Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
76 - 176
اقول: وبہ ظھرمافی موأمرۃالمساحۃالمذکورۃاذحاصلہ ان۳۰/۱۳ض۲=م ای ۱۵/۱۳ض۲=۲م وقد علمت ان ض۴/۳ض۲=۲م فھمامتساویان قسمناھما علی ض:. ۱۵/۱۳ض=۴/۳ض۲:. ۲۲۵/۱۶۹ض۲= ۴/۳ض۲:. ۴/۳ض۲=۶۷۶ ض۲=۶۷۵ء ض۲وھو محال ای ان ۲۳۱ و۲۳۲=۰ نعم لاباس بہ فی التخمین ویختص بھذا القسم من المثلث وماذکرنا عام
میں کہتا ہوں اور اسی سے وہ اعتراض ظاہر ہوا جو مذکورہ پیمائش کا مؤامرہ ہے کیونکہ اس کا حاصل یہ ہے کہ۰ ۳/۱۳ض۲= م یعنی ۱۵/۱۳ض۲=۲م اور تو نے جان لیاکہ ض ۴ /۳ض۲=۲م وہ دونوں قسمیں مساوی ہیں جن کو ہم نے ض پر تقسیم کیا:.۱۵/۱۳ض=۴/۳ ض ۲:. ۲۲۵/۱۶۹ض۲=۴/۳ض۲:. ۶۷۶ض۲=۶۷۵ض۲اور وہ محال ہے یعنی ۲۳۱ و ۲۳۲=۰ ہاں تخمینہ میں کوئی مضائقہ نہیں اور یہ مثلث کی اس قسم کے ساتھ خاص ہے جو ہم نے ذکر کیا وہ عام ہے،
ثم اقول : ھذاالذی ذکر فی مساحۃ المثلث انما یبتنی علی القول المعتمد من اعتبار المساحۃ وحدھا اما علی(۱) القول الاٰخر من اعتبار الامتدادین فلابد ان یکون کل ضلع اکثر من احد وعشرین ذراعاونصف ذراع بکسر قریب جزء من احد وعشرین جزء من ذراع وذلک لانہ یجب وقوع مربع عشر فی المثلث کما علمتہ فی الدائرۃ فلیکن ع ح المربع رسمناعلی ع لامنہ مثلا مثلث ع ب ہ متساوی الاضلاع واخرجنا ب ع ح ر حتی التقیا علی اواخرجناب ہ رح
2_14.jpg
حتی التقیا علی ح فمثلث ا ب ح ھوالمطلوب اماالالتقاء فلانااذاوصلنا ب ح کانت زاویۃ ب ح ر جزء قائمۃ ہ ح ر و زاویۃ ا ب ح جزء ا ب ہ ثلثی القائمۃ فقد خرجا من اقل من قائمتین واماان ا ب ح المثلث المطلوب فلان زاویتی ھ ء اء ھ ح متساویتان بالمامونی فباسقاط قائمتی ہ ء رء ہ ح تبقی ر ء ا ح ھ ح متساویتین وفی ھذین المثلثین زاویتاروح قائمتان وضلعار ء ہ ح متساویان فزاویتا اوح متساویتان (۲۶ من اولی الاصول) وحیث ان ب ثلثاقائمۃ والمجموع کقائمتین (۳۲ منھا) فالکل متساویۃ وبوجہ اخصر حیث ان ب ہ ء ثلثاقائمۃ و ء ہ ح تمامھا الی قائمتین (۱۳منھا) فباسقاط ہ القائمۃ منھا تبقی ح ہ ح ثلث قائمۃ فباسقاطھا مع ح القائمۃ من مثلث ہ ح ح تبقی ح ثلثی قائمۃ وکذلک افا لزوایا الثلاث متساویۃ فکذا الاضلاع الثلاث والا لاختلفت الزاویا (۱۸منھا)فمثلث ا ب ح المار بزوایاالمربع الاربع متساوی الاضلاع وذلک مااردناہ واذفی مثلث ہ ح ح القائم الزاویۃ ہ ح:ع::ہ ح:جیب السدس و ہ ح ۱۰بالفرض:.۰۰۰۰۰۰۰ء ۱-۹۳۷۵۳۰۶ء۱ =۰۶۲۴۶۹۴ء ا وھو لوغارثم ۵۴۷ء۱۱ھذامقدار ھ ح وقد کان ب ہ ۱۰:. ب ح ۵۴۷ء۲۱ وذلک مااردناہ واللّٰہ تعالی اعلم وصلی اللہ علی سیدنا ومولٰنا محمد واٰلہ وصحبہ و بارک وسلم ابداامین والحمدللّٰہ رب العلمین۔
پھر میں کہتا ہوں مثلث کی پیمائش میں جو انہوں نے ذکر کیاہے قول معتمد پر مبنی ہے کہ صرف پیمائش کا اعتبار کیاجائے، اور دوسرا قول جس میں دو امتدادوں کا اعتبار ہے تو اس میں یہ ضروری ہے کہ ہر ضلع میں ساڑھے اکیس ذراع پر کچھ کسر زائد ہو جو ذراع کے اکیسویں جزء کے لگ بھگ ہوگی،اس کی وجہ یہ ہے کہ دس کے مربع کامثلث میں ہوناضروری ہے جیسا کہ آپ نے دائرہ میں جانا، تو اب ء ح کامربع ہم نے ء ہ پر کھینچا مثلاً مثلث ء ب ہ جس کے اضلاع برابر ہوں اور ہم نے ب ء ح ر نکالا یہاں تک کہ وہ دونوں ا پر ملے،
