Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
67 - 176
وفی جامع الرموز عن المجتبی لوکان فیہ قطع خشب اوجمد یتحرک بتحریک الماء جاز فیہ الوضوء اھ افھم ان لولم یتحرک لم یجوز ۱؎ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اور جامع الرموز میں مجتبیٰ سے ہے اگر اس پانی میں لکڑی یابرف کے ٹکڑے ہوں اوروہ پانی کو حرکت دینے سے متحرک ہوتے ہوں تو اُس سے وضو جائز ہے،اس کامطلب یہ ہے کہ اگر متحرک نہ ہو تو وضو جائز نہیں واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ جامع الرموز    بیان المیاہ    مطبع الاسلامیہ گنبد ایران    ۱/۴۸)
مسئلہ ۳۴: از شہر مدرسہ اہلسنّت مسئولہ مولوی محمد طاہر صاحب رضوی متعلم مدرسہ اہلسنت     ۹رجب المرجب ۱۳۳۰ھ۔
سوال اول:حوض دہ در دہ میں اگر کوئی شخص تھوک یارینٹھ ڈالے یاپاؤں اُس کے اندر ڈال کر دھوئے یا وضو اس طرح کرے کہ تمام غسالہ اس میں گرتا جائے تو آیاان سب صورتوں میں وہ حوض پاک رہے گا یا نہیں،برتقدیر ثانی اگر کوئی نجس سمجھے تواس کاکیا حکم ہے؟
الجواب: ان سب صورتوں میں وہ حوض پاک ہے اور اسے نجس سمجھناجہالت اوراگر کوئی شخص مسئلہ بتانے کے بعد بھی اصرار کرے توسخت گنہگارہوامگر حوض میں تھوکنے یاناک صاف کرنے سے احتراز لازم ہے کہ یہ افعال باعث نفرت ہیں اوربلاوجہ شرعی نفرت دلاناجائز نہیں قال صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم بشر وا ولا تنفروا ۲؎ واللّٰہ تعالٰی اعلم 

حضور پاک نے فرمایا:اچھی خبر سناؤ نفرت نہ پھیلاؤ۔ واللہ تعالٰی اعلم (ت)
 (۲؎ صحیح بخاری    اصح المطابع کراچی        ۱/۱۶)
سوال ۳۵(۲):ایک تالاب دہ در دہ میں تمام محلہ کے چوبچوں پاخانوں نالیوں وغیرہ کانجس پانی آکر جمع ہوتاہے بلکہ بھنگی اُس میں میلے کی ڈھلیان بھی ایام برسات میں ڈالاکرتے ہیں اوربعض اوقات لوگ اس کے کنارے پاخانہ پیشاب بھی پھرتے ہیں کہ اُس میں بہہ کرجاتاہے توآیا ایسے تالاب میں کپڑے نجس دھونے سے پاک ہوں گے یا نہیں اور اُس تالاب کو حکم پاکی کا دیا جائے گا یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب: اگر ان نجاستوں کے گرنے سے پہلے اُس میں دہ در دہ پانی تھااُس کے بعد گریں اوراُن کے گرنے سے اُس کارنگ یامزہ یا بُو متغیر نہ ہوااور کپڑا دھونے میں عین نجاست کپڑے پر نہ لگ آئی تو کپڑاپاک ہوگیا ورنہ نہیں واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۶: از شہر محلّہ بہاری پور مسئولہ نواب مولوی سلطان احمد خان صاحب     ۲۸ ذیقعدہ ۱۳۳۰ھ

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ مریض کو دواءً ایسے پانی سے وضو یا استنجا کرنا جس میں کوئی دوسری شے جوش دی گئی ہو جس سے پانی کا نام پانی نہ رہے جائز ہے یا نہیں یعنی اس سے طہارت حاصل ہوگی بوجہ اس ضرورت کے یا ضرورت پر لحاظ نہ ہوگا بینوا توجروا۔
الجواب :استنجاء(۱) تو یقینا جائز ہے کہ اُس میں مائے مطلق بلکہ پانی ہی شرط نہیں ہرطاہر قالع مزیل سے ہوجاتا ہے مگر وضو جائز نہ ہوگا (اُن چیزوں سے)
لکمال الامتزاج بالطبخ کالمرق ولزوال اسم الماء کالنبیذ۔
جو پکانے سے ایک جان ہوجائیں جیسے شوربا یا اس کو پانی نہ کہا جائے جیسے نبیذ۔ (ت)
وضو میں لحاظ ضرورت کی کیاحاجت اگر مائے مطلق سے وضو مضر ہو تمیم کرلے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۷: ازموضع سرنیان مسئولہ امیر علی صاحب قادری    ۱۱ جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید دریافت کرتا ہے کہ میرے موضع میں چند تالاب ہیں اُن تالابوں کے پانی سے غسل اور وضو،پینا،کپڑے دھوناکیسا ہے کیونکہ اکثر مویشی ہنودومسلمان ہر ایک نہاتے ہیں استنجابڑا ہر ایک قوم وہاں پاک کرتی ہے اور کبھی چمار بھنگی بھی نہاتے ہیں اور اتفاقیہ سؤر پانی پی جائے یا نہائے کبھی یہ تالاب مقید رہتے ہیں اور کبھی اُن کے اندر ہو کر ندی سے نہر جاری ہوجاتی ہے اُس کی تشریح یوں ہے:
2_1.jpg
کسی وقت میں اس سے زیادہ بھی پانی ہوجاتاہے اور کبھی کچھ کم اوراگر ندی سے پانی آجائے اور راستہ میں نہر میں 

