Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
91 - 176
ظہیریہ(۱) میں تصریح فرمائی کہ اس اُبال میں جو پانی نکل رہا ہے ہے اندر کا پانی تو پاک ہو ہی گیا باہر نکلنے والا بھی طاہر مطہر ہے یہاں تک کہ پانی نکلتا جائے اور اُس سے کوئی وضو کرتا جائے یا کہیں جمع ہونے کے بعد کسی برتن میں لے کر وضو کرے تو وضو صحیح ہے ظاہر ہے کہ اوّل سیلان کا پانی اتنا نہ ہوگا جس سے وضو ہوجائے ردالمحتار میں ہے:
فی الظھیریۃ الصحیح انہ یطھر وان لم یخرج مثل ما فیہ وان رفع انسان من ذلک الماء الذی خرج وتوضأ بہ جاز اھ۔ قال ش لکن فی الظھیریۃ ایضا حوض نجس امتلأ ماء وفار ماؤہ علی جوانبہ وجف جوانبہ لایطھر وقیل یطھر اھ۔ وفیھا ولو امتلأ فتشرب الماء فی جوانبہ لایطھر مالم یخرج الماء من جانب اخر اھ۔ وفی الخلاصۃ المختار انہ یطھر وان لم یخرج مثل مافیہ فلو امتلأ الحوض وخرج من جانب الشط الی اخر مانقلنا وانھی الکلام علی قولہ فلیتأمل اھ۔
ظہیریہ میں ہے کہ صحیح یہ ہے کہ وہ پاک ہوجائیگا اگرچہ اُس سے اُتنا پانی نہ نکلے جو حوض میں تھا اور اگر کسی انسان نے وہ پانی اٹھالیا جو خارج ہوا تھا اس سے وضو کرلیا تو جائز ہے اھ "ش" نے فرمایا لیکن ظہیریہ ہی میں ہے کہ ایسا حوض جو ناپاک ہو اگر پانی سے بھر جائے اور اس کا پانی کناروں سے بہہ نکلے پھر خشک ہوجائے اور اُس کے کنارے بھی خشک ہوجائیں تو پاک نہ ہوگا'' اور ایک قول ہے کہ پاک ہوجائیگا اھ اور اسی میں ہے کہ اگر کوئی حوض اتنا بھر گیا کہ اس کے کنارے پانی سے تر ہوگئے تو وہ اس وقت تک پاک نہ ہوگا جب تک کہ پانی دوسری طرف سے نہ نکلے اھ اور خلاصہ میں ہے کہ مختاریہ ہے کہ وہ پاک ہوجائیگا اگرچہ اس میں سے اتنا پانی خارج نہ ہو جتنا کہ اس کے اندر ہے اور اگر حوض اتنا بھرا کہ جانب سے بہنے لگا الیٰ آخر مانقلنا پھر انہوں نے اپنا کلام فلیتأمل اھ پر ختم کیا۔
وذکر بعدہ مسألۃ طھارۃ الاوانی فقال ھل یلحق نحو القصعۃ بالحوض فاذا کان فیھا ماء نجس ثم دخل فیھا ماء جار حتی طف من جوانبھا ھل تطھر ھی والماء الذی فیھا کالحوض ام لا لعدم الضرورۃ فی غسلھا توقفت فیہ مدۃ ثم رأیت فی خزانۃ الفتاوٰی اذا فسد ماء الحوض فاخذ منہ بالقصعۃ وامسکھا تحت الانبوب فدخل الماء وسال ماء القصعۃ فتوضأ بہ لایجوز اھ وفی الظھیریۃ فی مسألۃ الحوض لوخرج من جانب اٰخر لایطھر مالم یخرج مثل مافیہ ثلاث مرات کالقصعۃ عند بعضھم والصحیح انہ یطھر وان لم یخرج مثل مافیہ اھ فالظاھر (عہ۱) ان مافی الخزانۃ مبنی علی خلاف الصحیح یؤیدہ مافی البدائع وعلی ھذا حوض الحمام اوالاوانی اذا تنجس اھ۔ ومقتضاہ انہ علی القول الصحیح تطھر الاوانی ایضا بمجرد الجریان فاتضح الحکم وللّٰہ الحمد۔
اور اس کے بعد برتنوں کی طہارت کا مسئلہ ذکر کیا اور فرمایا آیا پیالہ جیسی چیز کو حوض پر قیاس کیا جائے گا؟ اور یہ کہ اگر اس میں ناپاک پانی ہو پھر جاری پانی اس میں داخل ہوجائے اور کناروں سے نکل جائے تو آیا وہ پیالہ اور جو پانی اس میں ہے پاک ہوگا؟ جس طرح حوض پاک ہوتا ہے، یا پاک نہ ہوگا کیونکہ اس کو دھو کر پاک کرنے میں ضرورت نہیں، تو میں نے اس مسئلہ میں ایک مدت تک توقف کیا، پھر میں نے خزانۃ الفتاوٰی میں دیکھا کہ جب حوض کا پانی فاسد ہوجائے اور اس سے کوئی شخص پیالہ بھر کرلے اور اس کو نالی کے نیچے روک کر رکھے پھر پانی داخل ہو اور پیالہ کا پانی بہہ نکلے اب اس پانی سے وضو کرے تو جائز نہ ہوگا اھ اور ظہیریہ کے حوض میں مسئلہ میں ہے، اگر پانی دوسری طرف سے نکل گیا تو اُس وقت تک پاک نہ ہوگا جب تک کہ جتنا اس میں تھا اس سے تین گنا زیادہ نہ نکلا ہو جیسا کہ پیالہ کا حکم ہے، یہ بعض حضرات کے نزدیک ہے، اور صحیح یہ ہے کہ پاک ہوجائیگا اگرچہ اتنا پانی نہ نکلا ہو جتنا کہ پیالہ میں تھا اھ تو بظاہر خزانہ میں جو ہے وہ صحیح کے برعکس ہے، بدائع میں اس کی تائید ہے اور اسی پر حمام کے حوض یا برتنوں کا قیاس ہے، یعنی ان کے ناپاک ہوجانے کی صورت میں اھ اور اس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ قول صحیح پر برتن محض پانی کے جاری ہو جانے سے پاک ہوجائیں گے، تو اب حکم واضح ہوگیا، وللہ الحمد،
 (عہ۱) اقول فی الاحتجاج(۱) بکلام الظھیریۃ علی الخزانۃ نظر فلقائل ان یقول مفادہ ان عدم الطھارۃ فی القصعۃ متفق علیہ للاستشھاد بہ والتصحیح انما یرجع الے الحوض ۱۲ منہ۔ (م(

