو پانی بہا لے گیا ہے جیسا کہ بحر وغیرہا میں ہے، اور یہاں نہر کا پیٹ تمام کا تمام ناپاک ہے تو پانی جہاں بھی جائیگا نجس سے ملاقات کرے گا تأمل، اور کوئی ضرورت بھی نہیں، کیونکہ جاری اور کثیر پانی میں فتوی مطلقا اثر کے اعتبار پر ہے، ہاں سیدی عبدالغنی اور شامی کی تقریر کا ظاہر یہ ہے کہ یہاں کثیر جو جاری کے ساتھ ملحق ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاک ہونے میں اس کے ساتھ ملحق نہیں کیا جائیگا پاک ہونے میں تغیر کے ختم ہوجانے کے باعث کیونکہ وہ فرماتے ہیں اور اگر وہ بڑے حوض میں ٹھہر جائے تو ناپاک ہے اگرچہ اس کا تغیر از خود زائل ہوجائے، اس کو اچھی طرح سمجھنا چاہئے اور اس کی وجہ پر غور کرنا چاہئے کیونکہ منیہ میں حوضوں کی فصل میں حمام کے حوض کے بیان میں ہے اس کی اصل عبارت یہ ہے ''کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ بڑا حوض جاری پانی سے ملحق ہے اور یہ علیٰ کل حال ہے اور اس کی وجہ ضرورت ہے، حلیہ میں فرمایا یہ تمام ذخیرہ سے ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت(
 (۱؎ منیۃ المصلی        فصل فی الحیاض    مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور    ص۷۳)

(۲؎ حلیۃ)
اصل ۷: فتوٰی(۱) اس پر ہے کہ پانی کا عرض میں پھیلنا اس کے جریان کو نہیں روکتا جبکہ پانی آگے نکل جاتا ہو، مثلاً نہ۹ در نہ۹ حوض ہے اُس میں پانی ایک طرف سے آیا دوسری طرف سے نکل گیا جاری ہوگیا اگرچہ عرض میں نو ہاتھ پھیلنے کے لئے ضرور وقفہ درکار ہوگا اور اُتنی جلد پانی اُس سے نہ نکل سکے گا جس قدر جلد تین چار ہاتھ کے عرض سے نکل جاتا ہندیہ میں ہے:
اذا کان الحوض صغیرا یدخل فیہ الماء من جانب ویخرج من جانب یجوز الوضوء من جمیع جوانبہ وعلیہ الفتوی من غیر تفصیل بین ان یکون اربعا فی اربع اواقل فیجوز اواکثر فلا یجوز کذا فی شرح الوقایۃ وھکذا فی الزاھدی ومعراج الدرایۃ ۳؎۔
جب حوض چھوٹا ہو اور اس میں پانی ایک طرف سے دوسری طرف سے نکل جاتا ہو تو اس کے تمام اطراف سے وضو جائز ہے، اور اسی پر فتوٰی ہے، اس میں یہ تفصیل بھی نہیں کہ وہ چار در چار ہو یا کم ہو تو جائز ہوگا اور اگر زائد ہو تو جائز نہ ہوگا کذا فی الشرح الوقایہ والزاہدی ومعراج الدرایہ۔ (ت(
 (۳؎ ہندیۃ        الفصل الاول فیما یجوز    نورانی کتب خانہ پشاور        ۱/۱۷)
بحر میں ہے:فی معراج الدرایۃ یفتی بالجواز مطلقاواعتمدہ فی فتاوی قاضی خان ۱؎۔
معراج الدرایہ میں ہے جواز کا مطلقا فتوی دیا جائیگا اور قاضی خان میں اسی پر اعتماد کیا ہے۔ (ت(