کچھ غلیظ ہو توکیا حکم ہے اور بستی کے قریب چنداورتالاب ہیں اوران کاپانی رنگ بدلے ہوئے رہتاہے اکثر ہنود تک اُس پانی سے نفرت کرتے ہیں برسات میں بھی صاف طور پر نہیں ہوتاہے لمبائی چوڑائی گہرائی بھی بہت مگرپانی صاف نہیں ہے دیگر شہر سے نالہ کاپانی ندی میں آکر گرتاہے اور ندی کاپانی کچھ تھوڑا مخلوط ہوتاہے دیکھنے میں اکثرپیشاب کی صورت معلوم ہوتاہے ایسے پانی سے اکثر لوگ نہاتے اور دھوبی کپڑے دھوتے ہیں اکثر وضو کرتے ہیں تو اس پانی کیلئے کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب ان سب باتوں کاجواب یہ ہے کہ جس پانی کی سطح بالاکی مساحت سوہاتھ ہو مثلاً دس دس ہاتھ لمبا چوڑایا بیس ہاتھ لمباپانچ ہاتھ چوڑا یا پچیس ہاتھ لمبا چار ہاتھ چوڑا وعلی ہذ القیاس اورگہرا اتناکہ لپ سے پانی لے توزمین نہ کھل جائے وہ پانی نجاست کے پڑنے یانجاست پر گزرنے سے ناپاک نہیں ہوتاجب تک نجاست کے سبب اُس کارنگ یامزہ یا بُو نہ بدل جائے اگر نجاست کے سوا اور کسی وجہ سے اُس کے رنگ یا بُو یا مزے یا سب میں فرق ہو توحرج نہیں اوراعتبار پانی کی مساحت کاہے نہ تالاب کی۔تالاب کتنا ہی بڑاہواگر گرمیوں میں خشک ہو کر اُس میں سو ہاتھ سے کم پانی رہے گا اور اب اُس سے کوئی استنجا کرے یاکتا وغیرہ ناپاک منہ کاجانور پئے توناپاک ہوجائے گایوں ہی برسات کابہتا ہواپانی آیااوراُس میں نجاست ملی تھی تو جب تک بَہ رہاہے اورنجاست سے اُس کا رنگ بُو مزہ نہیں بدلا پاک ہے اب جو وہ کسی تالاب میں گر کر ٹھہرا اور ٹھہرنے کے بعد سو ہاتھ سے مساحت کم رہی اور نجاست کاکوئی جُز اُس میں موجود ہے تو اب سب ناپاک ہو گیا اور اگر سو ہاتھ سے زیادہ کی مساحت میں ٹھہراتو پاک ہے ناپاک نالے کاپانی ندی میں آکر گرااور اس سے ندی کے پانی کا رنگ یامزہ یابوبدل گئی ناپاک ہوگیا ورنہ پاک رہا واللہ تعالٰی اعلم
 (عہ۱ )فائدہ:شرعی گزمیں یہی انگل معتبرہیں جن کے چوبیس اٹھارہ انچ کے برابرہیں ایک ہاتھ مربع کی مساحت مختلف پیمانوں سے اس جدول میں ہے:
2_2.jpg
ایک ہاتھ مربع میں ان پیمانوں کے حصے

نمبری گز

۴/۱ گز

انچ

۳۲۴ انچ

فٹ

۲ فٹ

انگل

۵۷۶ انگل

گرہ

۶۴ گرہ

اب جتنے ہاتھ کا رقبہ لیا جائے اُن سب پیمانوں سے اس کی مقدار یہیں سے ظاہر ہوگی مثلاً دہ در دہ کیلئے ان مقادیر کو ۱۰۰ میں ضرب کرو تو گز ۲۵ ہوئے اور فٹ سوا دو سو علی ہذا القیاس،یہاں سے حساب مذکور سوال کی غلطی کا اندازہ ہو سکتا ہے وہ دہ در دہ حوض اس صحیح پیمانے سے ۳۲۴۰۰انچ ہوگااور جو ہاتھ سترہ انچ ہے اس سے سو ہاتھ صرف اٹھائیس ہزار نو سو (۲۸۹۰۰) انچ ہوگا ساڑھے تین ہزار انچ کافرق پڑے گا جس کے چار ہزار چھ سو چھیاسٹھ انگل اور دو تہائی ہوئے نہ کہ صرف اٹھاون،اور جوہاتھ ۰۱۷ انچ ہے اس سے سو ہاتھ تیس ہزار پانچ سو پچیس انچ ہوگاپونے انیس سو انچ کم جس کے ڈھائی ہزارانگل ہوئے نہ کہ فقط چھتیس وقس علیہ ۱۲(م)

