یوں ہی(۱) اگر نہر یا بڑے تالاب کا پانی برف سے جم گیا اور ایک جگہ سے برف توڑ کر پانی کھول لیا اگر بہتا پانی اُس جمے ہوئے سے متصل نہیں تو ظاہر کہ پانی شیئ واحدرہااوراگر متصل ہے اور یہ حصہ کہ کھولاگیا دس دس ہاتھ طول وعرض میں نہیں تویہ ان کے نزدیک نجاست سے ناپاک ہوجائیگااور اُس میں اعضاء ڈال کر وضو کرنے سے مستعمل ہوجائیگا اور بہتے پانی سے اُس کا اتصال فائدہ نہ دے گاہاں(۲) باقی پانی بحال خود رہے گامثلاً ایک مشرعہ میں نجاست پڑی یاکسی نے اعضاء بے وضو ڈال کر دھوئے تو صرف وہی مشرعہ ناپاک یامستعمل ہوابرابر کے دوسرے مشرعہ سے پیناوضو کرنا ہوسکتاہے کہ وہ تو ہر ایک اُن کے نزدیک حوض جُداہے یونہی برف سے ایک جگہ کھلاہواپانی نجس یا مستعمل ہوجائے تو اُس کے برابر دوسری جگہ سے کھول کر استعمال کرسکتا ہے یونہی اگر(۳)حوض کبیر سے کاٹ کر ایک حوض صغیر بنایا کہ اُس میں سے پانی اس میں آیایہ نجاست یااعضائے بے وضو ڈالنے سے اُن کے نزدیک نجس ومستعمل ہوجائیگا اور بڑے حوض سے پانی ملا ہونا کام نہ دے گایہ گویا بعینہ وہی صورت چہارم ہے فرق صرف اتنا ہے کہ صو ر ت مبحوثہ میں وہ حوض صغیر حوض کبیر کے نیچے ہے اور اس صورت میں اس کے برابر،پانی بہرحال ملا ہوا ہے، تو جس طرح صفت وصورت دونوں مختلف ہونے کے باعث اُن کے نزدیک برابر کا حوض صغیر حوض کبیر کا جُز نہ ٹھہرابلکہ مستقل قرار پایا۔یونہی نیچے کا۔ان مسائل پر نصوص کتبِ مذہب میں دائر وسائر ہیں اگرچہ فقیر کے نزدیک ان کی بنا اشتراط امتدادین طول وعرض پر ہے اور صحیح ومعتمد اعتبار محض مساحت ہے یہ خلافیہ جداگانہ ہے یہاں غرض اس قدر کہ بحال خلاف صورت وصفت معاً قلیل کو تابع کثیر نہ مانا فتاوٰی امام اجل قاضیخان میں ہے:
حوض کبیر فیہ مشرعۃ توضأ انسان فی المشرعۃ اواغتسل ان کان الماء متصلا بالالواح بمنزلۃ التابوت لایجوز فیہ الوضوء و اتصال ماء المشرعۃ بالماء الخارج منھالاینفع کحوض کبیر تشعب منہ حوض صغیر فتوضأ انسان فی الحوض الصغیر لا یجوز وان کان ماء الحوض الصغیر متصلا بماء الحوض الکبیر کذا لایعتبر اتصال ماء المشرعۃ بما تحتہا من الماء اذا کانت الالواح مشدودۃ ۱؎۔
ایک بڑا حوض ہے جس میں سے ایک نالی نکلتی ہے اس میں کسی شخص نے وضو یا غسل کیا تو پانی اگر تختوں سے متصل ہے بمنزلہ تابوت کے تو اس میں وضو جائز نہیں اور نالی کے پانی کا خارجی پانی سے متصل ہونا نافع نہ ہوگا جیسے بڑا حوض جس سے چھوٹا حوض نکالا گیا ہو پھر چھوٹے حوض سے کسی انسان نے وضو کیا تو یہ جائز نہیں اگرچہ چھوٹے حوض کا پانی بڑے حوض سے متصل ہو،اسی طرح نالی کے پانی کانچلے پانی سے متصل ہونا معتبر نہیں جبکہ تختے بندھے ہوئے ہوں۔ (ت(
(۱؎ فتاوٰی قاضی خان فصل فے الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱/۴)
فتح القدیر میں ہے:لوجمدحوض کبیر فنقب فیہ انسان نقبافتوضأ فیہ ان کان الماء متصلا بباطن النقب لایجوز والاجاز و کذا الحوض الکبیر اذا کان لہ مشارع فتوضأ فی مشرعۃ اواغتسل والماء متصل بالواح المشرعۃ ولا یضطرب لایجوز وان کان اسفل منھا جازلانہ فی الاول کالحوض الصغیر فیغترف ویتوضؤ منہ لافیہ وفی الثانی حوض کبیر مسقف ۲؎۔
