یہاں مساحت معلوم ہے ۱۰۰ہاتھ جس کالوگارثم ۰ء۲:.۲/۱۰۴۹۱۰۱ ء۲ =۱۰۵۲۴۵۵۰ء۱ کہ لوگارثم ۲۸۴ء ۱۱ کا ہے یہ قدر قطر ہوئی نیز ۲/۰۹۹۲۰۹۹ ء ۳ =۵۴۹۶۰۴۹ء۱ کہ لوگارثم ۴۴۹ء۳۵ کا ہے یہ مقدار دَور ہوئی۔ہمارے بیان کی تحقیق یہ ہے کہ ۲۸۴ء۱۱*۴۴۹ء۳۵=۰۰۶۵۱۶ء۴۰۰، ÷۴=۰۰۱۶ء۱۰۰ کہ سو ہاتھ سے صرف ۱۰۰۰۰/۱۶ یعنی ۶۲۵/۱ زائد ہے کہ ایک انگل عرض کا ۶۲۵/۲۴ یعنی انگل کے پچیسویں حصّے سے بھی کم ہے بخلاف حساب سراج وشرنبلالیہ کہ اُن کے خیال سے ۱۹ انگل اور واقع میں تین ہاتھ سے بھی زیادہ بڑھتا ہے کما سیأتی۔
اقول وبھذا علم مافی البیانات السابقۃ فاولا(۱) ماکان دورہ ستا وثلثین لایزید قطرہ علی ۱۱ ذراعا بخمس ذراع فقط بل بقریب من نصف ذراع لان ۳۶ لوغارثمھا ۵۵۶۳۰۲۵ء۱'+۵۰۲۸۵۰۱ء۱=۰۵۹۱۵۲۶ء۱ وھو لوغارثم ۴۵۹ء۱۱ لاینقص من النصف الاقدر ۱۰۰۰/۴۱
اس سے معلوم ہوا کہ جو کچھ سابقہ بیانات میں ہے اوّلاً جس کا دور چھتیس ہو اس کا قطر ۱۱ ذراع پر ایک ذراع کا صرف پانچواں حصہ زائد نہ ہوگابلکہ آدھے ذراع کے قریب زائدہوگاکیونکہ ۳۶ کا لوغارثم ۵۵۶۳۰۲۵ء۱'+۵۰۲۸۵۰۱ء۱=۰۵۹۱۵۲۶ء۱ہے اوروہ لوگارثم ۴۵۹ء۱۱ ہے یہ نصف سے صرف ۱۰۰۰/۴۱ کی مقدار کم ہے،
وثانیا(۲) ماکان کذا تزید مساحتہ علی مائۃ ذراع باکثر من ثلثۃ اذرع لااربعۃ اخماس ذراع وذلک لان۵۵۶۳۰۲۵ء۱*۲=۱۱۲۶۰۵۰ء۱۳' +۹۰۰۷۹۰۱ء۲ =
۱ ۵ ۹ ۰۱۳۳ء ۲ وھو لوغارثم ۱۳ء۱۰۳
اور ثانیاً جو ایسا ہو اس کی پیمائش سو ہاتھ پر تین ذراع سے زائد ہوگی نہ یہ کہ ایک ذراع کا ۵/۴ اور یہ اس لئے ہے کہ ۵۵۶۳۰۲۵ء۱*۲ =۱۱۲۶۰۵۰ء۱۳'+۹۰۰۷۹۰۱ء۲ =۰۱۳۳۹۵۱ء۲ اور وہ لوگارثم ہے ۱۳ء۱۰۳ کا،
وثالثا لوعمل(۳) بقطر ذکر بان رسم خط مثلہ ورسمت علی منتصفہ ببعد طرفہ دائرۃ فجعل دورالبئرمثلھا لم یصح فان۲ء۱۱لوغارثمہ ۰۴۹۲۱۸۰ء۱ ضعفہ ۰۹۸۴۳۶۰ء۲' +۸۹۵۰۸۹۹ء۱=۹۹۳۵۲۵۹ء۱وھو لوغارثم ۵۲ء۹۸ فیکون السطح اقل من مائۃ ذراع بذراع ونصف تقریبا وبالجملۃ ان اخذ الدور زاد علی المطلوب بثلثۃ اذرع وان اخذ القطر نقص عنہ بذراع ونصف ان ارید الجمع بینھما لم یمکن۔اما قول المحقق الشرنبلالی فی غنیۃ ذوی الاحکام حیث ذکر اولا مامر عن ش عن السراج ثم قال وبرھان ذلک اننا علمنا الدور والمساحۃ التی ھی تکسیر الدائرۃ فقسمناالمساحۃ علی ربع الدور وھو تسعۃ فخرج القطراحد عشر ذراعاوخمس ذراع وبرھان اعتبارستۃ وثلثین بقسمۃ المساحۃ وھی مائۃ ذراع واربعۃ اخماس ذراع علی نصف القطر فھو علی ماذکرناہ ۱؎ اھ
