| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
وفی الحلیۃ قال مشائخ بلخ وبخاری یتوضؤ من ای جانب کان وفی محیط رضی الدین والتحفۃ والبدائع وغیرھاھوالاصح لان غیر المرئیۃ ینتقل لکونہ مائعا سیالا ۲؎۔
اورحلیہ میں ہے کہ بلخ اور بخارٰی کے مشائخ نے فرمایاہے کہ جس جانب سے چاہے وضو کرلے اور رضی الدین کی محیط، تحفہ اور بدائع وغیرہ میں ہے کہ وہی اصح ہے کیونکہ غیر مرئیہ منتقل ہوجاتی ہے کیونکہ وہ سیال مائع ہے۔ (ت(
(۲؎ حلیۃ)
اقول: احسن فی ترک بطبعہ وھوفی کلام البدائع متعلق بسیالالاینتقل لان طبع المائع الانحدارالی صبب لاالانتقال فی سطح مستوبلا سبب نعم الریاح لاتزال تزعزع المیاہ ومن ضرورتہ انتقال المائع المختلط بہ ولیس لہ جھۃ معینۃ لاختلاف الریاح فتطرق الاحتمال الی جمیع المحال اذاعرفت ھذا ففی الصورۃ الاولی حیث لاحاجزلھا عن العلو تطفووتنجس الاعلی علی قول الجمیع بل لولم تطف لنجست لاتصالھا بالماء الا علیٰ ولو من تحت امافی الثانیۃ فعلی قول العراقین ان کانت وقعت فی الماء السافل فی محاذاۃ خط ا ب تنجس الاعلی لعدم انتقالھامن ثم وان وقعت فی حجاب عنہ مثل خط رء وہء لم تنجس لانھالاتصل الی الماء العالی وعلی قول سائرالائمۃ الاصح لاتنجس مطلقاوان کانت وقعت حذاء ا ب لاحتمال انتقالھاالی احدی الزوایاولایزول الیقین بالشک ھذا ماظھر لی واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں انہوں نے بطبعہ کو چھوڑ کر اچھا کیا، اور یہ بدائع میں ''سیالا لاینتقل''سے متعلق ہے کیونکہ بہنے والی چیز کی خاصیت نیچے کی طرف آناہے وہ مستوی سطح کی طرف بلا سبب نہیں جاتا ہے، ہاں ہوائیں مسلسل پانی میں لہر پیدا کرتی رہتی ہیں، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ بہنے والی چیز جو اس میں شامل ہوجائے منتقل ہوجاتی ہے اور اس کی کوئی ایک جہت متعین نہیں کیونکہ ہوائیں مختلف رخ سے چلتی ہیں، تو ہر جگہ میں احتمال پیدا ہوجائے گا،جب تم نے یہ جان لیا تو پہلی صورت میں جہاں اوپر جانے سے کوئی مانع نہ ہو نجاست تیر کر اوپر آجائے گی اور تمام علماء کے مطابق اوپر والا حصہ ناپاک ہوجائے گا، بلکہ اگر نجاست تیر کر نہ بھی جائے تو بھی ناپاک ہوگا کیونکہ وہ اوپر والے پانی کے ساتھ متصل ہوجائے گی خواہ نیچے سے ہو اوردوسری صورت میں تو بقول عراقی مشائخ کے اگر نجاست نچلے پانی میں اب خط کے مقابل گری ہے تو اوپر والا نجس ہوجائیگا،کیونکہ وہ وہاں سے منتقل نہیں ہوئی ہے اور اگر وہ اس کے حجاب میں گری ہے جیسے ر ء اور ہ ء کا خط تو پانی نجس نہیں ہوگا کیونکہ وہ اوپر والے پانی تک نہ پہنچے گی اور باقی ائمہ کے قول کے مطابق اصح یہ ہے کہ مطلقا ناپاک نہ ہوگا اگرچہ نجاست ا ب کے مقابل گری ہو کیونکہ احتمال ہے کہ وہ کسی ایک زاویے کی طرف منتقل ہوگئی ہو اور یقین شک سے زائل نہیں ہوتا ہے ھذا ماظھرلی واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت(
