Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
63 - 176
والعلامۃ المقدسی انمایمیل الی التفرقۃ بین الحب والصہریج بالحرج البین فی تفریغ الصہاریج وغسلھاونشفہاکالبئربخلاف الزیروالیہ یشیرقولہ لاسیما الذی یسع الوفا اذا علمت ھذا فاعلم انالواقتصرنافی المسألۃ علی مازعمہ العلامتان قاسم والبحر وتبعہ کثیرممن جاء بعدہ من الاعلام ان المستعمل لیس الامالاقی البدن لم نحتج الی الامربنزح شیئ اصلالان الملاقی اقل بکثیرمن الباقی فالطھوریۃ لم تسلب حتی تُحلب لکنہ خلاف نصوص ائمۃ المذھب المنقول فی الکتب المعتمدۃ اجماعھم علیہ فوجب الرجوع الی المذھب واعتری ح الخلاف بین انہ کالبئر اوکالزیر فعملنابالایسرعندالحرج وبالجراء اوتفریغ الاکثرحیث لاحرج کی یصیر جاریا او المطلق اکثراجزاء،وباجماع یجزئ فی الطھور اجزاء،فھذاتحقیق ماعولناعلیہ،والحمدللّٰہ ومنہ والیہ،ھکذاینبغی التحقیق،واللّٰہ سبحنہ وتعالٰی ولی التوفیق، وماذکرنامن مسألۃ الاجراء فتحقیقہ فی ردالمحتار وقدذکرناہ فی مواضع من فتاوٰنا۔
اور علامہ مقدسی "حب" اور "صہریج"میں فرق کرتے ہیں،وہ فرماتے ہیں کہ صہاریج کو خالی کرنے میں بہت حرج ہوتاہے اسی طرح ان کو دھونا اور سکھانا بھی مشکل ہے جیسے کنواں، بخلاف "زیر" کے،اوراسی طرف انہوں نے اپنے اس قول سے اشارہ کیاہے کہ''خاص طورپر وہ جس میں ''وفا'' سما سکے،جب آپ نے یہ جان لیا تو اب معلوم ہونا چاہئے کہ ہم اگر مسئلہ میں علامہ قاسم اور بحر اور ان کے پیروکاروں کی طرح صرف اسی پراکتفاء کرتے کہ مستعمل صرف وہی ہے جو بدن سے ملاقی ہو،تو ہمیں کچھ پانی نکالنے کا حکم دینے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ جو ملاقی ہے وہ بہت ہی کم ہوتا ہے بہ نسبت باقی کے تو طہوریت اس وقت تک سلب نہ ہوگی جب تک کہ آزمایا نہ جائے لیکن یہ ائمہ مذہب کے نصوص کے خلاف ہے جو کتب معتمدہ میں منقول ہیں اوراسی پر اُن کا اجماع ہے تو مذہب کی طرف رجوع لازم ہے اور اس وقت اختلاف ظاہر ہوا ہے درمیان اس کے کہ آیا یہ کہ کنویں کی طرح ہے یا زیر کی طرح ہے اور ہم نے جو أیسر تھااس پر عمل کیاحرج کے جاری کرنے کے وقت اور اکثر کے خالی کرنے کا حکم اس جگہ دیا جہاں کوئی حرج نہ ہو، تاکہ وہ جاری ہوجائے یا مطلق کے اجزاء زیادہ ہوں اس کی طہوریت کیلئے اجماع کافی ہے یہ وہ تحقیق ہے جو ہم نے بیان کی۔ تمام تعریف اللہ کی اس سے اسی کیلئے ہے، تحقیق کو یہی لائق تھا،اللہ سبحان بلند توفیق کا والی ہے،ہم نے اجراء کے مسئلہ کی جو تحقیق بیان کی ہے وہی ردالمحتار میں ہے اپنے فتاوٰی میں ہم نے بہت جگہ ذکر کیاہے۔ (ت)
رہا زید کا کہنا کہ کوئی شخص متواتر داخل ہو توپلید ہوجائے گااس کا محض غلط ہونا تو ظاہر ہے کہ جس روایت پر مستعمل پانی نجس ہے پانی ایک ہی بار سے پلید ہوجائے گااور صحیح ومعتمد مذہب پر لاکھ بار سے بھی پلید نہ ہو گا ہاں علامہ زین قاسم وعلامہ زین بن نجیم کی نظر اس میں مختلف ہوئی کہ بکثرت آدمیوں کے نہانے سے حوض صغیر کا سب پانی مستعمل ہوجائے گا یا نہیں،اول نے ثانی اور ثانی نے اول کا استظہار کیا۔
