| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
وکلام الدرمن اولہ الی ھنا فی رفع الحدث بہ لافیہ ولوکان لصح حملا لہ علی معنی التوضی بغمس الاعضاء فیہ بناء علی ماھو الحق من فرق الملاقی والملقی وان کان میل صاحب الدر الی خلافہ فاذن کان یؤل الی کلام البزازیۃ لوعشرا فی عشر ثم قل توضأ بہ لافیہ لاعتبار اوان الوقوع ۱؎ اھ لکن لامساغ لہ فی کلامہ ولذا احتاج ش الی اضافۃ قید لیس فیہ فترجح ماقلنا۔
اور دُر کاکلام ابتداء سے یہاں تک اس کے ساتھ حدث کے رفع کرنے کی بابت ہے نہ کہ اُس میں، اور اگر ایسا ہوتا تو صحیح ہوتا اور اس کو اس پر محمول کیا جاتاکہ اس میں اعضاء کو ڈبو کر وضو کرنا جیسا کہ حق ہے کہ ملقی اور ملاقی میں فرق ہے اگرچہ صاحبِ در کا میلان اس کے خلاف ہے، ایسی صورت میں بزازیہ کے کلام کی طرف لوٹا جائیگا اگر دہ در دہ ہو پھر کم ہوگیا ہو تو اسکے ساتھ وضو کرے نہ کہ اس میں کیونکہ وقوع کے زمانے کا اعتبار ہے اھ مگر اس کی ان کے کلام میں گنجائش نہیں، اور اس لئے ''ش'' نے لیس فیہ کا اضافہ کیا، تو جو ہم نے کہا وہ راجح ہے۔ (ت(
(۱؎ فتاوٰی بزازیۃ علی حاشیۃ الہندیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴/۵)
اور کلام علامہ سید شامی سے مفہوم کہ سب پاک رہے گا۔ حیث قال فی المسألۃ الاخری وھی مااذا کان اعلاہ قلیلا واسفلہ کثیرا فوقع فیہ نجس لم یجز حتی یبلغ العشر فاذا بلغھا جاز مانصہ وکانھم لم یعتبرواحالۃ الوقوع ھھنا لان مافی الاسفل فی حکم حوض اٰخر بسبب کثرتہ مساحۃ وانہ لو وقعت فیہ النجاسۃ ابتداء لم تضرہ بخلاف المسألۃ الاولی تدبر ۲؎ اھ ففرق بین المسألتین ان نجاسۃ الاعلی القلیل لاتشمل الجزئین وطھارۃ الا علی الکثیر تشملھما۔
جبکہ فرمایا دوسرے مسئلہ میں اور وہ یہ ہے کہ جب کہ اس کا بالائی حصہ کم ہو اور نچلا زائد ہو اور اس میں نجاست گر جائے تو جائز نہیں یہاں تک کہ دہ در دہ کو پہنچے تو جب اس مقدار کو پہنچے تو جائز ہے،اور ان کی عبارت یہ ہے اور گویا ان حضرات نے یہاں وقوع کی حالت کا اعتبار نہیں کیا،کیونکہ جو نچلے حصہ میں ہے وہ الگ حوض کے حکم میں ہے کیونکہ وہ پیمائش کے اعتبار سے کثیر ہے، اوریہ کہ اگر اس میں ابتداءً نجاست گرتی تو مضر نہ ہوتی بخلاف پہلے مسئلہ کے تدبر اھ تو دونوں مسئلوں میں فرق ہے کہ اوپر والے کی نجاست جو قلیل ہے دونوں جزؤں پر مشتمل نہیں اور اعلیٰ کثیر کی طہارت دونوں کو شامل ہے۔ (ت(
(۲؎ ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۴۳)
اقول اولا(۱) اعتبار حالۃ الوقوع مذکور فی البدائع والتبیین والخانیۃ والخلاصۃ والبزازیۃ والحلیۃ والغنیۃ والبحر وغیرھامن دون ثنیا ولاحاجۃ الی استثناء ھذہ فان الاسفل لم یزل کثیرا فقد اعتبرت حالۃ الوقوع الا ان یقال ان الماء کان واحدا ظاھرا و وجہہ حین الوقوع قلیلا وبہ العبرۃ فکان ینبغی التنجس باعتبارہ لکن لم ینجسوہ نظرا الی ان وجہہ یصیر کثیرا حین بلوغ الماء الی الاسفل ،
