| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
اقول ؛ وھوحساب حق صحیح لاغبارعلیہ اخذ فیہ عشرا فی عشر بذراع ھو سبع قبضات وثمانیا فی ثمان بذراع ھو ثمان قبضات وثلث اصابع وبین مساواۃ ضلع لضلع فانہ علی کل سبعون قبضۃ کما بین او مائتان وثمانون اصبعا لان الاول ثمان وعشرون اصبعاوالثانی خمس وثلثون واذا ضربت الاول فی عشرۃ والثانی فی ثمانیۃ اتحد الحاصل وھو ۲۸۰ ومساواۃ الضلع للضلع یوجب بالضرورۃ مساواۃ المربع للمربع لکن السید ش رحمہ اللّٰہ تعالٰی رد علی الدر بقولہ کانہ نقل ذلک عن القھستانی ولم یمتحنہ وصوابہ فیکون عشرا فی ثمان وبیان ذلک ان القبضۃ اربع اصابع واذا کان ذراع زمانھم ثمان قبضات وثلاث اصابع یکون خمسا وثلاثین اصبعاً واذا ضربت العشر فی ثمان بذلک الذراع تبلغ ثمانین فاضربھا فی خمس وثلاثین تبلغ الفین وثمان مائۃ اصبع وھی مقدار عشر فی عشر بذراع الکرباس المقدر بسبع قبضات لان الذراع حینئذ ثمانیۃ عہ۱ وعشرون اصبعا والعشر فی عشر بمائۃ فاذا ضربت ثمانیۃ وعشرین فی مائۃتبلغ ذلک المقدار واما علی ماقالہ الشارح فلا تبلغ ذلک لانک اذا ضربت ثمانیا فی ثمان تبلغ اربعاً وستین فاذا ضربتھا فی خمس وثلاثین تبلغ الفین ومائتین واربعین اصبعا وذلک ثمانون ذراعا بذراع الکرباس والمطلوب مائۃ فالصواب ماقلناہ فافھم ۱؎ اھ اشار بقولہ فافھم الی الرد علی ط کدابہ المذکور فی صدرکتا بہ۔
میں کہتا ہوں،بلاشبہ یہ حساب صحیح ہے،اس میں دہ دردہ کو اختیار کیا گیا ہے، ایک ذراع کے لحاظ سے جو سات مشت ہو،اورآٹھ درآٹھ کو ایسے ذراع کے ساتھ جو آٹھ مشت تین انگلی ہو،اور ایک ضلع کادوسرے ضلع کے مساوی ہونابیان کیا کیونکہ یہ ہر قول پر ستّر مشت ہوگاجیسا کہ بیان کیا،یادو سو اسی۲۸۰انگشت کیونکہ پہلااٹھائیس انگشت ہے اوردوسراپینتیس انگشت اور جب پہلے کو دس میں اور دوسرے کو آٹھ میں ضرب دیا جائے تو دونوں کا حاصل ایک ہی ہوگا یعنی دو سو اسی،اورایک ضلع کی مساواۃ دوسرے ضلع سے ایک مربع کی مساواۃ دوسرے مربع سے بالبداہۃ ثابت کرتی ہے لیکن سید "ش" نے در پر اپنے اس قول سے رد کیا،غالباًانہوں نے یہ قہستانی سے نقل کیاہے اور اس کو بغور دیکھا نہیں، صحیح یہ ہے کہ'' یہ ہوجائیگا دس ضرب آٹھ،اوراس کی تشریح یہ ہے کہ ایک مشت چار انگشت ہوتی ہے،اور ان کے زمانہ کاذراع آٹھ مشت تین انگشت تھا،اس طرح پینتیس انگشت ہوئیں اور جب دس کو آٹھ میں اس ذراع کے حساب سے ضرب دی جائے تو حاصل اسّی ہوتا ہے،پھر اس کو پینتیس سے ضرب دی جائے تو حاصل دو ہزار آٹھ سو انگشت ہوگا،اوریہی مقدار دہ در دہ کی ہے کرباس کے گز سے ،جس کی مقدارسات مشت بتائی گئی ہے، کیونکہ اس صورت میں ذراع اٹھائیس انگشت ہوگا،اور دس ضرب دس سو ہے، تو جب اٹھائیس کو سو میں ضرب دیں تو وہی حاصل ہوگا،اور بقول شارح یہ ماحصل نہیں ہوگا،کیونکہ جب آٹھ کو آٹھ میں ضرب دیں تو چونسٹھ حاصل ہوگا،اورجب ان کو پینتیس میں ضرب دی جائے تو دو ہزار دو سو چالیس انگشت ہوئی،اور ذراع کرباس سے یہ اسی۸۰ ذراع ہوتے ہیں،جبکہ مطلوب سو۱۰۰ ہیں، توصحیح وہی ہے جو ہم نے کہا فافہم اھ فافہم سے ط پر ردکی طرف اشارہ ہے یہ ان کامعروف طریقہ ہے جو انہوں نے اپنی کتاب کے شروع میں اختیار کیا۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۴۴)
