بحرالرائق میں ہے:وذکر السراج الہندی ان الاشبہ الجواز ۱؎۔
اور سراج ہندی نے ذکر کیا ہے کہ اشبہ جواز ہے۔ (ت(
(۱؎ بحرالرائق بحث الماء الدائم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۷)
حلیہ میں ہے:نص فی الذخیرۃ انہ الاشبہ ۲؎۔
ذخیرہ میں نص ہے کہ یہی اشبہ ہے۔ (ت(
(۲؎ حلیہ)
فتوٰی کہ منیہ میں مذکور ہوا اُس سے بھی یہی مراد ہے کہ حصّہ بالائی کی نجاست پر فتوی ہے نہ کہ کل کی، غنیہ میں ہے:
(الحوض اذا انجمد ماؤہ فنقب فی موضع) وبقی الماء تحت الجمد متصلا بہ (فوقعت فیہ نجاسۃ قال نصیرو ابو بکر یتنجس الماء ) لکونہ متصلا بالجمد فلا یخلص بعضہ الی بعض فیکون وقوع النجاسۃ فی ماء قلیل فیفسدہ (وقال ابن المبارک وابو حفص لاوان کان) ای ولو کان (الماء متصلا بالجمد) لکونہ عشرا فی عشر (والفتوی علی قول نصیر) لما قلنا (واما اذا کان) الماء تحت الجمد (منفصلا) عنہ (فیجوز) ولا یفسد الماء لان الفرض انہ عشر فی عشر ولم تنفصل بقعۃ منہ عن سائرہ کما فی الصورۃ الاولیٰ۔
(حوض کا پانی جب جم جائے اور کسی جگہ سوراخ کیا جائے) اور برف کے نیچے والا پانی اس کے ساتھ متصل رہے (تو اس میں نجاست گر گئی، تو نصیر اور ابو بکر نے فرمایا پانی نجس ہوجائیگا) کیونکہ وہ برف کے ساتھ متصل ہے تو اس کا بعض حصّہ دوسرے بعض کی طرف نہیں جائیگا اور اس طرح نجاست قلیل پانی میں گرے گی، اور اس کو فاسد کر دے گی (اور ابن مبارک اور ابو حفص نے کہا نہیں اگرچہ وہ ہو) یعنی برف پانی سے متصل ہو، کیونکہ وہ دہ در دہ ہے (اور فتوٰی نصیر کے قول پر ہے) جیسا کہ ہم نے کہا (اور اگر پانی ہو) برف کے نیچے جدا برف سے (تو جائز ہے) اور پانی فاسد نہ ہوگا کیونکہ مفروضہ یہ ہے کہ یہ دہ در دہ ہے اور اس کا کوئی حصہ باقی پانی سے جُدا نہیں جیسا کہ پہلی صورت میں ہے۔ (ت(
اسی طرح منیہ میں جو اس کے متصل تھا:
وان ثقب الجمد فعلا الماء فولغ الکلب یتنجس عند عامۃ العلماء ۳؎۔
اور اگر برف میں سوراخ کیا تو پانی اوپر چڑھ آیا اس میں کُتّے نے مُنہ ڈال دیا تو عام علماء کے نزدیک نجس ہوجائیگا۔ (ت(
(۳؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فے الحیاض ص۹۹)
دونوں شارح محقق نے اسے اُسی قدر پانی کی نجاست پر حمل فرمایا ہے غنیہ میں ہے:
(یتنجس عند عامۃ العلماء ) ولم یعتبر الماء الذی تحت الجمد وکان مافی الثقب کغیرہ من الماء القلیل خلافا لما قال البعض ان مافی الثقب یعتبر متصلابما تحتہ وھو کثیر فلا یتنجس ۱؎۔
(اور عام علماء کے نزدیک پانی نجس ہوجائے گا) اور جو پانی برف کے نیچے ہے اس کا اعتبار نہ ہوگا اور جو سوراخ میں ہے وہ تھوڑے پانی کی طرح ہے، لیکن بعض علماء نے اس کے خلاف یہ فرمایا ہے کہ جو سوراخ میں ہے وہ اسی طرح ہے جو اس کے نیچے ہے اور وہ کثیر ہے تو ناپاک نہ ہوگا۔ (ت(
(۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فے الحیاض مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۷۰)
حلیہ میں ہے:(یتنجس عند عامۃ العلماء ) ذلک الماء الذی فی الثقب لاالحوض لان المسألۃ مفروضۃ فی الحوض الکبیر ۲؎۔
(عام علماء کے نزدیک نجس ہوجائے گا) وہ پانی جو سوراخ میں ہے نہ کہ حوض میں کیونکہ مسئلہ بڑے حوض میں مفروض ہے۔ (ت(
(۲؎ حلیہ)
یہاں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ یہی مذہب جمہور علماء ہے،
