Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
90 - 176
بحر میں اسی کی مثل لکھ کر فرمایا:
صححہ فی المحیط وغیرہ وقال السراج الھندی وکذا البئر واعلم ان عبارۃ کثیر منھم تفید ان الحکم اذا کان الخروج حالۃ الدخول وھو کذلک فیما یظھر لانہ ح یکون فی المعنی جاریا لکن ایاک وظن انہ لوکان الحوض غیر ملاٰن فلم یخرج منہ شیئ فی اول الامر لایکون طاھرا اذ غایتہ(۲) انہ عند امتلائہ قبل خروج الماء منہ نجس فیطھر بخروج القدرالمتعلق بہ الطھارۃ اذا  ا تصل بہ الماء الجاری الطھور کما لوکان ممتلئا ابتداء ماء نجسا ثم خرج منہ ذلک القدر لاتصال الماء الجاری بہ کذا فی شرح المنیۃ ۱؎ اھ۔ یرید حلیۃ الامام ابن امیر الحاج۔
محیط وغیرہ میں اس کو صحیح قرار دیا اور سراج ہندی نے فرمایا اور اسی طرح کُنویں کا حال ہے اور جاننا چاہئے کہ اکثر علماء کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے جبکہ پانی داخل ہوتے ہی نکل جائے تو حکم بظاہر ایسا ہی ہے کیونکہ یہ جاری کے حکم میں ہے لیکن آپ یہ گمان نہ کریں کہ اگر حوض بھرا ہوا نہ ہو اور اس میں سے ابتداءً کچھ نہ نکلے تو وہ پاک نہ ہوگا کیونکہ حوض بھرنے تک نکلنے سے پہلے ناپاک ہوجائیگا پھر وہ اتنی مقدار کے نکلنے کے بعد پاک ہوجائیگا جس سے طہارت متعلق ہو جبکہ اس کے ساتھ طاہر اور طہور پانی متصل ہو جو جاری ہو جیسا کہ ابتداءً بھرا ہونے کی صورت میں تھا، یعنی اس میں نجس پانی تھا پھر اس میں سے اتنی مقدار نکل گئی کیونکہ اس کے ساتھ جاری پانی متصل ہوا، کذا فی شرح المنیہ اھ۔ اس سے ان کی مراد ابن امیر الحاج کی حلیہ ہے۔ (ت)
 (۱؎ بحرالرائق        بحث عشر فی العشر        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۸)
ہاں علماء نے مواضع ضرورت میں اخراج کو بھی خروج رکھا ہے جیسے(۱) حمام کا حوض کہ اُس میں کسی نے ناپاک ہاتھ ڈال دیا اگر لوگ اُس میں سے پانی لے رہے ہیں مگر نل سے پانی اس میں نہیں آتا یا نل سے پانی آرہا ہے مگر لوگ اس میں سے پانی نکال نہیں رہے تو ناپاک ہوجائیگا کہ خروج یا دخول ایک پایا گیا اور اگر اُدھر نل سے پانی آرہا ہے اور اُدھر لوگوں کا اُس میں سے لینا برابر جاری ہے کہ پانی کی جنبش ساکن نہیں ہونے پاتی تو جاری کے حکم میں ہے ناپاک نہ ہوگا، اسی پر فتوٰی ہے، ہندیہ میں ہے:
حوض الحمام طاھر فان ادخل رجل یدہ فی الحوض وعلیھا نجاسۃ ان کان الماء ساکنا لایدخل فیہ شیئ من انبوبہ ولا یغترف منہ انسان بالقصعۃ یتنجس وان کان الناس یغترفون ولایدخل من الانبوب ماء اوعلی العکس فاکثرھم علی انہ یتنجس وان کان الناس یغترفون ویدخل من الانبوب فاکثرھم علی انہ لایتنجس ھکذا فی فتاوی قاضی خان وعلیہ الفتوی کذا فی المحیط ۲؎۔
