Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
80 - 176
رواہ الامام احمد عن ابی العادیۃ والطبرانی فی الکبیر وابن سعد فی الطبقات والعسکری فی الامثال وابن مندۃ فی المعرفۃ والخطیب فی المؤتلف کلھم عن ام العادیۃ عمۃ العاص بن عمرو الطفاوی وعبداللّٰہ بن احمد الامام فی زوائد المسند وابو نعیم وابن مندۃ کلاھما فی المعرفۃ عن العاص المذکور مرسلا وابو نعیم فیھا عن حبیب بن الحارث رضی اللّٰہ تعالی عنہم۔
اس کو امام احمد نے ابو العادیۃ سے روایت کیا اور طبرانی نے کبیر میں اور ابنِ سعد نے طبقات میں اور عسکری نے امثال میں اور ابن مندہ نے معرفۃ میں اور خطیب نے مؤتلف میں،ان سب نے اُم عادیہ، عاص بن عمرو طفاوی کی پھوپھی سے روایت کی، اور عبداللہ بن احمد نے زوائد مسند میں،ا ور ابو نعیم اور ابن مندہ نے دونوں معرفہ میں عاص مذکور سے مرسلاً روایت کی، اور ابو نعیم نے معرفہ میں حبیب بن حارث سے روایت کی۔ (ت)
نیز بہت حدیثوں میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاک وکل امر یعتذر منہ ۱؎۔
ہر اس بات سے بچ جس میں عذر کرنا پڑے۔
 (۱ ؎جامع الصغیر مع فیض القدیر        ۳/۱۱۷)
رواہ ایضا فی المختارۃ والدیلمی کلاھما بسند حسن عن انس والطبرانی فی الاوسط عن جابر وابن منیع ومن طریقہ العسکری فی امثالہ والقضاعی فی مسندہ معاً والبغوی ومن طریقہ الطبرانی فی اوسطہ والمخلص فی السادس من فوائدہ وابو محمد الابرٰھیمی فی کتاب الصلاۃ وابن النجار فی تاریخہ کلھم عن ابن عمرو الحاکم فی صحیحہ والبیھقی فی الزھدو العسکری فی الامثال وابو نعیم فی المعرفۃ عن سعد بن ابی وقاص واحمد وابن ماجۃ و ابن عساکر عن ابی ایوب الانصاری کلھم رافعیہ الی النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم والبخاری فی تاریخہ والطبرانی فی الکبیر وابن مندۃ عن سعد بن عمارۃ من قولہ رضی اللّٰہ تعالٰی  عنہم اجمعین۔
اس کو بھی مختارہ اور دیلمی میں دونوں نے بسندِ حسن روایت کیا انس سے اور طبرانی نے اوسط میں جابر سے اور ابن منیع نے اور عسکری نے امثال میں اور قضاعی اپنی مسند میں ابن منیع کی سند سے ایک ساتھ اور بغوی نے اور اس کی سند سے طبرانی نے اپنی اوسط میں اور مخلص چھٹے فائدہ میں، اور ابو محمد ابراہیمی نے کتاب الصلوٰۃ میں اور ابن نجّار نے اپنی تاریخ میں، سب نے ابن عمر سے، اور حاکم نے اپنی صحیح میں اور بیہقی نے الزہد میں اور عسکری نے امثال میں اور ابو نعیم نے المعرفۃ میں سعد بن ابی وقاص سے اور احمد وابن ماجہ اور ابن عساکر نے ابو ایوب الانصاری سے، ان تمام حضرات نے اس کو حضور صلی اللہ تعالٰی  علیہ وسلم کی طرف رفع کیا ہے،اور بخاری نے اپنی تاریخ میں اور طبرانی نے کبیر میں اور ابن مندہ نے سعد بن عمارۃ سے،انہی کا قول نقل کیا،اللہ ان سب سے راضی ہو۔ (ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی  علیہ وآلہٖ وسلم:
بشروا ولا تنفروا ۱؎۔
رواہ الائمۃ احمد والبخاری ومسلم والنسائی عن انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔
بشارت دو اور وہ کام نہ کرو جس سے لوگوں کو نفرت پیدا ہو۔ اسے احمد، بخاری، مسلم اور نسائی نے انس رضی اللہ تعالٰی  عنہ سے روایت کیا۔
 (۱؎ جامع للبخاری    کتاب العلم    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۱۶)
پھر اُس میں(۱) بلاوجہ شرعی فتح باب غیبت ہے اور غیبت حرام
فما ادی الیہ فلا اقل ان یکون مکروھا
 (تو جو اس تک پہنچائے وہ کم از کم مکروہ ضرور ہوگا۔ ت) تو دلائل شرعیہ واحادیث صحیحہ سے ثابت ہوا کہ کافر کے جُوٹھے سے احتراز ضرور ہے اور اس(۲) باب میں یہاں نصاریٰ کا حکم بہ نسبت ہنود کے بھی سخت تر ہے کہ وجوہِ کثیرہ مذکورہ میں دونوں شریک اور نصاریٰ میں یہ امر زائد کہ یہاں ان کی سلطنت ہونے کے باعث مذہبی نفرت کی کمی میں تبدیل دین یا کم ازکم ضعف ایمان کا وہ اندیشہ بہ نسبت ہنود کہیں زیادہ ہے۔