2_15.jpg
ہم نے ب ہ ر ح نکالایہاں تک کہ وہ دونوں ح پر ملے تومثلث ا ب ح کا بنا وہی مطلوب ہے،جہاں تک ملنے کا تعلق ہے تو جب ہم نے ب ح کو ملایا تو ب ح ر کا زاویہ ہ ح ر کے زاویہ قائمہ کا جزء ہوا، اور ا ب ح کا زاویہ ا ب ہ کا جزء ہوا، جو قائمہ کا دو ثلث ہے، کیونکہ یہ دونوں قائموں سے اقل ہے، اور ا ب ح کا مثلث مطلوب ہے کیونکہ ھ ء ا ء ھ ح کے دونوں زاوئے مامونی سے متساوی ہیں تو ہ ء رء ہ ح کے دونوں قائموں کو ساقط کرنے کے بعد ر ء ا ح ھ ح دونوں متساوی ہیں اور ان دونوں مثلثوں میں روح کے دونوں زاویے قائمے ہیں اور ر ع ہ ح کے دونوں ضلعے برابر ہیں تو ا و ح کے دونوں زاویے برابر ہوں گے (۲۶ پہلی اصل سے) اور چونکہ ب ایک قائمہ کادو ثلث ہے اور مجموعہ دو قائموں کی مانند ہے (۳۲ اسی اصل سے) تو سب برابر ہوئے اور بطور اختصار چونکہ ب ہ ء ایک قائمہ کادو ثلث ہے اور ء ہ ح جو دو قائموں کے برابر ہے (۱۳ اسی اصل سے) تو ہ کو قائمہ کیلئے ساقط کرنے سے باقی رہتا ہے ح ہ ح ثلث قائمہ کاتو اس کو ح کے قائمہ کے ساتھ ساقط کرنے سے ہ ح ح کے مثلث سے ح باقی رہ جائیگا جو ایک قائمہ کادو ثلث ہے اور اسی طرح ا کا حال ہے تو تینوں زاویے برابر ہیں، تو اسی طرح تینوں اضلاع برابر ہوں گے ورنہ زاویے مختلف ہوجائیں گے (۱۸ پہلی اصل سے) تو ا ب ح کا گزشتہ مثلث مربعوں کے چاروں زاویوں کے ساتھ برابر ضلعوں والا ہوگااور یہی ہم نے ارادہ کیا تھا اور چونکہ ہ ح ح زاویہ قائمہ والے مثلث میں ہ ح:ع::ہ ح:جیب چھٹا ہے وہ ح۱۰ بالفرض:. ۰۰۰۰۰۰۰ء۱-۹۳۷۵۳۰۶ء۱ =۰۶۲۴۶۹۴ء۱ اور یہ لوگارثم ۵۴۷ء۱۱ کا ہے یہ مقدار ھ ح اور ب ہ ۱۰:. ب ھ ۵۴۷ء۲۱ اور یہی ہماری مراد تھی واللہ  تعالٰی اعلم وصلی اللہ تعالی علی سیدنا ومولٰینا محمد وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم ابداً اٰمین والحمدللہ رب العالمین۔ (ت(
مسئلہ ۴۵: ۲ جمادی الآخرہ ۱۳۳۴ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وضو نہر سے افضل ہے یا حوض سے؟ بینوا توجروا۔
الجواب: وضو نہر سے افضل ہے مگر کسی مصلحتِ خاصہ کے باعث۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کسی معتزلی کے سامنے اُسے غیظ پہنچانے کو حوض سے وضو افضل ہے کہ معتزلہ اسے ناجائز کہتے ہیں۔
فتح القدیر میں ہے:فی فوائد الرستغفنی التوضی بماء الحوض افضل من النھر لان المعتزلۃ عہ۱ لایجیزونہ من الحیاض فیرغمھم بالوضوء منھا اھ وھذا انما یفید الافضلیۃ لھذا العارض ففی مکان لایتحقق النھر افضل ۱؎ اھ
فوائد الرستغفنی میں ہے نہر کی بہ نسبت حوض سے وضو کرناافضل ہے کیونکہ معتزلہ حوضوں سے وضو کو جائز قرار نہیں دیتے ہیں اس طرح ان کی تذلیل ہوگی اھ اس سے افضل ہونے کی یہ عارضی وجہ معلوم ہوتی ہے جہاں یہ وجہ نہ ہو وہاں نہر سے وضو افضل ہوگا۔ (ت(