سوال(۵۲) چہارم حوض اوپر دہ دردہ اورنیچے کم ہے بھرے ہُوئے میں نجاست پڑی تو سب پاک رہا یانیچے کا حصّہ ناپاک ہوگیا جہاں سے مساحت سو ہاتھ سے کم ہے۔ بینوا توجروا۔
الجوابکلام علامہ سید طحطاوی سے ظاہر یہ ہے کہ حصّہ زیریں ناپاک ہوجائیگا۔
حیث قال واذا وقعت فیہ نجاسۃ فی تلک الحالۃ فالا علی طاھر الی ان یبلغ الا قل فینجس ۱؎ اھ وحملہ علی انہ ینجس بنجاسۃ اخری خلاف ظاھر سوق الکلام۔
جہاں فرمایا کہ ''اور جب اس میں نجاست گر جائے اس حالت میں تو بالائی حصہ پاک ہے یہاں تک کہ اقل کو پہنچے تو وہ ناپاک ہوگا اھ" اور اس کو اس پر محمول کرنا کہ وہ دوسری نجاست کے ساتھ نجس ہوجائیگا سیاق کلام کے ظاہر کے خلاف ہے۔ (ت(
(۱؎ طحطاوی علی الدرالمختار باب المیاہ بیروت ۱/۱۰۸)
اقول: وکذا ھو ظاہر الدران قدر وقوع النجس بقرینۃ قرینہ فان نظمہ لواعلاہ عشرا واسفلہ اقل جاز حتی یبلغ الا قل ولو بعکسہ فوقع فیہ نجس لم یجز حتی یبلغ العشر ۱؎ اھ
میں کہتا ہوں اور اسی طرح وہ دُر کا ظاہر ہے اگر نجس گرنا مقدر کیا جائے اور اس پر قرینہ اس کا متصل کلام ہے، کیونکہ ان کی عبارت اس طرح ہے، اور اگر اس کا بالائی حصہ دس ہاتھ ہے اور نچلا حصہ کم ہے تو وضو جائز ہے یہاں تک کہ وہ اقل کو پہنچے اور اگر اس کا عکس ہو اور اس میں نجاست گر جائے تو جائز نہ ہوگا یہاں تک کہ دس ہاتھ کو پہنچے اھ
(۱؎ الدرالمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱/۳۶)
فان ضمیرجاز الی رفع الحدث بہ ومعلوم ضرورۃ من الدین ان رفع الحدث جائز بکل ماء مطلق مطلقا ولو قلیلامالم ینسلب طہارتہاوطھوریتہ فکان المعنی کقرینہ لواعلاہ عشرا واسفلہ اقل فوقع فیہ نجس جازالتطہربہ حتی یبلغ الاقل فاذا بلغہ لم یجزفقد غیاجواز التطھربہ ببلوغہ الاقل فبنفس البلوغ لایجوز لظھور حکم النجس الذی لم یتحملہ الا علی لکثرتہ وحملہ علی التقیید بوقوع النجاسۃ بعد بلوغ الاقل کما فعل ش حیث قال ای اذا بلغ الاقل فوقعت فیہ نجاسۃ تنجس کما فی المنیۃ ۲؎ اھ
کیونکہ جاز کی ضمیر ''رفع الحدث بہ'' کی طرف لوٹتی ہے اور یہ چیز دین کے ضروریات سے ہے کہ رفعِ حدث ہر مطلق پانی سے جائز ہے خواہ کم ہی ہو تاوقتیکہ اس کی طہارت یا طہوریت سلب نہ ہوئی تو معنی اس کے قرین کی طرح یہ ہوئے کہ اگر اس کا بالائی حصہ دس ہاتھ ہو اور اس کا نچلا حصہ کم ہو اور اس میں نجس واقع ہوجائے تو اس سے پاکی حاصل کرناجائز ہے یہاں تک کہ اقل کو پہنچ جائے، اور جب اقل کو پہنچے تو جائز نہیں اس کے ساتھ طہارت کے جوازکی غایت اقل کو پہنچنا بیان فرمائی تو نفس بلوغ سے جائز نہ ہوگاکیونکہ اس نجس کا حکم ظاہر ہے جس سے بالائی بالائی حصہ متاثر نہ ہوا کیونکہ وہ کثیر ہے اور اس کو اقل کو پہنچنے کے بعد نجاست کے واقع ہونے سے مقید کرنا جیساکہ "ش" نے کیا انہوں نے فرمایا ''یعنی جب اقل کو پہنچے اور اس میں نجاست گر جائے تو ناپاک ہوجائیگا جیسا کہ منیہ میں ہے اھ (ت(