فمن الجھل التمسک ھنا بما فی الصدر الاول اذکانوا اذلاء مقھورین تحت ایدینا فکان فی تقریبھم منا تقریبھم الی الاسلام والاٰن قدانعکس الامر ولا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ وقد کانت نساء ذوی الھیأت،یحضرن لیلا ونھارا الجماعات،ونھی عنہ الائمۃ الاثبات، مع قولہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم لاتمنعوا اماء اللّٰہ مساجدا ۲؎ للّٰہ وکم من حکم یختلف باختلاف الزمان، بل والمکان،کما تشھد بہ فروع جمۃ،فی کتب الائمۃ،وھذا ماعندی وبہ افتیت مرارا واللّٰہ ربی علیہ معتمدی، والیہ مستندی، واللّٰہ سبحٰنہ وتعالی اعلم۔
یہاں یہ امر جہالت ہوگا اس چیز سے استدلال کیا جائے جو صدر اول میں تھی کیونکہ اس زمانہ میں وہ کمزور تھے اور ہمارے ماتحت تھے اس لئے ان کو اپنے قریب کرنے سے ان کو اسلام کی طرف آنے کی دعوت دینا مقصود تھی اور اب تو معاملہ ہی الٹ ہوگیا ہے، ایک زمانہ تھا کہ باعزت لوگوں کی عورتیں دن اور رات دونوں اوقات میں جماعات میں حاضر ہوتی تھیں،مگر ائمہ کرام نے اب اُن کے آنے کی ممانعت کردی ہے، حالانکہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی  علیہ وسلم نے فرمایا ہے تم اللہ کی باندیوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو،اور بہت سے احکام ہیں جو زمانہ کے اختلاف سے مختلف ہوتے ہیں بلکہ امکنہ کے اختلاف سے بھی مختلف ہوتے ہیں جیسا کہ کتبِ ائمہ میں بہت سی فروع اس پر شاہد ہیں میرے نزدیک یہی ہے اسی پر میں نے کئی مرتبہ فتوی دیا ہے اللہ میرا رب ہے اسی پر اعتماد اور اسی کی طرف سہارا ہے واللہ سبحانہ وتعالٰی  اعلم۔ (ت)
 (۲؎ مسند امام احمدعن ابن عمر        بیروت        ۲/۱۶)
مسئلہ ۴۸: ازکانپور محلہ بوچڑخانہ مسجد رنگیاں مرسلہ مولوی عبدالرحمن جعشانی طالب علم مدرسہ فیض عام ۲۳ ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ ھ 



ماجوابکم ایھا العلماء رحمکم اللّٰہ تعالٰی ۔ حقّہ کا پانی پاک ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب :قطعاً پاک ہے پانی پاک، تمباکوپاک ،اس کا دُھواں پاک، پاک چیز سے پاک پانی کا رنگ مزہ بُو بدل جانا اُسے ناپاک نہیں کرسکتا یہاں تک کہ(۱) مذہب صحیح میں نہ صرف طاہر بلکہ مطہر وقابل وضو رہتا ہے بایں معنی کہ اگر اس سے وضو کرے وضو ہوجائیگا اگرچہ بوجہ بُو مکروہ ہے یہاں تک کہ جب تک اُس کی بُو باقی ہو مسجد میں جانا حرام جماعت میں شامل ہونا منع ہوگا پھر بھی اگر(۲) سفر میں ہو اور وضو کو پانی کم تھا کہ مثلاً ایک یا دونوں پاؤں دھونے سے رہ گئے اور حقّے میں پانی ہے جس سے وہ کمی پُوری ہوسکتی ہے تو اس صورت میں تیمم جائز نہ ہوگا نماز باطل ہوگی بلکہ اُسی پانی سے وضو کی تکمیل لازم ہوگی
 لانہ یجد ماء وانما یقول اللّٰہ تعالٰی
ولَمْ تَجِدُوْامَاءً ۱؎
 (کیونکہ وہ پانی کو پارہا ہے جبکہ اللہ تعالٰی  فرماتا ہے: اور تم پانی نہ پاؤ تو تیمم کرو۔ ت)
 (۱؎ القرآن        ۴/۴۳ )
درمختار میں ہے:یجوز بماء خالطہ طاھر جامد کفاکہۃ و ورق شجر وان غیر کل اوصافہ فی الاصح ان بقیت رقتہ واسمہ ۲؎ اھ ملخصا واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اُس پانی میں سے وضو جائز ہے جس میں کوئی خشک پاک چیز مل گئی ہو، جیسے میوہ اور درخت کے پتّے، خواہ اُس نے اُس کے تمام اوصاف کو بدل دیا ہو، اصح یہی ہے، بس شرط یہ ہے کہ اس کی رقّت اور اُس کا نام باقی رہے ملخصا واللہ تعالٰی  اعلم۔ (ت(
 (۲؎ الدرالمختار        باب المیاہ    مجتبائی دہلی        ۱/۳۵)
Flag Counter