 (۱؎ فتح القدیر    باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوزبہ    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۲)
عہ۱: فی المعراج بناء علی جزء لایتجزء فانہ عند اھل السنۃ موجود فتصل اجزاء النجاسۃ الی جزء لایمکن تجزئتہ فیکون باقی الحوض طاھراوعند المعتزلۃ معدوم فیکون کل الماء مجاورا للنجاسۃ فیکون الحوض نجسا عندھم وفی ھذا التقریر نظر اھ قال ش فی توضیحہ عند الفلاسفۃ کل جسم قابل لانقسامات غیر متناھیۃ فلا یوجد جزء من الطاھر الا ویقابلہ جزء من النجاسۃ فتصل اجزاء النجاسۃ بجمیع اجزاء الماء اھ



معراج میں ہے یہ جزء لایتجزی پر مبنی ہے، کیونکہ یہ اہل السنۃ کے نزدیک موجود ہے تو نجاست کے اجزاء ایسے جزء تک پہنچیں گے جو منقسم نہیں ہوتا ہے، تو باقی حوض طاہر رہے گا اور معتزلہ کے نزدیک جزء نہیں ہے اس لئے کل پانی نجاست کا پڑوسی ہوگا، تو ان کے نزدیک حوض نجس ہوگا،اس تقریر میں نظر ہے اھ "ش" نے اس کی توضیح میں فرمایا فلاسفہ کے نزدیک ہر جسم لامتناہی تقسیم کو قبول کرتا ہے تو پاک پانی کے ہر جزء کے مقابل ایک ناپاک جزء ہوگا تو اجزاء نجاست تمام اجزاء پانی کے ساتھ متصل ہوجائیں گے اھ
 اقول اولا:  این(۱) القابلیۃ من الفعلیۃ والجسم عندھم متصل بالفعل فلایلاقی الامالاقی وثانیالوقسم(۲) لم یلزم ایضااتصال اجزاء النجاسۃ بجمیع اجزاء الماء لان الانصاف علی نسبۃ الاضعاف فاذا کانت النجاسۃ قدر اصبع والماء الف ذراع فنصفھا نصف اصبع وشطرہ خمسمائۃ ذراع وھکذا الی مالایتناھی وتساوی التقسیم لایستلزم تساوی الاقسام فیما بینہما الاتری ان ایام الابد و سنیہ کلا غیر متناہ والیوم لایساوی السنۃ ابدا وکفی بھذین لتوجیہ النظر ووجہہ ش بما توضیحہ مع تلخیصہ ان لوبنیت المسألۃ علیہ لماتنجس عندنا من الماء الا مایساوی النجاسۃ حجما فقطرۃ بقطرۃ ونصفھا بنصفھا۔
میں کہتا ہوں قابلیۃ اور فعلیۃ میں بہت فرق ہے، اور جسم ان کے نزدیک متصل بالفعل ہے تو وہ صرف اسی سے ملے گا جس سے ملا ہوا ہے،اور ثانیاً اگر تقسیم بھی کیا جائے تو لازم نہیں آتاکہ نجاست کے تمام اجزاء پانی کے تمام اجزاء سے متصل ہوں کیونکہ انصاف اَضعاف کی نسبت کے مطابق ہی ہوگا، مثلاً نجاست ایک انگلی کی مقدار ہے اور پانی ہزار ذراع ہے، تو اس کا نصف آدھی انگلی ہوا اور اس کا آدھا پانسو ذراع ہوا اور اسی طرح الیٰ مالا نہایۃ تک ہوگا، اور تقسیم کی تساوی سے اقسام کی تساوی لازم نہیں آتی ہے، مثلا ابد کے ایام اور سال غیر متناہی ہیں اور ایک دن ہرگز بھی ایک سال کے برابر نہیں ہوسکتا ہے اوریہ دونوں نظر کی توجیہ کو کافی ہیں اور "ش" نے اس کی جو توجیہ کی ہے اس کی تلخیص مع توضیح یہ ہے کہ اگر مسئلہ اسی پر مبنی ہو تو ہمارے نزدیک صرف اتنا ہی پانی نجس ہوگا جتنا کہ نجاست کے مساوی ہے، تو ایک قطرہ ایک قطرہ ہی کے مقابل ہوگا اور نصف اس کے نصف کے مقابل ہوگا۔
اقول:  وایضا یلزم المعتزلۃ لوقالوا بہ تنجیس البحر العظیم بقطیرۃ قال علی ان المشہور ان الخلاف فی الجزء بین المسلمین والفلاسفۃ بنواعلیہ قدم للعالم وعدم حشر الاجساد والمعتزلۃ لم یخالفوا فی شیئ من ذلک والا لکفروا اھ