مسئلہ ۳۸: مسئولہ حافظ محمد قاسم صاحب ازعدن کیمپ محلہ مسکین باڑہ۷ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک حوض ہے جو بعض لوگوں کے چھ قبضہ یعنی چوبیس۲۴ انگلیوں سے دہ در دہ سے چھیالیس۴۶ انگل زیادہ ہے اور یہ چوبیس۲۴ انگلیاں سترہ۱۷ انچ کے برابر ہیں اور جن لوگوں کی چوبیس۲۴ انگلیاں ساڑھے سترہ۲/۱ -۱۷ انچ ہیں اُس سے دہ در دہ سے چوبیس۲۴ انگلیاں زیادہ ہیں اور جن لوگوں کی چوبیس۲۴ انگلیاں اٹھارہ۱۸ انچ کی برابر ہیں اُس سے دہ در دہ بارہ انگل کم ہے اور اس کے بیچ میں ایک ستون ہے جس کا طول وعرض ایک ایک فٹ ہے کیاایسے حوض میں سے وضو کرنا جائز ہے یا نہیں اور نجاست پڑنے سے اس کا پانی نجس ہوگا یا نہیں؟ تمام کتابوں کے حوالہ سے جواب دیا جائے اور علماء کے مُہر ودستخط بھی ہونا چاہئیں اس کے بارہ میں یہاں سخت فساد ہے اکثر لوگ اس سے وضو کرنا جائز نہیں سمجھتے جو لوگ اس سے انکار کرتے ہیں ان کا شرعاً کیا حکم ہے اس مسئلہ کا جواب باعتبار مذہب حنفی ہونا چاہئے، حوض کی شکل عہ۱ یہ ہے:
2_3.jpg
حوض کی شکل :؎

گہرائی حوض کی ۳ فٹ ۶ انچ۔

الجواب

ذواربعۃ(عہ۲ )الاضلاع ا ب ج د میں قطر ا ج وصل کیا تو مثلث ا د ج میں حسب بیان سائل ضلع ا د ۱۸۹ انچ ہے اور ضلعء ج ۱۶۶ مسطح ۳۱۳۷۴ اور مثلث۱ب ج میں ضلع اب ۱۵۹ ہے اور ضلع ب ج ۱۹۸ مسطح ۳۱۴۸۲ مجموع ۶۲۸۵۶جن کا نصف ۳۱۴۲۸ یہ اس حوض کی مساحت تقریبی ہوئی اور دہ در دہ کیلئے ۳۲۴۰۰ انچ درکا رہیں تو یہ ۹۷۲ انچ کم ہوا، لہٰذا (عہ۱ )مائے قلیل ہے ایک قطرہ نجاست سے سب ناپاک ہوجائیگا،رہا اس میں وضو کرنا اگر ہاتھ یا پاؤں کوئی عضو بے دُھلا اس میں نہ ڈالا جائے تو وضو جائز ہے اگرچہ غسالہ اس میں گرے جب تک مائے مستعمل اس کے پانی پر غالب نہ ہوجائے ھو الصحیح مگر بے دُھلا کوئی عضو اگرچہ ایک پورا یا ناخن بلا ضرورت اس سے مس کرے گا تو سارا پانی قابلِ وضو نہ رہے گا بناء علی الفرق بین الملاقی والملقی کماحققناہ فی رسالتنا النمیقۃ الانقی واللّٰہ تعالٰی اعلم (ملاقی اورملقی میں فرق کی تحقیق اپنے رسالہ النمیقۃ الانقی میں کی ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ ت)
 (عہ۱ )جس میں زاویہ د قائمہ ہے ۱۲ (م)

