| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
اقول: وقد اشار الی الجواب عما یتوھم ان فیھا قولین مصححین بل الثانی مذیل بطراز الفتوی فکیف یمنع المصیر الیہ بل انما ینبغی التعویل علیہ وذلک ان المفتی بہ المعتمد ھو التقدیر بمائۃ والاقوال جمیعا انما ترومہ ومبنی ذلک علی الحساب دون التفقھات الغامضۃ التی لاقول لنافیھا لاسیما علی خلاف الفتوی وامر الحساب لایلتبس فاذا علمنا قطعا ان الصواب ھذا وجب ترک ماسواہ غیران قدوۃ الریاضین العلامۃ عبدالعلی البرجندی رحمہ اللّٰہ تعالٰی حاول فی شرح النقایۃ توجیہ قولی ۴۸ و ۴۴ عازیا لھذا الی الکبری والذی رأیتہ فی شرح القھستانی ان فی الکبری جعل الاول ھو الاحوط واللّٰہ تعالی اعلم وکانہ لم یقع لہ قول ۴۶ فقال تحقیق الکلام ھھنا متوقف علی ثلث مقدمات،
میں کہتا ہوں یہ اشارہ ہے وہم کے جواب کی طرف،وہم یہ ہے کہ اس میں دو قول ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی تصحیح کی گئی ہے بلکہ دوسرے قول کی بابت کہا گیا ہے کہ فتوٰی اسی پر ہے، تو اس کی طرف رجوع کرنے کو کیونکر منع کیا جاسکتا ہے؟ بلکہ اس پر تواعتماد کرنا چاہئے، کیونکہ معتمد اور مفتی بہ سو کا اندازہ ہے اور تمام اقوال کا مقصود بھی یہی ہے،یہ چیز تو حساب پر مبنی ہے، اس میں لمبی چوڑی فقیہانہ ابحاث کا کوئی موقعہ نہیں،خاص طور پر فتوٰی کے خلاف کہنے کی گنجائش نہیں،اور حساب کا معاملہ تو بالکل واضح ہوتا ہے، اب جبکہ ہمیں معلوم ہوگیا کہ صحیح یہی ہے تو دوسرے اقوال کا ترک لازم ہوگیا،البتہ قدوۃ الریاضیین علامہ عبدالعلی برجندی نے شرح نقایہ میں ۴۸ اور ۴۴ کے دو قول کی تشریح کی کوشش کی ہے،اس کو کبری کی طرف منسوب کیا ہے،اور میں نے شرح قہستانی میں دیکھا کہ کبری میں پہلے قول کواحوط قرار دیاہے واللہ تعالٰی اعلم اور غالباً ۴۶ کے قول کی طرف وہ متوجہ نہ ہوئے تو فرمایا یہاں تحقیق کلام تین مقدمات پر مبنی ہے،
ھی(۱) ان مربع وترالقائمۃ فی مثلث یساوی مجموع مربعی ضلعیھا وان(۲) محیط الدائرۃ ازید من ثلثۃ امثال قطرھا بسبع قطرھا وانہ(۳) اذا کانت مساحۃ دائرۃ معلومۃ وقسمت باحد عشر قسما متساویۃ و زید ثلثۃ اقسام منھاعلی مجموع المساحۃ واخذ جذر المجموع یکون قطر الدائرۃ کل ذلک مبرھن فی علمی الھندسۃ والحساب فنقول اذا کان کل من ضلعی الحوض المربع عشراذرع کان مجموع مربعی الضلعین مائتین وجذرھمااربعۃ عشر وعشرو نصف عہ۱ عشر تقریبا وھو مقدار الخط الواصل بین الزاویتین المتقابلتین وھو اطول الامتدادات الممکنۃ فی المربع المذکور للمقدمۃ الاولی فاعتبرفی الفتاوی الکبری ان یکون قطر الحوض المدور مساویالاطول الامتدادات المفروضۃ فی