میں کہتا ہوں اگر معتزلہ کا یہی قول ہوتاتو ان پر یہ لازم آتا کہ ایک قطرہ سے پورا سمندر ناپاک ہوجائے، انہوں نے فرمایا علاوہ ازیں مشہور یہ ہے کہ اختلاف جزء میں فلسفیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہے،اور فلاسفہ نے اس پر عالم کے قدم اور حشر ونشر کی نفی کی بنیاد رکھی ہے اور معتزلہ نے ان چیزوں میں کسی کی مخالفت نہیں کی ہے ورنہ وہ کافر قرار پاتے اھ
اقول:  لیس(۱) نفی الجزء کفرا ولا لازم المذھب مذھبا لاسیما تلک اللوازم البعیدۃ وکم من لزوم علی مذاھب المعتزلۃ القائلین بھا قطعا ثم لم یکفروافلیکن ھذا منھا فکیف یرد نقل الثقۃ علی انہ یکفی(۲) فیہ ان یکون قول بعضھم کما قال تعالی قالت الیھود عزیرن ابن اللّٰہ قالوا قالھا طائفۃ قلیلۃ منھم کانت وبانت قال فالاولی ماقیل من بناء المسئلۃ علی ان الماء یتنجس عندھم بالمجاورۃ وعندنا لابل بالسریان وذلک یعلم بظھور اثرھا فیہ فمالم یظھر لایحکم بالنجاسۃ ھذا ما ظھر لی فاغتنمہ اھ
میں کہتا ہوں جزء کی نفی کفر نہیں ہے اور نہ ہی لازم مذہب،مذہب ہوتا ہے، خاص طور پر یہ لوازم بعیدہ،اور جو معتزلی مذہب رکھتے ہیں ان پر بہت سے لوازم ہیں، مگر ان کی تکفیر نہیں کی جاتی ہے، سو یہ لازم بھی منجملہ ایسے لوازم کے ہو جائے، تو ثقہ کی نقل کو کیسے رد کیا جائے، علاوہ اس کے اس میں اتنا کافی ہے کہ یہ بعض کا قول ہو، جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے ''یہود نے کہا کہ عزیراللہ کے بیٹے ہیں'' علماء فرماتے ہیں یہ صرف ایک گروہ کا قول تھا اور یہ فرقہ ختم ہوگیا، فرمایا بہتر یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ یہ مسئلہ اس امر پر مبنی ہے کہ پانی ان کے نزدیک مجاورۃ کی وجہ سے ناپاک ہوجاتا ہے، اور ہمارے نزدیک سرایت کی وجہ سے، اور اس کا پتا اس سے لگتا ہے کہ اس کا اثر پانی میں ظاہر ہوتا ہے، تو جب تک اثر ظاہر نہ ہو نجاست کا حکم نہ لگایا جائے گا، یہ مجھ پر ظاہر ہوا ہے تم اس کو غنیمت جانو۔
 اقول: نص فی(۲) البدائع ان التنجس بالتجاور وبینا(۳) فی النمیقۃ الانقی ان الماء القلیل یتنجس معالا بالسریان علی انھم(۴) اذلم یفرقوا بین القلیل والکثیر یلزمھم بالمجاورۃ ایضا تنجیس البحر الکبیر برشح یسیر(۲) فالحق عندی ان ذلک مبنی علی انھم لایلحقون الکثیر بالجاری واللّٰہ تعالٰی اعلم اھ منہ حفظہ ربہ  تعالٰی۔ (م(
میں کہتا ہوں بدائع میں اس کی تصریح کی ہے کہ نجس ہونے کی وجہ مجاورۃ ہے اور ہم نے النمیقۃ الانقی میں بیان کیا ہے کہ تھوڑا سا پانی یک دم ناپاک ہوجاتا ہے نہ کہ سرایت سے، علاوہ ازیں انہوں نے قلیل وکثیر میں فرق نہیں کیا ہے، ان پر یہ لازم ہے کہ وہ کہیں ایک بڑے سمندر کا پانی بھی مجاورۃ سے ناپاک ہوجاتا ہے خواہ تھوڑے سے چھینٹے کیوں نہ ہوں، میرے نزدیک حق یہ ہے کہ وہ کثیر پانی کو جاری کے ساتھ ملحق نہیں کرتے ہیں، واللہ  تعالٰی اعلم۔ (ت(
Flag Counter