Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
62 - 176
اقول: ھذاالذی ابداہ من التوفیق حسن بالقول حقیق فان من وجدفی البریۃماء فی احد جانبیہ نجاسۃفھل یؤمران یتوضأفی الطرف الاخرکی یجرب علی نفسہ انہ یتحرک ام لافان وجدہ یتحرک فلیجتنب وای شیئ یجتنب وقدتلوث فاذن لیس المراد الاان یغلب علی ظنہ انہ ان توضأ تحرک فمافی القول الاول بیان للمقصود وماھنابیان لمعرفہ فان خلوص النجاسۃامرباطنی لایوقف علیہ و وصول الحرک یعرفہ فمایظن فیہ ھذاھو المظنون فیہ ذاک ومالافلا ثم المنقول(۱) فی البئراذاانغمس فیھا محدث ولوجنبانزح عشرین دلواففی ردالمحتارعن الوھبانیۃمذھب محمداھ یسلبہ الطھوریۃوھوالصحیح عندالشیخین فینزح منہ عشرون لیصیر طھورا۱؎ اھ قال والمرادبالمحدث مایشمل الجنب،
میں کہتاہوں تطبیق کی جوشکل انہوں نے پیش کی ہے نہایت مستحسن ہے کیونکہ اگرکوئی شخص جنگل میں پانی کا تالاب پائے جس کے ایک کنارہ پرنجاست ہوتواب کیایہ معقول بات ہوگی کہ اسے حکم دیاجائے، جاؤ اس کے دوسرے کنارے سے وضوکرکے تجربہ کروکہ آیااس طرح دوسرے کنارے پرحرکت ہوتی ہے یا نہیں؟اب اگرحرکت محسوس کرے تووضونہ کرے اوراب بچ کیسے سکتا ہے جبکہ اس کے اعضاء اس گندے پانی میں ملوّث ہوچکے ہیں،لہٰذاغلبہ ظن سے مرادیہی ہے کہ اگروہ وضوکرے تودوسرے حصہ پرحرکت ہوگی،توپہلے قول میں مقصودکابیان ہے اوریہ معرفت کابیان ہے کیونکہ نجاست کادوسری جانب پہنچناایک باطنی امرہے اس پراطلاع نہیں ہوتی ہے،اورحرکت کے پہنچنے سے معلوم ہوتاہے جہاں اِس کاگمان ہے وہاں اُس کابھی ہے اس کانہیں تواُس کابھی نہیں،پھرکنویں کے بارے میں یہ منقول ہے کہ اگربے وضویا جنب کنویں میں غوطہ لگائے تواُس سے بیس ڈول پانی نکالاجائیگا۔ ردالمحتارمیں وہبانیہ سے منقول ہے کہ محمدکامذہب یہ ہے کہ طہوریت سلب ہوجائیگی،اورشیخین کے نزدیک یہی صحیح ہے،تواس سے بیس ڈول نکالے جائیں گے تاکہ وہ طہورہوجائے اھ فرمایااورمحدث میں جُنب بھی شامل ہے ،
 (۱؎ ردالمحتار    فصل فی البئر        مصطفی البابی مصر    ۱/۱۵۷)
 ثم وقع(۲)بینھم النزاع فی ان الصھریج وھوعلی مانقل الشافعیۃعن القاموس الحوض الکبیرھل ھوکالبئرفیکفی فیہ نزح البعض حیث یکفی ام کالزیرفیجب اخراج الکل وغسل السطوح للتطھیربالاول افتی بعض معاصری العلامۃعمربن نجیم صاحب النھر متمسکاباطلاقھم البئرمن دون تقییدبالمعین و ردہ فی النھر تبعا للبحربمافی البدائع والکافی وغیرھمامن ان الفأرۃلووقعت فی الحب یھراق الماء کلہ قال ووجہہ ان الاکتفاء بنزح البعض فی الاٰبارعلی خلاف القیاس بالاٰثارفلایلحق بھاغیرھاثم قال وھذاالردانمایتم بناء علی ان الصھریج لیس من مسمی البئرفی شیئ۱؎اھ