اقول:  عندی الاظھر ھو الثانی (میرے نزدیک اظہر ثانی ہے۔ت) مگر اس کی بنا اُن کے اُس خیال پر ہے کہ پانی کا جو حصّہ بدن سے ملااُتنا ہی مستعمل ہوتا ہے تو ایک آدمی کے نہانے سے سارا پانی کیونکر مستعمل ہوسکتا ہے ہاں بہت سے نہائیں تو یہ شُبہ جاتاہے کہ پانی کے جتنے حصّے ان سب کے بدن سے ملے وہ باقی پانی کے برابر یااُس سے زائد ہوجائیں تو سب مستعمل ہوجائیگا مگر وہ خیال صحیح نہیں مذہب معتمد وصحیح یہی ہے جو پانی آب کثیر کی حد کو نہ پہنچاہو وہ ایک آدمی کا نہاناکیا ناخن کا ایک کنارہ بے ضرورت ڈوب جانے سے سب مستعمل ہوجاتا ہے وقد نقلوا علیہ الاجماع فی غیر ماکتاب واللّٰہ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۳۱: مرسلہ ڈاکٹر محمد واعظ الحق صاحب سعد اللہ پوری ڈاکخانہ خسرو پور ضلع پٹنہ۲ربیع الآخر ۱۳۲۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ بارش کا پانی اگر کسی خندق میں جمع ہوجائے اور وہ خندق دس گز سے لمباچوڑازیادہ ہو مگر بستی کے قریب ہو اور اس میں بستی کاپانی جاتا ہو اس میں غسل کرنا اور وضو بنانا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب : جس خندق کی مساحت دہ در دہ ہے یعنی طول وعرض کے ضرب دیے سے سو ہاتھ حاصل ہوں مثلاً دس ۱۰ ہاتھ طول ہو دس۱۰ ہاتھ عرض یا بیس۲۰ ہاتھ طول،پانچ۵ہاتھ عرض یاپچاس۵۰ ہاتھ طول،دو۲ ہاتھ عرض اور ان سب صورتوں میں اس کا گہراؤ اتنا ہو لپ میں پانی لینے سے زمین نہ کھل جائے تو اب اس میں دو صورتیں ہیں اگرپہلے اُس میں بارش کا پانی بھر گیااُس کے بعد گھروں کاپانی پاک ناپاک ہر طرح کا خواہ صرف ناپاک ہی آکر ملا تو جب تک خاص نجاست کے سبب اُس کے رنگ یا بُو یا مزے میں تغیر نہ آئے پانی پاک رہے گا اور اُس سے وضو وغسل جائز اور اگر پہلے بستی کا پانی اس میں آکر مستقر ہوگیا تو اوّلا یہ نظر کرنا ہے کہ وہ پانی ناپاک بھی تھایا نہیں اگرناپاک نہ تھا جب تو ظاہر ہے مثلاًپانی برسااور مکانوں کے ہر گونہ پانیوں کو اپنے ساتھ بہاکر اس خندق میں لایا اور اُس کے رنگ،مزے، بُو، کسی میں نجاست کے باعث تغیر نہ آیاتو وہ ناپاک بھی اس کے ساتھ بَہ کر پاک ہوگئے لان الماء الجاری یطھر بعضہ بعضا (کیونکہ جاری پانی بعض ناپاک پانی کو پاک کردیتا ہے۔ ت) یا پہلے سے ناپاک پانی خندق میں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوراب کوئی پاک پانی ایسا بہتا آیا کہ بہاؤ ٹھہرنے سے پہلے وہ دہ در دہ ہوگیا یہ بھی صورت طہارت کی ہے کہ جب تک بہ رہا تھا قابلِ نجاست نہ تھا اور ٹھہرا تو اُس وقت کہ دہ در دہ ہو کر حکم جاری میں ہوچکا تھا لہٰذا کوئی وقت اُس نے وصف نجاست قبول کرنے کانہ پایا اور اگر پانی ناپاک تھا خواہ یوں کہ نجاست نے بہتے پانی کا کوئی وصف مذکور بدل دیا یا یہ کہ پہلے خالص ناپاک پانی خندق میں پہنچ لیااُس کے بعد بارش وغیرہ کا پانی تھوڑا تھوڑا