| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی الجنس الاول فی الحیاض نولکشور لکھنؤ فقولہ(۲) ولو امتلأ الحوض وھو کذلک بالواو لابالفاء فی نسختی الخلاصۃ القدیمۃ جدا لیس تتمۃ قول الصدر الشھید ولا داخلا تحت المختار وقد قدمنا عن الھندیۃ عن المحیط عن الصدر الشھید انہ کما سال یطھر وقد وعد ان فیہ اقاویل ستأتی فلو کان ھذا تتمتہ لم یذکر الا قولا واحدا فوجب ان یکون ھذا قولا اخر مقابل المختار ولا یمکن جعل ماذکر عن الفتاوٰی قولا اٰخر لان الکلام فی حوض تنجس وتلک صورۃ عدمہ وقد قدم مثلھا عن التجرید فان کونھا لا تسقر لیس الا للغرف المتدارک فلیس فی الخلاصۃ اختیار تخصیص الجریان باکثر من ذراعین حتی یعکر علیہ بمخالفتہ اطلاقھم وانما حکاہ قولا وجعل المختار ھو الاطلاق اما عبارتا الظھیریۃ الا خیرتان فاقول ھما فیما دخل الماء الحوض وملأہ حتی طش منہ علی جوانبہ علی وجہ الانتضاح الخفیف اللازم للامتلاء بدخول قوی عنیف ولا یصدق علیہ السیلان من الجانب الاٰخر فلیس(۱) فیھما ماینافی عبارتہ الاولی(۲) الا تری الی قولہ فی الثالثۃ لایطھر مالم یخرج من جانب اخرنا ط الطھارۃ بمجرد الخروج فعلم ان ماذکر لایسمی خروجا من جانب اٰخر وما ھو الا الانتضاح الذی ذکرنا ھکذا ینبغی ان یفھم کلام العلماء وللّٰہ الحمد،
تو ان کا قول ''ولو امتلأ الحوض'' میرے پاس خلاصہ کے قدیم نسخہ میں یہ ایسا ہی واؤ کے ساتھ ہے فاء کے ساتھ نہیں، یہ نہ تو صدر الشہید کے قول کا تتمہ ہے اور نہ مختار کے تحت داخل ہے اور ہم نے ہندیہ سے محیط سے صدر الشہید سے نقل کیا کہ وہ بہتے ہی پاک ہوجائیگا، اور انہوں نے وعدہ کیا کہ اس میں کئی اقوال ہیں جو آئیں گے تو اگر یہ تتمہ ہوتا تو صرف ایک ہی قول ذکر کرتے تو لازم ہے کہ یہ قولِ مختار کے مقابل ہے اور جو فتاوٰی سے انہوں نے نقل کیا اس کو دوسرا قول قرار دینا صحیح نہیں، کیونکہ کلام اُس حوض میں ہے جو ناپاک ہوگیا اور وہ اُس کے ناپاک نہ ہونے کی صورت ہے اور اسی کی مثل تجرید سے انہوں نے نقل کیا، کیونکہ اس کا برقرار نہ رہنا تسلسل سے چُلّو بھرنے کی ہی وجہ سے ہے، تو خلاصہ میں دو ہاتھ سے زائد جاری ہونے کی تخصیص کو اختیار نہیں کیا، اگر ایسا ہوتا تو کہا جاسکتا تھا کہ وہ ان کے اطلاقات کی مخالفت کر رہے ہیں، انہوں نے تو اس کو محض حکایت کیا ہے، اور مختار اطلاق ہی کو قرار دیا ہے، اور ظہیریہ کی دو آخری عبارتوں کے متعلق میں کہتا ہوں یہ دونوں اُس صورت سے متعلق ہیں جبکہ پانی حوض میں داخل ہوا اور اس کو بھر دیا اور اس کے کناروں سے آہستہ آہستہ چھلکنے لگا یہ چیز عام طور پر اس وقت ہوتی ہے جب حوض میں پانی یک دم سختی کے ساتھ داخل ہوتا ہے، اور اس پر دوسری جانب سے بہنا صادق نہیں آتا ہے، تو ان میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ان کی پہلی عبارت کے منافی ہو، چنانچہ وہ تیسری صورت کے بارے میں فرماتے ہیں ''وہ اس وقت تک پاک نہ ہوگا جب تک دوسری طرف سے خارج نہ ہو جائے، انہوں نے طہارت کا دارومدار محض خروج پر رکھا، تو معلوم ہوا کہ جو انہوں نے ذکر کیا ہے اس کو خروج نہیں کہتے ہیں وہ تو محض چھینٹوں کا اڑنا ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا، اور علماء کے کلام کو اسی طرح سمجھنا چاہئے وللہ الحمد،