پھرفقہاء میں یہ اختلاف واقع ہوا کہ جو صہریج___ شافعیہ نے قاموس سے نقل کیاکہ اس سے مرادبڑاحوض ہے،ایک قول یہ ہے کہ وہ کنویں کی طرح ہے تواس کاکچھ پانی نکالناکافی ہوگایازیر(سوتا)کی طرح ہے اورکل پانی نکالنا ہو گا او ر اس کی سطحوں کو بھی دھوناپڑے گا،پہلے قول کے مطابق علامہ عمربن نجیم صاحبِ نہرکے بعض معاصرین نے فتوٰی دیا اورفقہاکے اس اطلاق سے استدلال کیاکہ انہوں نے کنویں میں سوتے والے اوربغیرسوتے والے میں فرق نہ کیا،اس کو نہر میں بحرکی متابعت میں ردکیا،کیونکہ بدائع اورکافی وغیرہ میں ہے کہ گڑھے میں چُوہیاگرجائے توکل پانی نکالا جائیگا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کنویں سے کچھ پانی کانکالنا خلافِ قیاس ہے اورآثارکی وجہ سے ہے توکنویں کے علاوہ کسی اورچیزمیں یہ خلاف قیاس نہ چلے گا،پھر فرمایایہ رداس بناء پرہے کہ صہریج پربئرکااطلاق نہیں ہوتااھ
 (۱؎ ردالمحتار    فصل فی البئر    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۵۹)
 قال الشامی ای فاذاادعی دخولہ فی مسمی البئرلایکون مخالفاللاٰثارویؤیدہ ماقدمناہ من ان البئرمشتقۃ من بأرت ای حضرت والصھریج حفرۃفی الارض لاتصل الیدالی مائھابخلاف العین والحب والحوض والیہ مال العلامۃالمقدسی فقال مااستدل بہ فی البحرلایخفی بعدہ واین الحب من الصھریج لاسیما الذی یسع الوفاء من الدلاء۲؎اھ لکنہ خلاف مافی النتف ونصہ اماالبئرفھی التی لھا موادمن اسفلھااھ ای لھامیاہ تمد وتنبع من اسفلھاولایخفی انہ علی ھذاالتعریف یخرج الصھریج والحب والابارالتی تملاءمن المطراومن الانھار۳؎ اھ مافی ردالمحتار باختصار۔
شامی نے کہاجب یہ دعوٰی کیاجائے کہ اس پر بھی بئرکااطلاق ہوتاہے توآثارکے مخالف نہ ہوگااوراس کی تائیداس سے ہوتی ہے کہ بئربأرتُ سے مشتق ہے یعنی''حفرتُ''(میں نے کھودا)صہریج اس گڑھے کوکہتے ہیں جس کے پانی تک ہاتھ نہ پہنچتا ہو،عین،حب،حوض اس کے برعکس ہے اوراسی طرف علامہ مقدسی مائل ہوئے ہیں،اورفرمایاجس سے بحر نے استدلال کیا سے اُس کابُعدمخفی نہ رہے اورحب اورصہریج میں بڑا فرق ہے خاص طورپروہ جس میں وفاڈول کی گنجائش ہواھ مگریہ نتف کے خلاف ہے اوراس کی عبارت یہ ہے اورکنواں وہ ہے جس کے نیچے سے سوتے ہوں اھ یعنی نیچے سے پانی نکلتارہتاہو،اورمخفی نہ رہے کہ صہریج،حب اورکنویں جو بارش سے بھرجاتے ہیں یانہروں سے وہ اس تعریف سے خارج ہیں اھ ردالمحتارمختصراً (ت)

