Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
70 - 176
ردالمحتار میں ہے:فی شرح ھدیۃ ابن العماد لسیدی عبدالغنی الظاھران المراد اوصاف النجاسۃ لاالمتنجس کماء الورد والخل مثلا فلوصب فی ماء جار یعتبر اثر النجاسۃ التی فیہ لااثرہ نفسہ لطھارۃ المائع بالغسل ولم ارمن نبہ علیہ وھو مھم فاحفظہ ۱؎ اھ
سیدی عبدالغنی نے شرح ہدیۃ ابن العماد میں لکھا ہے کہ بظاہر اس سے مراد نجاست کے اوصاف ہیں نہ کہ نجس ہونے والا پانی،جیسے گلاب کا پانی اور سرکہ،اگر اس کو بہتے پانی میں ڈالا جائے تو اس میں جو نجاست ہے اس کا اثر معتبر ہوگا،خود اس کا اپنا اثر معتبر نہ ہوگا کیونکہ بہنے والی چیز غسل (دھونے) سے پاک ہوجاتی ہے،اس نکتہ پر میں نے کسی اور کو مطلع کرتا ہوا نہیں پایا حالانکہ یہ بہت اہم ہے اسے یاد کرلیجئے اھ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب المیاہ    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۳۸)
اقول: وھو واضح البرھان فان المقصود غلبۃ النجاسۃ علی الماء حتی اکسبتہ وصفالھا وذلک فی ظھور وصف نفسھا دون المتنجس بھا الا تری ان لوکانت قلیلۃ لاتغلب الماء وکان مکان ماء الوردماء قراح لم یظھراثرھا فکذا فی ماء الورداذلا تختلف قلۃ وکثرۃ باختلاف المتنجس۔
میں کہتا ہوں اس کی دلیل بہت واضح ہے کیونکہ مقصود نجاست کا پانی پر غالب ہونا ہے تاکہ نجاست کا وصف اس میں ظاہر ہوجائے، اور یہ تب ہے جب خود اس کا اپنا وصف اس میں ظاہر ہو نہ کہ اس چیز کا جو اس کی وجہ سے نجس ہوئی ہے، مثلاً اگر نجاست اتنی تھوڑی ہوتی کہ پانی پر غالب نہ ہوتی اور بجائے عرق گلاب کے سادہ پانی ہوتا تو اس کا اثر ظاہر نہ ہوتا تو اسی طرح گلاب کے پانی کا حال ہے کیونکہ نجاست قلۃ وکثرۃ میں ناپاک ہونے والے پانی کے اعتبار سے مختلف نہیں ہوتی ہے۔ (ت)
تو جبکہ وہ نجاست(۲) جس سے چُونا ناپاک ہوا مرئی نہیں تو یہ صورت نجاست غیر مرئیہ کی ہے اس سے وہ روایت متعلق نہیں بلکہ یہاں بالاتفاق حکمِ طہارت ہے واللہ  تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۳: ازکوٹارمپورہ عقب موچی کٹرہ مکان چاند خان دفعدار مرسلہ شیخ ممتاز علی بیکل منگلوری سرویر محکمہ جنگلات کوٹا۱۰ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ۔



کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین سوالاتِ ذیل کے جواب میں خداوند کریم آپ کو اجرِ عظیم اور سائل کو صراطِ مستقیم عطا فرمائے۔
عمرو وزید دو شخص ہیں عمرو سے کسی نے دریافت کیا کہ یہ چاہ جو سامنے موجود ہے اس کا پانی قابلِ وضو اور نیز دیگر استعمال کے ہے یا نہیں؟عمرو نے جواب دیاکہ بنا بررفعِ شک چاہ کو ناپ لیا جائے چنانچہ وہ کُنواں ناپا گیا تو لمبائی ۲/۱ -۱۱ ہاتھ اور چوڑائی ۲/۱ -۹ ہاتھ گہرائی ۳ ہاتھ ہوئی جو برابر ہے ۷۵ع ۳۲۷ ہاتھ کے مگر زید اس کو ۴۲ ہاتھ بتلا کر اس کے پانی سے وضوناجائز بتلاتا ہے اورپانی ہذا کو قابلِ استعمال نہیں بتلاتا لیکن عمرو نے اسی چاہ سے وضو کیا اور زید نے عمرو کے پیچھے نماز پڑھی لہٰذا التماس ہے کہ اس پانی کا استعمال موافق شرع شریف جائز ہے یا نہیں اور زید کی نماز اس صورت میں عمرو کے پیچھے ہوئی یا نہیں؟
نوٹ:اس چاہ میں پانی کی اس قدر آمد ہے کہ اگرچر س بند کردیا جائے جو دن بھر پانی کھینچتا ہے تو چاہ لبریز ہو کہ زائد پانی ایک راستہ سے خارج ہو کر چند روز میں دو سو فیٹ لمبے اور پچاس فیٹ چوڑے بند کو جس کی گہرائی بھی ۳ فیٹ سے کم نہیں لبریز کردیتا ہے۔یہ پانی مویشی پیتے ہیں یہ تو موسم سرما کی حالت ہے اور موسم گرما میں چرس چلے یا نہ چلے کنویں سے پانی باہر نہیں آتاالبتہ جس قدر کنواں خالی ہوجاتا ہے وقت چرس چلنے کے اُتنا ہی رات کو پھر کنویں میں پانی آجاتا ہے ماسوا اس کے پہاڑی علاقہ ہونے کے سبب ایسے کنویں قلیل ہیں کہ جن کاپانی ڈول وغیرہ سے کھینچا جائے ورنہ عام کنویں زینہ دار ہیں تمام لوگ اندر جا کر پانی پیتے اور بھرتے ہیں بلکہ نہانا اور عام طور پر کپڑے وغیرہ دھونے کا عام رواج ہے،ہاں بعض موقع پر ایسا بھی رواج ہے کہ جس کنویں کے اندر نہاتے ہیں اُس کا پانی نہیں پیتے۔
الجواب: پانی میں فقط اُس کی سطح بالا کی پیمائش معتبر ہے عمق کا اصلاً لحاظ نہیں اگر اوپر کی سطح مثلاً ایک ہاتھ مربع ہے اور ہزار ہاتھ گہرا ہے تو وہ ایک ہی ہاتھ قرار پائے گا اور سطح سو ہاتھ ہے اور فقط نصف ہاتھ گہرا ہے تو وہ پورا سو ہاتھ ٹھہرے گا نہ کہ پچاس۔ عمق صرف اتنا ہونا چاہئے کہ لپ میں پانی لینے سے زمین نہ کُھلے لہٰذا چاہ مذکور کی مساحت ۲۵ء۱۰۹ ہاتھ ہے نہ ۷۵ء ۳۲۷ بہرحال شک نہیں کہ وہ مائے کثیر ہے اُس سے وضو وغسل اور اُس میں کپڑے دھوناسب جائز ہے وہ نجاست پڑنے سے بھی ناپاک نہ ہوگا جب تک نجاست اس کا رنگ یا مزہ یا بُو نہ بدل دے اُسے ۴۲ ہاتھ کہنا محض بے علمی اور اُس سے وضو وغسل ناجائز بتانا صریح نادانی ہے اور اگر واقع میں اُس کے اعتقاد میں یہی ہے کہ اُس کنویں کے پانی سے وضو نہیں ہوسکتا اور اُس نے عمرو کو اُس سے وضو کرکے نماز پڑھاتے دیکھا اور اپنے اُسی اعتقاد پر قائم رہ کر اُس کی اقتداء کرلی تو زید کی نماز نہ ہوئی کہ اس کے اعتقاد میں امام بے وضو نماز پڑھا رہا ہے بلکہ وہ اس سے بھی سخت تر ہے کہ اس سے نماز کو معاذ اللہ بازیچہ سمجھناپیدا ہوتا ہے والعیاذ باللہ  تعالٰی یہی حکم اُن سب کُنّووں کا ہے جن کے پانی کی سطح بالا۲۲۵ فٹ ہو اُن میں کپڑے دھونا بھی جائز ہے اور اُس سے ناپاک نہ ہوں گے اگرچہ وہ کپڑے ناپاک ہوں جب تک نجاست ان کا رنگ یا بُو یا مزہ نہ بدل دے واللہ  تعالٰی اعلم۔

فتوٰی مسمّٰی بہ
الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر(۱۳۳۴ ھ)

خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق (ت)

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرّحیم
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم،نحمدہ، ونصلّی علٰی رسولہ الکریم



الجواب :اس میں چار قول ہیں ہر ایک بجائے خود وجہ رکھتا ہے اور تحقیق جُدا ہے:



قول اول:  اڑتالیس ہاتھ خلاصہ وعالمگیریہ میں اسی پر جزم فرمایا اور محیط امام شمس الائمہ سرخسی وفتاوٰی کبرٰی میں اسی کو احوط بتایا سید طحطاوی نے اُس کا اتباع کیا ہندیہ میں ہے:
ان کان الحوض مدورا یعتبر ثمانیۃ واربعون ذراعاکذا فی الخلاصۃ وھو الاحوط کذا فی محیط السرخسی ۱؎۔
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     فصل فے الماء الراکد    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۸)
اگر حوض گول ہو تو اڑتالیس ہاتھ کا اعتبار ہوگا، کذا فی الخلاصۃ اور یہی احوط ہے کذا فی محیط السرخسی۔ (ت(
طحطاوی میں ہے:الاحوط اعتبار ثمانیۃ واربعین ۲؎
 (احوط اڑتالیس کا اعتبار کرنا ہے۔ ت(
 (۲؎ طحطاوی علی الدرالمختار    باب المیاہ        بیروت        ۱/۱۰۷)
دوم چھیالیس ہاتھ بعض کتب میں اسی کو مختار ومفتٰی بہ بتایا بحرالرائق میں نقل فرمایا:المختار المفتی بہ ستۃ واربعون کیلا یعسر رعایۃ الکسر ۱؎ اھ
 (مختار ومفتٰی بہ چھیالیس ہے تاکہ کسر کی رعایت کی دشواری میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ت(
 (۱؎ بحرالرائق        کتاب الطہارت        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۷)
اقول: یرید ان ثمہ کسر اسقط او رفع تیسیرا ثم رأیت فی الفتح ماعین الرفع حیث قال ان کان الحوض مدورافقدر باربعۃ واربعین وثمانیۃ واربعین والمختار ستۃ واربعون وفی الحساب یکتفی باقل منھا بکسر للنسبۃ لکن یفتی بستۃ واربعین کیلا یتعسر رعایۃ الکسر قال والکل تحکمات غیرلازمۃ انما الصحیح ماقدمناہ من عدم التحکم بتقدیر معین ۲؎ اھ ای عملا باصل المذھب وقد علمت ان الفتوی علی اعتبار العشر۔
میں کہتا ہوں ان کی مراد یہ ہے کہ یہاں کسر ہے جو ساقط کردی گئی ہے یابڑھائی گئی ہے آسانی کیلئے، پھر میں نے فتح میں دیکھا تو انہوں نے رفع کو متعین کردیا، فرمایا اگر حوض گول ہو تو اس کا اندازہ چوالیس اور اڑتالیس کیا گیا ہے اور مختار چھیالیس کیا گیا ہے اور حساب کے اعتبار سے اس سے کم پر بھی اکتفاء کیا جائیگا کسرِ نسبت کیلئے، لیکن چھیالیس پر فتوٰی دیا جائیگا تاکہ کسر کی رعایت میں پریشانی لاحق نہ ہو، فرمایا یہ تمام باتیں محض اپنی مرضی سے کہہ دی گئی ہیں ان کا ماننا لازم وضروری نہیں صحیح وہی ہے جو ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ کسی معین مقدار کا ہونا ضروری نہیں ہے اھ یعنی اصل مذہب پر عمل کرتے ہوئے،اور آپ جان چکے کہ فتوٰی دس۱۰ پر ہے۔ (ت(
 (۲؎ فتح القدیر        الماء الذی یجوزبہ الوضوء ولا یجوزبہ     نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۰)
سوم چوالیس ہاتھ اس کی ترجیح اس وقت کسی کتاب سے نظر میں نہیں،جامع الرموز میں ہے:
امافی المدور فیشترط ان یکون دورہ ثمانیاواربعین ذراعا وقیل اربعاواربعین فالاول احوط کمافی الکبری ۳؎۔
گول حوض میں شرط یہ ہے کہ اس کا دور اڑتالیس ہاتھ ہو،اور ایک قول ہے کہ چوالیس ہاتھ ہو تو اول احوط ہے جیسا کہ کبری میں ہے۔(ت(
 (۳؎ جامع الرموز    باب بیان الماہ        گنبد ایران        ۱/۴۸)
چہارم چھتیس ہاتھ ملتقط میں اسی کی تصحیح کی امام ظہیرالدین مرغینانی نے فرمایا یہی صحیح اور فن حساب میں مبرہن ہے،جامع الرموز میں ہے:
وقیل ستۃ وثلثین وھو الصحیح المبرھن عند الحساب کما فی الظھیریۃ وفی الاولین تحقق الحوض المربع داخل المدور وفی الثالث مایساو یہ ۱؎۔
اور ایک قول ہے کہ یہ چھتیس ہے اور یہی صحیح ہے اور حساب کی رُو سے مبرہن ہے کما فی الظہیریہ اور پہلے دو میں مربع حوض مدوّر حوض متحقق ہوگیا اور تیسرے میں اس کے مساوی ہے۔ (ت(
 (۱؎ جامع الرموز    باب بیان الماء    گنبد ایران     ۱/۴۸)
Flag Counter