Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
81 - 176
فتوٰی مسمّٰی بہ

رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ(۱۳۳۴ھ)

ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو (ت)
مسئلہ ۴۹:۴ جمادی الآخر ۱۳۳۴ھ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں سوال اوّل حوض نیچے دَہ در دَہ اور اوپر کم ہے بھرے ہوئے میں نجاست پڑی تو سب ناپاک ہوگیا یا صرف اوپر کا حصّہ جہاں تک سو ہاتھ سے کم ہے بینوا توجروا۔
الجواب

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم۔
بعض کے نزدیک اصلاً ناپاک نہ ہوگا کہ مجموع آب کثیر ہے۔
اقول ویشبہ ان یکون مبنیا علی اعتبار العمق وقد صححہ بعضھم والمعتمد المعول علیہ لا۔
میں کہتا ہوں یہ گہرائی کے اعتبار پر مبنی ہے اور بعض نے اس کو صحیح قرار دیا ہے اور اس پر اعتماد نہیں ہے۔ (ت(
خلاصہ میں ہے:الحوض الکبیر اذا انجمد ماؤہ فنقب انسان نقبا وتوضأ منہ ان کان الماء منفصلا عن الجمد یجوز وان کان متصلا بالجمد اختلف المشائخ فیہ بعضھم اعتبروا جملۃ الماء حتی لایتنجس وبعضھم اعتبروا موضع النقب ان کان کبیرا یجوز والافلا ۱؎۔
بڑے حوض کا پانی جب جم جائے اور کوئی اس میں سوراخ کرکے وضو کرلے تو پانی اگر برف سے الگ ہے تو جائز ہے اور اگر برف سے متصل ہے تو مشائخ کا اس میں اختلاف ہے بعض نے تمام پانی کا اعتبار کیا یہاں تک کہ وہ نجس نہ ہوگا، اور بعض نے سوراخ کی جگہ کا اعتبار کیا، اگر وہ بڑا ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں۔ (ت(
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی    الجنس الاول الحیاض    نولکشور لکھنؤ        ۱/۴)
بعض کے نزدیک کل ناپاک ہوجائے گا۔
اقول: وکانہ لانہ ماء واحد والعبرۃ بوجہ الماء وھو قلیل لابالعمق وان کثر۔
میں کہتا ہوں اور شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک پانی ہے اور اعتبار پانی کی سطح کا ہے اور وہ قلیل ہے، عمق کا اعتبار نہیں، خواہ زائد ہی کیوں نہ ہو۔ (ت(
خلاصہ میں ہے:ان کان اعلاہ اقل من عشر فی عشرو اسفلہ عشر فی عشر فوقعت قطرۃ خمر ثم انتقص الماء وصار عشرا فی عشر اختلف المشائخ فیہ ۱؎۔
اگر اس کا بالائی حصہ دہ در دہ سے کم ہے اور نچلا دہ در دہ ہو اب اس میں ایک قطرہ شراب کا گر جائے پھر پانی کم ہوجائے اور دہ در دہ ہوجائے، تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے۔ (ت(
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی    الجنس الاول الحیاض    نولکشور لکھنؤ        ۱/۴)
بدائع میں اوّل کو اوسع ثانی کو احوط فرمایا اور منیہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسی دوم پر فتوی ہے: حیث قال الحوض اذا انجمد ماؤہ فنقب فی موضع منہ فوقعت فیہ نجاسۃ قال نصیر وابو بکر الاسکاف یتنجس وقال عبداللّٰہ بن المبارک وابو حفص الکبیر البخاری لایتنجس اذا کان الماء تحت الجمد عشرا فی عشرو ان کان متصلا بالجمد والفتوی علی قول نصیر وابی بکر وان کان منفصلا عن الجمد یجوز بلا خلاف کالحوض المسقف ۲؎ اھ
