(۲) کون (۱) القطر من المحیط ۲۲/۷ لیس مبرھنا علیہ فی الحساب بل لم تعلم الی الان النسبۃ بینھما تحقیقا انما عملوا بالاستقراء ات والتقریبات فکذا مایبتنی علیہ من ان ق = ۱۱/۱۴م فقولہ کل ذلک مبرھن فی الھندسۃ والحساب تسامح۔
(۲)قطر کا محیط سے ہونا ۲۲/۷ حساب میں مبرہن نہیں ہے بلکہ اب تک ان دونوں کے درمیان تحقیقی نسبت بھی معلوم نہیں ہوسکی ہے،جو کچھ کیاہے وہ محض استقراء اور تقریب ہے، تو جو اس پر مبنی ہوگا اس کا بھی یہی حال ہے، یعنی یہ کہ ق= ۱۱/۱۴م تو اس کا یہ قول کہ یہ تمام حساب اور ہندسہ میں مبرہن ہے اس میں تسامح ہے۔
(۳)فی اسقاط(۲) الکسر الزائد ھھنا وان کان اقل من النصف ماقد علمت۔
(۳)کسر زائد کو ساقط کرنے میں اگرچہ نصف سے کم ہو، جو کلام ہے وہ تم جان چکے ہو۔
(۴)القول(۳) الرابع مبنی قطعا علی مافی الظہیریۃ ایضا عن محمد المیدانی انہ ان کان بحال لو جمع ماؤہ یصیر عشرا فی عشر لبنائہ الامر علی المساحۃ فقط من دون اعتبار العرض فلیس ھذا محل یشبہ۔
(۴)چوتھا قول قطعاً اس پر مبنی ہے جو ظہیریہ میں بھی محمد المیدانی سے منقول ہے کہ اگر وہ ایسا ہو کہ اس کا پانی اگر جمع کیاجائے تو وہ دہ در دہ ہوگاکیونکہ اس نے اس معاملے کو صرف مساحت پر مبنی کیا ہے اور عرض کااعتبار نہیں کیا تو اس میں شبہ کی گنجائش نہیں۔
(۵)قال فی الدر وفی (۴) المثلث من کل جانب خمسۃ عشرو ربعا وخمسا ۱؎ اھ وفی بعض النسخ اوخمسا واعترضہ ط بان الحساب یقینی فلا معنی للتردید واختار تبعا لنوح افندی الربع وان المساحۃ مائۃ ذراع وثلثۃ ارباع ذراع وشیئ قلیل لایبلغ ربع ذراع۔
(۵) در میں فرمایا اور مثلث میں ہر طرف سے ۱۵،چوتھائی اورپانچواں ہے اھ اور بعض نسخوں میں یا پانچواں ہے، اور اس پر "ط" نے اعتراض کیاکہ یہ حساب یقینی ہے تواس میں تردید کا کوئی مفہوم نہیں اور انہوں نے نوح آفندی کی متابعت میں چوتھائی کو مختار کہااور یہ کہ مساحۃ ایک سو ۱۰۰ ذراع اورایک ذراع کے تین رُبع ہیں اور کچھ مزید جو چوتھائی ذراع کو نہیں پہنچتا۔ (ت(
(۱؎ درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱/۳۶)