وبہ ظہران قول(۳) العلامۃ ش فی صدر المسألۃ حتی (عہ۱) طف من جوانبھا حقہ ان یقول حتی سال من الجانب الاٰخر فربما لایزید ماذکر علی الانتضاح اولا یبلغہ ولا حاجۃ(۱) الی السیلان من جمیع الجوانب انما اللازم الخروج من جھۃ المقابل للدخول فلو کان(۲) الاناء مائلا فی ارض غیر مستویۃ وادخل فیہ الماء من جانبہ العالی وخرج من السافل کفی نعم لوصب فی الجانب السافل فعاد منہ لم یکف کما فی اٰخر عبارۃ الخلاصۃ وباللّٰہ التوفیق۔
اور اسی سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ علامہ ش کی گفتگو مسئلہ کی ابتدا میں حتی طف من جوانبھا اس کی بجائے یوں کہنا چاہئے تھا کہ حتی سال من الجانب الاٰخر، تو جو انہوں نے ذکر کیا ہے وہ چھینٹوں سے نہیں بڑھے گا یا اس تک نہیں پہنچے گا، اور تمام کناروں سے بہنے کی حاجت نہیں ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ جس طرف سے پانی داخل ہوا ہو اس کی مخالف جہت سے بہہ نکلے، اب اگر برتن کسی ناہموار زمین پر ہے اور ایک طرف کو جھکا ہوا ہے اور اس میں پانی اوپر کی طرف سے داخل ہو کر نچلی طرف سے نکل جائے تو کافی ہے، ہاں اگر نچلے حصہ میں بہایا جائے اور اُس سے واپس آجائے تو کافی نہ ہوگا جیسا کہ خلاصہ کی عبارت کے آخر میں ہے وباللہ التوفیق۔ (ت(
(عہ۱) لم ارھذا الفعل ولا مصدرہ فی الصحاح ولا الصراح ولا المختار ولا القاموس ولا تاج العروس ولا مفردات الراغب ولا نھایۃ ابن الاثیر ولا الدر النثیر ولا مجمع البحار ولا المصباح المنیر انما فی القاموس طُفّ المکوک والاناء وطففہ محرکۃ وطفافہ ویکسر ما ملاء اصبارہ او ما بقی فیہ بعد مسح رأسہ او ھو جمامہ اوملؤہ واناء طفّان بلغ الکیل طفافہ اھ فی تاج العروس ھذا طف المکیال وطفافہ اذا قارب ملأہ اھ وقولہ اصبارہ ای جوانبہ وجمامہ ما علی رأسہ فوق طفافہ ویکون ذلک فی الدقیق ونحوہ یعلو رأسہ بعد امتلائہ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م( اس فعل اور اس کے مصدر کو میں نے صحاح، صراح، مختار، قاموس، تاج العروس، مفرداتِ راغب، نہایہ ابن اثیر، درنثیر، مجمع البحار اور مصباح المنیر میں نہیں پایا۔ قاموس میں اتنا ہی ہے کہ برتن اور پیمانے کا طَف، طفَف (حرکت کے ساتھ) اور طَفاف(طا کو کسرہ بھی دیا جاتا ہے) اس کو کہا جاتا ہے جو اس کے کناروں کو بھر دے یا جو برتن کے سر پر ہاتھ پھیرنے کے بعد باقی بچ جائے یا اس کا ابھرنا ہے یا بھرنا ہے اور اناء طفاف اس برتن کو کہا جاتا ہے جو مقرر ناپ تک بھر جائے اھ تاج العروس میں ہے کہ کہا جاتا ہے ''یہ پیمانے کا طف ہے اور اس کا طفاف ہے''۔ یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب پیمانہ بھرنے کے قریب ہو اھ اور قاموس نے ''اصبارہ'' جو کہا ہے تو اس سے مراد اس کے اطراف ہیں، اور ''جمامہ'' سے مراد وہ ہے جو برتن بھرنے کے بعد اور اُبھرا ہو اور یہ چیز آٹے وغیرہ میں پائی جاتی ہے کہ برتن بھرنے کے بعد اوپر تک اٹھا ہوتا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت(
اصل ۵: اقول یہاں سے ظاہر ہوا کہ کسی محل(۱) کے جوف میں پانی کی حرکت اگرچہ گز وں ہو اُس محل کے حق میں جریان نہ ٹھہرے گی اُس کے بطن میں پانی کی جنبش اگرچہ باہر سے داخل ہونے پر ہوئی مگر اُس سے خارج تو نہ ہوا تو جریان کے دو رکن نہ پائے گئے مگر اُس محل کے اندر اگر دوسرا محل صغیر اور ہو اور پانی اس میں جاکر اُسے ابال دے تو اس کے حق میں ضرور جریان ہوجائیگا کہ اس میں سب ارکان متحقق ہوگئے اگرچہ دوسرے کے جوف سے خروج نہ ہو مثلاً دیگ میں ایک کٹورا رکھا ہے کٹورے میں ایک مینگنی پڑگئی وہ نکال کر پھینک دی اور کٹورے پر پانی بہایا کہ اُبل کر نکل گیا مگر دیگ سے نکلنا کیا معنی وہ بھری بھی نہیں تو بے شک کٹورا اور اس کا پانی پاک ہوگیا کہ زمین پر یا دیگ کے اندر رکھے ہونے کو حکم میں کچھ دخل نہیں وھذا ظاھر جدا (اور یہ بہت واضح ہے۔ ت( اصل ۶: اقول اس جریان سے اگرچہ طہارت ہوجائے گی اور نجاست(۲) مرئیہ تھی اور نکال لی یا غیر مرئیہ تھی تو مطلقاً ہمیشہ طہارت رہے گی جب تک دوبارہ نجاست عارض نہ ہو مگر اگر نجاست مرئیہ ہے اور نہ نکالی تو حکمِ طہارت اُس وقت تک ہے جب تک یہ جریان باقی ہے پانی تھمتے ہی ظرف اور اس کے اندر کا پانی پھر ناپاک ہوجائیں گے کہ سبب یعنی نجاست موجود ہے اور مانع کہ جریان تھا زائل ہوگیا وھذا ایضا بوضوحہ غنی عن الایضاح (اور یہ بھی اپنے واضح ہونے میں کسی دلیل کا محتاج نہیں۔ ت(
منحۃ الخالق میں شرح ہدیہ ابن العماد لسیدی عبدالغنی النابلسی قدس سرہ القدسی سے ہے:
اذا وضع السرقین فی مقسم الماء الی البیوت وجری مع الماء فی القسا طل(عہ۱) فالماء نجس فاذا رکد الزبل فی وسط القساطل وجری الماء صافیا کان نظیر مالو جری ماء الثلج علی النجاسۃ اوکان بطن النھر نجسا وجری الماء علیہ ولم یتغیر احد اوصافہ بالنجاسۃ فان ذلک الماء طاھر کلہ کذلک ھذا فاذا وصل الماء الی الحیاض فی البیوت فان وصل متغیر احد اوصاف بالزبل اوعین الزبل ظاھرۃ فیہ فھو نجس من غیر شک فاذا استقر فی حوض دون القدر الکثیر فھو نجس وان صفا بعد ذلک فی الحوض و زال تغیرہ بنفسہ لانہ ماء نجس والماء النجس لایطھر بزوال تغیرہ بنفسہ لاسیما وقد رکد الزبل فی اسفلہ وان استقر فی حوض کبیر فھو نجس ایضا مادام متغیرا او زال تغیرہ بنفسہ ایضا واما اذا استمر الماء جاریا وزوال تغیر الحوض بالماء الصافی یطھر الماء کلہ سواء کان الحوض صغیرا اوکبیرا وان کان الزبل فی اسفلہ راکدا مادام الماء الصافی فی ذلک الحوض یدخل من مکان ویخرج من مکان فاذا انقطع الجریان وکان الحوض صغیرا والزبل فی اسفلہ راکدا فالحوض نجس ۱؎ اھ۔