(عہ۲ ) آسانی عمل وقلت تفاوت کے سبب یہ تقریب کی گئی اور تحقیق یہ ہے کہ مثلث ادح جبکہ قائم الزاویہ ہے اس کی مساحت وہی ۳۱۳۷۴ کی نصف ۱۵۶۸۷ انچ ہوئی، رہا مثلث ا ب ح اولاً مقدار قطر اح معلوم کی یوں کہ دح ۱۶۶ کا مربع ۲۷۵۵۶ ہے اور اع ۱۸۹ کا مربع ۳۵۷۲۱ مجموعہ ۶۳۲۷۷، لوگارثم ۸۰۱۲۴۵۹ ع ۴ نصف ۴۰۰۶۲۳۰ء ۲ یہ لوگارثم قطر ہواعدد ۵۴۹ء ۰۲۵۱ انچ یہ قدر قطر ہوئی لاجرم مثلث میں زاویہ احادہ ہے
2_4.jpg
اج پر ب سے عمود ب ھ اتارا، پس بحکم شکل ۱۳مقالہ دوم اقلیدس مربع ب ح چھوٹاہے مجموع مربعین ا ب ا ح سے بقدردوچند مسطح ا ح ا ھ د ا ب ۱۵۹ کا مربع ۲۵۲۸۱+ مربع اح ۶۳۲۷۷ = ۸۸۵۵۸ جس میں سے ب ح ۱۹۸ کامربع ۳۹۲۰۴ کم کیا باقی ۴۹۳۵۴ نصف ۲۴۶۷۷ یہ اح اھ کا مسطح ہے اس کے لوگارثم ۳۹۲۲۹۲۴ ء۴ سے لوقطر ۴۰۰۶۲۳۰ء۲ کم کیاباقی لو اھ ۹۹۱۶۶۹۴ء ا عدد ۱۰۰۱ء ۹۸ یہ مقدار اھ ہوئی اس کے مربع ۶۲۹۳ ء ۹۶۲۳ کو مربع وتر قائمہ اب ۲۵۲۸۱سے تفریق کیاباقی ۳۷۰۴ ء ۱۵۶۵۷ یہ مربع عمود ہوا اس کا لوگارثم ۱۹۴۷۱۸۸ء۴ نصف ۹۷۳۵۹۴ء۲ لوعمود ہے اسے قاعدہ یعنی قطر ۱ ح کے لوگارثم مذکور میں جمع کیا۴۹۷۹۸۲۴ہوااس سے ۱۸۱۰۳۰۰ء۰ کم کیا کہ مساحت مثلث نصف مسطح عمود وقاعدہ ہے باقی ۱۹۶۹۵۲۴ء۴عدد ۱۰۵ء ۱۵۷۳۸ انچ مساحت مثلث ا ب ح ہوئی اسے مساحت مثلث اول میں جمع کرنے سے مساحت حوض ۳۱۴۲۵ انچ ہوئی حساب تقریبی سے صرف تین انچ کم توحوض دہ در دہ سے ۵ ۹۷ انچ کم ہے جن کے تیرہ سو انگل ہوئے نہ صرف بارہ جو سوال میں ہے۔

فائدہ:حوض کازاویہ ح حادہ سے اس لئے کہ مثلثۃ ب ھ ح قائم الزاویہ ہیں ب ح: ع :: ب ھ:جیب ب ح ھ:۔ لوعمود ۰۹۷۳۵۹۴ء۲*لوب ح ۲۹۶۶۶۵۱۱ء۲= ۶۹۴۲ ۸۰۰ء۹ کہ لوجیب ۳۴ء۳۹۱۱۴۳ہے اور مثلث ا د ح قائم الزاویہ ہیں ا ح:ع::ا د:جیب ا ح د ÷ لواء ۲۷۶۴۶۱۸، ۲لوقطر ۴۰۰۶۲۳۰ ء۲=۸۷۵۸۳۸۸ء۹ کہ لوجیب ۹۴ء ۴۸۴۲۲۴ ہے مجموع زاویتین ۴۸ء۵۰۷۵۴۸ مقدار زاویہ ح ہے اور اگر یہ بھی قائمہ ہوتا تو امر آسان تر تھا ب ح پر اسے عمود ا ھ نکالا کہ بحکم موازات جء کے برابر ہوا اور ھ ح ::اع تو مستطیل ھ ع ۱۸۹*۱۶۶=۳۱۳۷۴ اور مثلث ب ھ ا قائم الزاویہ ہیں ب ھ = ۱۹۸- ۱۸۹ مجموعہ مثلث ومستطیل ۳۲۱۲۱ مگر یہ حسب بیان سائل محال ہے کہ ا ب کو ح ء سے اقصر بتایا ہے تو ضرور ہے کہ ب ح موازی ا ع نہ ہو واللہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ (م)

عہ۱ گز شرعی کہ چوبیس انگل ہے ایک ہاتھ یا ڈیڑھ فٹ ہے جس کے ۱۸ انچ ہوئے اور اس ذراع سے خود سوال میں دہ در دہ سے کم ہونا مذکور مگر وہ نہایت مختل وناصواب تھا لہٰذا ازسرِنو محاسبہ کیا ۱۲ (م)
2_5.jpg
Flag Counter