اقول(۱) بل ولا سدس ۳۶/۱ مسدس ذراع کما ستعلم وجعل ش نسخۃ اواصوب اقول اذ(۲) النسخۃ الواو حظ من صواب ولیس کذلک وبناھا علی الاختلاف فی التعبیر فان نوحا عبر بالربع والسراج والشرنبلالی بالخمس واختار تبعالھما الخمس وان المساحۃ مائۃ ذراع وشیئ قلیل لایبلغ عشر ذراع،
میں کہتا ہوں بلکہ ذراع کے سدس کے چھٹے کو بھی نہیں پہنچتاجیساکہ آپ عنقریب جان لیں گے اور ''ش'' نے او کے نسخہ کو درست قرار دیا، میں کہتا ہوں اس صورت میں واو کا نسخہ بھی کچھ صحیح ہوسکتا ہے،حالانکہ ایسا نہیں ہے، اور انہوں نے اس کا مبنٰی تعبیر کے اختلاف کو قرار دیا ہے کیونکہ نوح نے چوتھائی سے تعبیر کیا اور سراج اور شرنبلالی نے پانچویں سے تعبیر کیا،اور خمس کو ان دونوں کی متابعت میں مختار قرار دیااور یہ کہ مساحۃ سو ذراع اور قدرے ہے جو ایک ذراع کے دسویں تک نہیں پہنچتی ہے۔
اقول بل(۳) یبلغہ بل یغلبہ کما ستری قال وعلی التعبیر بالربع یبلغ نحو ربع ذراع اقول بل اکثر (۴) من ثلثۃ ارباعہ وذلک ان ط عن افندی وش عن السراج نقلا مؤامرۃ مساحتہ ان تضرب احد جوانبہ فی نفسہ فماصح اخذت ثلثہ(۵) وعشرہ فھو مساحتہ ۱؎ اھ
میں کہتا ہوں،ایسا نہیں ہے بلکہ یہ مقدار اس سے زائد ہوجاتی ہے جیسا کہ آپ عنقریب دیکھ لیں گے،فرمایاجب اس کو چوتھائی سے تعبیر کیا جائے تو یہ تقریباً چوتھائی ذراع ہوگا۔ میں کہتا ہوں اس کے تین چوتھائی سے بھی زائد ہوگا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ''ط'' نے آفندی سے اور "ش" نے سراج سے اس کی پیمائش کا حساب یہ نقل کیا کہ اس کے کسی کنارے کو خود اُسی میں ضرب دی جائے تو جو جواب ہو اس کا تہائی اور دسواں اس کی پیمائش ہے اھ۔
(۱؎ ردالمحتار باب المیاہ ۱/۱۳۲)
اقول: وھذا وان کان فیہ ماستعرف فالعمل بہ علی وجھین الاول ان تأخذ ثلث المربع وعشرہ مع الکسر وھو الذی(۶) عملا بہ مع قولھمافماصح الخ ولذا قال السراج فی مربع خمسۃ عشر والخمس ان ثلثہ علی التقریب ۷۷ ولو اخذ الصحیح فقط لکان ثلثہ تحقیقا،
میں کہتا ہوں اس میں کچھ بحث ہے جو آپ جان لیں گے پھر بھی اس کا عمل دو طریقوں پر ہے، پہلا تو یہ ہے کہ مربع کا تہائی اور دسواں مع کسر کے لیا جائے، اور اسی پر ان دونوں نے عمل کیا ہے، ساتھ ہی ان کا یہ قول ہے فماصح الخ اور اس لئے سراج نے پندرہ اور پانچویں کے مربع میں فرمایا کہ اس کا تہائی تقریبی ۷۷ہے، اور اگر صرف صحیح لیا جائے تو اس کا ثلث تحقیقی ہوگا،
