Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
83 - 176
ولفظ الفتح فی تعلیلہ لان کل مایتصل بالحوض الکبیر یصیر منہ فیحکم بطہارتہ ۱؎ اھ
اور فتح نے اس کی تعلیل میں یہ فرمایا ہے ''اس لئے کہ جو بڑے حوض سے ملے گا وہ اسی کا جز ہوجائیگا تو اس کی طہارت کا حکم لگایا جائے گا اھ
 (۱؎ فتح القدیر    بحث الغدیر العظیم    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۱)
 وفی البزازیہ الماء الکثیر النجس دخل فی الحوض الکبیر لاینجسہ لانہ حکم بالطھارۃ زمان الاتصال ۲؎ اھ ھذا وجہ
اور بزازیہ میں ہے کہ کثیر نجس پانی جب بڑے حوض میں داخل ہوجائے تو اس کو نجس نہیں کرے گا کیونکہ اتصال کے وقت اس پر طہارت کا حکم لگ چکا ہے اھ یہ معقول بات ہے۔
 (۲؎ بزازیۃ علی الہندیۃ        نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/۷)
وثانیا(۱)لااثرلوقوع ماء نجس فی ماء طاھرالااللقاء وھو حاصل فیما نحن فیہ من بدو الامر ففیم التفصیل بخلاف مسألۃ الجمد فانہ لانجمادہ لالقاء مع النجس الالسطح منہ فالباقی اذا ذاب تدریجا حصل اللقاء للقلیل فتنجس والکثرۃ للمتنجس فلم یطھر واذا ذاب دفعۃ حصل اللقاء للکثیر فلم یتنجس،
ثانیا نجس پانی کے پاک پانی میں پڑ جانے کاکوئی اثر نہیں، سوائے ملاقات کے،اور وہ ہمارے اس مسئلہ میں ابتداء سے حاصل ہے تو تفصیل کس چیز میں ہے،بخلاف منجمد پانی کے مسئلہ کے،کیونکہ یہ منجمد ہے اس لئے اس کی ملاقات نجس کے ساتھ نہ ہوگی صرف اس کی سطح ملے گی،اور باقی جب تدریجی طور پر پگھلے گا تو اس کے تھوڑے سے جزء سے ملاقات ثابت ہوگی، تو نجس ہوجائیگا، اور کثرہ متنجس کیلئے ہے تو پاک نہ ہوگا، اور جب یک دم پگھلے گا تو کثیر سے ملاقات ہوگی، تو ناپاک نہ ہوگا۔
اقول:(۱) ذلک فی ماء نجس کثیرلقی ماء طاھرا کثیرا تدریجاوھذاماء قلیل طاھر لقی ماء نجسافاین ھذامن ذلک وای(۲) مدخل فیہ للابلغیۃ من حیث ان ثم الغالب النجس وھھناالطاھر بعد ان التدریج جعل ذلک الغالب مغلوباکما افصح بہ فی الخلاصۃ وھذا المغلوب غالبا کما علمت واللّٰہ تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م(
میں کہتا ہوں وہ کثیر نجس پانی میں سے جو کثیر طاہر پانی سے ملاقی ہو اور یہ ملاقات تدریجا ہو، اور یہ کم طاہر پانی ہے جس کی ملاقات نجس پانی سے ہوئی ہے تو اس میں اور اُس میں کیا نسبت ہے اور اس میں ابلغیۃ کو کیا دخل ہے کیونکہ وہاں غالب نجس ہے اور یہاں طاہر بعد اس کے کہ تدریج نے اُس غالب کو مغلوب کردیا ہے جیسا کہ خلاصہ میں اس کی وضاحت کی ہے اور اس مغلوب کو غالب کردیا جیسا کہ آپ نے جانا ہے واللہ تعالٰی  اعلم
وثالثا المعھود ھھناان الماء العالی یرفع ویبقی السافل لاان العالی یقع فی السافل دفعۃ اوتدریجا،
