| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
سوال(۵۱) سوم :اسی صورت میں اگر پانی صرف حصہ زیریں دہ در دہ میں تھااور اس وقت نجاست پڑی کہ ناپاک نہ ہوا، پھر نجاست نکال کر یا بے نکالے بھر دیا تو اب اوپر کا حصّہ پاک رہا یا ناپاک ہوگیا بینّوا توجروا۔ الجواب :کتب حاضرہ سے اس صورت پر کلام اس(عہ۱) وقت ذہن میں نہیں ،
(عہ۱) نعم تعرض لھا السادۃ الثلثۃ ناظرواالدر فقال ط انکان اعلاہ ضیقاواسفلہ عشرافاذابلغہاووقعت فیہ نجاسۃ حینئذ جاز التطھیر بہ فاذا امتلأ حتی بلغ المکان الضیق قال الحلبی لم اجد حکمہ والظاھر التنجس لان النجاسۃ تحقق وقوعھاوانماجوزنا التطھیر بہ لسعتہ وقد ذھبت اھ ہاں تینوں سادات نے اس سے بحث کی ہے "ط" نے فرمایا اگر اس کا بالائی حصہ تنگ اور نچلا دس ہاتھ ہو جب پانی اسفل تک پہنچے اور اس میں نجاست گر پڑے تو اس سے طہارت جائز ہے اور جب وہ بھر جائے یہاں تک کہ تنگ جگہ کو پہنچ جائے تو حلبی کا بیان ہے کہ میں نے اس کا حکم نہیں پایا، بظاہر ناپاک ہوجائے گا،کیونکہ اس میں نجاست کا گرنایقینی ہے اور ہم نے اس کی فراخی کے باعث اس سے پاک کے جواز کا قول کیا ہے اور اس صورت میں فراخی ختم ہوگئی ہے اھ
اقول: وسیردعلیک ماحرر الفقیر بتوفیق القدیر ویظھر(۱)بہ ان ھذا الحکم غیر ظاھر بل ولامقبول فی راسبۃ مرئیۃ او غیرھا و لا فی طافیۃ مرئیۃ قداخرجت اوبقیت فی زاویۃ فی الاسفل ولا فی غیر مرئیۃ وفی الاسفل زوایافانما یقبل فی ثنتین من سبع ان تکون مرئیۃ وقد طفت اوغیر مرئیۃ ولا زاویۃ وذلک انہ انما یتحقق وصولھا الی الاعلی فی ھاتین فماذایضرہ ضیقہ ولم یصل الیہ النجس ولم یتصل بماء متنجس۔ھذاونقلہ ش ھکذا بقی مالو وقعت فیہ النجاسۃ ثم نقص فی المسألۃ الا ولی (ای اعلاہ کثیر) اوامتلأ فی الثانیۃ (ای اسفلہ کثیر)قال ح لم اجدحکمہ اھ ثم تعقبہ بقولہ ھذا عجیب فانہ حیث حکمنا بطہارتہ ولم یعرض لہ ماینجسہ ھل یتوھم نجاستہ نعم لوکانت النجاسۃ مرئیۃ وکانت باقیۃ فیہ اوامتلأ قبل جفاف اعلی الحوض تنجس امااذا کانت غیر مرئیۃ اومرئیۃ واخرجت منہ اوامتلأ بعد ماحکم بطہارۃ جوانب اعلاہ بالجفاف فلا اذلا مقتضی للنجاسۃ ھذا ماظھرلی اھ
میں کہتا ہوں اس سلسلہ میں جو میں نے لکھا ہے وہ آپ دیکھ لیں گے، اس سے معلوم ہوگا کہ یہ حکم نہ تو ظاہر ہے اور نہ مقبول ہے، خواہ وہ حوض کی گہرائی میں نظر آتی ہو یا نہ آتی ہو اور نہ تیرنے والی مرئی میں جو نکال دی ہو یا کسی گوشہ میں نچلے حصّہ میں باقی ہو اور نہ غیر مرئیہ کی صورت میں نچلے حصہ میں کئی زاویے ہوں سات میں سے دو صورتوں میں مقبول ہوگا اگر مرئیہ ہو،اور اوپر آگئی ہے یا غیر مرئیہ ہو، اور زاویہ میں نہ ہو،اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا اُوپر کی طرف آنا اس وقت متحقق ہوگا جب کہ اِن دو صورتوں میں ہو، تو اُس کی تنگی اُس کیلئے کیا مضر ہوگی حالانکہ نہ اُس تک نجاست پہنچی اور نہ وہ نجس پانی سے متصل ہوئی۔ اور ''ش'' نے اس کو اسی طرح نقل کیا،اب یہ صورت باقی رہ گئی کہ اگر اس میں نجاست گر گئی پھر پہلی صورت میں پانی گھٹ گیا(یعنی اس کا اوپر والا کثیر ہو)یا دوسری صورت میں بھر گیا(یعنی اس کا نچلا حصہ کثیر ہوگیا) "ح" نے فرمایا کہ میں نے اس کا حکم نہیں پایا، پھر بعد میں فرمایا ''یہ عجیب ہے'' کیونکہ جب ہم نے اس کی طہارت کا حکم لگایااور اس میں کوئی ایسی چیز نہیں آئی جو اس کو نجس کرے تو آیا اس کی نجاست متوہم ہے، ہاں اگر نجاست مرئی ہو اور اس میں باقی ہو یا حوض کے بالائی حصے کے خشک ہونے سے قبل بھر جائے تو ناپاک ہوجائیگا، اور اگر نجاست غیر مرئی ہو یامرئی ہو اور اس سے نکالی جائے یا اس کے بالائی حصّے کے کناروں کے خشک ہونے کے بعد بھر گیا، تو نہیں کیونکہ نجاست کا کوئی مقتضی نہیں، یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا۔
اقول: رحم اللّٰہ السید فاولا انما(۱)الکلام فیما اذاوقع النجس فی الکثیر ثم انتقص بتسفل اوامتلأ وحدیثاجفاف اعلی الحوض وعدمہ متعلقان بمااذا وقعت نجاسۃ فی الاعلی القلیل ثم بلغ الاسفل الکثیر ثم ملئ فبلغ القلیل فھمابمعزل عن المحل وثانیا لایتنجس بمرئیۃ(۲)باقیۃ راسبۃ ولا بطافیۃ تعلقت بزاویۃ وثالثا یتنجس بغیر(۳)المرئیۃ ایضالوطافیۃ ولازاویۃ ھذا۔ثم قول ح(۴) فی الاولی لم اجد حکمہ لایستقیم علی ماشرحنابہ نظم الدر لکونہ اذن مصرحابہ فیہ واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م( میں کہتا ہوں اللہ سید پر رحم کرے،اول تو یہ کہ کلام اُس صورت میں ہے جبکہ نجاست کثیر پانی میں واقع ہو،اور پھر پانی کم ہوجائے یا بھر جائے،اور حوض کے بالائی حصے کے خشک ہونے اور نہ ہونے کی بات اس صورت سے متعلق ہیں جبکہ نجاست اعلیٰ قلیل میں گر کر نچلے کثیر میں پہنچے پھر حوض بھر کر قلیل کو پہنچے تویہ دونوں صورتیں اس بحث سے الگ ہیں۔ اور دوسرا یہ کہ پانی کی تہ میں بیٹھی باقی نجاست مرئیہ سے نجس نہ ہوگا اور نہ ہی ایسی نجاست سے جو تیرتی ہوئی کسی گوشہ میں ٹھہر گئی ہو۔ تیسرا، غیر مرئیہ سے بھی نجس ہوجائیگا اگر تیرنے والی ہو اور کوئی گوشہ نہ ہو۔ پھر "ح" کا پہلی صورت میں یہ فرمانا کہ میں نے اس کا حکم نہیں پایا، درست نہیں، جیسے کہ ہم نے در کی نظم کی اس کے ساتھ تشریح کی ہے،کیونکہ یہ تو اس میں بصراحت مذکور ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت(
وانا اقول وباللّٰہ التوفیق، نجاست چار قسم ہے ،مرئیہ کہ نظر آئے اور غیر مرئیہ کہ پانی میں مل کر امتیاز نہ رہے جیسے پیشاب ،اور ہر ایک دو قسم ہے طافیہ کہ اوپر تیرتی رہے اور راسبہ کہ تہ نشین ہوجائے اگر نجاست راسبہ تھی کہ پانی بھرنے سے اوپر نہ آئے گی جب تو سارا حوض پاک ہے مرئیہ ہو یا غیر مرئیہ،نیچے کا حصّہ یوں کہ دہ در دہ ہے اثرِ نجاست قبول نہ کرے گا اگرچہ نجاست اُس میں موجود ہے اور اوپر کا حصّہ یوں کہ نجاست اُس میں نہیں اور جس سے متصل ہے وہ پاک ہے اور اگر نجاست طافیہ مرئیہ تھی اور اُسے پہلے نکال دیا جب بھی ظاہر ہے کہ ناپاکی کی کوئی وجہ نہیں اور اگر بے نکالے پانی بھر دیا کہ پانی ڈالے سے اوپر آگئی تو بالائی حصّہ ناپاک ہوگیا کہ نجاست اُس سے متصل ہوئی اور وہ آب قلیل ہے رہی طافیہ غیر مرئیہ اُس میں دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ حوض کے حصہ زیریں میں کوئی کنج ایسانہ ہو جو اُس نجاست کو اوپر جانے سے رو کے مثلاً یہ شکل
