فاقول اولا لیس ھذا مسوقا فی البدائع سیاقاواحدا فی تصویر واحد حتی یقال ان الماء الواقع فیہ النجاسۃ حین امتلاء ہ و کثرۃ مساحتہ بعد مافرغ اعلاہ وبلغ السافل القلیل احتیج فی تنجیسہ الی وقوع النجاسۃ مرۃ اخری فافادان السافل القلیل لا ینجس تبعا للعالی الکثیر وھو باطلاقہ یشمل ما اذا کان السافل مختلف الصورۃ بل کل منھما فرع علیحدۃ ذکرھما فی البدائع علی التعاقب عن امامین فالاولی لاتؤخذ فی الاخری وھذا نصہ لوتنجس الحوض الصغیر بوقوع النجاسۃ ثم بسط ماؤہ حتی صار لایخلص بعضہ الی بعض فھو نجس لان المبسوط ھوالماء النجس وقیل فی الحوض الکبیر وقعت فیہ النجاسۃ ثم قل ماؤہ حتی صار یخلص بعضہ الی بعض انہ طاھر لان المجتمع ھو الماء الطاھر ھکذا ذکرہ ابو بکر الاسکاف رحمہ اللّٰہ تعالٰی واعتبر حالۃ الوقوع ولو وقع فی ھذا القلیل نجاسۃ ثم عاودہ الماء حتی امتلاء الحوض ولم یخرج منہ شیئ قال ابو القاسم الصفار رحمہ اللّٰہ تعالٰی لایجوز التوضؤ بہ لانہ کلما دخل الماء فیہ صار نجسا ۱؎ اھ
تو میں کہتا ہوں اوّلاً،یہ چیز بدائع میں صرف ایک ہی انداز میں مذکور نہیں، لہٰذا یہ کہنا کہ جب کثیر پانی کے بھرے ہونے کی صورت میں نجاست گر جائے اور اس کا بالائی حصّہ خالی ہوکر نیچے قلیل تک آجائے تو اُسی وقت ناپاک ہوگا جب اُس میں دوبارہ نجاست گرے، تو انہوں نے یہ بتایا کہ نچلا قلیل حصہ اوپر والے حصہ کی متابعت میں ناپاک نہ ہوگا،یہ اطلاق اس کو بھی شامل ہے جبکہ نچلے کی صورت مختلف ہو، بلکہ ان میں سے ہر ایک علیحدہ فرع ہے،اس کو بدائع میں یکے بعد دیگرے ذکر کیا ہے،اور دونوں اماموں کی طرف منسوب کیا ہے تو ایک صورت کو دوسری میں نہیں لیا جائیگا ان کی عبارت اس طرح ہے، یا چھوٹا حوض جو نجاست کے گر جانے سے ناپاک ہوگیا ہو، پھراُس کا پانی اتنا پھیل گیا کہ اس کا بعض حصہ دوسرے بعض تک پہنچنے سے قاصر ہوگیا تو یہ نجس ہے کیونکہ مبسوط نجس پانی ہی ہے، اور وہ بڑا حوض جس میں نجاست گر گئی پھر اس کا پانی اتنا کم ہوگیا کہ اس کابعض حصہ دوسرے بعض تک پہنچنے لگا تو یہ پاک ہے کیونکہ جو اکٹھا ہے وہ پاک پانی ہے اسی طرح اس کو ابو بکر الاسکاف نے ذکر کیا اور حالۃ وقوع کا اعتبار کیا،اور اگر اس کم میں نجاست گری پھر اس میں پانی واپس آگیا یہاں تک کہ حوض بھر گیا اور اس میں سے کچھ باہرنہ نکلا، ابو القاسم الصّفار نے فرمایا کہ اس سے وضو جائز نہیں کیونکہ جب اس میں پانی داخل ہوا تو نجس ہوگیا،اھ
(۱؎ بدائع الصنائع فصل فی بیان مقدار الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۲)
وذلک ان لاعتبارحالۃ الوقوع محلین الاول تغیر مساحۃ الماء مع بقائہ فی ذاتہ کما کان بلانقص ولا زیادۃ(۱) کأن یکون الماء منبسطا فی حوض کبیر وفیہ منفذ مسدود دونہ بئر مثلا قطرھاذراعان فوقعت فی الحوض نجاسۃ فلم یتنجس الماء لانہ عشر فی عشرثم اخرجت النجاسۃ وفتح المخرج حتی انتقل ذلک الماء الی البئر فصار فی قطر ذراعین لم یعد نجسا لان العبرۃ لحین الوقوع وھو اذذاک کان کثیر المساحۃ وان صار الاٰن قلیلا وانکان(۲)الماء فی البئر فوقعت فیھا نجاسۃ فنزح کلھاوجعل الماء فی الحوض حتی انبسط وصار عشرا فی عشرلم یطھر اعتبارابحال الوقوع حیث کان عندئذٍ قلیل المساحۃ وان صار الاٰن کثیرا وھذا مافی البزازیۃ لوکان دون عشر فی عشر لکنہ عمیق وقع فیہ مائع وانبسط حتی عد کثیرا لایتوضؤ منہ ولو عشرا فی عشر ثم قل توضأ بہ لافیہ لاعتبار اوان الوقوع ۱؎ اھ