وقال نوح فی مربع خمسۃ عشر والربع ان ثلثہ ۷۷ ونصف ذراع وسدس ثمنہ وعشرہ ۲۳ وربع ونصف ثمن عشر وماذلک الاباعتبار الکسر والثانی العمل علی ماصح فقط فعلی الاول مربع ۲ء۱۵=۰۴ء۲۳۱ ثلثہ ۰۱۳ء۷۷ وعشرہ ۱۰۴ء۲۳ مجموعھما ۱۱۷ء۱۰۰وھواکثرمن العشرومربع ۲۵ء۱۵=۵۶۲۵ء۲۳۲ ثلثہ ۵۲۰۸۳ء۷۷ وعشرہ ۲۵۶۲۵ء۲۳ مجموعھما ۷۷۷۰۸ء۱۰۰وھو اکثر من ۷۵ء وعلی الثانی ۳/۲۳۱=۷۷وعشرہ۱ء۲۳مجموعھما۱ء۱۰۰فقد بلغ العشرو ۳/۲۳۲ = ۳ء۷۷ وعشرہ ۲ء۲۳ مجموعھما۵ء۱۰۰وھو نصف بل اکثر لان ۳ دائر،
اور نوح نے پندرہ اورچوتھائی کے مربع کی بابت فرمایا کہ اس کا تہائی ۷۷، اور آدھا ذراع اور ثُمنِ ذراع کا سُدس ہے اور اس کا عُشر ۲۳ اور رُبع اور عُشر کے ثُمن کا نصف ہے اور یہ کسر ہی کے اعتبار سے ہوسکتا ہے،اور دوسرا عمل صرف صحیح کے مطابق ہے۔تو پہلی صورت میں مربع ۲ء۱۵=۰۴ء۲۳۱اس کاثلث ۰۱۳ء۷۷ اس کا دسواں ۱۰۴ء۲۳ ہے ان دونوں کا مجموعہ ۱۱۷ء ۱۰۰ہے اور یہ دسویں سے زائد ہے اور مربع ۲۵ء۱۵=۵۶۲۵ء۲۳۲،اس کا تہائی ۵۲۰۸۳ء۷۷،اور اس کا دسواں ۲۵۶۲۵ء۲۳،ان دونوں کا مجموعہ ۷۷۷۰۸ء۱۰۰ہے اوریہ ۷۵ء سے زائد ہے،اور دوسری تقریرپر ۳/۲۳۱=۷۷ہے اور اس کا دسواں ۱ء۲۳، ان دونوں کامجموعہ ۱ء۱۰۰ تو دسواں ہوگیا اور ۳/۲۳۲=۳ء۷۷ ہے اور اسکا دسواں ۲ء۲۳ ہے ان دونوں کا مجموعہ ۵ء۱۰۰ ہے اور وہ آدھا ہے بلکہ زائدہے کیونکہ ۳ دائر ہے۔
ثم اقول: التحقیق ان الکسر اقل من الخمس یعبربہ لقلۃ التفاوت جدا ولیکن مثلثامتساوی الاضلاع اذفیہ الکلام کما
2_12.jpg
سمعت من قول الدرمن کل جانب کذا فکل زاویۃ منہ سدس الدور ومساحۃ کل مثلث نصف مسطح العمود والقاعدۃ وھی ھھنا مثل سائر الاضلاع اخرجنا علی ب ج عمود۱ء ففی مثلث ا ع ح القائم الزاویۃ ا ح:ع::ا ع:جیب ۶۰حہ ولنسم ا ح الضلع ض و ا ع عمود عم وذلک الجیب منحطا لکونہ جیب السدس جس فبحکم التناسب ض جس= عم وحیث ان ۲/ض عم=۱۰۰:.