وفی فتح القدیرللامام المحقق علی الاطلاق قولہ بذراع الکرباس ھوست قبضات لیس فوق کل قبضۃ اصبع قائمۃ وھل المعتبر ذراع المساحۃ اوذراع الکرباس اوفی کل زمان ومکان ۲؎ حسب عاداتھم اقوال ،
فتح القدیرمیں ہے"بذراع الکرباس"یہ چھ مشت کاہوتا ہے،ہر مشت پر انگلی زائد نہ کی جائے، اب رہا یہ سوال کہ معتبر ذراع مساحۃ ہے یا ذراع کرباس ہے یا ہرزمانہ ومقام میں ان کی عادت کے مطابق ہے اس میں مختلف اقوال ہیں ،
(۲؎ فتح القدیر فصل فے البئر نوریہ رضویہ سکھر ۱/۷۰)
وفی الخانیۃ للامام فخرالدین رحمہ اللّٰہ تعالٰی یعتبر فیہ ذراع المساحۃ لاذراع الکرباس ھو الصحیح لان ذراع المساحۃ بالممسوحات الیق ۳؎
امام فخرالدین نے خانیہ میں ذراع مساحت کااعتبار کیاکرباس کانہیں یہی صحیح ہے اس لئے کہ مساحۃ کا ذراع ممسوحات کے زیادہ لائق ہے۔
(۳؎ فتاوٰی خانیۃ المعروف قاضی خان فصل فے الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱/۴)
وفی شرح المنیۃ للعلامۃ ابن امیر الحاج ھل المعتبر ذراع الکرباس اوذراع المساحۃ ذھب بعضھم الی الاول فی الھدایۃ وعلیہ الفتوی وفی شرح الزاھدی وھو المختار وذھب بعضھم الی الثانی قال قاضی خان ھو الصحیح لان ذراع المساحۃ بالممسوحات الیق، وفی فتاوی الولوالجی الحوض الکبیر لما کان مقدرا بعشرۃ اذرع فی عشرۃ اذرع فالمعتبر ذراع الکرباس دون المساحۃ وھی سبع مشتات ای سبع قبضات لیس فوق کل مشت اصبع قائمۃ لان ذراع المساحۃ سبع مشتات فوق کل مشت اصبع قائمۃ فالاول الیق للتوسع انتھی والمراد بالاصبع القائمۃ ارتفاع الابھام کما فی غایۃ البیان فظھران ذراع الکرباس اقصر من ذراع المساحۃ فبسبب ذلک وقع الترفیۃ للناس بالتقدیر بھا ونقلوا عن المحیط انہ یعتبر فی کل زمان ومکان ذراعھم وعلیہ مشی فی الکافی ۱؎ اھ
علامہ ابن امیر الحاج کی شرح منیہ میں ہے کہ آیا ذراع کرباس کا اعتبار ہے یا ذراع مساحۃ کا؟کچھ لوگ پہلے قول کی طرف گئے ہیں جیسا کہ ہدایہ میں ہے اور اسی پر فتوٰی ہے،اور شرح زاہدی میں ہے یہی مختار ہے،اور بعض نے دوسرے قول کو لیا ہے قاضیخان نے کہا کہ یہی صحیح ہے کیونکہ مساحۃ کا گزممسوحات کے زائد لائق ہے، اور فتاوٰی ولوالجی میں ہے کہ بڑا حوض جو دہ در دہ ہوتا ہے اور اس میں معتبر کرباس کا ذراع ہے نہ کہ مساحۃ کا اور وہ سات مشت ہے، جس میں ہر مشت پر ایک انگلی کا اضافہ نہ ہو، کیونکہ مساحۃکا گز سات مشت ہے جس میں ہر ایک مشت پر ایک کھڑی انگلی کا اضافہ ہو، تو پہلا آسانی سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے انتہی،اور کھڑی انگلی سے مراد انگوٹھے کی بلندی ہے، جیساکہ غایۃ البیان میں ہے تو معلوم ہواکہ ذراع کرباس ذراع مساحت سے چھوٹاہے تو اسی سبب سے تقدیر ذراع میں لوگوں کیلئے آسانی ہوئی اور محیط سے نقل کیا ہے کہ ہر زمانہ اور ہر جگہ کا الگ گز معتبرہوگا،اورکافی نے بھی یہی کہا ہے اھ