کیونکہ وقوع کی حالت کے دو اعتبار ہیں پہلا تو یہ کہ پانی کی پیمائش میں تغیر آجائے اور اس کی ذات بحال رہے جیسی کہ تھی نہ کمی ہو اور نہ زیادتی مثلاً یہ کہ پانی بڑے حوض میں پھیلا ہوا ہو اور اس میں ایک سوراخ ہو جو کنویں تک جاتا ہو اور یہ سوراخ بند ہو، کنویں کا قطر مثلاً دو ہاتھ ہو اب حوض میں نجاست گر جائے تو پانی ناپاک نہ ہوگا کہ یہ دہ در دہ ہے پھر نجاست نکال لی جائے اور سوراخ کھول دیا جائے اور وہ پانی کنویں کی طرف منتقل ہوجائے اور دو ذراع کے قطر میں پہنچ جائے تو نجس نہ ہوگا، کیوں کہ یہاں اعتبار گرنے کے وقت کا ہے اور اس وقت اس کی پیمائش زیادہ تھی اگرچہ اب کم ہوگئی ہے اور اگر پانی کنویں میں ہو اور اس میں نجاست گر جائے پھر کنویں کا تمام پانی نکال کر ایک حوض میں جمع کر لیا جائے حتی کہ وہ پھیل جائے اور پانی دَہ در دَہ ہوجائے تو پانی پاک نہ ہوگا کیونکہ نجاست کے واقع ہونے کے وقت کا اعتبار ہے اور اس وقت پیمائش کم تھی اگرچہ اب کثیر ہوگئی ہے یہ بزازیہ میں ہے اور اگر دَہ در دَہ سے کم ہو لیکن گہرا ہو اور اس میں کوئی بہنے والی چیز گر گئی اور پھیل گئی یہاں تک کہ زیادہ ہوگئی تو اس سے وضو نہ کیا جائیگا اور اگر وہ دَہ در دَہ ہو اور پھر کم ہوجائے تو اس سے وضو کرے گا نہ کہ اس میں،یہاں بھی گرنے کے وقت کا اعتبار ہے اھ
وفی الخانیۃ الماء الطاھر اذا کان فی موضع ھو عشر فی عشر وقعت فیہ نجاسۃ ثم اجتمع ذلک الماء فی مکان ھو اقل من عشر فی عشر یکون طاھرا ولو کان الماء فی مکان ضیق ھو اقل من عشر فی عشر ووقعت فیہ نجاسۃ ثم انبسط ذلک الماء وصار عشرا فی عشر کان نجسا والعبرۃ فی ھذا لوقت وقوع النجاسۃ ۱؎ اھ ومثلہ فی الخلاصۃ،
اور خانیہ میں ہے کہ پاک پانی اگر کسی ایسی جگہ میں ہے جو دہ در دہ ہو اور اس میں نجاست گر جائے پھر وہ پانی ایسی جگہ جمع ہوجائے جو دہ در دہ سے کم ہو تو وہ پانی پاک ہے اور اگر پانی تنگ جگہ میں ہو جو دہ در دہ سے کم ہے اس میں نجاست گر جائے پھر وہ پھیل کر دہ در دہ ہوجائے تو پانی ناپاک ہے اور اعتبار اس میں نجاست کے گرنے کے وقت کا ہے اھ اور اسی قسم کا کلام خلاصہ میں ہے،
(۱؎ فتاوی قاضی خان فصل فے الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱/۴)
وفی الدرر عن التتارخانیۃ عن الظھیریۃ وفی غیرھا والثانی تغیر مساحتہ لزیادۃ فیہ اونقصہ کان یکون فی غدیر بطنہ اکثر انحدارا من حافاتہ کما وصفنا من نصف الدائرۃ اعلاہ عشر فی عشر ثم لم یزل یقل فاذا کان ممتلئا کان کثیرا لایقبل النجاسۃ فاذا وقعت(۱) واخرجت وقل الماء بالاستعمال اوبحر الصیف حتی یبس فی الاطراف وبقی فی بطنہ اقل من عشر فی عشر کما ھو مشاھد فی کثیر من الغدران لم یعد نجسا لانہ کان حین وقعت کثیرا وان جف(۲) ماؤہ وبقی فی وسطہ قلیلا وعند ذلک وقع فیہ نجس ثم دخلہ الماء حتی امتلأ وصار کثیرا غیر انہ لم یفض من جوانبہ کی یطھر بالجریان فانہ یبقی کما کان نجسا لمامرو ھذا مافی المنیۃ کما تقدم،
