| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
وفی الفتاوی الھندیۃ المعتبر ذراع الکرباس کذا فی الظھیریۃ وعلیہ الفتوی کذا فی الھدایۃ وھی ذراع العامۃ ست قبضات اربع وعشرون اصبعاکذا فی التبیین ۱؎ اھ
اورفتاوٰی ہندیہ میں ہے معتبر ذراع کرباس ہے،یہی ظہیریہ میں ہے اسی پر فتوٰی ہے، ہدایہ میں یہی ہے اور یہ عام گز ہے جو چھ مشت یعنی چوبیس انگشت کا ہوتا ہے یہی تبیین میں ہے،
(۱؎ ہندیۃ فصل فی الماء الراکد نورانی پشاور ۱/۱۸)
وفی جامع الرموز للفاضل القہستانی اختلف فی الذراع ففی المحیط الاصح ذراع کل مکان وزمان وفی فتاوی قاضی خان الصحیح ذراع المساحۃ وھی سبع قبضات واصبع قائمۃ فی کل مرۃ کما فی الولوالجی اوالمرۃ السابعۃ کما فی الکرمانی اواصبع موضوعۃ فی کل مرۃ کما فی سیرالمضمرات وفی النھایۃ الصحیح ذراع الکرباس وھی سبع قبضات کل قبضۃ اربع اصابع وھو المختار کما فی الکبری ۲؎
فاضل قہستانی کی جامع الرموز میں ہے کہ ذراع میں اختلاف ہے، تو محیط میں ہے اصح یہ ہے کہ ہر زمان ومکان کا اپنا اپنا گز معتبر ہوگا،فتاوی قاضی خان میں ہے صحیح ذراع مساحۃ جو سات مشت کہ ہر مشت پر ایک انگلی کھڑی ہو جیساکہ ولوالجی میں ہے یاساتویں مشت پر کھڑی انگلی ہو جیساکہ کرمانی میں ہے یا ایک لیٹی ہوئی انگل ہر مرتبہ جیساکہ سیر المضمرات میں ہے اور نہایہ میں ہے صحیح ذراع کرباس ہے اور وہ سات مشت ہے، ہر مشت چار انگل ہے اور یہی مختار ہے جیساکہ کبری میں ہے،
(۲؎ جامع الرموز بیان المیاہ گنبد ایران ۱/۴۸۹)
وفی الدرالمختار للفاضل علاء الدین الحصکفی فی القہستانی والمختار ذراع الکرباس وھو سبع قبضات فقط ۳؎ وفی حاشیتہ للعلامۃ السید احمد الطحطاوی واما ذراع المساحۃ فسبع قبضات فوق کل قبضۃ اصبع قائمۃ ۴؎
اور فاضل علاء الدین حصکفی نے درمختار میں بیان فرمایا اور قہستانی میں ہے کہ پسندیدہ ذراع کرباس ہے اور وہ صرف سات مشت ہے، اور اس کے حاشیہ میں علامہ سید احمد طحطاوی نے فرمایا ذراع مساحۃ سات مشت ہے ہر مشت پر ایک کھڑی انگشت،
(۳؎ درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱/۳۶)(۴؎ طحطاوی علی الدر باب المیاہ بیروت ۱/۱۰۸)
وفی ردالمحتار للفاضل السید محمد امین الشامی قولہ والمختار ذراع الکرباس وفی الھدایۃ ان علیہ الفتوی واختارہ فی الدرر والظہیریۃ والخلاصۃ والخزانۃ وفی المحیط والکافی انہ یعتبر فی کل زمان ومکان ذراعھم قال فی النھر وھو الانسب قلت لکن ردہ فی شرح المنیۃبان المقصودمن ھذاالتقدیر غلبۃ الظن بعدم خلوص النجاسۃوذلک لایختلف باختلاف الازمنۃ والامکنۃ قولہ وھو سبع قبضات ھذا مافی الولوالجیۃ وفی البحران فی کثیر من الکتب انہ ست قبضات ۱؎ الخ اھ والمراد بالقبضۃ اربع اصابع مضمومۃ نوح اقول وھو قریب من ذراع الید لانہ ست قبضات وشیئ وذلک شبران ۲؎ انتھی ملخصا
اور سید محمد امین شامی نے ردالمحتار میں فرمایا ان کا قول والمختار ذراع الکرباس،اورہدایہ میں اسی پر فتوٰی ہے اور درر، ظہیریہ، خلاصہ، خزانہ میں اسی کو اختیار کیا ہے محیط اور کافی میں فرمایا کہ ہر زمان ومکان میں لوگوں کے گز کا اعتبار ہوگا، نہر میں ہے کہ یہی انسب ہے۔ میں کہتا ہوں اس کو شرح منیہ میں رد کیا ہے کہ مقصود اس تقدیر سے غلبہ ظن ہے اس امر کا کہ نجاست دوسری طرف نہیں گئی ہے،اوریہ چیز ایسی ہے کہ اس میں زمان ومکان کے اختلاف سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے،ان کا قول کہ وہ سات مشت ہے، یہ ولوالجیہ میں ہے، اوربحر میں ہے کہ بہت کتب میں چھ مشت ہے الخ اھ اور مشت سے مراد چار بندھی ہوئی انگلیاں ہیں،نوح۔میں کہتا ہوں یہ ہاتھ کے گز سے قریب ہے کیونکہ وہ چھ مشت اور تھوڑا زائد ہوتا ہے اور وہ دو بالشت ہوتا ہے انتہی ملخصا،
(۱؎ ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۴۴) (۲؎ ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۴۴)
