Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
61 - 176
درمختار میں ہے:لایجوز(ای رفع الحدث) بماء استعمل لاجل قربۃ اواسقاط فرض بان یدخل یدہ او رجلہ فی جب لغیر اغتراف ونحوہ اذاانفصل عن عضو وان لم یستقر علی المذھب وھوطاھرولومن جنب وھوالطاھرلیس بطھورلحدث علی المعتمد محدث انغمس فے بئرولانجس علیہ الاصح انہ طاھروالماء مستعمل۱؎ اھ ملتقطا۔
جائزنہیں(یعنی رفع حدث)اُس پانی سے جوحدث دُورکرنے یاقربۃحاصل کرنے کیلئے استعمال میں لایا گیاہو مثلاًیہ کہ اپناہاتھ یاپیر کسی گڑھے میں داخل کردے اور اس کو مقصود چلّو بھر کرپانی لینا نہ ہو تو وہ عضو سے جُدا ہوتے ہی مستعمل ہوجائیگا خوا ہ ا س پرنہ ٹھہرے،مذہب یہی ہے اور یہ پاک ہی رہے گا خواہ ناپاک آدمی ہی کیوں نہ ہو اوروہ طاہرہے،پاک کرنے والا نہیں ہے،معتمدقول یہی ہے،اگرکوئی بے وضو کسی کنویں میں غوطہ لگائے اوراس کے جسم پرکوئی نجاست نہ ہواصح یہ ہے کہ وہ پاک ہے اورپانی مستعمل ہے اھ ملتقطا۔(ت)
 (۱؎ درمختار    باب المیاہ    مجتبائی دہلی        ۱/۳۷)
ردالمحتارمیں ہے:قولہ الاصح ھذا القول ذکرہ فی الھدایۃ روایۃ عن الامام قال الزیلعی والھندی وغیرھما تبعالصاحب الھدایۃھذہ الروایۃ اوفق الروایات وفی فتح القدیروشرح المجمع انھاالروایۃ المصححۃ قال فی البحرفعلم ان المذھب المختارفی ھذہ المسألۃ ان الرجل طاھروالماء طاھرغیرطھور۲؎ اھ مختصرا۔
اس کاقول الاصح،اس قول کوہدایہ میں امام سے بطورروایت کے ذکرکیاہے،زیلعی اورہندی وغیرہما نے صاحبِ ہدایہ کی متابعت میں کہاکہ یہ روایت اوفق الروایات ہے،فتح القدیراورشرح المجمع میں ہے کہ تصحیح شدہ روایت یہی ہے،بحرمیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ مذہب مختار اس مسئلہ میں یہ ہے کہ آدمی پاک ہے،پانی پاک ہے مگرپاک کرنے والانہیں اھ مختصرا۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار  باب المیاہ   مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۸)
درمختار میں ہے:الغلبۃلوالمخالط مماثلاکمستعمل بالاجزاء فان المطلق اکثرمن النصف جازالتطہیر والالا۳؎ اھ ملتقطا۔
غلبہ اجزاء کے اعتبارسے ہوگا اگرملنے والا مماثل ہوجیسے مستعمل پس اگرمطلق اکثرہے نصف سے،توتطہیر جائز ہے ورنہ نہیں اھ ملتقطا۔(ت)
 (۳؎ دُرمختار    باب المیاہ   مجتبائی دہلی        ۱/۳۴)
ردالمحتارمیں ہے:ای وان لم یکن المطلق اکثربان کان اقل اومساویالایجوز۴؎ اھ۔
یعنی اگر مطلق زائدنہ ہومثلاًیہ کہ کم ہویامساوی توجائزنہیں اھ(ت)
 (۴؎ ردالمحتار    باب المیاہ  مصطفی البابی مصر    ۱/۱۳۴)
درمختارمیں ہے:یجوزبجاروقعت فیہ نجاسۃ ان لم یراثرہ(وھوطعم اوریح اولون) ظاھرہ یعم الجیفۃ ورجحہ الکمال وقال تلمیذہ قاسم انہ المختار وقواہ فی النھرواقرہ المصنف وفی القہستانی عن المضمرات عن النصاب وعلیہ الفتوی وقیل ان جری علیہ نصفہ فاکثرلم یجزوھواحوط (وکذا)یجوز(براکد)کثیروقع فیہ نجس لم یراثرہ ولوفی موضع وقوع المرئیۃ بہ یفتی بحر (والمعتبر) فی مقدارالراکد(اکبررای) المبتلی بہ(فان غلب علی ظنہ عدم خلوص النجاسۃ الی الجانب الاخر جاز و الا لا ) ھذاظاھرالروایۃ وھوالاصح غایۃ وغیرھاوفی النھران اعتبار العشراضبط ولاسیمافی حق من لارأی لہ من العوام فلذاافتی بہ المتأخرون الاعلام۱؎ اھ مختصرا۔