جب گوبر پانی میں ایسے مقام پر رکھ دیا جائے کہ وہاں سے پانی مختلف گھروں کو منقسم ہو کر جاتا ہو اور وہ گوبر پانی کے ساتھ قساطل میں جاری ہوا، تو پانی ناپاک ہوجائیگا،تو اگر گوبر قساطل کے درمیان جم گیا اور صاف پانی بہنے لگا، تو یہ ایسا ہے جیسا کہ برف کا پانی نجاست پر بہنے لگے یا نہر کا پیٹ ناپاک ہو اور اس پر پانی جاری ہو اور نجاست سے اس کے اوصاف میں سے کوئی وصف متغیر نہ ہوا تو یہ پورا پانی پاک ہے، اب پانی جب گھروں کے حوضوں میں پہنچے تو اگر پانی کا کوئی وصف متغیر ہو کر پہنچا ہے یا پانی میں بعینہٖ گوبر ظاہر ہے تو وہ بلاشبہ ناپاک ہے، اور اگر کثیر مقدار میں نہ ہو اور حوض میں ٹھہر جائے تو وہ ناپاک ہے، اگرچہ اس کے بعد حوض میں صاف ہوجائے اور اس کا تغیر خود بخود زائل ہوجائے کیونکہ وہ ناپاک پانی ہے اور ناپاک پانی تغیر کے ازخود زائل ہونے کی وجہ سے پاک نہیں ہوتا ہے خاص طور پر ایسی صورت میں جبکہ گندگی اس کے نیچے جمی ہوئی ہے اور اگر گندگی بڑے حوض میں جم جائے تو جب تک متغیر رہے گا ناپاک رہے گا، یا اس کا تغیر خود بخود ختم ہوجائے، اور اگر پانی مسلسل جاری رہے اور حوض کا تغیر صاف پانی کی وجہ سے ختم ہوجائے، اس صورت میں کل پانی پاک ہوجائیگا خواہ حوض چھوٹا ہو یا بڑا، اگرچہ گندگی اُس کی تہ میں جمی ہوئی ہو بشرطیکہ صاف پانی اس میں ایک جانب سے داخل ہوتا ہو اور دوسری جانب سے خارج ہوتا ہو، تو جب پانی کا جاری ہونا بند ہوجائے اور حوض چھوٹا ہو اور گندگی اس کی تہ میں جمی ہوئی ہو تو حوض ناپاک ہے۔ (ت(
(عہ۱) اعتید فی بلادنا القاء زبل الدواب فی مجاری الماء الی البیوت لسد خلل تلک المجاری المسماۃ بالقساطل اھ ش لایجری الماء الابہ ای بالزبل لکونہ یسد خروق القساطل لا ینفذ الماء منھا ویبقی جاریا فوقہ اھ شرح ھدیۃ ابن العماد قلت وھی لغۃ مستحدثۃ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م( ہمارے ممالک میں چوپایوں کا گوبر وغیرہ پانی کی گزرگاہ میں ڈال دیتے ہیں تاکہ ان نالیوں کے سوراخ بند ہوجائیں، اس خلل کو قساطل کہتے ہیں اھ ش تو پانی اس گوبر کے ساتھ ہی جاری ہوگا کیونکہ یہ اُن سوراخوں کو بند کرتا ہے جن سے پانی جاری ہوتا ہے، تو پانی ان کے اندر سے نہیں نکلتا ہے بلکہ اوپر سے بہتا ہے اھ شرح ہدیہ ابن العماد، میں کہتا ہوں یہ جدید لغت ہے۔ (ت(
(۱؎ منحۃ الخالق علی حاشیۃ بحرالرائق بحث الماء الجاری ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۸۵)