اگر بڑا حوض منجمد ہوجائے اور اس میں کوئی شخص سوراخ کردے اور اس میں وضو کرے تو اگر پانی سوراخ کے اندرونی حصے سے متصل ہو تو جائز نہیں ورنہ جائز ہے اور اسی طرح بڑے حوض میں جب نالیاں ہوں اور وہ کسی ایک نالی سے وضو کرے یا غسل کرے حالانکہ پانی تختوں سے متصل ہو اور اس میں حرکت وارتعاش پیدا نہ ہو تو جائز نہیں اور اگر تختوں سے نیچے ہو تو جائز ہے کیونکہ وہ پہلی صورت میں چھوٹے حوض کی طرح ہے تو چُلُّو بھر کر اس سے وضو کرے نہ کہ اس میں،اور دوسری صورت میں بڑا حوض چھت والا ہے۔ (ت(
(۲؎ فتح القدیر بحث الغدیر العظیم نوریہ رضویہ سکھر ۱/۷۱)
درمختار میں ہے:جمد ماؤہ فنقب ان الماء منفصلا عن الجمد جازلانہ کالمسقف وان متصلا لالانہ کالقصعۃ حتی لو ولغ فیہ کلب تنجس ۳؎۔
اگر اس کا پانی جم جائے اور کوئی اس میں سوراخ کیا تو اگر پانی برف سے جدا ہو تو جائز ہے کیونکہ وہ چھت والے حوض کی طرح ہے اور اگر پانی متصل ہو توجائز نہیں کیونکہ وہ بڑے پیالہ کی طرح ہوگا کہ اگر اس میں کُتّا منہ ڈال دے تو ناپاک ہوجائیگا۔ (ت(
(۳؎ الدرالمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱/۳۶)
ردالمحتار میں ہے:ای موضع الثقب دون المتسفل فلوثقب فی موضع اخر واخذ الماء منہ وتوضأ جازکما فی التاترخانیۃ ۱؎۔
یعنی سوراخ کی جگہ نہ کہ نچلا حصّہ تو اگر کسی اور جگہ سوراخ کیا اور اُس سے پانی لیا اور وضو کیا تو جائز ہے جیسا کہ تتار خانیہ میں ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۴۳)
غنیہ کی عبارت مذکورہ مسئلہ اولیٰ نے اسی معنی کی طرف اشارہ فرمایا جو فقیر کے بیان میں آیا،
حیث قال اذاکان الماء تحت الجمد منفصلا عنہ یجوز لانہ عشر فی عشر ولم تنفصل بقعۃ منہ عن سائرہ کما فی الصورۃ الاولی ۲؎۔
وہ فرماتے ہیں کہ جب پانی برف کے نیچے ہو اور اس سے جدا ہو تو جائز ہے اس لئے کہ وہ دہ در دہ ہے اور اس کا کوئی بقعہ دوسرے سے الگ نہیں جیسا کہ پہلی صورت میں ہے۔ (ت)
ہاں (۱) تالابوں نہروں میں چھوٹے چھوٹے کنج گوشے جابجا ہوتے ہیں اُن میں ہر ایک کو مستقل ماننے میں حرج اور خلاف متفاہم عرف ہے لہٰذا اُس کی تقدیر ڈھائی ہاتھ چوڑے سے کی ہے کہ دس ہاتھ کی چہارم ہے اور ربع کیلئے حکم کل دیا جاتا ہے جیسے نجاست خفیفہ میں کہ بدن یا کپڑے پر لگے، خلاصہ میں فرمایا:
النھر الذی ھو متصل بالحوض فکان اذاامتلاء الحوض یدخل الماء النھر فتوضأ انسان فیہ انکان النھر قدر ذراعین ونصف لایجوز ولا یجعل تبعاللحوض وان کان اقل یجوز ویجعل تبعا للحوض وقیل لایجوز ولا یجعل تبعا للحوض وانکان قدر ذراع ۳؎۔
وہ نہر جو حوض سے متصل ہو، اور جب حوض بھر جائے تو پانی نہر میں چلا جاتا ہو اب اگر اس نہر سے کوئی انسان وضو کرے تو اگر نہر ڈھائی ہاتھ ہے تو وضو جائز نہیں اور اس کو حوض کے تابع نہیں کیا جائیگا،اور اگر کم ہے تو جائز ہے اور اسکو حوض کے تابع سمجھاجائیگا ایک اور قول ہے کہ جائز نہیں اور اس کو حوض کے تابع نہیں سمجھا جائیگا۔اگرچہ ایک ہاتھ کی مقدار ہو۔ (ت)
(۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی الجنس الاول فی الحیض نولکشور لکھنؤ ۱/۵)
وجیز امام کردری میں ہے:النھر المتصل بالحوض الکبیر الممتلئ ان کان (عہ۱)قدر ذراعین ونصف لایکون تبعالہ لان الربع یحکی حکایۃ الکل فلا یتوضؤ منہ وان اقل منہ فتبع وقیل لیس بتبع وان قدر ذراع ۱؎
وہ نہر جو بڑے بھرے حوض سے متصل ہو اگر ڈھائی ہاتھ ہو تو حوض کے تابع نہیں کیونکہ چوتھا کل کے قائم مقام ہوتا ہے تو اس سے وضو درست نہ ہوگا اور اگر اس سے کم ہو تو تابع ہے اور ایک قول ہے کہ تابع نہیں خواہ ایک ہاتھ ہو۔(ت(
(عہ۱) وقع فی نسخۃ الطبع ان کان الحوض وھو خطأ اھ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م(
مطبوع نسخہ میں ان کان الحوض کا لفظ واقع ہے یہ درست نہیں ہے اھ (ت(
(۱؎ بزازیہ علی الہندیۃ نوع فی الحیاض نورانی کتب خانہ پشاور ۴/۷)
اقول یوں ہی تالابوں نہروں کی تہ میں گڑھے بھی ہوتے ہیں ہر گڑھے کو مستقل قرار دینے میں حرج ومخالفت عرف ہے لہٰذا ارشاد مذکور کی بنا پر اُس کی تقدیر بھی پچیس ہاتھ مساحت سے چاہئے لان الربع یحکی حکایۃ الکل(کیونکہ چوتھا کل کے قائم مقام ہوتا ہے۔( ت) یہاں اُس تعلیل کا جواب بھی کُھل گیا کہ الکثیر یستتبع القلیل (کثیر قلیل کو تابع بناتا ہے۔ ت) اس تقدیر پر حکم یہ ہونا چاہئے کہ صورت مسئولہ میں اگر نجاست طافیہ ہے کہ حصہ زیریں تک نہ پہنچی یا حصہ زیریں حصہ بالا کے ساتھ دو مختلف محل نہیں جیسے نصف دائرہ میں یامختلف تو ہے مگر پچیس ہاتھ مساحت سے کم ہے تو ان سب صورتوں میں نجاست پڑنے سے کوئی حصہ نجس نہ ہوگااوریہی محمل کلام علامہ شامی کاہے اوراگر نجاست راسبہ ہے کہ حصہ زیریں تک پہنچی اور اسفل اعلیٰ سے مختلف الشکل ہے اور سو ہاتھ مساحت سے کم مگر پچیس ہاتھ سے کم نہیں تواوپر کاحصہ بوجہ کثرت پاک رہے گااوریہ حصہ زیریں بوجہ حوض مستقل قلیل ہونے کے ناپاک ہوجائیگااوریہی محمل کلام علامہ طحطاوی کاہے یہ ہے وہ جو فقیر کے لئے ظاہر ہوا اور محل محتاج تحریر وتنقیح اور جزم بالحکم دست نگر تصریح ہے،
والعلم بالحق عند ربی ان ربی بکل شیئ علیم امامافی الحلیۃ تحت قول المنیۃ المارفی صدر ھذا الجواب الرابع حیث قال وھذا محکی فی البدائع عن ابی القاسم الصفار رحمہ اللّٰہ تعالی غیر ان فرض المسألۃ فیھافی الحوض الکبیر وقعت فیہ النجاسۃ ثم قل ماؤہ حتی صار یخلص بعضہ الی بعض وقعت فیہ نجاسۃ ثم عاودہ الماء حتی امتلأ ولم یخرج منہ شیئ ۲؎ اھ۔
اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے، بیشک میرارب ہر چیز کو جاننے والا ہے، اور حلیہ میں منیہ کے قول کے تحت جو اس چوتھے جواب کے شروع میں گزرا ہے کہ انہوں نے فرمایا یہ قول بدائع میں ابو القاسم صفار سے منقول ہے مگراس میں جو مسئلہ فرض کیا گیا ہے وہ بڑے حوض میں ہے جس میں نجاست گر گئی ہو پھر اس کا پانی اتنا کم ہوگیاکہ اس کا پانی ایک دوسرے سے متصل ہوگیا پھر اس میں نجاست گر گئی اور پھر اس کا پانی زائد ہوگیا یہاں تک کہ حوض بھر گیا اور اس سے کچھ باہر نہ نکلا اھ۔ (ت(