عہ۱ کذا فی ش والا صوب ثمان بالتذکیر اھ منہ (م) شامی میں اسی طرح ہے اور بہتر تذکیر کے ساتھ ثمانٌ ہے۔ (ت)
اقول: وھو کلہ زلۃ نظر منہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی اصاب فی حرفین الاول ان ذراع زمانھم خمس وثلثون اصبعاوالاٰخر ان ذراع الکرباس المقدربسبع قبضات ثمان وعشرون وماسوی ذلک کلہ سہوصریح فاولاماکان(۱) عشرافی ثمان بذراعھم لایکون الفین وثما ن مائۃ بل ثمانیۃ وتسعین الف اصبع بتقدیم التاء لان ۳۵ فی ۱۰ ثلثمائۃ وخمسون وفی ۸ مائتان وثمانون و۳۵۰ *۲۸۰ =۹۸۰۰۰
میں کہتا ہوں یہ اُن سے لغزش ہوئی ہے دو حروف تو صحیح ہیں،پہلا تو یہ کہ ان کے زمانہ کا ذراع پینتیس انگشت تھا،اور دوسرا یہ کہ کرباس کے گز کی مقدار سات مشت کے حساب سے اٹھائیس ہے،اس کے علاوہ جو کچھ کہا وہ صریح سہو ہے۔اولاً دس کو آٹھ میں ضرب دینے سے دو ہزار آٹھ سو نہیں آتے بلکہ اٹھانوے ہزار انگشت بتقدیم التاء،اس لئے کہ ۳۵ ضرب ۱۰ = ۳۵۰اور ۳۵ ضرب آٹھ ۲۸۰ ہوئے،اور ۳۵۰ * ۲۸۰ = ۹۸۰۰۰ ہوئے۔
وثانیا(۲)ماکان عشرا فی عشر بذراع الکرباس المذکور لایکون ایضا ۲۸۰۰ بل ثمانیۃ وسبعین الف اصبع بتقدیم السین واربعمائۃ لان ۲۸ فی ۱۰مائتان وثمانون ومربعھا۷۸۴۰۰ بنقص تسعۃ عشرالف اصبع وستمائۃ فکیف یستویان ،
ثانیا ذراع کرباس مذکور کے اعتبار سے دس ضرب دس ۲۸۰۰ نہیں بنتااٹھتر ہزار چارسو بنتا ہے یہ بتقدیم سین ہے ۔۔۔۔۔۔اس لئے کہ ۲۸ * ۱۰ دو سو اسّی۲۸۰ ہوئے اور ان کامربع ۷۸۴۰۰ ہوا،انیس ہزا چھ سو ۱۹۶۰۰ انگشت گھٹا کر، تو یہ دونوں کیسے برابر ہوسکتے ہیں؟
وثالثا(۱)ثمان فی ثمان بذراعھم لایکون الفین ومائتین واربعین بل مربع مائتین وثمانین لان کل ذراع ۳۵والطول۸۔۔ ۳۵ *۸ = ۲۸۰وکذلک العرض فالمسطح ۷۸۴۰۰ مثل عشر فی عشر بذراع الکرباس سواء بسواء کما قال الشارح والقھستانی وط ۔
ثالثا آٹھ ضرب آٹھ ان کے گز سے دو ہزار دو سو چالیس ۲۲۴۰ نہیں بنتے،بلکہ مربع دو سو اسّی ۲۸۰ کا بنتا ہے کیونکہ ہر ذراع ۳۵ انگشت ہے اور لمبائی ۸،اس لئے ۳۵*۸ = ۲۸۰ ہوا۔اوریہی حال چوڑائی کاہے تو مسطح ۷۸۴۰۰ مثل دہ دردہ کپاس کے گز سے بالکل برابر برابرہے جیساکہ شارح، قہستانی اور "ط" نے فرمایا۔
ورابعا(۲) مساحۃ ثمانین ذراعابذراع الکرباس لاتکون ۲۲۴۰ بل اثنین وستین الفا وسبع مائۃ وعشرین اصبعالان مساحۃ ذراع ماکان ذراعا فی ذراع وذلک مربع ۲۸ سبع مائۃ واربع وثمانون اصبعاو۷۸۴ *۸۰ = ۶۲۷۲۰ ومنشأ (۳) الخطأ فی کل ذلک انہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی لم یفرق بین الخط والسطح فحسب ان الطول یضرب فی العرض ومابلغ یضرب فی اصابع الذراع وھی خمس وثلثون اوثمان وعشرون اصبعافماحصل یکون مساحۃ الماء ولیس کذلک