اور دُر میں تتارخانیہ سے ظہیریہ وغیرہ سے منقول ہے اور دوسرا یہ کہ پانی کی پیمائش میں تغیر آجائے اس میں کمی یا زیادتی کے باعث مثلاً یہ کہ اُس کے گڑھے میں پانی کا بہاؤ بہ نسبت کناروں کے زائد ہو جیسا کہ ہم نے بیان کیا، یعنی دائرہ کا نصف جس کا بالائی حصہ دہ در دہ ہو پھر برابر کم ہوتا گیا، اور جب بھرا ہوا ہو تو زائد ہوگا نجاست کو قبول نہ کریگا اور جب نجاست گر جائے اور نکال لی جائے اور پانی استعمال کی وجہ سے کم ہوجائے یا گرمی کے باعث اُس کے کنارے خشک ہوجائیں اور اس کے گڑھے میں دہ در دہ سے کم رہ گیا ہو جیسا کہ بہت سے گڑھوں سے مشاہدہ ہوتا ہے تو وہ نجس نہ ہوگا کیونکہ جب نجاست اُس میں گری تھی تو وہ زائد تھا اگر حوض کا پانی خشک ہوجائے حتی کہ اس وسط میں تھوڑا سا پانی باقی رہے اور اس وقت نجاست گر جائے پھر پانی داخل ہو حتی کہ وہ بھر جائے اور پانی کثیر ہوگیا مگر پانی اس کے کناروں سے نکلا نہیں ورنہ وہ پانی کے بہاؤ سے پاک ہوجاتا اب وہ حسب سابق نجس ہی رہے گا اس کی دلیل گزری اور یہ منیہ میں ہے جیسا کہ گزرا،
وفی الخانیۃ حوض اعلاہ عشر فی عشر واسفلہ اقل منہ جاز فیہ الوضوء یعتبر فیہ وجہ الماء فان قل ماؤہ وانتھی الی موضع ھو اقل من عشر لایجوز فیہ الوضوء ۲؎
اور خانیہ میں ہے کہ ایک حوض جس کا بالائی حصہ دہ در دہ ہے اور نچلا اس سے کم ہے، اس سے وضو جائز ہے، اور اس میں پانی کی سطح کا اعتبار ہوگا، اور اگر اس کا پانی کم ہو اور وہ ایسی جگہ پہنچ جائے جو دہ در دہ سے کم تر ہو تو اس میں وضو جائز نہیں،
(۲؎ فتاوی قاضی خان فصل فے الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱/۴)
وقال المحقق فی الفتح سقطت نجاسۃ فی عشر فی عشر ثم صار اقل فھو طاھر واذا تنجس حوض صغیر فدخل ماء حتی امتلأ ولم یخرج منہ شیئ فھو نجس ۱؎ اھ
محقق نے فتح میں فرمایا کہ کوئی نجاست دہ در دہ حوض میں گری اور پھر پانی کم ہوگیا تو وہ طاہر ہے اور جب چھوٹا حوض ناپاک ہوگیا اور پھر اس میں پانی بھر گیا اور اُس سے کچھ باہر نہ نکلا تو وہ حوض اس نجاست سے ناپاک ہوگا اھ
(۱؎ فتح القدیر بحث الغدیر العظیم نوریہ رضویہ سکھر ۱/۷۱)
وفی الغنیۃ الحاصل ان الماء اذا تنجس حال قلتہ لایعود طاھرا بالکثرۃ وان کان کثیراقبل(عہ۱) اتصالہ بالنجاسۃ لایتنجس بھا ولو نقص بعد سقوطھا فیہ حتی صار قلیلا فالمعتبر قلتہ وکثرتہ وقت اتصالہ بالنجاسۃ سواء وردت علیہ او ورد علیھا ھذاھو المختار ۲؎ اھ
اور غنیہ میں ہے،خلاصہ یہ ہے کہ پانی جب کمی کی حالت میں ناپاک ہوگیا تو کثرت کی حالت میں پاک نہ ہوگا،اور اگر اتصالِ نجاست کے وقت زائد تھا تو نجاست سے نجس نہ ہوگا اوراگر نجاست کے گر جانے کے بعد کم ہوا تو معتبر اس میں پانی کی قلّت وکثرت ہے جبکہ اس میں نجاست گری تھی خواہ نجاست پانی پر وارد ہوئی ہو یا پانی نجاست پر وارد ہوا ہو یہی مختار ہے اھ،
(عہ۱) اقول الاولی حین کما لایخفی اھ منہ غفرلہ۔ (م(
میں کہتا ہوں قبل کی بجائے لفظ حین کا استعمال بہتر ہے اھ (ت(
(۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی احکام الحیاض سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۰۱)
وبینہ فی التبیین باوجز لفظ فقال العبرۃ(۱) بحالۃ الوقوع فان نقص بعدہ لایتنجس وعلی العکس لایطھر ۳؎ اھ
تبیین میں اسی کو بہت مختصر عبارت سے بیان کیا ہے فرمایا، اعتبار وقوع کی حالت کا ہے تو اگر اس کے بعد کم ہوا تو ناپاک نہ ہوگا اور اگر برعکس ہے تو پاک نہ ہوگا اھ