2_16.jpg
دونوں حصوں میں خط ح ع فصل مشترک ہے ظاہر ہے کہ جو اُترانے والی چیز خط ح ع میں کہیں ہے وہ پانی بھرنے سے خط ا ب پر آجائے گی دوسرے یہ کہ ایسے کنج ہوں مثلاً یہ شکل
2_17.jpg
اول میں خط ہ ر دوم میں خط ح ہ پر جو ایسی چیز ہو وہ پانی بھرے سے خط ا ب تک ضرور پہنچے گی لیکن دوم میں خط ہء یا یکم میں دو خط ح ہ خط ر ع کے نیچے جو کچھ ہے وہ ا ب تک نہیں جاسکتا پہلی صورت میں بالائی حصہ ا ب ح ع ناپاک ہوجائے گااور دوسری صورت میں سارا حوض پاک رہے گا ولہٰذا ہم نے طافیہ مرئیہ میں پانی ڈالے سے اوپر آجانے کی قید لگائی کہ اگر کسی کنج میں اُلجھ رہی تو اب بھی کوئی حصہ ناپاک نہ ہوگا۔
والوجہ فیہ ان غیرالمرئیۃ لاتنعدم بل تکتتم وحیث ھی طافیۃ لابدلھامن العلم ولذامنع العراقیون من مشائخنا التوضی من موقع غیرالمرئیۃ فی العرض الکبیر لانہ راکد فلا تنتقل وجوز ائمۃ بلخ وبخاری وماوراء النھرالتوضی منہ من این یشاء و ھو الصحیح وعللوہ بانتقال المائع قال ملک العلماء فی البدائع وانکانت غیرمرئیۃ قال مشائخ العراق لایتوضؤ من ذلک الجانب لما ذکرنا فی المرئیۃ (وھو قولہ لانا تیقنابالنجاسۃ فی ذلک الجانب) بخلاف الماء الجاری لانہ ینقل النجاسۃ فلم یستیقن بالنجاسۃ فی موضع الوضوء ومشائخنابماوراء النھر فصلوابینھما(ای بین المرئیۃ وغیرھا) ففی غیر المرئیۃ یتوضؤ من ای جانب کان کماقالوا جمیعا فی الماء الجاری وھو الاصح لان غیرالمرئیۃ لایستقر فی مکان واحد بل ینتقل لکونہ مائعا سیالا بطبعہ فلم نستیقن بالنجاسۃ فی الجانب الذی یتوضؤ منہ فلانحکم بنجاسۃ بالشک ۱؎ اھ
اور اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر مرئیہ ختم نہیں ہوتی ہے بلکہ چھپ جاتی ہے،اور جب تیر رہی ہوتی ہے تو اس کااُوپر آنا لازمی ہے، اس لئے ہمارے عراقی مشائخ بڑے حوض میں گرجانے والی غیر مرئی نجاست کے مقام سے وضو کو جائز قرار نہیں دیتے کیونکہ وہ ٹھہری ہوتی ہے تو منتقل نہ ہوگی اوربلخ،بخاری اورماوراء النہر کے مشائخ نے اجازت دی کہ جہاں سے جی چاہے وضو کرلے اور یہی صحیح ہے،اور اس کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی ہے کہ بہنے والی چیز منتقل ہوتی ہے،ملک العلماء نے بدائع میں فرمایاکہ اگر نجاست غیر مرئیہ ہو تو مشائخ عراق کا قول ہے کہ اُس جانب سے وضو نہ کرے جیساکہ ہم نے مرئیہ میں ذکر کیا ہے (اس سے مرادان کا یہ قول ہے کہ ہم نے اُس جانب میں نجاست کایقین کرلیا ہے) بخلاف جاری پانی کے کیونکہ وہ نجاست کو منتقل کرتاہے تو مقامِ وضو میں نجاست کا یقین نہیں اور ہمارے ماوراء النہر کے مشائخ نے دونوں میں تفصیل کی ہے (یعنی مرئیہ اورغیر مرئیہ میں) اورغیر مرئیہ میں جس جانب سے چاہے وضو کرے جیساکہ جاری پانی میں سب کا اتفاق ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے کہ کیونکہ غیر مرئیہ کسی ایک جگہ میں نہیں ٹھہرتی بلکہ منتقل ہوجاتی ہے کیونکہ وہ طبعی طور بہنے والی ہے اس لئے وضوء والی جانب میں نجاست کایقین نہ ہوا،پس شک کی وجہ سے ہم نجاست کا حکم نہیں دیں گے اھ
(۱؎ بدائع الصنائع فصل فی المقدار الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۳)