انہوں نے فرمایاکہ حوض کاپانی جم جائے اور اس میں کسی جگہ سوراخ کیا جائے اور اس میں نجاست گر جائے تو نصیر اور ابو بکر الاسکاف نے فرمایا وہ ناپاک ہوجائیگا، اور عبداللہ بن مبارک اور ابو حفص کبیر نے فرمایاکہ اگر برف کے نیچے پانی دہ دردہ ہو تو ناپاک نہ ہوگا،اگرچہ برف سے متصل ہو اور فتوی نصیر اور ابو بکر کے قول پر ہے اوراگر برف سے جُدا ہو تو بغیر اختلاف کے جائز ہے جیسے وہ حوض جس کے اوپر چھت ہو اھ
 (؎ منیۃ المصلی    فصل الحیاض        مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۷۰)
واعترضہ شارحہ المحقق ابن امیر الحاج بانہ یفید ان الحوض عند نصیر وابی بکر یتنجس سواء کان الماء ملتزقا بالجمدا ومتسفلا عنہ ثم ینافیہ قولہ وان کان منفصلا یجوز بلا خلاف فان قلت لم لم یحمل ماعن نصیر وابی بکر علی مااذا کان متصلا بالجمد وقد اندفع التناقض عن المصنف قلت لانہ ینافیہ قولہ فان کان متصلا بالجمد فالفتوی علی قول نصیر فانہ یفید ان موضوع المسألۃ اعم وان نصیراً وابا بکر یقولان ینجس مطلقا وابن المبارک واباحفص یقولان لاینجس مطلقا فتأملہ ۱؎ اھ
اس پر اس کے شارح محقق ابن امیر الحاج نے اعتراض کیا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حوض نصیر اور ابو بکر کے نزدیک نجس ہوجاتا ہے خواہ پانی برف سے ملاہوا ہو یا اس کے نیچے ہو، پھر اس کے مخالف ہے اُن کا قول کہ اگر منفصل ہو تو جائز ہے بلاخلاف، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جو نصیر اور ابو بکر سے منقول ہے اسکو اس پر کیوں محمول نہیں کیا گیاکہ یہ اُس صورت میں ہے جبکہ وہ برف سے متصل ہو اور تناقض مصنف سے رفع ہوگیا، میں کہوں گا،اس لئے کہ منافی اس کا قول کہ اگر برف کے ساتھ متصل ہوتو فتوی نصیر کے قول پر ہوگا،کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موضوع مسئلہ اعم ہے اور یہ کہ نصیر اور ابو بکر دونوں کہتے ہیں کہ وہ مطلقا نجس ہوگا،اور ابن مبارک اور ابوحفص کہتے ہیں کہ وہ مطلقاً نجس نہیں ہوگا فتأملہ اھ۔ (ت(
 (۱؎ حلیہ)
اقول: رحم اللّٰہ المحقق لاشک(۱) ان اول الکلام فی المتصل یوضحہ مافی البدائع ان کان جامداونقب فی موضع منہ فان کان الماء غیر متصل بالجنب یجوز بلاخلاف وان متصلا والنقب صغیرا اختلف المشائخ قال نصیر بن یحیی وابو بکرالاسکاف لا خیر فیہ وسئل ابن المبارک فقال لاباس بہ وقال الیس الماء یضطرب تحتہ وھو قول الشیخ ابی حفص الکبیر وھذا اوسع والاول احوط ۲؎ اھ وقد نقلہ المحقق فی الحلیۃ ھھنا۔
میں کہتا ہوں،اللہ محقق پر رحم کرے بیشک کلام کا ابتدائی حصہ متصل میں ہے اس کی وضاحت بدائع میں ہے، اور وہ یہ کہ اگر وہ جامد ہو اور اس کے کسی حصّہ میں سوراخ کرلیا گیا ہو تو اگر پانی برف سے ملا ہوا نہ ہو تو بلاخلاف جائز ہے اور اگر متصل ہو اور سوراخ چھوٹا ہو تو مشائخ کا اختلاف ہے،نصیر بن یحییٰ اور ابو بکر الاسکاف فرماتے ہیں اس میں خیر نہیں اور ابن مبارک سے دریافت کیاگیا تو فرمایا اس میں حرج نہیں، نیز فرمایا کیا اس کے نیچے پانی میں حرکت نہیں ہوتی ہے اور یہی ابو حفص الکبیر کا قول ہے اور یہ زیادہ آسان ہے جبکہ پہلے میں احتیاط کاپہلو زیادہ ہے اھ اور محقق نے اس کو یہاں حلیہ میں نقل کیا۔ (ت(
 (۲؎ بدائع الصنائع    فصل فی بیان مقدار الخ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۳)