 (۲؎ ردالمحتار    فصل فی البئر    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۵۹)

(۳؎ ردالمحتار    فصل فی البئر    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۵۹)
اقول: وکون(۲)البئرمن البأریقتضی ان کل بئرمحفورۃلاان کل محفوربیرولاتنس ماحکوہ فی القارورۃ والجرجیروفی الدرالمختارعن حواشی العلامۃ الغزی  صاحب التنویرعلی الکنز عن القنیۃ ان حکم الرکیۃ کالبئروعن الفوائدان الحب المطموراکثرہ فی الارض کالبئرقال فے الدروعلیہ فالصھریج والزیرالکبیرینزح منہ کالبئر فاغتنم ھذاالتحریر۱؎ اھ
میں کہتا ہوں بئرکابأرٌسے مشتق ہونااس امرکامقتضی ہے کہ ہربئرکھودا ہوا ہو یہ نہیں کہ ہرکھوداہوا بئرہو اور تم اس کو نہ بھُلاناجوانہوں نے قارورہ اورجرجیرکے بارے میں حکایت کیا ہے اوردرمختارمیں حواشی علامہ غزی صاحب تنویر کنز پر قنیہ سے ہے کہ''رکیہ'' کاحکم کنویں کاساہے،اورفوائد سے ہے کہ حب مطمورکااکثرحصّہ اگرزمین کے اندرہوتووہ کنویں کی طرح ہے درمیں فرمایااس سے معلوم ہوتاہے کہ صہریج اورزیرکبیرسے کنویں کی طرح پانی نکالاجائیگااس تحریر کو غنیمت جانواھ
 (۱؎ درمختار ،فصل فی البئر ،مجتبائی دہلی ۱/۳۹)
قال الشامی الرکیۃ فی العرف بئریجتمع ماؤھامن المطرفھی بمعنی الصھریج قال وھذا مسلم فی الصھریج دون(۱) الزیر لخروجہ عن مسمی البئروکون اکثرہ مطمورای مدفونا فی الارض لایدخلہ فیہ لاعرفاولالغۃ ومافی الفوائدمعارض باطلاق مامرعن البدائع والکافی وغیرھماوفرق ظاھربینہ وبین الصھریج کماقدمناعن المقدسی۲؎ اھ مختصرا۔
شامی نے فرمایاکہ رکیہ عرف میں اس کنویں کوکہتے ہیں جس میں بارش کاپانی اکٹھاہوجاتاہے تویہ صہریج کے معنی میں ہے،فرمایایہ صہریج میں مسلّم ہے زیرمیں نہیں،کیونکہ اس پربئرکااطلاق نہیں ہوتا ہے،اوراس کابیشتر حصہ زمین میں مدفون اور دھنساہواہوتاہے لہٰذاوہ عرفاًاور لغۃًکنواں نہیں ہے،اورجوفوائدمیں ہے وہ بدائع اورکافی وغیرہ کے اطلاق کے معارض ہے اور اس میں اور صہریج میں واضح فرق ہے جیسا کہ ہم نے مقدسی سے نقل کیا اھ مختصرا۔ (ت)
 (۲ ؎ رد المحتار ،فصل فی البئر ،مصطفی البابی ۱/۱۵۹)
اقول : ھذامن الحسن بمکان لکن(۲)(عہ۱)لایظھرالتفرقۃ بین الحوض والصہریج فان عدم(۳)وصول الیدالی الماء لیس داخلافی مسمی البئرولاالصھریج وانماالبئرکماذکر من البأربمعنی الحفراومنہ بمعنی الادخارویختلف قرب مائھاوابتعادہ باختلاف الارض والفصول ففی الاراضی الندیۃ وابان المطریقترب جدال سیمابقرب الانھارالکبارحتی رأینا من الاٰبارماینال ماؤھابالایدی واذاسالت السیول تَرِعَتْ واستوت بالارض وھی التی تسمی بالھندیۃ چویاوالحیاض کثیراماتکون بعیدۃ الغور،حتی اذاملئت الی قدرالنصف اوازید منہ قلیلالاتصل الایدی الی مائھاواذاامتلأت وصلت وکذلک الزیرالکبیر،
میں کہتا ہوں یہ ایک اچھی بات ہے لیکن اس سے حوض اورصہریج میں فرق ظاہر نہیں ہوتاکیونکہ پانی تک ہاتھ کانہ پہنچ سکناکنویں کے مفہوم میں شامل نہیں ہے اورنہ صہریج کے مفہوم میں ہے جیساکہ ہم نے ذکر کیابئر،بأرسے ہے جس کے معنی کھودنے کے ہیں،یابمعنی ذخیرہ کرنے کے ہیں،اور اس کے پانی کا قریب وبعید ہونا زمین اور موسموں کے اختلاف سے ہوتا ہے چنانچہ ترزمینوں اور بارش کے موسم میں بہت قریب ہوتا ہے خاص طور پر بڑی بڑی نہروں کے قریب، یہاں تک کہ ہم نے بعض کنویں ایسے دیکھے جن میں سے ہاتھ سے پانی نکالا جاسکتا ہے اور سیلاب کے موسم میں تو یہ کنویں منہ تک بھر جاتے ہیں ہندی میں اس کو ''چویا''کہتے ہیں اور کسی حوض کی گہرائی زیادہ ہوتی ہے،یہاں تک کہ جب وہ آدھے بھر جائیں یااس سے زائد تب بھی ان کے پانی تک ہاتھ نہیں پہنچ پاتا ہے،جب بھر جاتے ہیں تب ہاتھ پہنچتا ہے اور یہی حال بڑے زیر کا ہے،
(عہ۱)ناظرا الی قولہ السابق بخلاف العین والحب والحوض اھ منہ (م)

