Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
77 - 176
اقول: اس مصلحت سے اہم دفع تہمت ہے کہ معاذ اللہ لوگوں کو اس پر اتباع معتزلہ کا گمان ہو اس کے دفع کیلئے ایسا کرے اس(۱)کی نظیر مسح موزہ ہے کہ رافضی خارجی ناجائز جانتے ہیں اگر کسی کو اس پر گمان خروج ہو تو اس کے دفع کو مسح موزہ افضل ورنہ فی نفسہٖ پاؤں دھونا افضل۔
دُرمختار میں ہے:الغسل افضل الالتھمۃ فھو افضل ۲؎۔
موزے پر مسح سے پاؤں دھونا افضل ہے مگرتہمت سے بچنے کیلئے مسح افضل ہے۔ (ت(
 (۲؎ درمختار    باب المسح علی الخفین         مجتبائی دہلی        ۱/۴۶)
ردالمحتار میں ہے:لان الروافض والخوارج لایرونہ وانما یرون المسح علی الرجل فاذا مسح الخف انتفت التھمۃ بخلاف مااذا غسل فان الروافض قدیغسلون تقیۃ فیشتبہ الحال فی الغسل فیتھم افادح ۱؎۔
رافضی خارجی پاؤں پر مسح کرتے ہیں اگر موزے پر مسح کرے گا تو تہمت ختم ہوجائے گی بخلاف اس کے کہ جب وہ دھوئے گا کہ رافضی تقیہ سے دھو بھی لیتے ہیں غسل کی صورت میں صورت حال مشتبہ ہوجاتی ہے توتہمت کا خدشہ ہوگا افادح (ت(
 (۱؎ ردالمحتار    باب المسح علی الخفین    مصر    ۱/۱۹۳)
اقول: رافضی تقیہ سے سب کچھ کرلیتے ہیں یوں ہی وہابی مجالس میلاد مبارک میں جائیں قیام کریں گیارھویں شریف کی نیاز میں حاضر ہوں پلاؤ کھانے کو موجود اور دل میں شرک وحرام، لہٰذا ہم نے نفی تہمت خروج سے تصویر کی۔
قال ش ماذکرہ الشارح نقلہ القھستانی عن الکرمانی ثم قال لکن فی المضمرات وغیرہ ان الغسل افضل وھوالصحیح کمافی الزاھدی اھ وفی البحر عن التوشیح ھذا مذھبنا وقال الرستغفنی المسح افضل ۲؎ اھ
"ش" نے فرمایا جو شارح نے ذکر کیا ہے اس کو قہستانی نے کرمانی سے نقل کیا ہے پھر فرمایا لیکن مضمرات وغیرہ میں ہے کہ غسل افضل ہے اور یہی صحیح ہے جیسا کہ زاہدی میں ہے اھ اور بحر میں تو شیح سے منقول ہے ''یہ ہمارا مذہب ہے'' اور الرستغفنی نے کہا کہ مسح افضل ہے اھ (ت(
 (۲؎ ردالمحتار    باب المسح علی الخفین    مصر    ۱/۱۹۳)
Flag Counter