| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
اسی پر مولی خسرو نے متن غرر میں مع افادہ تصحیح اور مدقق علائی نے درمختار اور علامہ فقیہ ومحاسب شرنبلالی نے مراقی الفلاح میں جزم فرمایا ردالمحتار میں ہے:
قولہ وفی المدور بستۃ وثلثین ای بان یکون دورہ ستۃ وثلثین ذراعا وقطرہ احد عشر ذراعا وخمس ذراع ومساحتہ ان تضرب نصف القطروھو خمسۃ ونصف وعشر فی نصف الدور وھو ثمانیۃ عشر یکون مائۃ ذراع واربعۃ اخماس ذراع اھ سراج وما ذکرہ ھو احد اقوال خمسۃ عہ۲ وفی الدرر عن الظھیریۃ ھو الصحیح ۳؎۔
ان کا قول کہ مدور میں چھتیس ہیں یعنی اس کادور چھتیس گز ہو اور اس کا قطر گیارہ گز اور ایک خمس ہو اور اس کی مساحت یہ ہے کہ نصف قطر یعنی ساڑھے پانچ کو اور دسویں کو نصف دور میں ضرب دی جائے، اور یہ اٹھارہ ہے،تو کل سو ہاتھ اور چار خمس ذراع ہوگا اھ سراج،اور جو انہوں نے ذکر کیا ہے وہ پانچ میں سے ایک قول ہے اور درر میں ظہیریہ سے ہے کہ یہی صحیح ہے۔(ت(
عہ۲: لم ارفی التقدیر الا اربعۃ اقوال وکانہ ارادبالخامس ماذکر المحقق ان لاتعیین ۱۲ منہ حفظہ ربہ تعالی (م( میں نے تقدیر میں صرف چار قول دیکھے ہیں شامی نے گویا پانچویں سے وہ مراد لیا ہے جس کو محقق نے ذکر کیا ہے کہ تعیین نہیں۔ (ت(
(۳؎ ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۴۲)
اقول: تحقیق یہ ہے کہ اُس کادور تقریباًساڑھے پینتیس ہاتھ چاہئے یعنی ۴۴۹ء ۳۵ تو قطر تقریباً ۵ گز ۲/۱ -۱۰ گرہ ہوگا بلکہ دس گرّہ ایک اُنگل یعنی ۲۸۴ء ۱۱ ہاتھ بیان اس کا یہ کہ اصولِ ہندسہ عہ۴ مقالہ ۴ شکل ۱۲ میں ثابت ہے کہ محیط دائرہ کو ربع قطر میں ضرب دینے سے مساحت دائرہ حاصل ہوتی ہے یا قطر دائرہ کو ربع محیط یا نصف قطر کو نصف محیط میں ضرب دیجئے یا قطر ومحیط کو ضرب دے کر ۴ پر تقسیم کیجئے کہ حاصل سب کا واحد ہے اور ہم نے(۱) اپنی تحریرات ہندسیہ میں ثابت کیا ہے کہ قطر اجزائے محیطیہ سے قدحہ لہ الط لومہ ہے نصف قطر نرحہ لرمد مح یعنی محیط جسے مقدار سے ۳۶۰ درجے ہے قطر اُس سے ۱۱۴ درجے ۳۵ دقیقے ۲۹ ثانیے ۳۶ ثالثے ۴۵ رابعے ہے۔
(عہ۴) یہ کتاب کتاب اقلیدس سے جُدا وجدید ہے ۸ مقالوں پر مشتمل اورہندسہ ومساحت ومثلث کروی سب میں مفید ہے اس میں بہت دعاوی کابیان کتاب اقلیدس پر مزید ہے فاضل محمد عصمہ مصری نے اسے ترکی سے عربی میں ترجمہ کیا ۱۲ (م(
وفی حساب الفاضل غیاث الدین جمشید الکاشی علی مانقل العلامۃ البرجندی فی شرح تحریر المجسطی لوبعہ ای ستاوخمسین مکان مہ لایفارق محسوبی الابنحو۱۱ رابعۃ وجاء بحساب اخر مربعہ رفعا ای سبعا واربعین وبالجملۃ لافرق الا فی بعض روابع وعلی ھذا الاخیر عولنا۔
اور فاضل غیاث الدین جمشید الکاشی کے حساب میں جیسا کہ علامہ برجندی نے شرح تحریر مجسطی میں لکھا ہے لوبعہ یعنی ۵۶ بجائے مہ،یہ حساب میرے حساب سے مختلف نہیں مگر صرف ۱۱ رابعہ کی مقدار میں اور دوسرے حساب سے مربعہ رفعا یعنی سینتالیس ہے، خلاصہ یہ کہ اختلاف صرف بعض روابع میں ہے اور اسی اخیر پر ہم نے اعتماد کیا ہے۔ (ت(
تو قطراگر ایک ہی محیط ۱۴۱۵۹۲۶۵ء ۳ ہے فان ۳۶۰÷ ۱۴۱۵۹۲۶۵ء ۳=۵۹۱۵۵۹۱۵۷ء ۱۱۴ تحویلہ الی الستینی مدحہ لہ الط لومر یہاں سے ہمیں دو مساواتیں حاصل ہوئیں قطر ومحیط ومساحت کو علی التوالی ق ط م فرض کیجئے پس (۱) ۱۴۱۵۹۲۶۵ء ۳ ق=ط اس لئے کہ ۱:۱۴۱۵۹۲۶۵ء ۳:: ق:ط (۲) ۴/ق ط =م ان کے بعد قطر ومحیط(۱) ومساحت سے جو چیز گز، ہاتھ، فٹ، گرہ، وغیرہا جس معیار سے مقدر کی جائے اُسی معیار سے باقی دو کی مقدار معلوم ہوجائے گی جس کی جدول ہم نے یہ رکھی ہے۔
2_6.jpg
عہ۱: عدد معلوم یعنی مقدار محیط باجزائے قطریہ کو ص فرض کیجئے:.ص ق=ط،۴/ق ط=م:. ۴/ص ق۲=میہ عدد ۴/ص ہے ۱۲ منہ (م( عہ۲: جبکہ ص/ط=ق،۴/ق ط=م:. ۴ص/ط۲=م یہ عدد ۴ص ہے ۱۲ منہ (م( پھر آسانی کیلئے لوگارثم سے کام کرنے کو یہ دوسری جدول رکھی اور اس میں متمات حسابیہ سے وہ تصرفات کر دئے کہ بجائے تفریق بھی جمع ہی رہے۔ معلوم /مطلوب لوقطر لومحیط لومساحت لوقطر لوق+۴۹۷۱۴۹۹ء۰ ۲لوق+۸۹۵۰۸۹۹ء۱ لومحیط لوط +۵۰۲۸۵۰۱ء۱ ۲لوط+۹۰۰۷۹۰۱ء۲ لومساحت لوم+۱۰۴۹۱۰۱ء۰(۲( لوم+۰۹۹۲۰۹۹ء۱(۲(