اور ثالثا اگر مذکورہ قطر پر عمل کیا جائے اس طرح کہ اسی کی مثل ایک خط کھینچا جائے اور اُس کے نصف پر اُس کے بعد کے کنارے پر ایک دائرہ کھینچا جائے اور کنویں کا دَور اسی کی مثل کیا جائے، تو صحیح نہ ہوگا، کیونکہ ۲ء۱۱ کا لوگارثم ۰۴۹۲۱۸۰ء۱ ہے اس کا دوگنا ۰۹۸۴۳۶۰ء۲'+۸۹۵۰۸۹۹ء۱=۹۹۳۵۲۵۹ء۱ ہے اور یہ لوگارثم ۵۲ء۹۸ ہے تو سطح سو ہاتھ سے تقریبا ڈیڑھ ہاتھ کم ہوگی اور خلاصہ یہ ہے کہ اگر دور لیا جائے تو مطلوب پر زائد ہوگاتین ہاتھ اور اگر قطر لیا جائے تو اس سے ڈیڑھ ہاتھ کم ہوگا اور اگر ان دونوں میں جمع کا ارادہ کیا جائے تو ممکن نہ ہوگا،اور غنیۃ ذوی الاحکام میں محقق شرنبلالی نے فرمایا پہلے تو جو ذکر کیاگیا'ش'سے، سراج سے وہ انہوں نے ذکر کیا، پھر فرمایا،اس کی برہان یہ ہے کہ ہمیں دور اور پیمائش کا علم ہے جو دائرہ کی تکسیر ہے،تو ہم نے مساحۃ کو رُبع دورپر تقسیم کیا اور وہ ۹ ہے تو قطر ۵/۱ -۱۱ ذراع نکلا، اور برہان اس امر پر کہ ۳۶ کا اعتبار مساحۃ کی تقسیم پر اور وہ مساحۃ سو ذراع اور چار خُمسِ ذراع ہے نصف قطر پر،توجیسا کہ ہم نے ذکر کیا یہ اس کے مطابق ہے اھ۔ (ت(
(۱؎ غنیہ ذوی الاحکام علی حاشیۃ غرر الاحکام فرض الغسل دارالسعادۃ مصر ۱/۲۳)
فاقول لفظ(۱)نصف ھھنا سبق قلم وصوابہ علی ربع القطر لما علمت ان ۴/ق ط =م قسمنا المعادلۃ علی ۴/ط:. ق=م÷۴/ط وھی دعواہ الاولی وثانیا قسمناھا علی ۴/ق :.ط=م÷ ۴/ق لا ۴/ق وھی دعواہ الاخری ھذا سہل وانما الشأن فی تعیین ھذہ المقادیر وما القصد الاابداء مقداردور تکون مساحتہ مائۃ ذراع فلیس بالید الاھذہ فاولا(۱)کیف عُدل عنھا الٰی
مایزید علیھاباربعۃ اخماس ذراع،
میں کہتا ہوں لفظ نصف یہاں قلم کی سبقت ہے صحیح ربع قطر ہے،جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ۴/ق ط=م،ہم نے معادلہ کو تقسیم کیا ۴/ط:.ق=م÷ ۴/ط پر اور یہ اس کا پہلا دعوی ہے۔اور ثانیا ہم نے اس کو ۴/ق:. ط=م÷ ۴/ق لا ۴/ق پر تقسیم کیا، اور یہ ان کا دوسرا دعوی ہے یہ سہل ہے اور اہم معاملہ ان مقادیر کی تعیین کاہے،اور مقصد صرف مقدار دور کا اظہار ہے جس کی مساحۃ ایک سو۱۰۰ ذراع ہو، تو ہاتھ میں یہی ہے۔اولاً یہاں اُس سے عدول کر کے وہ چیز اختیار کی گئی ہے جس پر ایک ذراع کے چار خمس زائد ہے، ایسا کیوں کیا گیا؟
وثانیا بنیتم(۲)برھان اعتبار ھذاالدورعلی قدر القطروبرھان اعتبار ھذا القطر علی قدر الدور وھذا دور،