وانماھی مقدارالاصابع فی خط قدرذراع اماالسطح قدر ذراع فاصابعہ مربع ذلک وھی الف ومائتان وخمس وعشرون اصبعاعلی الاول وسبع مائۃ واربع وثمانون علی الثانی فذلک یضرب فی ۶۴ یکن ثمانیافی ثمان بالاول وھذا یضرب فی ۱۰۰یکن عشرافی عشربالثانی وظاھران ۱۲۲۵*۶۴ و ۷۸۴*۱۰۰ کلاھما۷۸۴۰۰وھوالمطلوب وان اردت عشرا فی ثمان بالاول فاضرب ۱۲۲۵ فی ۸۰ یکن ۹۸۰۰۰وان اردت مساحۃ ثمانین ذراعابالثانی فاضرب ۷۸۴ فی ۸۰ یکن ۶۲۷۲۰فاتضح ماقلنامع کونہ غنیاعن الایضاح وان شئت(۱)المزید فلاحظہ فی ماھو ذراع فی ماذراع فان واحدا فی واحد واحد فاضربہ علی طریقۃ السید فی اصابع الذراع تبق کماھی وھی بعینھااصابع طرف فطرف الشیئ ساوی الشیئ فی المقداروھومحال بالبداھۃ بل ھناالمقدارحاصل الکل طرف فمجموع خطوط الاطراف الاربعۃ اربعۃ امثال السطح کلہ فطرف الشیئ اضعاف الشیئ وای محال ابعد منہ۔
رابعاً کرباس کے گز سے اسّی گز کی پیمائش ۲۲۴۰ نہیں بنتی ہے بلکہ باسٹھ ہزار سات سو بیس انگشت ہے،اس لئے کہ ایک ذراع کی پیمائش وہ ہے جو ذراع در ذراع ہو اور یہ ۲۸ کا مربع ۷۸۴ انگشت ہے اور ۷۸۴*۸۰ = ۶۲۷۲۰ ہے اور اس تمام بحث میں غلطی کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے خط اور سطح میں فرق نہیں کیا ہے،اور اس طرح حساب کیاکہ لمبائی کو چوڑائی میں ضرب دی اورجو حاصل آیا اس کو ذراع کی انگلیوں میں ضرب دی اور وہ پینتیس۳۵ یااٹھائیس۲۸ انگلیاں بنتی ہیں اور جو حاصل ہواوہ پانی کی پیمائش قرار دی،حالانکہ بات یہ نہیں ہے،یہ تو ان کی انگلیوں کی مقدار ہے جو خط میں ذراع کی مقدارہو اوروہ سطح جو ذراع کی مقدارہو تو اس کی انگلیاں اس کا مربع ہوگا اور وہ ایک ہزار دو سو پچیس انگلیاں ہیں پہلے قول پراور دوسرے قول پر ۷۸۴ ہیں،اس کوچونسٹھ میں ضرب دی جائے گی تو یہ ۸*۸ بنے گاپہلے قول پر،اب اس کو ضرب دی جائے گی۱۰۰ میں تویہ ۱۰*۱۰ ہوگادوسرے قول پر،اور ظاہر ہے کہ ۱۲۲۵*۶۴ اور ۷۸۴*۱۰۰ دونوں ہی ۷۸۴۰۰ ہیں اوریہی مطلوب ہے،اور اگرآپ پہلے قول پر دس کو آٹھ میں ضرب دیں تو ۱۲۲۵ کو ۸۰ میں ضرب دیں تو ۹۸۰۰۰ ہوگا،اور اگر اسی ۸۰ گز کی پیمائش دوسرے قول کے مطابق ہو تو ۷۸۴ کو ۸۰ میں ضرب دیں توحاصل ۶۲۷۲۰ آئے گا،تو جو ہم نے کہاوہ واضح ہوگیا اور اگر مزید وضاحت درکارہو تو ایک ذراع ضرب ذراع کو دیکھیں کیونکہ ایک ضرب ایک ایک ہی ہوتا ہے،اب سید کے طریقہ کے مطابق اس کوہاتھ کی انگلیوں میں ضرب دیجئے تووہ جتنی ہیں اتنی ہی رہیں گی،اوریہی بعینہٖ ایک طرف کی انگلیاں ہیں تو گویاایک چیز کی طرف اس چیز کے مساوی ہوگئی مقدار میں اور یہ بداہۃً محال ہے بلکہ یہاں پروہ مقدارجو کل کاحاصل ہے ایک طرف ہے تو چاروں اطراف کے خطوط کامجموعہ پوری سطح کاچارگنا ہوجائے گا تو لازم آئے گا کہ شیئ کا طرف اس سے کئی گنا بڑھ جائے اور اس سے زیادہ بعید محال اورکون ساہوگا۔(ت)