وھنا بحث غریب للخانیۃ ثم للخلاصۃ واللفظ لھا قال اختلف المشائخ فیہ وینبغی ان یکون الجواب علی التفصیل ان کان الماء الذی تنجس فی اعلی الحوض اکثرمن الماء الذی فی اسفلہ ووقع الماء النجس فی اسفل الحوض علی التدریج کان طاھرا علی مایاتی فی مسألۃ الجمد وقال بعضھم لایطھر کالماء القلیل اذا وقعت فیہ نجاسۃ ثم انبسط علی مامر ۳؎ اھ
اور یہاں ایک عجیب بحث خانیہ اور خلاصہ کی ہے الفاظ خلاصہ کے ہیں فرمایا کہ مشائخ نے اس میں اختلاف کیا ہے اور جواب میں تفصیل ہونی چاہئے،اگر وہ پانی جو حوض کے بالائی حصہ میں نجس ہوا ہے اس پانی سے زیادہ ہے جو اس کے نچلے حصے میں ہے،اور نجس پانی حوض کے نچلے حصے میں گرا بتدریج تو پاک رہے گا،جیسا کہ منجمد پانی کے بیان میں آئے گا،اور بعض نے فرمایا طاہر نہیں رہے گا جیسے قلیل پانی، جب اس میں نجاست گر جائے پھر وہ پھیل جائے، جیسا کہ گزرا اھ
(۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی الجنس الاولی فے الحیض نولکشور لکھنؤ ۱/۴)
والمراد بما یاتی فی الجمد قولہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی لوتنجس موضع النقب ثم ذاب الجمد بتدریج الماء نجس وقال الشیخ الامام شمس الائمۃ الحلوائی رحمہ اللّٰہ تعالٰی الماء طاھر سواء ذاب بتدریج اودفعۃ واحدۃ ۱؎ اھ۔
اور مایاتی فی الجمد سے مرادان کا قول ہے کہ ''اگر سوراخ کی جگہ نجس ہوئی پھر منجمد پانی بتدریج پگھل گیا تو پانی ناپاک ہے، اور شیخ الامام شمس الائمہ حلوائی نے فرمایا پانی پاک ہے خواہ بتدریج پگھلا ہو یا یک دم اھ (ت(
(؎ خلاصۃ الفتاوی الجنس الاولی فی الحیض نولکشور لکھنؤ ۱/۴)
اقول: وجہ الاول وعلیہ المعول انہ کلما ذاب شیئ منہ اتصل بالنجس وھو قلیل فیتنجس حتی تاتی النجاسۃ علی الکل بخلاف ما اذا ذاب دفعۃ لانہ کثیر فلا یتنجس بمجاورۃ النجس و وجہ قول شمس الائمۃ انہ کثیر وفیہ ان النجس لایطھر بالکثرۃ۔
میں کہتا ہوں پہلے قول کی وجہ جس پر اعتماد ہے کہ جب بھی اس سے کوئی چیز پگھلی اور نجس سے متصل ہوئی اور وہ قلیل ہو تو وہ نجس ہوجائے گا یہاں تک کہ کل نجس ہوگا بخلاف اس صورت کے جبکہ یکدم پگھل جائے کیونکہ وہ کثیر ہے، لہٰذا نجس کی مجاورت کی وجہ سے نجس نہ ہوگا، شمس الائمہ کے قول کی وجہ یہ ہے کہ وہ کثیر ہے، اور اس میں یہ اعتراض ہے کہ نجس کثرت کی وجہ سے پاک نہیں ہوتا ہے۔ (ت(
اقول: لکن فی(۱) قیاس مسألتنا علی مسألۃ الجمد نظرفان الطاھر ھھنا ماء کثیر فلا یضرہ مجاورۃ نجس سواء کانت دفعۃ اوتدریجا وکان المجاور اکثر منہ اواقل علی خلاف مایفیدہ تقییدہ بکثرۃ المتنجس ای قدرالامساحۃ من قصر حکم الطھارۃ علی مالوکان اقل مماتحتہ قدرافلا یتنجس ماتحتہ سواء وقع فیہ دفعۃ اوتدریجا بخلاف الاکثر وانت تعلم ان الماء الکثیر انما یتنجس بتغیر وصف لہ بالنجاسۃ بلا فرق بین قدر وقدر علی القول الصحیح المعتمد المفتی بہ کما عرف فی مسألۃ جیفۃ فی النھر نعم مشی الشیخ علی مختارہ ثمہ حیث قال انکان مایلاقی الجیفۃ اکثر اوکانا سواء فالماء نجس ۱؎ اھ