ثانیاً اس دور کے اعتبار کی برہان کو تم نے قطر کی مقدار پر مبنی کیا ہے،اور اس قطر کے اعتبار کی برہان کو دور کی مقدار پر مبنی کیا ہے،اور یہ دور ہے۔
وثالثا بنیتم(۳) المساحۃ تبعا للسراج علی الدور والقطر وھذا ان دوران اٰخران ولکن الامران السراج بنی الامر علی الاستقراء فقرب تقریبا واذا تقرر ھذا فابانۃ القطر من الدور والمساحۃ اوالدور من القطر والمساحۃ ارادۃ تحقیق ماتقرر لاالبرھان علی ذلک وباللّٰہ التوفیق ھذا وما ذکر القھستانی من وقوع مربع عشر داخل دائرۃ محیطھا ثمانیۃ واربعون اواربعۃ واربعون۔
ثالثاً تم نے پیمائش کی بنیاد، سراج کی پیروی میں،دور اور قطر پر رکھی ہے،اور یہ دور دوسرے دور ہیں، لیکن سراج نے معاملہ کی بنیاد استقراء پر رکھی ہے تو ان کی یہ بات قریب قریب ٹھیک ہے،جب یہ ثابت ہوگیا تو قطر کو دور اور پیمائش سے الگ کرنا یا دور کو قطر وپیمائش سے الگ کرنا، ثابت شدہ چیز کی تحقیق کا ارادہ ہے اس پر برہان نہیں ہے وباللہ التوفیق، اس کو سمجھنا چاہئے، اور قہستانی نے دس کے مربع کا ذکر کیا ہے جس کے دائرہ کا محیط اڑتالیس یا چوالیس بنتا ہے۔ (ت(
۱۴۶۳۰۲۸ء۱ھذا لوالقطر'-۳۰۱۰۳۰۰ء۰ =۸۴۴۵۲۷۲۸ء۰ھذا لونصفہ اھ ثم فی مثلث اھ ب القائم الزاویۃ اھ:جیب ب وھی مہ حہ لوجیبھا ۸۴۹۴۸۵۰ء۱:: اب:ع :.۸۴۵۲۷۲۸ء۰-۸۴۹۴۸۵۰ء۱=۹۹۵۷۸۷۸ء۰ ھذا لو اب وان شئت بالعروسی فضعف لواھ۶۹۰۵۴۵۶ء۱عددھا ۰۳۹۴۵۶۸ء۴۹ ضعفہ ۰۷۸۹۱۳۶ء۹۸ لوغارثمہ ۹۹۱۵۷۵۶ء۱نصفہ ۹۹۵۷۸۷۸ء۰ مثل مامر وھو لوغارثم ۹۰۳۵ء۹ ھذا قدر الضلع ولم تبلغ عشرا کما تری ثم المساحۃ ۰۷۹ء۹۸اقل من مائۃ بنحو ذراعین لما علمت انھا ضعف مربع اھ وضعف مربع نصف القطر ھی مساحۃ المربع لان مساحتہ مربع ضلع ا ب وھو ضعف مربع اھ بالعروسی فانی یقع فیھا مربع عشر فی عشر۔
2_8.jpg
میں کہتا ہوں اس کی پہلے میں وجہ موجود ہے تو وہ اس میں لغت کے اعتبار سے واقع ہے،اگرچہ فن کی اصطلاح کے مطابق نہیں ہے، یعنی یہ کہ اس کو اس کے تمام زاویے مس کرتے ہوں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جو مربع اڑتالیس کے محیط میں ہوتا ہے،اس کا ضلع دس سے لمبا ہوتا ہے تو یہ ممکن نہیں کہ مربع کے دو سے زائد زاویے اس کو مس کریں،اور دوسرے میں اس کی کوئی وجہ موجود نہیں،مثلاً اع کا مربع ا ب ج ع کے دائرہ میں واقع ہو اور ھ کے مرکز پر ہو اور لو ۴۴=۶۴۳۴۵۲۷ء۱'+۵۰۲۸۵۰۱ء۱=۱۴۶۳۰۲۸ء۱ یہ لو قطر ہے۔ ۳۰۱۰۳۰۰ء۰ =۸۴۵۲۷۲۸ء۰ یہ لو اس کا آدھا ہے اھ پھر مثلث میں ا ھ ب زاویہ قائمہ اھ:جیب ب اور یہ مہ حہ لو اس کا جیب یہ ہے