اقول: ولولا(۲)ھذالم یکن لہ محمل الا ذاک لان الذھن لایسبق منہ الاالیہ اذھوالغالب ونادران ینجمدالاعلی ویبقی الاسفل منفصلا عنہ الا اذانقب واستفرغ منہ شیئ صالح ،
میں کہتا ہوں اگر یہ بات نہ ہوتی تو اس کا محمل یہی ہوتا،کیونکہ ذہن کی سبقت اسی کی طرف ہوتی ہے کیونکہ غالب یہی ہے اور یہ نادرہے کہ اوپر والا منجمد ہوجائے اور نیچے والااس سے جُدا رہے، ہاں اگر اس میں سوراخ کرکے قابلِ لحاظ حد تک پانی نکال لیا جائے تو جدا ہوسکتا ہے۔
وما ردبہ علیہ من المنافاۃ۔فاقول غیر متوجہ(۳)الیہ فان قولہ''وان کان متصلا بالجمد'' لیس شرطا جزاؤہ فالفتوی حتی یفید ان کلام نصیر وابی بکر فیما ھو اعم من الاتصال بل ھو من تتمۃ قول ابن المبارک وان  وصلیۃ والفاء فی فالفتوی فصیحۃ والمعنی انہ ان انفصل عن الجمد جازبلا خلاف وان اتصل فکذا عند عبداللّٰہ وابی حفص وقال نصیر وابو بکر لاوعلیہ الفتوی علی ان فی(۱) عامۃ نسخ المنیۃ وعلیہ الفتوی بالواو دون الفاء وقولہ فان کان متصلالیس بالفاء فی نفس المتن المنقول فی الحلیۃ فانقطع مثارالتوھم رأساثم رأیت الغنیۃ فسرہ علی ماھو الحق وافاد فائدۃ اخری ستعرفھا۔
اور جس چیز سے اس پر رد کیا ہے یعنی منافات، تو میں کہتا ہوں یہ ان کی طرف متوجہ نہیں کیونکہ ان کا قول ''وان کان متصلاً بالجمد'' شرط نہیں جس کی جزا فالفتوی ہو تاکہ اس کا فائدہ یہ ہو کہ نصیر اور ابو بکر کا اس میں کلام ہے جو اتصال سے اعم ہے بلکہ وہ ابن مبارک کے کلام کا تتمہ ہے اور''ان'' وصیلہ ہے اور فالفتوٰی  میں فاء فصیحیہ ہے اور معنی یہ ہیں کہ اگر وہ برف سے جُدا ہو تو بلاخلاف جائز ہے اور اگر متصل ہو تو اسی طرح عبداللہ اور ابو حفص کے نزدیک حکم ہے اور نصیر اور ابو بکر کہتے ہیں نہیں، اور اسی پر فتوٰی ہے، علاوہ ازیں منیہ کے عام نسخوں میں وعلیہ الفتوی واؤ کے ساتھ ہے فاء کے ساتھ نہیں، اس کا قول فان کان متصلا نفس متن میں فاء کے ساتھ نہیں جو حلیہ میں منقول ہے، تو وہم کی بنیاد ہی ختم ہوگئی۔ پھر میں نے غُنیہ میں دیکھا کہ اُنہوں نے اس کی حق تفسیر کی،اور ایک اور فائدہ بیان کیا جو ہم آئندہ بیان کریں گے۔ (ت(
اور صحیح یہ ہے کہ وہی بالائی حصہ ناپاک ہوگا جو دَہ در دَہ سے کم ہے یہاں تک کہ اگر اوپر کا پانی نکال دیا گیا اور آب وہاں تک رہ گیا جہاں سے دَہ در دہ ہے تو یہ پانی پاک ہے اس لئے کہ اگرچہ وہ آب نجس سے متصل تھا مگر آب کثیر اتصال نجس سے ناپاک نہیں ہوتا جب تک نجاست سے اُس کا رنگ یا بُو یا مزہ بدل نہ جائے،
ہندیہ میں ہے:ان کان اعلی الحوض اقل من عشر فی عشر واسفلہ عشر فی عشر اواکثر فوقعت نجاسۃ فی اعلی الحوض وحکم بنجاسۃ الا علی ثم انتقص الماء وانتھی الی موضع ھو عشر فی عشر فالاصح انہ یجوز الوضوء بہ والاغتسال فیہ ۱؎کذا فی المحیط۔
اگر حوض کا بالائی حصہ دَہ در دَہ سے کم ہو اور اس کا نچلا حصہ دہ در دہ ہو یا زیادہ ہو اور نجاست حوض کے اوپر والے حصے میں گر جائے، اور اوپر والے حصہ کے نجس ہونے کا حکم کردیا جائے، پھر پانی گھٹ جائے اور ایسی جگہ پہنچ جائے 

جو دہ در دہ ہو تو اصح یہ ہے کہ اس سے وضو اور غسل جائز ہے کذا فی المحیط۔ (ت(
 (۱؎ فتاوٰی  ہندیۃ الثانی الماء الراکد    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۹)
Flag Counter