میں کہتا ہوں ہمارے مسئلہ کو منجمد پانی پر قیاس کرنے میں نظر ہے کیونکہ یہاں پاک پانی کثیر ہے تو اس کو نجس کی مجاورۃ نقصان دہ نہ ہوگی خواہ یکدم ہو یا بتدریج ہو اور مجاور اس سے زیادہ یا کم ہو،یہ اس کے خلاف ہے کہ جس کو متنجس کی کثرت کے ساتھ مقید کیا ہے یعنی مقدار کے اعتبار سے نہ کہ پیمائش کے اعتبار سے، جس نے طہارت کے حکم کو اُس صورت میں مقصور کیاکہ اگر وہ اپنے نیچے والے پانی سے کم ہو، تو اس کانیچے والا ناپاک نہ ہوگا، خواہ اس میں وہ یکدم گرا ہو یا تدریجی طور پر بخلاف اکثر کے اور آپ کو معلوم ہے کہ کثیر پانی اسی وقت نجس ہوگا جب نجاست کی وجہ سے اس کا کوئی وصف متغیر ہوجائے، اس میں مقادیر کے طرق کے اعتبار نہیں، قول صحیح، معتمد، مفتیٰ بہ یہی ہے، جیسا کہ نہر میں گرجانے والے مردہ کے مسئلہ میں معلوم ہوا ہے البتہ شیخ نے وہاں اپنے مختار قول ہی کو لیا ہے،وہ فرماتے ہیں کہ جو پانی مردار سے ملاقی ہے،اگر وہ زائد ہے یادونوں برابر ہیں تو پانی نجس ہے اھ
(۱؎ خلاصۃ الفتاوی جنس آخر فی التوضی، الماء الجاری نولکشور لکھنؤ ۱/۹)
والیہ یشیر قولہ الماء النجس اذادخل الحوض الکبیر لایتنجس الحوض وانکان الماء النجس علی ماء الحوض غالبا لانہ کلما اتصل الماء بالحوض صار ماء الحوض علیہ غالبا ۲؎ اھ فقد(عہ۱) اشار الی التدریج،
اور ان کے قول ''نجس پانی جب بڑے حوض میں داخل ہوجائے تو وہ حوض ناپاک نہ ہوگا''اگرچہ نجس پانی حوض کے پانی پر غالب ہوجائے میں اسی طرف اشارہ ہے کیونکہ جو نہی پانی حوض کے پانی سے ملے گا حوض کا پانی اس پر غالب ہوتا جائیگا اھ تو انہوں نے تدریج کی طرف اشارہ کیا ہے
(۲؎ خلاصۃ الفتاوی الجنس الاولی فی الحیض نولکشور لکھنؤ ۱/۴)
(عہ۱) اقول وبما(۱)اشرناالیہ اندفع ماجنح الیہ فی الحلیۃ من اثبات التناقض بین فرعی الخلاصۃ ھذین فان مقتضی الفرع الاخیرطھارۃ السافل بلا تفصیل اھ بمعناہ وذلک لان کلامہ فی ھذاالفرع یشیر الی صورۃ التدریج فلاینافی التفصیل المذکور سابقا (۲) وکذا اندفع بحثہ ترجیح الطہارۃ مطلقاوان ذاب تدریجا حیث قال بعدقول شمس الائمۃ قلت وھذاھوالمتجہ بعد انکان الحوض کبیراولم یظھر للنجاسۃ اثرفیہ کما ھو فرض المسألۃ اھ
میں کہتا ہوں ہم نے جس طرف اشارہ کیا ہے اس سے حلیہ میں جو کہا ہے وہ رفع ہوگیا، حلیہ میں انہوں نے خلاصہ کی اِن دو فرعوں کے درمیان تناقض ثابت کیا ہے، کیونکہ آخری فرع کا مقتضی یہ ہے کہ نچلا حصہ بلا تفصیل پاک ہے اھ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اُن کا کلام اس فرع میں تدریج کی صورت کی طرف اشارہ کرتاہے تو سابقہ تفصیل کے خلاف نہ ہو گا، اور اسی طرح ان کی وہ بحث ساقط ہوگئی جس میں انہوں نے مطلقاً طہارت کو ترجیح دی ہے اگرچہ وہ پگھلا ہو تدریجاً انہوں نے شمس الائمہ کے قول کے بعد فرمایا''میں کہتا ہوں یہی معقول بات ہے بشرطیکہ حوض بڑاہو اور نجاست کا کوئی اثر ظاہر نہ ہو، جیسے کہ مسئلہ میں مفروض ہے اھ
اقول: ماذا ینفع کون متسع الحوض کبیرابعد انکان الذائب من الجمد قلیلا فالعبرۃ للماء لاللمحل والماء ھو الذائب دون الجمدثم استشھد علیہ بفرع الخلاصۃ الاخیر وتعلیلہ بانہ کلما اتصل بالحوض صارماء الحوض علیہ غالباقال بل ھذاابلغ کماھو غیر خاف فتنبہ لذلک اھ
میں کہتا ہوں حوض کے بڑا ہونے کا ایسی صورت میں کیا فائدہ جبکہ پگھلی ہوئی برف کم ہو کیونکہ اعتبار پانی کا ہے نہ کہ محل کا اور پانی تو پگھلا ہوا ہی ہے نہ کہ جمی ہوئی برف،پھر انہوں نے اس پر خلاصہ کی آخری فرع اور اس کی تعلیل سے استشہاد کیا،اور وہ یہ کہ جب وہ حوض سے ملے گا توحوض کا پانی اس پر غالب ہوجائے گا، فرمایا یہ زیادہ بلیغ ہے جیسا کہ مخفی نہ رہے، تو اس پر متنبہ ہونا چاہئے اھ