ثالثا، معمول کے مطابق اوپر والاپانی اٹھا لیاجاتاہے اور نیچے والا پانی باقی رہ جاتا ہے نہ یہ کہ اوپر والا نیچے والے میں گرتا ہے، کبھی یک دم اور کبھی تدریجی طور پر۔
و رابعا اذاکان(۱)الماء ان متلاصقین ولم یکن ھذاوقوع العالی فی السافل لم یتصور الزیادۃ علیہ الا بوقوع العالی فی محل السافل ولا یکون الابعد خروج السافل لاستحالۃ التداخل فلا یقع العالی فی السافل ابدالا دفعۃ ولا تدریجا،
رابعا جب دونوں پانی ملے ہوئے ہوں اور اوپر والا نیچے والے میں نہ گرے تو اس پر زیادتی متصور نہ ہوگی صرف ایک صورت میں زیادتی ہوگی اور وہ یہ کہ اوپر والا نیچے والے کی جگہ میں گرے اوریہ تب ہی ہوگا جبکہ نیچے والا نکلے ، کیونکہ تداخل محال ہے، تو اوپر والانیچے والے میں کبھی نہیں گرے گا،نہ یک دم اور نہ تدریجی طور پر۔
وخامسا لوفرض(۲)فلایکون الالخروج ھذا ودخول ذاک والکل حرکۃ فلا یمکن الا تدریجاکأن یکون فی السافل منفذ یفتح فیجعل السافل یخرج والعالی ینزل ولا تصور لان یخرج السافل دفعۃ فیسقط العالی مرۃ واحدۃ وبالجملۃ لم یصل فھمی القاصرلمرادہ واللّٰہ تعالی اعلم بمراد خواص عبادہ لاجرم ان قال فیہ فی الدر لووقع فیہ نجس لم یجز حتی یبلغ العشر ۱؎ فقال ش فاذابلغھا جاز وان کان اعلاہ اکثر مقداراوفی البحر عن السراج الھندی انہ الاشبہ ۲؎ اھ ورحم اللّٰہ العلامۃ الشلبی حیث نقل فی حاشیۃ الزیلعی کلام الخانیۃ الی ذکرالقولین ورسم اھ ولم یعرج لذکربحثہا اصلا واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
خامسا، گرنا فرض کیاجائے تو اس کے نکلنے اور اس کے داخل ہونے کی وجہ سے ہوگا،اوریہ سب حرکت ہے، تو یہ صرف تدریجی طور پر ہی ہوسکتا ہے،مثلاً یہ کہ نچلے میں کوئی سوراخ ہو جس کو کھولا جائے تو نیچے والا نکلنے لگے اوراُوپر والا اترنے لگے اور اس کا کوئی تصور نہیں کہ نیچے والا یک دم نکلے اور اوپر والا یکدم گر جائے،اور خلاصہ یہ کہ میں اپنی ناقص رائے میں ان کی مراد سمجھنے سے قاصر رہا ہوں اوراللہ تعالٰی  اپنے خواص کی مراد کو زیادہ جاننے والا ہے۔پھر انہوں نے فرمایا در میں ہے اگر اس میں نجس واقع ہوجائے توجائز نہیں یہاں تک کہ دس کو پہنچ جائے، تو ''ش''نے فرمایاجب وہ دس کو پہنچے توجائز ہے اگرچہ اس کے اوپر والا مقدار میں زائد ہو،اور بحر میں سراج ہندی سے منقول ہے کہ یہی اقرب الی الحق ہے اھ اور اللہ تعالٰی  علامہ شلبی پر رحم کرے کہ انہوں نے زیلعی کے حاشیہ میں خانیہ کا کلام نقل کیا قولین کے ذکر تک اور اھ کانشان لگادیااور انکی بحث کا  اصلاً ذکر نہ کیا واللہ تعالٰی  اعلم۔ (ت(
 (۱؎ الدرالمختار    باب المیاہ    مجتبائی دہلی        ۱/۳۶)

(۲؎ ردالمحتار     باب المیاہ     مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۳)