بالجملہ یہاں تین قول ہیں اور ہر طرف ترجیح وتصحیح اقول مگر قول ثالث درایۃً ضعیف اوراس کا لفظ ترجیح بھی اُس قوت کا نہیں اور قول دوم اگرچہ اقیس ہے اوراُس کی تصحیح امام قاضی خان نے فرمائی جن کی نسبت علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ان کی تصحیح سے عدول نہ کیاجائے کہ وہ فقیہ النفس ہیں کما ذکر العلامۃ شامی فی ردالمحتار وغیرہ فی غیرہ مگر قول اول کی طرف جمہور ائمہ ہیں اور عمل اسی پر ہوتا ہے جس طرف جمہور ہوں کما فی ردالمحتار والعقود الدرایۃ وغیرھما اوراُس کالفظ تصحیح سب سے اقوی کہ علیہ الفتوی بخلاف قول دوم کہ اس میں لفظ صحیح ہے اورسید طحطاوی کی اُس پر حکایت فتوی معلوم ہولیاکہ سہو صریح ہے پس جو زیادہ احتیاط چاہے مساحت آب کثیر میں گز مساحت کا اعتبار کرے کہ ساڑھے تین فٹ اور ہمارے گز سے سدس اوپرساڑھے اٹھارہ گرہ کاہے جس کادس گز ہمارے گز سے ۱۱ گز 1۱- ۲2/۳3 گرہ ہواتواس کی پیمائش کادَہ در دَہ ہمارے گز سے ایک سو چھتیس گز ایک گرہ اور ۹/۷ گرہ ہو اور نہ وہی چوبیس انگل کاگزخود معتمد وماخوذہے جس کا دہ در دہ ہمارے گز سے پچیس ہی گز ہوااور اُس کے اعتبار میں اصلاً دغدغہ نہیں کہ وہی مفتی بہ ہے اوروہی قول اکثر اور اسی میں یسر وآسانی بیشتراورمقدار دَہ در دَہ کا اعتبار بھی خود رفق وتیسیر کی بنا پر ہے کما لایخفی واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۳: ازپیلی بھیت مدرسۃ الحدیث مرسلہ جناب مولانا وصی احمد صاحب محدث سورتی دام فضلہ ۱۸ جمادی الاولیٰ ۱۳۲۶ ھ۔
ایک حوض دہ در دہ ہے اس میں طاق ڈال کر بارہ تھم قائم کیے ہیں اب کُل تھموں کے عرض کو جو حساب کرتے ہیں تو چھ گز ہوتے ہیں اس سے حوض کبیر ہونے میں خلل ہے کہ نہیں بینوا تُؤجروا
الجواب: علمائے کرام نے خفیف(۱) وباریک اشیاجیسے نرکل یاکھیتی کے پٹھوں کاحائل ہونامعاف رکھاہے مگر ستون کہ چھ۶ گز سطح گھیریں جن سے وہ پانی کہ سوہاتھ تھابہت گھٹ گیاضرور دہ در دہ نہ رکھیں گے جیسے برف کہ پانی پر جابجاجم کر قطعے قطعے ہوجائے اورکثیر ہوکہ پانی کے جنبش دینے سے جنبش نہ کرے وہ حوض آب قلیل ہوجائے گا،
عالمگیریہ میں ہے: لوتوضأ فی اجمۃ القصب اومن ارض فیھازرع متصل بعضھاببعض ان کان عشرافی عشر یجوزواتصال القصب بالقصب لایمنع اتصال الماء بالماء ۱؎ کذا فی الخلاصۃ وان کان الجمد علی وجہ الماء قطعا قطعاان کان کثیرالایتحرک بتحریک الماء لایجوز الوضوء بہ کذا فی المحیط ۲؎ اھ
اگر کسی نے نرکل کے جھنڈ میں یاگھنی کھیتی کی زمین میں وضو کیا تواگراس کا رقبہ دَہ در دَہ ہو توجائز ہے تو نرکل کانرکل سے متصل ہوناپانی کے پانی سے متصل ہونے میں مانع نہیں ہے،ایسا ہی خلاصہ میں ہے، اور اگر پانی پر جمی ہوئی برف ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی ہو، تو اگر اتنی زائد ہو کہ پانی کو حرکت دینے سے متحرک نہ ہو تو وضو اس سے جائز نہیں، کذا فی المحیط اھ
(۱؎ عالمگیری الماء الجاری نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۱۸) (۲؎ عالمگیری الماء الجاری نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۱۸)