 (۱؎ بحرالرائق        عشر فی عشر        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱/۷۸)
فتاوٰی ذخیرۃ وتتمۃ الفتاوی الصغری پھر حلیہ میں ہے:
علیہ الفتوی لان ھذا ماء جار ۲؎۔
اسی پر فتوٰی ہے کیونکہ یہ جاری پانی ہے۔ (ت(
 (۲؎ حلیہ)
بلکہ پانی کا گھومنا ایک(۱) دائرہ پر چکر کھانا جس طرح بھنور میں ہوتا ہے یہ بھی مانع جریان نہیں کہ بھنور پانی کو روک نہیں رکھتا چکر دے کر نکال دیتا ہے اوپر سے دوسرا پانی آتا اب اسے گُھما کر چھوڑ دیتا ہے یہ سلسلہ قائم رہنے کے باعث گمان ہوتا ہے کہ ایک ہی پانی گھوم رہا ہے یہ بات غیر آب کے ڈالنے سے متمیز ہوسکتی ہے مثلا اوپر سے لکڑی ڈالی جائے بھنور پر پہنچ کر چکر کھا کر اُس طرف نکل جائے گی اور اگر بھنور قوی ہوا اسے گھمانے میں دبا کر دو۲ ٹکڑے کر دے گا اور چکّر دے کر نکال دے گا،
فسبحن من خلق ماشاء کیف شاء ولا یجری فی ملکہ الا مایشاء
 (پاک وہ ذات جس نے پیدا کیا جو چاہا جیسے چاہا اور نہیں چلتی کوئی شے اس کے ملک میں مگر جسے وہ چاہے۔ (ت(
منیہ مسئلہ حوض چار درچار میں ہے:
الظاھر ان الماء لایستقر فی مثلہ بل یدور حولہ ثم یخرج فیکون کالجاری ۳؎۔
ظاہر یہ ہے کہ پانی ایسی جگہ میں نہیں ٹھہرتا بلکہ اس کے اردگرد چکر کھاتا ہے پھر نکل جاتا ہے تو یہ جاری پانی کی طرح ہے۔ (ت(
 (۳؎ منیۃ المصلی    فصل فی الحیض    مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۷۲)
حلیہ میں ہے:کذا فی الذخیرۃ وتتمۃ الفتاوی الصغری حکایۃً عن الشیخ الامام ابی الحسن الرستغفنی ۴؎۔
جیسے ذخیرۃ اور تتمۃ الفتاوی الصغری میں شیخ الامام ابی الحسن الرستغفنی سے حکایت ہے (ت(
 (۴؎ حلیہ)
اصل ۸: حوض وغیرہ کے جریان میں اگرچہ خروج لازم تھا مگر ملحق بالجاری یعنی دہ دردہ میں اس کی حاجت نہیں گرمیوں(۲) کے خشک تالاب میں جانوروں کے گوبر وغیرہ نجاستیں پڑی ہیں برسات میں پانی آیا اور اُسے بھر دیا اگر تالاب کے جوف میں جہاں سے پانی نے گزر کر اُسے بھرا نجاست ہے جب تو سارا تالاب نجس ہوگیا اگرچہ کتنا ہی بڑا ہو جب تک بھر کر اُبل نہ جائے۔ 

اقول اس لئے کہ جب بارش یا بہاؤ کا پانی اس کے جوف میں داخل ہوا اب جب تک کہ اُس کے بطن میں متحرک رہے گا جاری نہ کہلائے گا کہ جریان کے لئے خروج شرط ہے اور یہ غیر جاری پانی نجاست سے اُس وقت مِلا کہ ہنوز دہ در دہ نہ تھا کہ جوف میں اس کے مدخل ہی پر نجاستیں تھیں تو نہ جاری ہے نہ کثیر لاجرم ناپاک ہوگیا یوں ہی جتنا پانی آتا گیا ناپاک ہوتا گیا اور نجس پانی کثیر ہوجانے سے پاک نہیں ہوسکتا جب تک جاری نہ ہوجائے اور اگر مدخل آب میں اتنی دُور تک نجاست نہیں کہ وہاں تک آنے والے پانی کے عرض طول کا مسطح سَو ہاتھ تک پہنچ گیا اُس کے بعد نجاست سے مِلا تو اب ناپاک نہ ہوگاکہ کثیر ہو کر ملا اگرچہ جوف سے باہر نہ گیا۔