حمام کا حوض پاک ہے اگر کسی شخص نے حوض میں اپنا ہاتھ ڈالا اور ہاتھ پر نجاست تھی اگر پانی ساکن تھا ایسا کہ اس میں کوئی چیز اس کی نالی سے داخل نہ ہو اور کوئی انسان اس میں سے پیالہ سے نہ نکال رہا ہو تو وہ ناپاک ہوجائے گا اور اگر یہ لوگ اس میں سے چُلّو بھر کر پانی لیتے ہوں اور نالی سے پانی داخل نہ ہوتا ہو یا برعکس ہو تو اکثر علماء کا خیال ہے کہ وہ ناپاک ہوجائیگا اور اگر لوگ اس سے چلّو بھر کر لیتے ہوں اورنالی سے پانی داخل ہوتا ہو تو اکثر علماء کا خیال ہے کہ وہ ناپاک نہ ہوگا اسی طرح فتاوٰی قاضی خان میں ہے اور اسی پر فتوٰی ہے کذا فی المحیط۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیۃ    الفصل الاول فیما یجوزبہ التوضؤ    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۸)
اسی(۱) طرح وضو کے حوض میں بھی اگر نالی سے پانی آرہا ہے اور لوگ برابر لے رہے ہیں(عہ۱) کہ پانی ٹھہرنے نہیں پاتا ناپاک نہ ہوگا ۔
 (عہ۱)یونہی اگر اُس کنارے پر کوئی نہا رہا ہے کہ پانی برابر نکل رہا ہے تاتارخانیہ پھر ردالمحتار میں ہے:

لوکان یدخلہ الماء ولا یخرج منہ لکن فیہ انسان یغتسل ویخرج الماء باغتسالہ من الجانب الاٰخر متدارکا لایتنجس ۱۲ منہ غفرلہ (م(

اگر پانی حوض میں داخل ہورہا ہو اور اس سے نکل نہ رہا ہو لیکن کوئی آدمی وہاں غسل کر رہا ہو اورا س کے غسل کا پانی مسلسل دوسری جانب نکل رہا ہو تو وہ نجس نہ ہوگا۔ (ت(
عالمگیریہ میں ہے:حوض صغیر تنجس فدخل الماء الطاھر من جانب وسال ماء الحوض من جانب اٰخر کان الفقیہ ابو جعفر رحمہ اللّٰہ تعالی یقول کما سال یحکم بطھارۃ الحوض وھو اختیار الصدر الشھید رحمہ اللّٰہ تعالی کذا فی المحیط وفی النوازل وبہ ناخذ کذا فی التتارخانیۃ وان دخل الماء ولم یخرج ولکن الناس یغترفون منہ اغترافا متدارکا طھر کذا فی الظھیریۃ والغرف المتدارک ان لایسکن وجہ الماء فیما بین الغرفتین کذا فی الزاھدی ۱؎۔
چھوٹا حوض ناپاک ہوگیا پھر اس میں ایک طرف سے پاک پانی داخل ہوا اور حوض کا پانی دوسری جانب سے بہہ نکلا تو فقیہ ابو جعفر اس حوض کی طہارت کا حکم دیتے تھے، اور یہی صدر الشہید کا مختار ہے کذا فی المحیط، اور نوازل میں ہے، اسی کو ہم اختیار کرتے ہیں، اسی طرح تتارخانیہ میں ہے اور اگر پانی داخل ہوا اور نہ نکلا لیکن لوگ اس سے مسلسل چلّو بھر لیتے رہے تو وہ پاک ہوگا کذا فی الظہیریہ اور مسلسل چلّو بھرنا یہ ہے کہ دو چلوؤں کے درمیان پانی پُرسکون نہ ہو کذا فی الزاہدی۔ (ت(
 (۱؎ فتاوی ہندیۃ    الفصل الاول فیما یجوز بہ التوضؤ    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۷)
اس کی دوسری سند فتاوٰی خلاصہ سے آتی ہے (یعنی فصلِ چہارم میں) علّامہ(۲) خیر رملی نے کُنواں بھی اسی حکم میں(عہ۲) داخل کیا جبکہ سو توں سے پانی اُبل رہا اور اوپر سے برابر چرغ چل رہا اُدھر سے آتا ادھر سے نکل رہا ہو اس حالت میں نجاست سے ناپاک نہ ہوگا ہاں نجاستِ مرئیہ اس میں رہنے دی اور پانی کھینچنا اتنی دیر موقوف ہوگیا کہ پانی ٹھہر گیا جنبش جاتی رہی تو اب ناپاک ہوجائیگا۔
 (عہ۲) اس کی کامل تائید تنبیہ جلیل کے آخر میں آتی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (م(