الحوض المربع لیمکن وقوع مربع بالشرط المذکور داخل الحوض المدور ولا یکون البعدبین جزئین متقابلین من محیط المدور فی شیئ من المواضع اقصر من اطول امتدادات المربع فیکون محیط الحوض المدور ثلثۃ امثال ذلک الامتداد وسبعہ اعنی اربعاواربعین ذراعا واربعۃ اعشار وثلثی عہ۱ عشر للمقدمۃ الثانیۃ ولما کان الکسر الزائد اقل من النصف اسقطوہ کما ھو عادۃ اھل الحساب وصاحب الخلاصۃ اعتبر ایضا مااعتبر فی الکبری لکنہ لم یتدنق فی الحساب فاخذ الکسر الزائد واحداللاحتیاط فاخذ الامتداد الاطول خمسۃ عشر فاذا اعتبرناہ قطرا یکون المحیط سبعاواربعین ذراعا وسبع ذراع فاعتبر ثمانیاواربعین تتمیما عہ۲ للکسر ،
(۱) قائمہ کے وتر کا مربع مثلث میں اس کے دو ضلعوں کے دو مربعوں کے مجموعہ کے برابر ہوتا ہے۔ (۲)اور دائرہ کا محیط اس کے قطر کی تین مثل سے اس کے قطر کے سُبع جتنا زیادہ ہوتا ہے۔ (۳)اگر ایک دائرہ کی مساحت معلوم ہو اور گیارہ پر برابر تقسیم کی جائے اور اس میں سے تین اقسام کا اضافہ کیا جائے مجموعی پیمائش پراور مجموعہ کاجذر لیاجائے تو دائرہ کا قطر نکل آئے گا۔ یہ سب علمِ ہندسہ اور حساب میں مبرہن ہے،اب ہم کہتے ہیں کہ جب ایک مربع حوض کے دونوں ضلعے دس ذراع ہوں گے تو دونوں ضلعوں کے دونوں مربعوں کا مجموعہ دو سو ہوگا اور دونوں کا جذر چودہ ذراع اور دسواں اور دسویں کاآدھا ہوگا تقریباً،اور یہی مقدار اس خط کی ہے جو دو متقابل زاویوں کے درمیان متصل ہے،اور یہ مربع مذکور میں ممکنہ امتدادات میں سب سے لمباہے اس کی دلیل پہلامقدمہ ہے تو فتاوی کبری میں اس امر کا اعتبار کیا گیا ہے کہ گول حوض کا قطر مربع حوض کے مفروضہ امتدادات میں سب سے طویل ہوتاکہ گول حوض میں شرط مذکور کے ساتھ مربع کاہونا ممکن ہو، اور گول حوض کے محیط سے دو متقابل اجزا کادرمیانی بُعد کسی جگہ بھی مربع کے امتدادات میں سے طویل ترسے چھوٹا نہ ہو تو گول حوض کا محیط اس امتداد سے تین گُنااور ساتواں ہوگایعنی چوالیس ہاتھ اور چار اعشاراور دسویں کے دو ثلث ہوں گے،یہ دوسرے مقدمہ سے ثابت ہے اورچونکہ کسرِ زائد نصف سے کم ہے تو اس کو ساقط کر دیا گیا،جیسا کہ حساب دانوں کا طریقہ ہے،اور خلاصہ کے مصنف نے وہی اعتبار کیا ہے جو فتاوٰی کبریٰ میں کیا ہے، لیکن انہوں نے حساب میں باریک بینی نہ کی، تو انہوں نے کسر زائد کو ایک اعتبار کیا احتیاطاً، تو انہوں نے طویل ترین امتداد کا اعتبار پندرہ ذراع کیا، تو جب ہم اس کو قطر قرار دیں تو محیط سینتالیس گز اور ایک ذراع کا ساتواں ہوگا، لیکن کسر کو ختم کرنے کیلئے پورے اڑتالیس کا اعتبار کیا گیاہے،