میں کہتا ہوں اولاً حالتِ وقوع کا اعتباربدائع، تبیین، خانیہ، خلاصہ، بزازیہ، حلیہ، غنیہ اور بحر وغیرہ میں بلا استثناء مذکور ہے اور اس میں استثناء کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ نچلا تو کثیر تھا تو حالتِ وقوع کا اعتبار کیاگیا، ہاں اگر یہ کہا جائے کہ پانی بظاہر ایک تھا، اور اس کی سطح وقوع کے وقت کم تھی اور اسی کا اعتبار ہے تو مناسب یہی تھا کہ اسی کے اعتبار سے ناپاک ہو، لیکن علماء نے اس کو نجس قرار نہیں دیا،یہ سمجھتے ہوئے کہ اس کی سطح کثیر ہوجائے گی جبکہ پانی نچلے حصّہ کو پہنچے گا۔
وثانیا لقائل(۱) ان یقول لم لایقال فی تلک اعنی مسألتنا ھذہ ان مافی الاسفل فی حکم حوض اخر بسبب قلتہ مساحۃ وانہ لووقعت فیہ النجاسۃ ابتداء لضرتہ وقد یمکن الجواب بان الکثیر یستتبع القلیل فیعد الاسفل القلیل عمقاللا علی الکثیر ومعلوم ان الوجہ ان کان کثیرا لم یتنجس شیئ من الماء لاوجہہ ولا عمقہ ولا یشترط مع ذلک کثرۃ العمق الا تری لوکان الحوض علی ھذا الشکل
2_18.jpg
نصف دائرۃ وکان اب منہ کثیرا لایتنجس شیئ منہ وان کان مادونہ قلیلا حتی لایبقی علی ح الا نقطۃ بخلاف العکس فان القلیل لایستتبع الکثیر فیعد حوضا برأسہ۔
اور ثانیاًکوئی کہنا والا کہہ سکتا ہے کہ اس مسئلہ میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ نچلا حصّہ ایک مستقل حوض کے حکم میں ہے کیونکہ اس کی پیمائش کم ہے اور یہ کہ اگر اس میں ابتداء کوئی نجاست گرجاتی تو ناپاک ہوجاتا اور اس کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کثیر قلیل کو اپنا تابع بنا لیتاہے تو یہ سمجھاجائے گاکہ نچلا کم حصہ گویا اوپر کے کثیر حصہ کیلئے عُمق ہے، اور یہ معلوم ہے کہ اگر پانی کی سطح زائد ہوتی تو پانی قطعاً ناپاک نہ ہوتا نہ اُس کی سطح اور نہ اُس کی گہرائی،اور اس کے باوجود گہرائی کی کثرت شرط نہیں ہے،مثلاً یہ کہ اگر حوض کی شکل یہ شکل بنائیے
2_19.jpg
ہو یعنی آدھے دائرہ کی شکل اورا ب اس میں کثیر ہے اس میں کچھ ناپاک نہ ہوگا اگرچہ اس سے کم قلیل ہے اور ح پر صرف ایک نقطہ رہے گا،بخلاف عکس کے کیونکہ قلیل کثیر کو تابع نہیں بنا سکتا ہے تو یہ مستقل حوض شمار ہوگا۔ (ت( یہ غایت عہ۱ توجیہ ہے۔
عہ۱ : وسیأتی الجواب عنہ ۱۲ منہ غفرلہ (م( جعنقریب ان کی طرف سے اس کا جواب ذکر کیا جائے گا۔ (ت(
واقول وباللّٰہ التوفیق نجاست اگر طافیہ ہے کہ حصہ زیریں تک پہنچی ہی نہیں جب تو ظاہر ہے کہ اس کی نجاست کی کوئی وجہ نہیں کہ اُس کا اتصال آب بالا سے ہے اور وہ بوجہ کثرت نجس نہ ہوا اور اگر راسبہ ہے کہ اسفل تک پہنچی خواہ مطلقاً جسے پتھر یا ابتداءً جیسے غرق شدہ جانور کہ تہ نشین ہو کر مرتا پھر اُتراتا ہے یا انتہاءً جیسے وہ کپڑا کہ تیرتا رہے گا پھر پانی سے بوجھل ہو کر بیٹھ جائیگا تو اب دو صورتیں ہیں اُن کا بیان(۱) یہ کہ پانی کیلئے بلحاظ محل مثل حوض وغیرہ ایک توصفت ہے یعنی کثرت وقلّت کہ مساحت محل کے سو ہاتھ یا کم ہونے سے حاصل ہوتی ہے دوسری صورت کہ جس فضا میں متمکن ہے اُس کی شکل سے پیدا ہوتی ہے یہ شکل کبھی واحد ہوتی ہے اگرچہ اس میں حصّے فرض کرسکتے ہیں اگرچہ اُن حصص مفروضہ کا مساحت میں تفاوت اُن کے لئے منشاء انتزاع ہو جیسے اسی شکل نصف دائرہ میں کہ مثلاً خط ء ہ تک کثیر
2_20.jpg
نیچے قلیل ہو تو دو حصّے ممتاز ہوجائیں گے ا ب ء ہ کثیر اور ء ہ ح قلیل مگر حقیقۃً ا ب ح فضائے واحد ہے اور کبھی شکل خود ہی واقع میں متعدد ہوتی ہے جیسے حوض کے اندر حوض مثلاً
2_21.jpg
کہ حصہ بالا ا ء اور زیریں ہ ط خود ہی ممتاز ہیں اس لحاظ سے حصص زیرو بالاکی چار قسمیں ہوگئیں ایک یہ کہ دونوں حصّے صورۃً وصفۃً ہر طرح متحد ہوں جیسے دو گز گہرے مربع میں ایک گز اوپر ایک گز نیچے،دوم صورۃً متحد ہوں اور صفۃً مختلف جیسے وہی نصف دائرہ کی شکل کہ فضا واحد ہے اور ا ہ کثیر اور ء ہ ح قلیل، سوم صفۃً متحد ہوں اور صورۃمختلف جیسے اسی شکل ا ط میں جبکہ ہ ر بھی سو ہاتھ سے کم نہ ہو یا ا ب بھی دہ دردہ سے کم ۔چہارم صورۃً وصفۃً ہر طرح جدا ہوں جیسے یہی شکل جبکہ ا ب سو ہاتھ اور ہ ر کم ہو۔ قسم اول کا حکم تو ظاہر کہ وہ زیر وبالا شیئ واحد ہے اگر نجس ہوگاسب نجس ہوگاپاک رہے گا سب پاک رہے گا۔ یونہی قسم دوم کہ بلاشبہ وہ محلِ واحد ہے اگرچہ حصص انتزاعیہ کی مساحت مختلف ہے۔ یونہی سوم کہ اگرچہ دوشے ہے مگر دونوں متحد الصفۃ ہیں اگر کثیرہیں تو زیریں بھی ناپاک نہ ہوگااگرچہ نجاست راسبہ ہو اور قلیل ہیں تو یہ بھی نجس ہوجائیگااگرچہ نجاست طافیہ ہو کہ نجس سے اتصال نہ ہوا تو متنجس سے ہواکہ حصہ بالا ناپاک ہوگیا۔ شکل چہارم وہی محل نظر ہے جبکہ نجاست راسبہ اس تک پہنچی اور نظر حاضر میں ظاہریہی ہے کہ ناپاک ہوجائے کلام ائمہ سے معہود یہی ہے کہ جب صورت وصفت دونوں مختلف ہوں توان کودو محل جداگانہ ٹھہراتے ہیں اور فقط اتصال قلیل بہ کثیر کو کافی نہیں جانتے۔ نہر کے کنارے کنارے (۲)پانی لینے کیلئے تختہ بندی کرتے ہیں کہ اُن پر بیٹھ کر پانی لیں وضو کریں اس سے خانے خانے ہوجاتے ہیں ہر خانہ مشرعہ کہلاتا ہے۔اس صورت پر
2_22.jpg
پانی اگر تختوں سے نیچاہے جب تو محل کلام نہیں کہ تختوں سے پانی کا انقسام نہ ہوا لیکن اگر پانی تختوں سے ملا ہوا ہے تو ہر خانہ آب جداگانہ سمجھاجائیگا اوراگر اُن کا طول وعرض دس دس ہاتھ نہیں تو جن کے نزدیک دونوں امتدادہونا شرط ہے اس میں نجاست پڑے تو جتنا پانی تختوں سے گھراہواہے ناپاک ہوجائیگا اور نہر کے پاک پانی سے اس کا متصل ہونا نفع نہ دے گا۔