میں کہتا ہوں ظہیریہ کے کلام سے جو استدلال خزانہ کے خلاف کیا ہے اس میں نظر ہے، کیونکہ کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ اس کا مفاد یہ ہے کہ پیالہ میں پاک نہ ہونے پر اتفاق کیا گیا ہے کیونکہ اس سے استشہاد کر رہے ہیں اور تصحیح صرف حوض کی طرف راجع ہے۔ (ت(
وبقی شیئ اٰخر (عہ۱) سئلت عنہ وھو(۱) ان دلوا تنجس (عہ۲) فافرغ فیہ رجل ماء حتی امتلأ وسال من جوائبہ ھل یطھر بمجرد ذلک والذی یظھر لی الطھارۃ اخذا مما ذکرنا ھنا(عہ۳) ومما مرمن انہ لایشترط ان یکون الجریان بمدد نعم علی ماقدمناہ علی الخلاصۃ من تخصیص الجریان بان یکون اکثر من (عہ۴) ذراع او ذراعین یتقید بذلک ھنا لکنہ مخالف لاطلاقھم طھارۃ الحوض بمجرد الجریان ۱؎ اھ مختصرا۔
اب صرف ایک چیز باقی رہ گئی ہے جس کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کوئی ڈول ناپاک ہوگیا اور اس میں پانی بہایا گیا یہاں تک کہ وہ بھر کر بہنے لگا تو کیا وہ محض اس طریقہ سے پاک ہوجائیگا؟ تو مجھے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ پاک ہوجائیگا اس کی دلیل وہی ہے جو ہم نے یہاں ذکر کی اور جو گزری، یعنی یہ شرط نہیں کہ پانی کا جاری ہونا مدد کے حساب سے ہو، ہاں جو ہم نے خلاصہ سے نقل کیا ہے یعنی کہ بہنے کو اس امر سے مقید کیا جائے کہ وہ ایک یا دو ذراع سے زیادہ ہو، تو وہی قید یہاں بھی معتبر ہوگی، مگر یہ چیز فقہاء کے اطلاقات کے مخالف ہے وہ فرماتے ہیں حوض محض پانی کے جاری ہونے سے ہی پاک ہوجائیگا اھ مختصراً۔ (ت(
 (عہ۱) اقول ھو ھو بعینہ(۲) لاشیئا اٰخر ولا احتمال لاختلاف الحکم باختلاف صورۃ القصعۃ والدلو ۱۲ منہ۔ (م(

اقول یہ بعینہ وہی ہے کوئی دوسری چیز نہیں ہے اور پیالہ اور ڈول کی صورت کے مختلف ہونے کی وجہ سے حکم کے مختلف ہونے کا کوئی احتمال نہیں۔ (ت(