وفی الشرح الکبیر لابراھیم الحلبی المعتبر فی الذراع ذراع الکرباس وھو سبع قبضات فقط وھو اختیار الامام اسحٰق بن ابی بکر الولوالجی فی فتاوٰہ لانہ اقصر فیکون ایسرواختار قاضیخان فی فتاوٰہ ذراع المساحۃ وھو سبع قبضات باصبع قائمۃ فی القبضۃ الاخیرۃ وقیل فی کل قبضۃ قال قاضی خان لانہ یعنی الغدیر المقدرمن الممسوحات فکان ذراع المساحۃ فیہ الیق، وفی المحیط والاصح ان یعتبرفی کل زمان ومکان ذراعھم وتبعہ صاحب الکافی کصاحب النھر الفائق وغیرہ وھذا عجیب وبعید جدا الٰی اٰخر ۱؎ ماقال
اورابراہیم حلبی کی شرح کبیر میں ہے کہ معتبر ذراع کرباس ہے جو سات مشت ہوتا ہے فقط،اوراسی کو امام اسحٰق بن ابی بکر الوالجی نے اپنے فتاوٰی میں پسند کیا ہے،کیونکہ وہ چھوٹا ہوتا ہے تو اسی میں آسانی رہے گی اورقاضی خان نے اپنے فتاوٰی میں ذراع مساحۃ کو مختار کہاہے اور وہ سات مشت مع ایک کھڑی انگلی کے آخری مشت میں ہے اور بعض نے کہا کہ ہر مشت میں قاضی خان نے فرمایا یعنی تالاب جس کا اندازہ لگایا گیا ہے وہ ممسوحات سے ہے، تو اس میں ذراع مساحۃ سے اندازہ لگانا زائد مناسب ہوگا، اور محیط میں ہے اصح یہ ہے کہ ہر زمانہ اور ہر جگہ میں وہیں کا ذراع معتبر ہوگا،صاحب کافی اورصاحبِ نہرالفائق وغیرہ نے اس کی متابعت کی اور یہ بہت عجیب ہے اور نہایت بعیدہے،
(۰۱؎ غنیۃ المستملی فصل فی احکام الحیاض سہیل اکیڈمی لاہور ۱/۹۸۹)
وفی البحر الرائق للعلامۃ زین بن نجیم المصری اختلف المشائخ فی الذراع علی ثلثۃ اقوال ففی التجنیس المختار ذراع الکرباس واختلف فیہ ففی کثیر من الکتب انہ ست قبضات لیس فوق کل قبضۃ اصبع قائمۃ فھی اربع وعشرون اصبعا بعدد حروف لاالہ الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ والمراد بالاصبع القائمۃ ارتفاع الابہام کما فی غایۃ البیان وفی فتاوی الولوالجی ان ذراع الکرباس سبع قبضات لیس فوق کل قبضۃ اصبع قائمۃ وفی فتاوٰی قاضی خان وغیرہ الاصح ذراع المساحۃ وھو سبع قبضات فوق کل قبضۃ اصبع قائمۃ وفی المحیط والکافی الاصح انہ یعتبر فی کل زمان ومکان ذراعھم من غیر تعرض للمساحۃ والکرباس ۲؎
اور علامہ زین بن نجیم المصری کی بحرالرائق میں ہے کہ مشائخ کے ذراع کی بابت تین اقوال ہیں،تجنیس میں ہے کہ ذراع کرباس مختارہے،اوراس میں اختلاف ہے،کئی کتب میں ہے کہ یہ ایسی چھ مشت کے برابر ہے جن میں ہر مشت پر ایک کھڑی انگلی زائد نہ ہو تو گویا یہ چوبیس انگشت کے برابر ہے لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے حروف کی تعدادکے مطابق اور کھڑی انگلی سے مراد انگوٹھے کی بلندی ہے جیساکہ غایۃ البیان میں ہے اور فتاوٰی ولوالجی میں ہے کہ ذراع کرباس سات مشت بلاکھڑی انگلی کے اضافہ کے،اورفتاوٰی قاضی خان وغیرہ میں ہے اصح یہ ہے کہ مساحۃ کا گز سات مشت مع ایک کھڑی انگلی کے،اورمحیط اورکافی میں ہے کہ اصح یہ ہے کہ ہر زمان ومکان میں ان کا اپنا گز معتبر ہوگا، اس میں مساحۃ اور کرباس کا کچھ ذکر نہیں،
(۲؎ بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۶)