۸۴۹۴۸۵۰ء۱::اب:ع:. ۸۴۵۲۷۲۸ء۰ _ ۸۴۹۴۸۵۰ء۱= ۹۹۵۷۸۷۸ء۰ یہ لو ا ب ہے او راگر تم چاہو شکل عروسی سے تواھ کادوگنا لواھ۶۹۰۵۴۵۶ء۱اس کاعدد۰۳۹۴۵۶۸ء۴۹کادوگنا ۰۷۸۹۱۳۶ع۹۸ اس کا لوگارثم ۹۹۱۵۷۵۶ء ۱۱ اس کا نصف ۹۹۵۷۸۷۸ء۰ ہے جیسا کہ گزرا اور وہ لوگارثم ہے ۹۰۳۵ء۹ کا، یہ ضلع کی مقدار ہے اور یہ دس تک نہیں پہنچ سکی ہے جیساآپ دیکھتے ہیں پھر پیمائش ۰۷۹ء۹۸ سو سے تقریباً دو ذراع کم ہے کیونکہ آپ کو معلوم ہے کہ یہ مربع کا دوگنا ہے اھ اور نصف قطر کے مربع کا دو گنا ہی مربع کی پیمائش ہے کیونکہ اس کی پیمائش ا ب ضلع کامربع ہے اور وہ اھ کے مربع کا دوگنا ہے شکل عروسی کے اعتبار سے، تو اس میں دہ در دہ کا مربع کہاں سماسکتا ہے! (ت(
(عہ۱) ای باکثر من اربعۃ اخماس ذراع وذلک لان لوالمحیط ۶۸۱۲۴۱۲ء۱'+۵۰۲۸۵۰۱ء۱ =۱۸۴۰۹۱۳ء۱ ھذا لوالقطر ۳۰۱۰۳۰۰ء۰ =۸۸۳۰۶۱۳ء۰ ھذا لو نصف القطر- لوجیب مہ ۸۴۹۴۸۵۰ء۱=۰۳۳۵۷۶۳ء۱ ھذا لو ضلع المربع الواقع فیہ فھی ۸۰۳۷۵ء۱۰ فالمساحۃ تکون اکثر من ۷۲ء۱۱۶ ھذا فی المربع اما الدائرۃ فمساحتھا اکثر من مائۃ وثلثۃ وثمانین ذراعا اھ منہ (م(
یعنی ایک ہاتھ کے چار خمس سے زیادہ کیونکہ محیط کا لوگارثم ہے ۶۸۱۲۴۱۲ء۱' +۵۰۲۸۵۰۱ء۱=۱۸۴۰۹۱۳ء۱ یہ قطر کا لوگارثم ہے ۳۰۱۰۳۰۰ء۰ =۸۸۳۰۶۱۳ء ۰یہ نصف قطر کا لوگارثم ہے۔ لوجیب مہ ۸۴۹۴۸۵۰ء۱ =۰۳۳۵۷۶۳ء۱ یہ محیط میں واقع ہونے والے مربع کے ضلع کالوگارثم ہے ۸۰۳۷۵ء۱ لہٰذا مساحت ۷۲ء ۱۱۶ سے زیادہ ہوگی یہ مربع میں ہے،رہا دائرہ تو اس کی پیمائش ایک سو تراسی ۱۸۳ ہاتھ سے زیادہ ہے۔ (ت(
تنبیہ حکم العلامۃ الشرنبلالی ببطلان سائر الاقوال سوی الرابع حیث قال والصواب کلام الظھیریۃ ولا یعدل عنہ الی غیرہ وقال فالزام قدر یزید علی الستۃ والثلثین لاوجہ لہ علی التقدیر بعشر فی عشر عند جمیع الحساب ۱؎ اھ
تنبیہ علامہ شرنبلالی نے سوائے چوتھے قول کے تمام اقوال کو باطل قرار دیا ہے، وہ فرماتے ہیں صحیح ظہیریہ کا قول ہے اور اس کے علاوہ کسی اور کو اختیار نہ کیا جائے نیز فرمایا ایسی مقدار کا لازم قرار دینا جو چھتیس۳۶ سے زائد ہو اس کی کوئی وجہ نہیں جبکہ دہ در دہ کا اندازہ ہو، یہی تمام حساب دانوں کے نزدیک ہے اھ
(۱؎ غنیۃ ذوی الاحکام حاشیۃ علی الغررفرض الغسل ۱/۲۳)