(عہ۲) اقول لابد من التقیید بتنجسہ من داخل اذلو تنجس من تحت لم یعمل فیہ السیلان علی ظاھرہ اومن خارج فمالم یسل علی الموضع المتنجس منہ بحیث یذھب النجاسۃ کما روی عن الامام الثانی رضی اللّٰہ تعالی عنہ فی ازار المغتسل ۱۲ منہ غفرلہ (م(
اقول اس میں یہ قید لگانا ضروری ہے کہ وہ ڈول اندر سے ناپاک ہو کیونکہ اگر وہ نیچے سے ناپاک ہو تو اس میں پانی کے بہانے کا اسکے ظاہر پر کوئی اثر نہ ہوگا یا خارج سے ناپاک ہو تو ایسی صورت میں پانی کا اس جگہ پر بہانا لازم ہے جو ناپاک ہے اور اس موجود نجاست کا ختم ہوجانا ضروری ہے، جیسا دوسرے امام ابو یوسف سے منقول ہے غسل کرنے والے کے تہبند کی بابت۔ (ت(
 (عہ۳) اقول رحمک(۳) اللّٰہ لیس الجریان ھھنا الا بمدد فای حاجۃ للبناء علی مختلف فیہ ۱۲ منہ۔ (م(

میں کہتا ہوں اللہ آپ پر رحم کرے یہاں پر جریان مدد سے ہے تو اس میں اختلاف کی بنا رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ (ت(

(عہ۴) اقول صوابہ(۴) الاقتصار علی ذراعین اذ عبارۃ الخلاصۃ اما قدر ذراع اوذراعین فلا ۱۲ منہ (م(

میں کہتا ہوں عبارت کو ذراعین پر ختم کرنا مناسب ہے کیونکہ خلاصہ کی عبارت یہ ہے اما قدر ذراع اوذراعین فلا۔ (ت(
 (۱؎ ردالمحتار    بحث عشر فی عشر    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۳)
اقول قد افاد واجاد، واوضح المراد، کما ھو دابہ علیہ رحمۃ الکریم الجواد، لکن عبارۃ الخلاصۃ ھکذا اما حوض الحمام اذا وقعت فیہ نجاسۃ قال فی التجرید عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ انھا لاتستقر وھو کالماء الجاری فان تنجس حوض الحمام فدخل الماء من الانبوب وخرج من الجانب الاخر فھو کالحوض الصغیر وفیہ اقاویل ستأتی ولاباس بدخول الحمام للرجال والنساء
میں کہتا ہوں انہوں نے اپنی عادت کے مطابق بڑی وضاحت سے اپنے مقصود کو ظاہر کردیا، لیکن خلاصہ کی عبارت اس طرح ہے ''بہرحال حمام کا حوض جبکہ اس میں نجاست گر جائے، تجرید میں حضرت امام ابو حنیفہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ایسی نجاست ٹھہرے گی نہیں اور یہ جاری پانی کی طرح ہے، اب اگر حمام کا حوض ناپاک ہوگیا اور اس میں ایک نالی سے پانی داخل ہو کر دوسری طرف سے خارج ہوگیا تو یہ چھوٹے حوض کی طرح ہے، اس میں متعدد اقوال ہیں جو عنقریب آئیں گے، اور مردوں اور عورتوں کو حَمام میں داخل ہونے میں حرج نہیں،
وفی الفتاوی حوض الماء اذا اغترف رجل منہ وبیدہ نجاسۃ وکان الماء یدخل من انبوبہ فی الحوض والناس یغترفون من الحوض غرفا متدارکا لم یتنجس۔ الحوض الصغیر اذا تنجس فدخل الماء من جانب وخرج من جانب فیہ اقاویل قال الصدر الشہید رحمہ اللّٰہ تعالٰی المختار انہ طاھر وان لم یخرج مثل ما فیہ وکذا البئر ولو امتلأ الحوض و خر ج من جانب الشط علی وجہ الجریان حتی بلغ المشجرۃ یطھر اما قدر ذراع اوذراعین فلا ولو خرج(۱) من النھر الذی دخل الماء فی الحوض لایظھر ۱؎ اھ۔ کلامہ الشریف بلفظ المنیف
اور فتاوٰی میں ہے کہ پانی کے حوض میں اگر کسی شخص نے اپنا ناپاک ہاتھ ڈالا اور اس حوض میں پانی نالی سے آرہا ہے اور لوگ اس حوض سے مسلسل چُلّو بھر کر پانی لے رہے ہیں تو یہ حوض ناپاک نہ ہوگا۔ چھوٹا حوض جب ناپاک ہوا اور اس میں پانی ایک طرف سے داخل ہو کر دوسری طرف سے نکل گیا تو اس میں کئی اقوال ہیں، صدر الشہید نے فرمایا مختاریہ ہے کہ یہ پاک ہے خواہ اس سے اتنی مقدار میں پانی نہ نکلا ہو جتنا کہ اس میں موجود ہے، اور یہی حکم کنویں کا ہے اور حوض بھر کر کنارے سے نکل گیا اور بہتا رہا یہاں تک کہ مشجرہ تک پہنچ گیا تو پاک ہوجائے گا، اور ایک ہاتھ یا دو ہاتھ پاک نہ ہوگا، اور اگر اُس نہر سے پانی نکلا جس سے حوض میں داخل ہُوا تھا تو پاک نہ ہوگا اھ
Flag Counter