عہ۱: بل جزء من خمسۃ وعشرین جزء وشیئ قلیل فانہ ۱۲۴ء۱۴ تقریبا اھ منہ (م( بلکہ پچیس اجزاء میں سے ایک جز اور تھوڑی مقدار کیونکہ وہ ۱۲۴ء۱۴ ہے تقریباً۔ (ت( عہ۱:بل الکسر علی ماذکرہ ۴۷۱۴ء وھو اربعۃ اعشارواکثر من ثلثی عشر بقدر ۱۲۵/۶ تقریبا وعلی ماذکرنا ۴۴۶۳ء وھو اربعۃ اعشار واقل بثلثی عشر بقدر ۲۵۰/۵۱ ای اکثر من خمس العشر اھ منہ (م( بلکہ ان کے ذکر کے مطابق کسر ۴۷۱۴ء ہے اوریہ چار عشر اور ایک عُشر کے دو تہائی حصے سے تقریباً ۱۲۵/۶ کی مقدار میں زیادہ ہے اور ہمارے بیان کے مطابق ۴۴۶۳ء ہے اوریہ چار عشر اور ۲۵۰/۵۱ کی مقدار میں دسویں حصے کے دو ثلث سے کم یعنی دسویں حصے کے پانچویں حصے سے زیادہ۔ (ت( عہ۲: اقول السبع لایتم(۱) ولا احتیاط فی الاحتیاط فکان یجب ترکہ اھ منہ۔ (م( میں کہتا ہوں کہ ساتواں حصہ مکمل نہیں ہوتااوراس احتیاط میں احتیاط نہیں ہے لہٰذا اس کا ترک کرنا واجب تھا۔ (ت(
والقاضی الامام ظہیرالدین اعتبر ان تکون مساحۃ الحوض المدورمساویۃ لمساحۃ المربع فیکون الماء فیہ مساویا لماء المربع ویشبہ ان یکون ھذا ماخوذاعمانقل عن محمدبن ابراھیم المیدانی علی مامرفنقول کانت المساحۃ مائۃ قسمناھاباحد عشر قسما کان کل قسم تسعۃ وجزء من احد عشرفاذازدنا ثلثۃ امثالھاعلی المائۃ حصل مائۃ وسبعۃ وعشرون وثلثۃ اجزاء من احد عشر وجذرہ یکون احد عشرو خمساونصف (عہ۱) سدس تقریباوھوقطردائرۃ مساحتھامائۃ للمقدمۃ الثالثۃ وثلثۃ امثالہ مع سبعہ اعنی محیط الحوض المدور یکون خمساوثلثین ذراعا ونصف ذراع الانصف (عہ۲) عشرفاعتبرواھذاالکسرواحداواخذوامحیطہ ستاوثلثین وانمااوردنا ھذہ المباحث لیظھر وجہ صحۃ اقوال ھؤلاء الائمۃ وانہ لیس شیئ منھاکما توھم بعضھم غلطاصریحا وکم من عائب قولا صحیحا ۱؎ اھ۔
اور قاضی ظہیر الدین نے گول حوض کی پیمائش مربع کی پیمائش کے مساوی قرار دی ہے، تو اس کا پانی مربع کے پانی کے مساوی ہوگا،اور غالباً یہ محمد بن ابراہیم میدانی کی نقل سے ماخوذ ہے جیسا کہ گزرا ہم کہتے ہیں پیمائش سو تھی اس کو ہم نے گیارہ پر تقسیم کیا تو ہر حصہ نو اور گیارہ کا ایک جُز ہوااور جب اس کا تین گنا سو پر زائد کیاتو ایک سو ستائیس۱۲۷اورگیارہ کے تین اجزاء حاصل ہوئے اور اس کا جذر گیارہ،اور پانچواں اور چھٹے کا تقریباً نصف ہوا اور وہ دائرہ کا قطر ہے جس کی پیمائش سو ہے، اس کی دلیل تیسرا مقدمہ ہے اور اس کا تین گنا مع ساتویں کے یعنی گول حوض کا محیط پینتیس ذراع اورنصف ذراع دسویں کانصف کم ہوگاتواس کسر کو انہوں نے پوراایک شمار کیا اور اس کا محیط چھتیس لیا اور ہم نے یہ مباحث اس لئے ذکر کیے تاکہ ان ائمہ کے اقوال کی صحت کاسبب معلوم ہوسکے اور یہ کہ ان میں سے کوئی بھی صریح غلط نہیں جیسا کہ بعض نے وہم کیا،اوربہت سے لوگ صحیح اقوال کو عیب لگاتے ہیں اھ (ت(
