| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
فالامام ملک العلماء رحمہ اللّٰہ تعالٰی ذکر الفصل الاول عن الامام ابی بکر الاسکاف الا تری الی قولہ ثم بسط ماؤہ وقولہ المبسوط ھو الماء النجس وقولہ المجتمع ھو الماء الطاھر فقولہ قل ای مساحۃ لاقدرا یقطع بہ تعبیرہ بالمجتمع وذکر الفصل الثانی من قولہ ولو وقع فی ھذا القلیل عن الامام ابی القاسم الصفار ولذا قال(عہ۱) عاودہ الماء حتی امتلأ ولیست مقالۃ ابی بکر ماخوذۃ فی مقالۃ ابی القاسم رحمھما اللّٰہ تعالٰی وان کان یوھمہ زیادۃ ھذا فی ھذا القلیل وکذا قولہ ثم عاودہ وقولہ حتی امتلأ فان ھذا شأن حوض کبیر نقص ماؤہ فبقی فی موضع قلیل ولم یمر لہذا ذکر سابقا لان الناقص لایقال لہ المجتمع فالاشارۃ (۱) وقعت غیر موقعہ وثانیا علی تسلیمہ فلاشک ان کلامہ فی الصورۃ الثانیۃ من الصور الاربع اعنی الاختلاف صفۃ مع الاتحاد صورۃ دون الرابعۃ التی فیھا کلامنا یقطع بہ تعلیلہ کلما دخل الماء صار نجسا مع قولہ ولم یخرج منہ شیئ کما ستعرفہ ان شاء اللّٰہ تعالی واللّٰہ تعالٰی اعلم
امام ملک العلماء رحمہ اللہ نے پہلی فصل امام ابو بکر الاسکاف سے نقل کی اس کے قول ثم بسط ماؤہ اور ان کا قول مبسوط وہ نجس پانی ہے اور ان کا قول مجتمع وہ پاک پانی ہے، کی طرف غور کریں تو ان کا قول قَلَّ یعنی پیمائش کے اعتبار سے نہ کہ مقدار کے اعتبار سے جس کو وہ مجتمع سے تعبر کرتے ہیں اور دوسری فصل کو''ولو وقع فی ھذا القلیل'' سے ذکر کیا یہ امام ابو القاسم الصفار سے منقول ہے، اور اس لئے فرمایا اس میں پانی لوٹا یہاں تک کہ حوض بھر گیا اور ابو بکر کا مقالہ ابو القاسم کے مقالہ میں ماخوذ نہیں ہے اگرچہ ھذا القلیل میں ھذا کی زیادتی ہے اور اسی طرح ان کے قول ثم عاودہ اور ان کے قول حتی امتلأ سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کیونکہ یہ بڑے حوض کا حال ہے جس کا پانی گھٹ گیا ہے اور کم جگہ میں رہ گیا اور اس کا ذکر شروع میں نہیں ہے،کیونکہ ناقص کو مجتمع نہیں کہا جاتا ہے تو اشارہ بے موقع ہے، اور ثانیاً اگر اس کو تسلیم کر لیاجائے تو اس میں شک نہیں کہ ان کا کلام چار صورتوں میں سے دوسری صورت میں ہے، میری مراد یہ ہے جب صفت میں اختلاف اور صورت میں اتحاد ہو،یہ چوتھی صورت نہیں ہے جس میں ہماری گفتگو ہے،جس کی تعلیل قطعی یہ ہے، جب بھی پانی داخل ہوگا تو نجس ہوجائیگا پھر ساتھ ہی یہ قید بھی لگاتے ہیں کہ اس سے کوئی چیز نکلی نہ ہو جیساکہ آپ اِن شاء اللہ تعالٰی پہچان لیں گے۔ (ت(
(عہ۱)فافاد زیادۃ القدر دون المساحۃ فقط اھ منہ غفرلہ۔ (م( اس نے مقدار کی زیادتی کا فائدہ دیا ہے صرف پیمائش کا نہیں اھ (ت(
سوال(۵۳) پنجم :اسی صورت میں پانی حصّہ زیریں قلیل میں تھا اور اس وقت نجاست پڑی اور اُسے نکال کر یا بے نکالے بھر دیا گیا یا بارش وسیل سے بھر گیا کہ آب کثیر ہوگیا تو اب بھی اوپر کا حصہ پاک ہے یا نہیں اور حصہ زیریں کا کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :یہاں اکثر کتب میں منقول تو اس قدر ہے کہ اگر بھر کر اُبل گیاکہ کچھ پانی باہر نکل گیا جب تو پاک ہوگیا کہ جاری ہولیا ورنہ اوپر کا حصہ بھی ناپاک ہے اگرچہ مساحت کثیر میں ہے کہ نیچے کا حصہ جبکہ ناپاک تھا تو اس میں جتنا پانی ملتا گیا ناپاک ہوتا گیا اگر بھر کر اُبل جاتا سب پاک ہوجاتا مگر ایسا نہ ہوا تو ناپاک ہی رہا کہ ناپاک پانی کثرتِ مساحت سے پاک نہیں ہوسکتا اور بعض نے کہا پاک ہوجائیگا اور اس کی وجہ ظاہر نہیں بدائع سے امام ابو القاسم صفار کا قول گزرا نیز عبارت مُنیہ فان امتلأ صار نجسا ایضا ای کان (اگر حوض بھر جائے تو وہ نجس ہوگا جیسا کہ وہ تھا۔ ت) اُسی میں اس کے بعد ہے وقیل لایصیر نجسا ۱؎ (اور بعض نے کہا کہ نجس نہیں ہوگا۔ ت) حلیہ میں ہے ووجہہ غیر ظاھر ۲؎ (اور اس کی وجہ معلوم نہیں۔ ت) غنیہ میں اتنا فرمایا والاول اصح ۳؎ (اور پہلا زیادہ صحیح ہے۔ ت(