جو اس کے قول سابق بخلاف العین والحب والحوض اھ منہ (ت)
وما الصھریج الاحوضایجتمع فیہ الماء کمارأیتہ فی نسختی القاموس وعلیھاشرح فی تاج العروس ومثلہ فی مختارالرازی وفی الصراح صھریج بالعکس حوضچہ اب ۱؎ اھ وعلی مااثرتم عن القاموس ھوالحوض الکبیریجتمع فیہ الماء و ھذا ایضا لا یزیدعلی الحوض الا بقیدالکبروالحوض حوض صغراوکبرولاشک ان الصھریج وان بعد قعرہ یملؤہ الوادی اذاسال فتراہ یتدفق بماء سلسال وقدقال ذوالرمۃ ؎ 

                                  صوادی الھام والاحشاء خافقۃ تناول الھیم ارشاف الصہاریج 

                           فاذاکانت الابل ترتشف ارشافھابشفاھھافمابال الایدی لاتصل الی میاھھا،
اور صہریج بڑے حوض کو کہتے ہیں جس میں پانی اکٹھا ہوجاتاہے،میرے قاموس کے نسخہ میں یہی ہے اورتاج العروس میں اس کی شرح ہے،اور یہی چیز مختار الرازی میں ہے اور صراح میں ہے صہریج بالکسر پانی کاچھوٹاحوض اھ اور جس کو تم نے جو قاموس کے حوالہ سے ذکر کیاہے کہ صہریج بڑاحوض ہے جس میں پانی جمع ہوتاہے اور یہ بھی حوض ہی ہے، صرف بڑا ہوتاہے،اور حوض تو حوض ہی ہوتا ہے خواہ بڑا ہو یا چھوٹا،اور اس میں شک نہیں کہ صہریج خواہ کتنا ہی گہرا ہو اس کو وادی بھرتی ہے،جب وہ بھر جاتاہے تو اُس سے پانی اُچھل کر نکلتا ہے۔
 ذو الرُّمہ نے کہا ہے  :              صوادی الھام والاحشاء خافقۃ

                                                   تناول الھیم ارشاف الصہاریج
 (پتلی کمر والی اشراف عورتیں اس طرح سیراب ہوتی ہیں جیسے پیاسے اونٹ حوضوں کے بقیہ پانی کوپیتے ہیں)

تو جب اونٹ اپنے ہونٹوں سے حوض سے پانی پیتے ہیں توہاتھ پانی تک کیوں نہیں پہنچتے ہیں،
 (۱؎ الصراح    باب الجیم فصل الصاد    مطبع مجیدی کانپور    ص۸۸)
Flag Counter