اقول وبما قررنا ظھران المسألۃ مبتنیۃ علی الاصل الثالث لاعلی خلافیۃ مرور نصف الماء اواکثرہ علی نجاسۃ مرئیۃ فان الفتوی فیھا علی الطھارۃ مطلقا مالم یتغیر نعم ان لقی(۱) الماء النجاسات فی طریقہ علی شاطیئ الغدیر قبل ان یدخلہ کان علی الخلافیۃ لانہ جار بخلاف المتحرک فی بطن الغدیر کما علمت۔
اقول اور جو تقریر ہم نے کی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ تیسری اصل پر مبنی ہے، اس اختلافی مسئلہ پر مبنی نہیں ہے کہ آدھا پانی یا اکثر نجاست مرئیہ پر گزرے، کیونکہ اس میں فتوٰی مطلقا طہارت پر ہے تاوقتیکہ تغیر نہ ہو، ہاں اگر پانی ملے اپنے راستہ میں ان نجاستوں کے ساتھ جو گڑھے کے کنارے پر ہے قبل اس کے کہ وہ گڑھے میں داخل ہو، تو یہ اختلافی مسئلہ ہوگا، کیونکہ وہ جاری ہے بخلاف اس پانی کے جو تالاب کی تہ میں حرکت کر رہا ہو جیسا کہ تو نے جانا۔ (ت(
فتاوی خانیہ وخزانۃ المفتین اور محیط پھر حلیہ نیز خلاصہ وفتح القدیر میں فتاوی اور بحر وہندیہ میں فتح اور غیاثیہ نیز ذخیرہ پھر حلیہ میں فتاواے اہل سمر قند سے ہے:
واللفظ لفقیہ النفس غدیر عظیم یلبس فی الصیف وراثت الدواب فیہ (زاد فی الخلاصۃ والفتح والذخیرۃ والناس) ثم دخل فیہ الماء وامتلأ ینظر ان کانت النجاسۃ فی موضع دخول الماء فالکل نجس وان انجمد ذلک الماء کان نجسا لان کل مادخل فیہ صار نجسا فلا یطھر بعد ذلک وان لم تکن النجاسۃ فی موضع دخول الماء واجتمع الماء فی مکان طاھر وھو عشر فی عشرثم تعدی الی موضع النجاسۃ کان الماء طاھرا والمنجمد منہ طاھر مالم یظھر فیہ اثر النجاسۃ (قال فی الذخیرۃ لان الماء صار کثیرا قبل ان یتنجس فلا یتنجس بعد ذلک لاتصال النجاسۃ بہ اھ زاد فی الخانیۃ) وکذا(۱) الغدیر اذا قل ماؤہ فصارا ربعا فی اربع ووقعت نجاسۃ ثم دخل الماء الی ان صار الماء الجدید عشرا فی عشر قبل ان یصل الی النجس کان طاھرا ۱؎۔
اور الفاظ فقیہ النفس کے ہیں، ایک عظیم تالاب جو گرمی میں خشک ہوگیا اور اس میں چوپایوں نے لِید کر دی (خلاصہ اور فتح میں اور ذخیرہ میں لوگوں کا بھی اضافہ ہے) پھر اس میں پانی داخل ہوگیا اور وہ گڑھا بھر گیا، تو دیکھا جائے گا اگر نجاست پانی کے داخل ہونے کی جگہ پر ہے تو کل پانی نجس ہے، اور اگر یہ پانی منجمد ہوگیا تو نجس ہوجائیگا، کیونکہ اس میں جو بھی داخل ہوگا وہ نجس ہوجائیگا، اور اس کے بعد پاک نہ ہوگا، اور اگر نجاست