اس میں آتا گیا جتنا ملا ناپاک ہوتا گیا یا پہلے سے پاک پانی خندق میں دہ در دہ سے کم جگہ میں تھا اُس پر خالص ناپاک پانی واردہوا تو اس میں پھر دو صورتیں ہیں اگر بارش تھوڑی سی ہوئی کہ وہ پانی اُس ناپاک میں مل کر رہ گیا تو وہ بھی ناپاک ہوگیاا ور اگر بارش زور سے ہوئی کہ بکثرت پانی بہتا آیا جس نے اس خندق کو بھر کر ابال دیاکہ پانی کناروں سے چھلک گیا تو اب سب پاک ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ عہ۱ ۳۲: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حوض دہ در دہ میں گز شرعی کی مقدار کیا ہے بینوا توجروا۔
عہ۱: یہ فتوٰی فتاوائے قدیمہ کے بقایا سے ہے جو مصنّف نے اپنے صغر سن لکھے تھے ۱۲ (م)
الجواب: علماء رحہم اللہ تعالٰی کو دربارہ مساحت حوض کبیر کہ دہ در دہ قرار پایا ہے تعیین گز میں تین قول پراختلاف ہے

قول اول :  معتبر ذراع کرباس ہے اور اسی کو ذراع عامہ کہتے ہیں یعنی کپڑوں کا گز۔ اسی قول کی طرف اکثر کا رجحان رائے اور اسی کو درر وظہیریہ و خلاصہ وخزانہ ومراقی الفلاح وعالمگیریہ وغیرہا میں اختیار کیا اور شرح زاہدی وتجنیس اور فتاوی کبری پھر قہستانی پھر درمختار میں اُسے مختار اور نہایہ میں صحیح اور ہدایہ میں مفتی بہ اور ولوالجیہ میں الیق واوسع کہا ۔ پھرخود(۱) ذراع کرباس کی تقدیر میں اختلاف واقع ہوا امام ولوالجی نے سات۷ مشت قرار دیا ہر مشت چار۴ انگل مضموم تو اٹھائیس ۲۸ انگل کا گز ہوا ہمارے یہاں کی نوگرہ۹سے زائد اور دس۱۰ گرہ سے کم یعنی ۹-9 1۱/۳3 گرہ۔اس قول پر نہایہ پھر جامع الرموز پھر درمختار اور باتباع والوالجی فاضل ابرہیم حلبی نے شرح منیہ میں اقتصارکیامگر جمہور علماء کے نزدیک ذراع کرباس چھ۶ مشت کا ہے ہر مشت چار۴ انگل مضموم اور اسی طرف رجحان روئے علّامہ محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام کا ہے اور یہی عالمگیریہ میں تبیین اور بحرالرائق میں کتب کثیرہ سے منقول پس قول راجح میں یہ گز چوبیس۲۴ انگل کا ہوا کہ ایک ہاتھ ہے تو ہمارے یہاں کا آدھ گز ٹھہرا۔
قول دوم : اعتبار ذراع مساحت کا ہے امام علامہ فقیہ النفس اہل الافتاء والترجیح امام فخرالدین قاضی خان اوز جندی رحمہ اللہ تعالٰی نے خانیہ میں اسی قول کی تصحیح اور قولِ اول کا رد کیا طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح میں اس پر بھی حکایتِ فتوٰی واقع ہوئی اور بیشک من حیث الدلیل اسے قوت ہے۔ اس گز(۱) کی تقدیر میں اقوال مختلفہ وارد ہوئے مضمرات میں سات مشت، ہر مشت کے ساتھ ایک انگل قرار دیا کہ مجموع پینتیس انگل ہمارے گز سے 11۱۱- ۲2/۳3  گرہ ہواعلامہ کرمانی نے سات مشت چھ مشت معمولی اور ساتویں میں انگوٹھا پھیلا ہوا کہ یہ بھی تخمیناً گیارہ گرہ کے قریب ہوا مگر یہ دونوں قول شاذ ہیں قول جمہور کہ عامہ کتب میں مصرح سات مشت ہے ہر مشت نرانگشت کشادہ یعنی ساڑھے تین فٹ کہ اس گز سے کچھ اوپر ساڑھے اٹھارہ گرہ ہوا یعنی 18۱۸- ۲2/۳3 گرہ۔
Flag Counter