(عہ۱)ای اقل منہ بشیئ قلیل فانہ ۲۸۱۵۱۸ء۱۱ تقریبا اھ منہ (م( یعنی اس سے کچھ کم کیونکہ وہ تقریباً ۲۸۱۵۱۸ء۱۱ ہے اھ (ت) (عہ۲) بل المستثنی اقل منہ فعلی ماذکرہ ۱۰۵/۴ وعلی ماذکرنا ۵۰۰۰/۲۱۹ اھ منہ (م( بلکہ مستثنیٰ اس سے کم ہے ان کے ذکر کے مطابق ۱۰۵/۴ ہے اور ہمارے ذکر کے مطابق ۵۰۰۰/۲۱۹ ہے اھ (ت(
(۱؎ خلاصۃ الفتاوی فصل فے الحیاض نولکشور لکھنؤ ۱/۳)
اقول: رحمہ اللّٰہ تعالی وشکر سعیہ فقدجلاعن اقوال اجلاء ومحصلہ ان کلام الظہیریۃ مبتن علی اعتبار المساحۃ وسائرالاقوال علی اشتراط الامتدادین الطول والعرض وھماقولان معروفان فی المذھب وان کان عندناالمعول علی الاول کما بیناہ فی الفصل الثالث من کتابنا النمیقۃ الانقی ویؤیدہ ان صاحب الخلاصۃ قال ھھناالحوض الکبیرمقدربعشرفی عشر و صورتہ ان یکون من کل جانب عشرۃ اذرع وحول الماء اربعون ذراعا و وجہ الماء مائۃ ذراع ھذامقدارالطول والعرض ۱؎ اھ
میں کہتا ہوں انہوں نے اجلّہ علماء کے اقوال سے پردہ ہٹایا ہے،اس کا حاصل یہ ہے کہ ظہیریہ کا قول پیمائش کے اعتبار پر مبنی ہے اور باقی اقوال طول وعرض کے دو امتدادوں کے شرط کرنے پر مبنی ہیں، اور یہ دونوں قول مذہب میں معروف ہیں اگرچہ ہمارااعتماد اول پر ہے جیسا کہ ہم نے اپنی کتاب ''النمیقۃ الانقی''کی تیسری فصل میں بیان کیا،اور اس کی تائید یہ ہے کہ اس مقام پر صاحبِ خلاصہ نے کہا کہ بڑا حوض دہ در دہ ہوتا ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ وہ ہر طرف سے دس ہاتھ ہو اور پانی کا گرد چالیس ہاتھ ہو،اورپانی کی سطح سو ہاتھ ہو یہ طول وعرض کی مقدار ہے اھ،
(۱؎ خلاصۃ الفتاوی فصل فی الحیاض نولکشور لکھنؤ ۱/۳)
فلم یکتف بقولہ وجہ الماء مائۃ بل بین الطول وفصل العرض واظھرالدورثم ذکرالوجہ وان اختارفیمابعد فی جنس فی النھر اعتبار المساحۃ حیث قال ان کان الماء لہ طول وعمق ولیس لہ عرض کانھار بلخ ان کان بحال لوجمع یصیر عشرافی عشر یجوز التوضی بہ وھذا قول ابی سلیمن الجوز جانی وبہ اخذ الفقیہ ابو اللیث وعلیہ اعتماد الصدر الشہید وقال الامام ابو بکر الطرخانی لایجوز وان کان من ھنا الی سموقند وعند من لایجوز یحفر حفیرۃ ثم یحفر نھیرۃ فیجعل الماء فی النھیرۃ الی الحفیرۃ فیتوضؤ من النھیرۃ فلو وقعت فیھا النجاسۃ یتنجس عشرۃ فی عشرۃ والمختار انہ لایتنجس الابما یتنجس بہ الحوض الکبیر ۱؎ اھ