وضوجائزہے اُس جاری پانی سے جس میں نجاست گری اوراس کااثریعنی مزہ،بُویارنگ اس میں ظاہرنہ ہو، بظاہریہ مردہ کو بھی عام ہے،کمال نے اس کوترجیح دی ہے اوران کے شاگردقاسم نے کہاکہ یہی مختارہے، اورنہرمیں اس کوتقویت دی اور مصنف نے اس کوبرقراررکھا،اورقہستانی میں مضمرات سے نصاب سے منقول ہے کہ اسی پرفتوٰی ہے،اورکہاگیاکہ اگر اس پرآدھایازائدجاری ہوتوجائزنہیں اوریہی احوط ہے (اور اسی طرح)جائزہے (ٹھہرے ہوئے)کثیرپانی سے جس میں نجاست گری ہو اوراس کااثرغیرمرئی ہوخواہ اُس جگہ سے ہوجہاں نجاست نظرآتی ہو،اسی پرفتوٰی ہے بحر (اورمعتبر) ٹھہرے ہوئے پانی کی مقدارمیں (جس طرف رائے کا رجحان ہو)یعنی اس شخص کی رائے جواس معاملہ سے متعلق ہے،(اگراس کویہ ظن غالب ہے کہ نجاست یہاں سے تجاوزکرکے دوسری طرف نہیں گئی ہے توجائزہے،ورنہ نہیں)یہ ظاہر روایت ہے اوریہی صحیح ہے غایۃ وغیرہ میں۔اورنہرمیں ہے کہ دس ہاتھ کااعتبارکرلینازیادہ مناسب ہے، خاص طورپراُن عوام کے حق میں جن کی اس سلسلہ میں کوئی رائے نہیں ہوتی ہے،اسی لئے متاخرین علما نے اسی پرفتوٰی دیا ہے اھ مختصرا۔(ت)
 (۱؎ درمختار     باب المیاہ    مجتبائی دہلی    ۱/۳۱)
ردالمحتار میں ہے:فی الھدایۃ وغیرھاان الغدیرالعظیم مالایتحرک احد طرفیہ بتحرک الطرف الاٰخروفی المعراج انہ ظاھر المذھب وفی الزیلعی ظاھر المذھب وقول المتقدمین حتی قال فی البدائع والمحیط اتفقت الروایۃ عن اصحابناالمتقدمین انہ یعتبر بالتحریک وھو ان یرتفع وینخفض من ساعتہ لابعدالمکث ولایعتبراصل الحرکۃ والمعتبرحرکۃالوضوء ھو الاصح محیط وحاوی القدسی ولایخفی علیک ان اعتبارالخلوص بغلبۃ الظن بلاتقدیرشیئ مخالف فی الظاھرلاعتبارہ بالتحریک لان غلبۃ الظن امرباطنی یختلف وتحریک الطرف الاخر حسی مشاھد لایختلف مع ان کلامنھمامنقول عن ائمتناالثلثۃفی ظاھرالروایۃولم ارمن تکلم علی ذلک ویظھرلی التوفیق بان المراد غلبۃ الظن بانہ لوحرک لوصل الی الجانب الاٰخراذالم یوجد التحریک بالفعل فلیتأمل۱؎اھ ملخصا۔
ہدایہ وغیرہ میں ہے کہ بڑاتالاب وہ ہے کہ جس کے ایک کنارہ کی حرکت سے دوسرے کنارے کوحرکت نہ ہو ،اورمعراج میں ہے کہ ظاہرمذہب یہی ہے۔اور زیلعی میں ہے کہ یہی ظاہرمذہب ہے اورمتقدمین کا قول ہے، یہاں تک کہ بدائع اورمحیط میں ہے کہ ہمارے اصحابِ متقدمین کی روایت اس پرمتفق ہے کہ اعتبارہلانے کاہے اس کے ساتھ ہی پانی اوپرنیچے ہونے لگے نہ کہ دیر بعد،اورعام حرکت کااعتبارنہیں،اور معتبروضوکی حرکت ہے،یہی اصح ہے،محیط اورحاوی قدسی۔اورتجھ پریہ بات مخفی نہ ہونی چاہئے کہ غالب ظن کا اعتباربلا تقدیرشیئ یہ ظاہرمیں حرکت کے اعتبارکے مخالف ہے کیونکہ غلبہ ظن ایک باطنی امرہے جس میں اختلاف ہوتا ہے،اوردوسرے کنارہ کوحرکت دیناایک حسی امر ہے جس کامشاہدہ ہوتا ہے اوراس میں کوئی اختلاف نہیں ہوتاپھریہ دونوں چیزیں ہمارے ائمہ ثلٰثہ سے ظاہرروایت میں منقول ہیں،اورمیں نے نہیں دیکھاکہ کسی نے اس پرکلام کیاہو،اس میں تطبیق کی شکل میرے نزدیک یہ ہوسکتی ہے کہ جب بالفعل تالاب کوحرکت نہ دی جائے تواس امرکاغلبہ ظن ہوناچاہیے کہ اگرحرکت دی جاتی تودوسرے کنارے پر حرکت پیدا ہوتی فلیتأمل اھ ملخصا۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب المیاہ    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۱)
Flag Counter