منحۃ الخالق میں ہے:والحقوا بالجاری حوض الحمام قال الرملی اقول وبالاولی الحاق الاٰبار المعینۃ التی علیھا الدولاب ببلادنا اذالماء ینبع من اسفلھا والغرف فیھا بالقواد لیس متدارک فوق تدارک الغرف من حوض الحمام فلا شک فی ان حکم مائھا حکم الجاری فلو وقع فی حال الدوران فی البئر والحال ھذہ نجاسۃ لاینجس تأمل ۱؎ واللّٰہ تعالی اعلم۔
اور جاری پانی سے علماء نے حمّام کے حوض کو ملادیا،رملی کہتے ہیں میں کہتا ہوں وہ کنویں جن پر ہمارے ملک میں رہٹ ہوتا ہے ان کو جاری پانی سے ملانا بطریقِ اولیٰ ہوگا، کیونکہ پانی ان کے نیچے سے نکلتا ہے اور ڈولوں کے ذریعے سے ان سے پانی نکالنا تسلسل کے ساتھ ہوتا ہے یہ تسلسل اس سے کہیں زائد ہے جو حوض کے حمّام سے چلّو بھرنے سے ہوتا ہے تو اس میں شک نہیں کہ ان کے پانی کا حکم جاری پانی کا ہے تو اگر اس حالت میں پانی کے چلتے وقت نجاست کنویں میں گرجائے تو پانی ناپاک نہ ہوگا تأمل واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت(
 (۱؎ منحۃ الخالق علی حاشیہ بحرالرائق    بحث الماء الجاری    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۶)
اصل۴: اقول اگرچہ(۱) مذہب صحیح میں اس خروج کیلئے کوئی مقدار نہیں ادنیٰ اُبلنا کافی ہے جس پر سیلان صادق آئے،
کما تقدم عن البدائع وخرج بعضہ وعن التبیین والفتح والبحر وان قل وعن المحیط کما سال وھذہ کاف الفور۔
جیسا کہ بدائع سے گزرا کہ وخرج بعضہ اور تبیین، فتح، بحر میں ہے کہ وان قل اور محیط سے ہے کما سال یعنی فوراً بہنے پر، کما میں کاف فوراً کا معنی دیتا ہے۔ (ت(
حلیہ میں ہے:فی المبتغی بالغین المعجمۃ ھو الصحیح وفی محیط رضی الدین ھو الاصح وکذلک البیر علی ھذا لان الماء الجاری لما اتصل بہ صار فی الحکم جاریا ۲؎۔
مبتغٰی میں ہے غین معجمہ سے اور یہی صحیح ہے اور محیط رضی الدین میں ہے ھو الاصح، اور اسی طرح کنویں کا حال ہے کیونکہ جب جاری پانی اس سے متصل ہوگیا تو جاری کے حکم میں ہوگیا۔(ت)
 (۲؎ حلیہ)
مگر شک نہیں کہ یہ بہاؤ جب تک منتہی نہ ہوگا حکمِ جریان منقطع نہ ہوگا کہ وہ حرکت واحدہ مستمرہ ہے اُس کے بعض پر متحرک کو جاری اور باقی پر راکد و واقف ماننے کے کوئی معنی نہیں،
ولھذا ساغ لمن زادان یزید ای لم یکتف لحکم الجریان بمجرد السیلان بل شرط حرکۃکثیرۃ یعتمد بھا فلولا ان ھذا السائل من ذلک الماء المطلوب سیلانہ لم تنفع الزیادۃ۔
اور اسی لئے جائز ہے اس شخص کے لئے جس نے زائد کیا کہ زائد ہو یعنی کافی نہ ہوا جاری ہونے کے حکم کے لئے صرف سیلان کا ہونا، بلکہ اس کی شرط یہ ہے کہ اس میں بکثرت حرکت ہو کہ جس کا اعتبار ہو کیونکہ اگر یہ بہنے والا پانی اس پانی سے نہ ہوتا جس کا بہاؤ مطلوب ہے تو اس اضافے کا کچھ فائدہ نہ ہوتا۔ (ت(

فتاوٰی خلاصہ میں نقل فرمایا:
لوامتلأ الحوض وخرج من جانب الشط علی وجہ الجریان حتی بلغ المشجرۃ یطھر اما قدر ذراع اوذراعین فلا ۱؎۔
اگر حوض بھر گیا اور کنارے سے نکل کر پانی بہتا ہوا مشجرہ تک پہنچ گیا تو وہ پاک ہوجائے گا بہرحال ایک ذراع یا دو ذراع ہو تو نہیں۔ (ت(
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰ  ی   الجنس الاول فی الحیاض     نولکشور لکھنؤ    ۱/۵)
Flag Counter