(۲؎ ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۴۲)
فاقول خروج(۱) عن الظاھر واخراج(۲) للکلام (عہ۱) الی قریب من العبث والاستناد(۳) الی المنیۃ فی غیرمحلہ فان عبارتھالو ان ماء الحوض کان عشرا فی عشر فتسفل فصار سبعافی سبع فوقعت النجاسۃ فیہ تنجس فان امتلاء صار نجسا ایضا۱؎ اھ فھو لم یذکر للاعلی حکما انما قصد بیان حکم المتسفل فاحتاج فی التصویر الی وقوع النجس فیہ لیکون توطئۃ لابانۃ حکم خفی وھو انہ بعد امتلائہ ایضا یبقی نجساکماکان بخلاف نظم الدر فانہ افرز الا علی بحکم الجواز ولا معنی لہ الا بفرض وقوع المانع والا فذکرہ عبث ثم حد لجوازہ حدا ینتھی دونہ وھو بلوغ الاقل فافاد ماقلنا واین ھذا من عبارۃ المنیۃ،
میں کہتا ہوں یہ ظاہر سے خروج ہے، اور کلام کو تقریباً لغو قرار دینا ہے اور اس کو مُنیہ کی طرف منسوب کرنا بے محل ہے کیونکہ منیہ کی عبارت یہ ہے کہ اگر حوض کا پانی دہ در دہ ہو اور پھر نیچے چلا جائے اور سات در سات ہوجائے پھر اس میں نجاست گرجائے تو ناپاک ہوجائیگا اوراگر بھر جائے تو بھی نجس ہوجائیگا تو انہوں نے بالائی کا کوئی حکم بیان نہیں کیا ان کا مقصود تو محض یہ تھاکہ وہ نچلے کا حکم بیان کریں تو اس کی وضاحت میں ان کو یہ کہنا پڑاکہ اس میں نجاست گر جائے،تاکہ یہ ایک مخفی حکم کے اظہار کی بنیاد بن جائے اور وہ یہ کہ یہ بھر جانے کے باوجود نجس ہی رہے گاجیساکہ پہلے تھا، اور در کی نظم اس کے خلاف ہے کیونکہ انہوں نے بالائی پرجوازکا حکم لگایا اور اس کا کوئی مفہوم نہیں، ہاں مانع کے وقوع کو فرض کرنے کی صورت میں ہوسکتا ہے، ورنہ تو اس کا ذکر عبث ہے، پھر انہوں نے اس کے جواز کی ایک حد مقرر کی جس سے پہلے وہ منتہی ہوتا ہے اور وہ اقل تک پہنچنا ہے تو جو ہم نے کہا اس کا انہوں نے افاد ہ کیا، اور اس کو منیہ کی عبارت سے کیا تعلق ہے؟
(عہ ۱)فی الحلیۃ عند قول المنیۃ اذا سدالماء من فوقہ وبقی جریہ یجوز التوضی بہ مانصہ کان علی المصنف ان یذکرفیہ (ای مکان بہ) لان من الواضح جدا جواز الوضوء بہ جاریا کان اوغیرجار خارجہ فلا یقع التقیید ببقاء جریان الماء موقعا ثم ھم اعلی کعبامن ذکر مثلہ اھ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م( منیہ کے اس قول ''جب اوپر سے پانی بند ہوجائے اور پانی جاری ہو تو وضوء جائز ہے'' پر حلیہ نے کہا کہ مصنف کو"بہ" کی جگہ "فیہ" کہنا چاہئے تھا کیونکہ اس سے وضوء کا جواز بہت واضح ہے خواہ پانی جاری ہو یا نہ ہو لہٰذا پانی کے جاری رہنے کی قید لگانا بے موقع ہوگا حالانکہ ان حضرات کا مقام ایسے کلام سے بلند وبالا ہے اھ (ت(
(۱؎ منیۃ المصلی فصل فی الحیاض مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۷۲)