سوال(۵۰) دوم :اسی صورت میں حوض کے بالائی حصّے کے منتہی پر ایک نالی ہے جب یہ اوپر کا پانی ناپاک ہوانالی کھول کر نکال دیا گیا صرف نیچے کاپانی جہاں سے دہ در دہ ہے رہ گیاپھر پاک پانی سے بھر دیا گیا تو اب یہ سب حوض پاک ہوگیایا نہیں،اگر نہیں تو کیا کیا جائے کہ پاک ہو بینوا توجروا۔
الجواب : اگرناپاک پانی نکال دینے کے بعد اتناانتظار کیاکہ حوض کی بالائی سطوح جو اُس پانی سے ناپاک تھیں خشک ہو کر پاک ہوگئیں اس کے بعدپاک پانی بھرا گیااوراوپر(عہ۱)آجانے والی نجاست باقی نہیں تو سارا حوض پاک ہے ورنہ بالائی حصہ پھر ناپاک ہوگیا،
(عہ۱)توضیح جواب سوم سے ہوگی خلاصہ یہ کہ تہ نشین نجاست اوپر آئے گی نہیں اورپانی ملے گاآب زیریں سے جو بوجہ کثرت ناپاک نہیں اور اُوپر آنے والی اگر غیر مرئیہ تھی یامرئیہ نکال دی گئی کہ وہ بھی غیر مرئیہ رہ گئی تو ناپاک پانی کے ساتھ نکل گئی ہاں مرئیہ باقیہ ہے تو پھر ناپاک کردے گی ۱۲ منہ غفرلہ (م(
ردالمحتار میں ہے:لوکانت النجاسۃ مرئیۃ باقیۃ فیہ اوامتلاء قبل جفاف اعلی الحوض تنجس ۱؎۔
اگر حوض میں نجاست مرئیہ باقی رہے یا بھر جائے حوض کااعلیٰ حصہ خشک ہونے سے پہلے تو نجس ہوجائے گا۔ (ت(
 (۱؎ ردالمحتار    باب المیاہ    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۳)
چارہ کار یہ ہے کہ نجاست مذکورہ نکال کرپاک پانی ڈالتے جائیں یہاں تک کہ کناروں سے چھلک کر کچھ دوربہ جائے اب وہ حوض کے کنارے بھی پاک ہوگئے اور یہ سب پانی بھی۔ درمختار میں ہے:
المختار طھارۃ المتنجس بمجرد جریانہ ۱؎۔
مختار مذہب پر نجس حوض صرف پانی کے جاری ہونے سے پاک ہوجاتا ہے۔ (ت(
 (۱؎ درمختار        باب المیاہ         مجتبائی دہلی        ۱/۳۶)
غنیہ میں ہے:ۤیطھرالحوض بمجرد مایدخل الماء من الانبوب ویفیض من الحوض ھوالمختار لصیرورتہ جاریا ۲؎۔
مختار قول میں صرف نالی کے ذریعہ پانی داخل ہونے اور حوض سے بہہ جانے سے حوض پاک ہوجاتاہے کیونکہ اب پانی جاری ہوچکا ہے۔(ت(
 (۲؎ غنیہ المستملی            سہیل اکیڈمی لاہور        ۱/۱۰۳)
فتاوی امام ظہیرالدین میں ہے:الصحیح انہ یطھر وان لم یخرج مثل مافیہ وان رفع انسان من ذلک الماء الذی خرج وتوضأ بہ جاز ۳؎ اھ ذکرہ ش واقوالااُخروروایات مضطربۃ سیأتی الکلام علیھا واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
صحیح قول پر حوض پاک ہوجائیگااگرچہ اتنا پانی خارج نہ ہواہو جتنااس میں ہے اگر کوئی آدمی وہ پانی اٹھائے جو خارج ہوچکا ہے اوراس سے وضو کرے تو جائز ہے۔اس کو شامی نے ذکر کیا ہے اس کے علاوہ دیگر اقوال اور مضطرب روایات بھی ذکر کی ہیں جن پر کلام آئے گا، واللہ تعالٰی  اعلم۔ (ت(
 (۳؎ ردالمحتار        باب المیاہ        مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۳)
Flag Counter