تو انہوں نے اپنے اس قول ''پانی کی سطح سو ہاتھ ہے'' پر اکتفاء نہ کیابلکہ طول وعرض کی تفصیل بیان کی اور دور ظاہر کیاپھراس کی وجہ بیان کی، اگرچہ اس کے بعد جنس فی النہر کی بحث میں مساحۃ کو اختیار کیافرمایاکہ اگر پانی کا طول وعمق ہواوراس کا عرض نہ ہو جیسے بلخ کی نہریں،اگر یہ اس قسم کاہو کہ جمع کرنے پر دہ در دہ ہوجائے تو اس سے وضو جائز ہے یہ ابو سلیمان الجوزجانی کاقول ہے،اوراسی کو فقیہ ابو اللیث نے اختیار کیااور صدر الشہید نے اسی پر اعتماد کیااور امام ابو بکر الطرخانی نے فرمایاکہ ایسی نہر سے وضو جائز نہیں خواہ وہ یہاں سے سمرقند تک کیوں نہ ہو،اور جو حضرات وضوکے جواز کے قائل نہیں وہ فرماتے ہیں پہلے ایک چھوٹاساگڑھا کھودا جائے پھر ایک چھوٹی سی نہر کھودی جائے اور اس نہر سے پانی نکال کر گڑھے میں لایا جائے اور نہر سے وضو کیا جائے،اب اگر اس میں نجاست گر جائے تو وہ دہ در دہ ناپاک ہوجائیگا،اور مختار یہ ہے کہ ناپاک نہ ہوگا، صرف اُسی صورت میں ناپاک ہوگاجس صورت میں بڑا حوض ناپاک ہوتا ہے اھ (ت(
(۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی فصل فی الماء الجاری نولکشور لکھنؤ ۱/۹)
اقول: وبہ (۱) ظھرالجواب عن ایراد الشرنبلالی فان الحساب انماقطع بذلک عند اعتبار المساحۃ دون اشتراط الامتدادین الطولی والعرضی بل قطع(۲)عندذلک بوجوب الزیادۃ علی ۴۴ فضلا عن ۳۶ کماتقدمت الاشارۃ الیہ ویوضحہ ان لیس المرادالامتدادان کیفماوقعابل محیطین بقائمۃ والالم یتساو الطول والعرض ولولاذلک لکفی مثلث کل ضلع منہ عشرۃ اذرع مع انھم نصوافیہ بوجوب ان یکون کل خمسۃ عشرذراعا وخمساکما فی السراج الوھاج والزھر النضیرللعلامۃ الشرنبلالی وقد قال البرجندی المرادبذلک ان یکون کل من الاطراف الاربعۃ عشراذرع و زوایاہ الاربع قوائم اذلولم تکن الزوایا کذٰلک لم یعتبر ۲؎ اھ
میں کہتا ہوں اس سے شرنبلالی کے اعتراض کا جواب بھی معلوم ہوگیا کیونکہ ازر وئے حساب یہ بات قطعی اس وقت ہوتی ہے جب پیمائش کااعتبار کیا جائے نہ کہ طولی وعرضی امتدادوں کی شرط لگائی جائے بلکہ اس وقت ۴۴ سے زیادتی کاواجب ہونا قطعی ہوگاچہ جائیکہ ۳۶ سے جیسا کہ اس کی طرف پہلے اشارہ گزرا،اور اس کی وضاحت اس سے ہوتی ہے کہ یہ مراد نہیں کہ دونوں امتداد جیسے بھی واقع ہوں بلکہ دو محیط ایک قائمہ کے ساتھ،ورنہ طول وعرض مساوی نہ ہوتے،اور اگر یہ نہ ہوتا تو اس کے ہر ضلع کا مثلث دس ہاتھ کو کافی ہوتاحالانکہ علماء نے اس میں صراحت کی ہے کہ پندرہ ذراع اور ایک خُمس کا ہونا ضروری ہے، جیساکہ ''السراج الوہاج''میں ہے اور شرنبلالی کی "الزہر النضیر" میں ہے،اوربرجندی نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ چاروں طرف میں سے ہر طرف دس۱۰ذراع ہو اور اس کے چاروں زاویے قائمہ ہوں ،کیونکہ اگر زاویے ایسے نہ ہوئے تو اس کااعتبار نہ ہوگااھ
(۲؎ شرح النقایۃ للبرجندی ابحاث الماء نولکشور لکھنؤ ۱/۳۳)