وفی مراقی الفلاح للفاضل الشرنبلالی عشر فی عشر بذراع العامۃ ۳؎ انتھی مختصرا وفی حاشیتہ للفاضل الطحطاوی نقل صاحب الدر ان المفتی بہ ذراع المساحۃ وانہ اکبر من ذراعنا الیوم فالعشر فی العشر بذراعنا الیوم ثمان فی ثمان ۴؎ اھ
اورشرنبلالی کی مراقی الفلاح میں ہے کہ عام لوگوں کے گز سے دَہ در دَہ ہو،انتہی مختصرا۔اور فاضل طحطاوی کے حاشیہ میں ہے نیز صاحبِ در نے نقل کیا کہ مفتی بہ پیمائش والا گز ہے اور وہ ہمارے موجودہ گز سے بڑا ہے گویا آج کے اعتبار سے دَہ در دَہ آٹھ در آٹھ ہوا اھ۔ (ت)
(۳؎ مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ الامیریہ مصر ص۱۶) (۴؎ حاشیۃ الطحطاوی مع مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ الامیریہ مصر ص۱۶)
اقول فیہ سھوبوجوہ وذلک ان عبارۃ الدر بتمامھا ھکذا فی القھستانی والمختار ذراع الکرباس وھو سبع قبضات فقط فیکون ثمانیافی ثمان بذراع زماننا ثمان قبضات وثلاث اصابع علی القول المفتی بہ بالعشر ۵؎ اھ
میں کہتا ہوں اس میں کئی وجوہ سے سہو ہے کیونکہ در کی پوری عبارت اس طرح ہے ایسا ہی قہستانی میں ہے اور مختار کرباس کا گز ہے اور وہ صرف سات مشت ہوتا ہے تو ہمارے زمانہ کے گز کے اعتبار سے آٹھ ضربِ آٹھ، آٹھ مشت اور تین انگل ہوگا دس کے مفتی بہ قول پر اھ
(۵؎ درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱/۳۶)
فاولا(۱)صریح نصہ اختیار ذراع الکرباس دون المساحۃ وثانیا لیس(۱) فیہ ذکرالافتاء علی شیئ من تقادیر الذراع انما فیہ ان المفتی بہ ماعلیہ المتاخرون من تقدیرالکثر بعشر فی عشر(۲) وقد قال السید نفسہ فی حواشی الدر قولہ علی المفتی بہ ای الذی افتی بہ المتأخرون وقد علمت اصل المذھب ۱؎ اھ وثالثا من ابین(۳) سھوقولہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی انہ اکبر من ذراعنا وکیف تکون سبع قبضات اکبرمن ثمان واذکان(۴) عشر فی عشر بذاک ثمانیا فی ثمان بھذا فکل احد یعرف ان ھذا اکبر لاذاک ولا وجود(۵)لہ فی الدر ولا فی اصلہ القھستانی فلو قال رحمہ اللّٰہ تعالی نقل الدران المختار ذراع الکرباس وانہ اصغر الخ لاصاب ثم حساب الدر تبعا لاصلہ ان عشرا فی عشر کثمان فی ثمان بینہ السید ط بان العشرۃ فی سبعۃ بسبعین والثمانیۃ فی مثلہا باربعۃ وستین قبضۃ والثمانیۃ فی ثلثۃ (عہ۱) اصابع باربع وعشرین اصبعاو ھی ست قبضات فتمت سبعین قبضۃ ۲؎ اھ
اوّلاً انہوں نے صراحت کی ہے کہ ذراع کرباس لیا جائے گا نہ کہ ذراعِ مساحت۔ثانیاً اس میں ذراع کی مقدار کی بابت کسی مفتی بہ قول کا ذکر نہیں ہے اس میں صرف اتنا ہے کہ مفتی بہ قول متأخرین کا قول ہے، اور وہ یہ ہے کہ کثیر دہ در دہ کو کہتے ہیں، اور سید نے خود حواشی در میں فرمایا ان کا قول علی المفتی بہ، یعنی متأخرین کے مفتی بہ قول کے مطابق، اور اصل مذہب تو آپ کو معلوم ہو ہی چکا ہے۔ ثالثاً سب سے بڑا سہو اس میں یہ ہوا ہے کہ انہوں نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ ہمارے زمانہ کے گز سے بڑا گز ہے، اور سات مشت آٹھ مشت سے کیسے بڑا ہوسکتا ہے؟ اور جب دہ در دہ برابر ہے اس آٹھ در آٹھ کے، تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ بڑا ہے نہ کہ وہ،اور در میں یہ نہیں پایا جاتا ہے، اور نہ اس کی اصل قہستانی میں، اگر وہ یہ فرما دیتے کہ دُر نے یہ نقل کیا ہے کہ مختار کرباس کا گز ہے اور وہ چھوٹا ہوتا ہے الخ تو درست بات ہوتی، پھر در کا حساب اس کی اصل کی متابعت میں یہ ہے کہ وہ دہ در دہ ایسا ہے جیسا کہ آٹھ در آٹھ،اس کو سید ط نے یوں بیان کیا کہ دس ضرب سات ستّر ہوتے ہیں اور آٹھ ضرب آٹھ چونسٹھ ہوتے ہیں(یعنی اتنی مشت)اور آٹھ انگلیوں کو تین سے ضرب دیا جائے تو چوبیس انگلیاں ہوتی ہیں اور یہ چھ مشت ہوتی ہیں اس طرح ستر مشت پوری ہوئیں۔ (ت)
(عہ ۱)کذا فی ط والاصوب ثلث بالتذکیر اھ منہ (م) طحطاوی میں اسی طرح ہے اور ثلث بتذکیر ذکر کرنا زیادہ مناسب ہے۔ (ت)
(۱؎ طحطاوی علی الدرالمختار باب المیاہ بیروت ۱/۱۰۸) (۲؎ طحطاوی علی الدرالمختار باب المیاہ بیروت ۱/۱۰۸)