ض۲ جس=۲۰۰ بل ض۲=جس/۲۰۰ :. ض = جس /۲۰۰ ولو ۲۰۰=۳۰۱۰۳۰۰ء۲ولوجس۹۳۷۵۳۰۶ء۱حاصل الطرح ۳۶۳۴۹۹۴ء۲ نصفہ ۱۸۱۷۴۹۷ء۱ ھذا لوض فھو ۱۹۶۷۱۳۸ء۱۵کسرااقل من ۲ء ثم لوض_ لوجس=۱۱۹۲۸۰۳ء۱ھذا لوعم فھو۱۶۰۷۳۹۴ء۱۳ثم لوض+لوعم = ۳۰۱۰۳۰۰ء۲طرحنا منہ لو۲ بقی۰۰۰۰۰۰۰ء۲ وھو لو ۱۰۰ تماما من دون زیادۃ ولا نقص وبوجہ اٰخر فی استعلام ض حیث ان مربع نصف الشیئ ربع مربع الشیئ فبالعروسی عم۲+۴/ض۲=ض۲: . عم۲=۴/۳ض۲:. عم=۴/۳ض۲ وکان عم ض=۲۰۰:.ض ۴/۳ض۲ =۲۰۰بل۴/۳ض=ض/۲۰۰: . ۴/۳ض۲=ض۲/۴۰۰۰۰ : .۳ض۴= ۱۶۰۰۰۰بل ض۴=۳/۱۶۰۰۰۰: .لوالمقسوم ۲۰۴۱۲۰۰ء۵- لوالمقسوم علیہ ۴۷۷۱۲۱۳ء۰=۷۲۶۹۹۸۷ء۴ ربعہ ۱۸۱۷۴۹۷ء۱ مثل الحساب الاول سواء۔
پھر میں کہتا ہوں کہ تحقیق یہ ہے کہ کسر خمس سے کم ہے لیکن خمس سے تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں تفاوت بہت ہی کم ہے، یہ ایک مثلث ہے اس مثلث کے تمام اضلاع برابر ہیں، کیونکہ کلام اسی میں ہے، درکا کلام اس بابت
2_13.jpg
آپ سُن ہی چکے ہیں کہ ہر طرف سے ایسا ہی ہو تو اس کا ہر زاویہ دور کا چھٹا ہے اور ہر مثلث کی پیمائش عمود کی مسطح کا نصف ہے اور قاعدہ یہاں تمام اضلاع کی مثل ہے ہم نے ب ج پر ایک عمود نکالا جس کا نام ا ع ہے تو ا ع ح جو زاویہ قائمہ والا ہے ا ح:ع::اع:جیب ۶۰حہ، ا ح ضلع کا نام ہم نے ض رکھا اور ا ع عمود کا عم رکھا اور وہ جیب گر رہا ہے، کیونکہ جیب چھٹا جس ہے تو تناسب کے قاعدہ سے ض جس=عم ہے اورچونکہ ۲/ض عم=۱۰۰:. ض جس۲=۲۰۰ ہے بلکہ ض۲= جس ۲۰۰:. ض=جس/۲۰۰ ولو ۲۰۰=۳۰۱۰۳۰۰ء۲ ولوجس ۹۳۷۵۳۰۶ء۱ طرح کا حاصل ۳۶۳۴۹۹۴ء۲ ہو جس کا آدھا ۱۸۱۷۴۹۷ء۱ یہ لوض ہے تو وہ ۱۹۶۷۱۳۸ء۱۵ بطور کسر ۲ء سے کم ہے، پھر لوض_ لوجس =۱۱۹۲۸۰۳ء۱'یہ لوعم ہے تو وہ ۱۶۰۷۳۹۴ء۱۳ ہے پھر لوض + لوعم =۳۰۱۰۳۰۰ء۲ہے تو ہم نے اس لو۲ کو کم کیا تو ۰۰۰۰۰۰۰ء۲ بچا اور یہ پورا لو۱۰۰ ہے، اس میں کوئی کمی بیشی نہیں، اور دوسرے طریقے پر ض کے استعلام میں، کہ کسی چیز کا آدھا مربع اس چیز کے مربع کا چوتھائی ہوتا ہے تو شکل عروسی سے عم۲+۴/ض۲ =ض۲:. عم۲=۴/۳ض۲ :.عم=۴/۳ض۲ اور عم ض=۲۰۰ :.ض ۴/۳ض۲=۲۰۰ بلکہ ۴/۳ض۲=ض/۲۰۰ :.۴/۳ض۲ =ض۲/۴۰۰۰۰ :۔۳ض۴= ۱۶۰۰۰۰ بلکہ ض۴=۳/۱۶۰۰۰۰:۔ لومقسوم ۲۰۴۱۲۰۰ء۵- لومقسوم علیہ ۴۷۷۱۲۱۳ء۰= ۷۲۶۹۹۸۷ء۴ اس کا ربع ۱۸۱۷۴۹۷ء۱ اور یہ بالکل پہلے حساب کے مساوی ہے۔ (ت(