پانی کے داخل ہونے کی جگہ نہ ہو اور پانی پاکیزہ جگہ پر جمع ہوجائے، اور وہ دَہ در دَہ ہو پھر پانی نجاست کی جگہ چلا گیا تو پانی پاک ہوگا اور جو منجمد ہوگیا وہ اس وقت تک پاک رہے گا جب تک نجاست کا اثر اس پر ظاہر نہ ہو (ذخیرہ میں فرمایا اس لئے کہ پانی نجس ہونے سے پہلے کثیر ہوگیا تو اس کے بعد نجس نہ ہوگا نجاست کے پانی کے ساتھ مل جانے کی وجہ سے اھ ۔خانیہ میں اضافہ کیا) اور اسی طرح تالاب کا پانی جب کم ہوجائے اور چار در چار ہوجائے اور اس میں نجاست داخل ہوجائے پھر اس میں نیا پانی آجائے یہاں تک کہ نجاست کو پہنچنے سے قبل دہ در دہ ہوجائے تو پاک ہوجائے گا۔ (ت(
۱؎ فتاوی قاضی خان     فصل الماء الراکد    نولکشور لکھنؤ    ۱/۴    والمزید من الذخیرۃ وھی لیست بموجودہ
ایسا(عہ۱) ہی جواہر اخلاطی میں ہے۔
 (عہ۱) ونصھا حوض عشر فی عشر قل ماؤہ ثم وقعت النجاسۃ ثم دخل الماء حتی امتلأ الحوض ولم یخرج منہ شیئ لایجوز التوضی بہ لانہ کلما دخل الماء یتنجس اھ منہ غفرلہ (م(

اس کی عبارت یہ ہے کہ ایک حوض دہ در دہ ہو اس کا پانی کم ہوجائے پھر اس میں نجاست پڑ جائے پھر حوض بھر جائے اوراس سے کُچھ نہ نکلے، تو اس سے وضو جائز نہیں اس لئے کہ جو پانی بھی داخل ہوگا وہ ناپاک ہوجائیگا اھ (ت(
اصل ۹: اقول وباللہ التوفیق ایک فائدہ نفیسہ ہے کہ شاید اس کی تحریر فقیر کے سوا دوسری جگہ نہ ملے اثر نجاست قبول نہ کرنے کو پانی کا جریان چاہئے سیلان کافی نہیں سائل وجاری میں عموم وخصوص مطلق ہے ہر جاری سائل ہے اور ہر سائل جاری نہیں دیکھو بطن حوض میں جو پانی نل سے داخل ہوا اور دوسرے کنارے تک پہنچا اُس وقت ضرور سائل ہے مگر جاری نہ ٹھہرا جب تک دوسری طرف سے نکل نہ جائے اور اس پر دلیل قاطع آب وضو ہے کہ ضرور اعضائے وضو پر سائل ہے فانہ غسل ولا غسل الا بالاسالۃ (پس بیشک وضو دھونا ہے اور دھونا بغیر اسالۃ کے ممکن نہیں ہے۔ ت) مگر جاری نہیں ورنہ مستعمل نہ ہوتا کہ آب جاری استعمال تو استعمال نجاست سے متاثر نہیں ہوتا جب تک متغیر نہ ہو یونہی بدن یا کپڑے کی ناپاکی جس پانی سے دھوئی اس نے بدن یا ثوب پر سیلان ضرور کیا ورنہ استخراج نجاست نہ کرتا مگر جاری نہیں ورنہ ناپاک نہ ہوجاتا حالانکہ تین بار(۱) دھونے میں امام کے نزدیک تینوں پانی ناپاک ہیں اور صاحبین کے نزدیک دو ناپاک ہیں تیسرا جب بدن یا کپڑے سے جدا ہوجائے پاک ہے، تنویر میں ہے:
ماء ورد علی نجس نجس کعکسہ ۱؎۔
پانی جو وارد ہوا نجس پر نجس ہے جیسا کہ اس کا عکس ہے۔ (ت(
 (۱؎ الدرالمختار    فصل الانجاس    مجتبائی دہلی        ۱/۵۵)
Flag Counter