(۱؎ منیۃ المصلی فصل فے الحیاض مکتبہ قادریہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۷۲) (۲؎ حلیہ) (۳؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی احکام الحیاض سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۰۱)
اقول: وباللہ التوفیق خیال فقیر میں یہاں ابحاث جلیلہ ہیں جن کو بقدر مساعدت وقت چند تاصیلات وتفریعات میں ظاہر کرے واللہ المعین وبہ استعین۔ اصل ۱:(۱) ہرمائع یعنی بہتی چیز کہ ناپاک ہوجائے پانی یا اپنی جنس طاہر کے ساتھ بہنے سے پاک ہوجاتی ہے
وقد حققہ فی ردالمحتار بمالامزید علیہ
(اور اس کی تحقیق ردالمحتار میں بطریق اتم کی ہے۔ ت(
اصل ۲:(۲) آب کثیر کے حکم جاری ہونے میں جس طرح طول عرض یا مساحت یا ایک مقدار عمق بھی ضرور ہے جاری ہونے کیلئے ان میں سے کچھ شرط نہیں مینھ کا پانی جب تک بہہ رہا ہے جاری ہے اگرچہ گرہ بھر کے پر نالہ سے آرہا ہوکما نصوا علیہ فی ماء السطح (جیسا کہ سطح کے پانی میں فقہاء نے نص کی ہے۔ ت) ولہٰذا یہ حکم ہر برتن کو شامل ہے مثلاً کٹورے یا تھالی میں ناپاک پانی ہو پانی اس پر ڈالیے یہاں تک کہ بھر کر اُبلنے لگے پانی اور برتن سب پاک ہو جائیں گے امام ملک العلماء نے بدائع آخر فصل مایقع بہ التطہیر میں فرمایا:
الحوض الصغیر اذا تنجس قال الفقیہ ابو جعفر الھندوانی رحمہ اللّٰہ تعالٰی اذا دخل فیہ الماء الطاھر وخرج بعضہ یحکم بطھارتہ بعد ان لاتستبین فیہ النجاسۃ لانہ صار جاریا وبہ اخذ الفقیہ ابو اللیث وعلی ھذا حوض الحمام اوالاوانی اذا تنجس ۴؎۔
چھوٹا حوض جب ناپاک ہوجائے، فقیہ ابو جعفر الہندوانی نے فرمایا جب اس قسم کے حوض میں پاک پانی داخل ہوجائے اور اس میں سے کچھ حصہ نکل جائے تو اس کے پاک ہونے کا حکم دیا جائیگا بشرطیکہ اس میں نجاست ظاہر نہ ہو کیونکہ وہ جاری ہوجائیگا، اور یہی فقیہ ابو اللیث کا قول ہے اور اس پر حمّام کا حوض یا برتن قیاس کیا جائے، یعنی نجس ہونے کی صورت میں۔ (ت(
(۴؎ بدائع الصنائع آخر فصل مایقع بہ التطہیر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۸۷)
اصل ۳:(۱) اس جریان کے تین رکن ہیں: ۱۔ دخول ۲۔ خروج ۳۔ معیت یعنی مثلاً پانی ایک طرف سے داخل ہو اور دوسری طرف سے کچھ حصّہ خارج ہو اور وہ نکلنا اُسی داخل ہونے کی حالت میں ہو اگرچہ ابتدائے دخول میں نہ ہو۔ (۱)لوٹے میں ناپاک پانی ہے اُس پر پاک پانی نہ ڈالیے۔ ٹونٹی سے وہی ناپاک پانی نکال دیجئے تو صرف خروج بلا دخول ہوا یا(۲) آدھے لوٹے میں ناپاک پانی ہے پاک پانی سے بھر دیجئے کہ کچھ نکلے نہیں تو محض دخول بلا خروج ہوایا پاک(۳) پانی بھرنے کے بعد جھکاکر ٹونٹی سے کچھ نکال دیجئے تو خروج بحال دخول نہ ہوا۔ان تینوں صورتوں میں طہارت نہ ہوگی بلکہ پاک(۴) پانی ڈالتے رہیے یہاں تک کہ بھر کر اُبلنا شروع ہو اُس وقت پاک ہوگا کہ ایک وقت وہ آیا کہ خروج ودخول کی معیت ہوگئی اگرچہ برتن بھرنے تک صرف دخول بلا خروج تھا۔ تبیین وفتح میں ہے:
ولو تنجس الحوض الصغیر بوقوع نجاسۃ فیہ ثم دخل فیہ ماء اٰخر و خرج الماء منہ طھر وان قل اذاکان الخروج حال دخول الماء فیہ لانہ بمنزلۃ الجاری ۱؎۔
اور اگر چھوٹے حوض میں نجاست گر گئی اور وہ نجس ہوگیا پھر اس میں اور پانی داخل ہوگیا اور نکل گیا تو حوض پاک ہوجائیگا خواہ کم ہی ہو جبکہ پانی داخل ہوتے ہی نکل گیا ہو کیونکہ وہ بمنزلہ جاری کے ہے۔ (ت(
(۱؎ تبیین الحقائق بحث عشر فی العشر بولاق مصر ۱/۲۲-۲۳)