Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
69 - 176
مسئلہ ۴۱: ازجالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی احمد جان صاحب مرسلہ محمد احمد خان صاحب ۲۰ شوال ۱۳۱۴ھ۔

نامحرم عورت جوان یا بُڑھیا اپنے مرشد کا جوٹھاپانی یا شوربا پی لے تو درست ہے یا نہیں، مکروہِ تحریمی یا تنزیہی،باسند لکھیں۔
الجواب:  تلذّذو شہوانی کی نیت سے حرام اور خالص تبرک کی نیت سے جائز
واللّٰہ یعلم المفسد من المصلح
 (اللہ  تعالٰی خوب جانتا ہے مفسد کو مصلح سے۔ت) صحیح حدیث میں ہے جب حضور پُرنور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ  تعالٰی عنہ کے یہاں مقیم ہوئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا اولش جب اُن کے گھر جاتا وہ اور ان کے گھر والے حضور اقدس صلی اللہ  تعالٰی علیہ وسلم کی انگشتانِ مبارک کے نشان کی جگہ سے کھاتے، دُرمختار کتاب الخطر میں ہے:
یکرہ للمرأۃ سؤر الرجل وسؤ رھالہ ۲؎۔
مرد کا جوٹھا عورت کیلئے اور عورت کا مرد کیلئے مکروہ ہے۔ (ت)
 (۲؎ درمختار    فصل فے البیع    مجتبائی دہلی        ۱/۲۵۴)
اُسی کے آخر فصل فے البئر میں ہے:
یکرہ سورھا للرجل کعکسہ لاستلذاذ ۱؎۔
عورت کاجوٹھا مرد کیلئے اور مرد کا عورت کیلئے لذّت لینے کیلئے مکروہ ہے۔(ت)
 (۱؎ درمختار    فصل فے البئر    مجتبائی دہلی        ۱/۴۰)
ردالمحتار میں ہے:یفھم منہ انہ حیث لااستلذاذ لاکراھۃ، ۲؎
واللہ  تعالٰی اعلم ۔اس سے یہ سمجھ میں آیا اگر لذّت کیلئے نہ ہو تو کراہت نہیں۔ واللہ  تعالٰی اعلم (ت)
 (۲؎ ردالمحتار   فصل فے البئر       مصطفی البابی مصر    ۱/۱۶۳)
مسئلہ ۴۲:از مقام چتور گڑھ علاقہ اودے پور راجپوتانہ  مسئولہ مولوی عبدالکریم صاحب    ۱۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ

پانی کی نالی ناپاک چُونے سے تیار کی گئی اورخشک ہونے سے قبل اُس میں پانی جاری کیا گیا اور وہ پانی حوض میں اُسی جگہ سے جمع ہوناشروع ہوا جہاں ناپاک چُونے سے بند کی گئی تھی تو کیا یہ پانی پاک ہے یا ناپاک، فقہاء نے لکھا ہے کہ جس تالاب میں نجاست کنارہ پر ہو اور پانی وہیں سے جمع ہوتاہو تو وہ پانی ناپاک ہے تو اس روایت پر تمام پانی ناپاک ہوگا۔
الجواب : پانی اگر اُوپر سے اُس نالی پر بہتا ہوا آیا اور بہتا ہوا گزر گیا تو صحیح مذہب یہ ہے کہ ناپاک نہ ہوگا جب تک کہ اس کے کسی وصف میں اُس کے سبب تغیر نہ ہو دوسری روایت ضرور یہ ہے کہ کل یا اکثر یا نصف پانی کا بہاؤ اگر نجاست پر ہو تو بہنا نفع نہ دے گا کل پانی ناپاک سمجھا جائے گا
صحح ایضاوان کان الاول علیہ المعول لانہ الا قوی وعلیہ الفتوی
 (اور اس کی تصحیح بھی کی گئی ہے اعتماد اگرچہ پہلے قول پر ہے کیونکہ وہ اقوی ہے اور اسی پر فتوی ہے۔ت(
اقول : مگر یہ نجاست مرئیہ میں ہے جیسے مردار یاغلیظ غیر مرئیہ میں بالاتفاق اُسی ظہور اثر کا اعتبار ہے،
کما نصواعلیہ قاطبۃ وقال فی البحر فی توجیہ القول الاٰخر للتیقن بوجود النجاسۃ فیہ بخلاف غیر المرئیۃ لانہ اذالم یظہراثرھا علم ان الماء ذھب بعینھا ۳؎۔
جیسا کہ اُن تمام نے اس پر نص کیا،اور بحر میں دوسرے قول کی توجیہ میں فرمایا کہ اس میں نجاست کا پایا جانا متیقن ہے بخلاف غیر مرئی نجاست کے کیونکہ جب اس کا اثر ظاہر نہ ہوا تو معلوم ہوا کہ پانی اس نجاست کو بہا کر لے گیا ہے۔ (ت(
 (۳؎ ردالمحتار    باب المیاہ     مصطفی البابی مصر       ۱/۱۳۸)
اور چُونا نجاست نہیں متنجس ہے اور اعتبار نجس کا ہے نہ متنجس کاولہٰذا اگر ناپاک گلاب(۱)یا زعفران آب جاری میں گرے اور اس میں گلاب کی بُو یا زعفران کی رنگت آجائے اسے ظہور اثر نہ کہیں گے بلکہ اُس نجاست کا کوئی وصف پانی میں آئے جس نے گلاب وزعفران کو ناپاک کیا تو پانی ناپاک ہوگا،
Flag Counter