اقول: کلام طیب من طیب طیب اللّٰہ تعالی ثراہ وقد اقرہ الشامی وغرضنا یتعلق ھھنا بجملتہ الاخیرۃ غیر ان قولہ وجری مع الماء فالماء نجس یحمل علی ما اذا تغیر فان المحقق(۱) المعتمد ان الجاری لاینجس مالم یتغیر حتی موضع المرئیۃ وکذا الکثیر الملحق بہ علی المعتمد رجحہ المحقق علی الاطلاق وقال تلمیذہ قاسم انہ المختار درواستحسنہ تلمیذہ الاٰخر ابن امیر الحاج وایدہ بالحدیث وکذا ایدہ سیدی عبدالغنی وھو ظاھر المتون ش وفی الدر عن جامع الرموز عن جامع المضمرات عن النصاب علیہ الفتوٰی وفی ش عن البحر عن الحلیۃ عن النصاب بہ یفتی فاذا کان ھو الثابت بالحدیث وھو ظاھر المتون وعلیہ الفتوی فقد سقط ماسواہ ثم قولہ رحمہ اللّٰہ تعالی الماء النجس لایطھر بزوال تغیرہ بنفسہ۔ فاقول ھذا کما ذکرہ فی غیر الجاری لقول الخلاصۃ ماء نجس یجعلونہ(۲) فی نھر کبیر ان کان کثیرا بحیث لایتغیر لایتنجس وان تغیر تنجس ویطھر بساعۃ یعنی اذا انقطع اللون والرائحۃ اھ۔
میں کہتا ہوں یہ بہت اچھا کلام ہے، اس کو شامی نے برقرار رکھا ہے اور یہاں ہماری غرض آخری جُملہ سے متعلق ہے البتہ اتنی بات ہے کہ اس کا قول ''وجری مع الماء فالماء نجس'' اس کو اس پر محمول کیا جائیگا جبکہ پانی میں تغیر آجائے کیونکہ محقَّق معتمد قول یہ ہے کہ جاری پانی اس وقت تک نجس نہ ہوگا جب تک کہ اس میں تغیر نہ آجائے یہاں تک کہ نجاست مرئیہ کی جگہ بھی اور اسی طرح کثیر بھی قول معتمد پر اسی کے ساتھ ملحق ہے، اس کو محقق علی الاطلاق نے ترجیح دی اور ان کے شاگرد قاسم نے کہا کہ یہی مختار ہے (دُر) اور اس کو ان کے دوسرے شاگرد ابن امیر الحاج نے مستحسن قرار دیا اور اس کی تائید حدیث سے کی اور اس کی تائید سیدی عبدالغنی نے بھی کی اور متون سے بھی یہی ظاہر ہے ''ش'' اور دُر میں جامع الرموز سے جامع المضمرات سے نصاب سے یہ ہے کہ اسی پرفتوٰی ہے اور شامی میں بحر سے حلیہ سے نصاب سے ہے بہ یفتی پھر جب حدیث سے یہی ثابت اور متون سے بھی یہی ظاہر اور فتوی بھی اسی پر ہے تو اس کے ہوتے ہوئے باقی سب ناقابل اعتبار ہے۔ پھر اُن کا قول ''نجس پانی اس کے تغیر کے از خود زائل ہونے کی وجہ سے پاک نہ ہوگا'' میں کہتا ہوں یہ اُس پانی میں ہے جو جاری نہ ہو، کیونکہ خلاصہ میں ہے کہ ایک نجس پانی کو اگر بڑی نہر میں کرلیں تو اگر وہ کثیر ہے اور متغیر نہیں ہوتا ہے تو ناپاک نہ ہوگا اور اگر متغیر ہوگیا تو ناپاک ہوجائے گا اور فوراً ہی پاک ہوجائے گا یعنی جُونہی رنگ اور بُو ختم ہوگی اھ۔
زاد فی نسخۃ مانصہ فی نسخۃ القاضی الامام سلمہ اللّٰہ تعالٰی ۱؎ اھ۔ ای ھذا مذکور فی نسختہ والمراد بہ الامام فقیہ النفس ولم ارہ فی فتاواہ واللّٰہ تعالی اعلم ولقول سیدی نفسہ اذا رکدا لزبل فی وسط القساطل وجری الماء صافیا طھر،
زائد کیا ایک نسخہ میں، اصل عبارت یہ ہے ''قاضی امام سلّمہ اللہ تعالٰی کے نسخہ میں اھ'' یعنی یہ اُن کے نسخہ میں مذکور ہے اور اس سے مراد امام فقیہ النفس ہیں اور یہ چیز ان کے فتاوٰی میں نہیں دیکھی ہے واللہ تعالٰی اعلم اور سیدی عبدالغنی خود فرماتے ہیں کہ جب گندگی قساطل کے درمیان جم جائے اور پانی صاف جاری ہو تو پاک ہوجائیگا،
(۱؎ خلاصۃ الفتاوی جنس آخر فی التوضی الخ نولکشور لکھنؤ ۱/۹)