| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
فائدہ۱۰:اقول وباللہ التوفیق ھنالفظان الوضوء من الحوض وبہ(۱) عبرالعلامۃقاسم تسامحا وفی الحوض وبہ عبر العلامۃ ابن الشحنۃ وسوی(۲) بینہما البحرفتارۃ یقول من کصدر مقالتہ واسم رسالتہ واخری فی کمطاوی عبارتہ وقد علمت ان الثانی یحتمل وجہین الوضوء خارجہ بحیث تقع الغسالۃ فیہ ولو بعد الجریان علی الارض والوضوء فیہ بغمس الاعضاء ذاک ملقی وھذا ملاقی واللفظ الاو یحتمل ثلٰثۃ وجوہ ھذین والوضوء خارجہ بالاغتراف منہ بحیث لاتصل الغسالۃ الیہ کالوضوء من بئرزمزم وھذا الثالث علی ثلثۃ وجوہ الاغتراف باناء بحیث لایصیب شیئ من یدہ الماء وبالید لعدم اناء اومع وجودہ فالاول جائز بالاجماع ولایتوھم تطرق خلل بہ الی الماء وکذا الثانی لمکان الضرورۃ الا اذا ادخل ازید من قدر الحاجۃ اوقدرھا للاغتراف ثم نوی الغسل فیہ فان ھذین یعود ان الی صورۃ الغمس کالثالث ففی ھذہ (عہ۱) الاربع یصیر الماء کلہ مستعملا قلیلا کان اوکثیرامالم یکن کثیرا امااول الثانے اعنی الوضوءخارجہ مع وقوع الغسالۃفیہ فالصحیح المعتمدانہ لایفسدالماء مالم یساوہ اویغلب علیہ ھذہ احکام الصورالخمس وقد وضحت بحمداللّٰہ تعالٰی مثل الشمس،
فائدہ ۱۰:میں بتوفیق الہی کہتاہوں یہاں دولفظ ہیں الوضوء من الحوض اورالوضوء فی الحوض ۔ قاسم نے تسامح سے کام لیتے ہوئے من الحوض سے تعبیر کیااورابن الشحنہ نے الوضو فی الحوض سے تعبیر کیااوربحرنے ان دونوں کو برابر کیا،کبھی تومن کہتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے اپنے مقالہ کی ابتداء اور رسالہ کے نام میں،اور کبھی فی استعمال کیا جیسا کہ عبارات کے درمیان میں کیا۔ اور آپ جان چکے ہیں دوسرا دو وجہوں کا احتمال رکھتا ہے،ایک تو وضو حوض کے باہر اس طرح کہ دھوون حوض میں گرے خواہ زمین پر بہہ کر جائے اور ایک یہ کہ وضوء اس طرح کیاجائے کہ حوض میں اعضاء ڈبوئے جائیں وہ ملقی ہے اور یہ ملاقی ہے اور پہلا لفظ تین وجوہ کا محتمل ہے،دو تو یہی اور تیسری یہ کہ حوض کے باہر بیٹھ کر حوض سے چلو بھر پانی لیں اس طرح کہ دھوون حوض تک نہ پہنچے،جیسے زمزم کے کنویں سے کیا جاتا ہے۔اور اس تیسری وجہ میں بھی تین وجوہ ہیں،ایک تو یہ کہ برتن سے پانی لیں اس طرح کہ ہاتھ پانی کو نہ لگے، دوسرے یہ کہ ہاتھ سے لیں جبکہ برتن نہ ہو،تیسرے یہ کہ ہاتھ سے لیں لیکن برتن موجودہو توپہلا بالاجماع جائز ہے اور اس سے پانی میں خلل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے اور دوسرا بھی جائز ہے کیونکہ ضرورت ہے، ہاں اگر ضرورت سے زائد ہاتھ داخل کیا یا بقدرِ ضرورت ڈالاپھر اس میں غسل کا ارادہ کیا تو یہ دونوں صورتیں ڈبونے کی صورت میں شامل ہیں، جیسی کہ تیسری، توان چاروں صورتوں میں کل پانی مستعمل ہوجائیگا خواہ کم ہو یا زیادہ،جب تک کہ کثیر نہ ہوجائے لیکن دوسرے کاپہلا یعنی حوض کے باہر وضو کرنا اس طرح کہ دھوون اس میں گرتا رہے تو صحیح اور معتمد یہ ہے کہ جب تک وہ پانی کے برابر نہ ہویااس پر غالب نہ ہو پانی کو فاسد نہ کرے گا،یہ پانچوں صورتوں کے احکام ہیں اور میں نے بحمداللہ سورج کی طرح واضح کردیا ہے،
عہ۱: ای ادخال الزائدعلی قدر حاجۃ الاغتراف ونیۃ الغسل فیہ والاغتراف بید محدثۃ مع وجود الاناء والوضوء فیہ بغمس الاعضاء اھ منہ غفرلہ۔(م) یعنی چلّو کی مقدار سے زیادہ داخل کرنا اور پانی میں دھونے کی نیت کرنا اور برتن کے ہوتے ہوئے محدث ہاتھ کے ذریعے پانی نکالنااورپانی میں اعضاء ڈبو کر وضو کرنا اھ منہ غفرلہ (ت)
وبہ ظھر ان العلامۃ عبدالبراصاب فی حکم الاربع الاول دون الخامس والعلامتان القاسم والبحر ومن تبعھم بالعکس ثم معہ فیما خالف الصحیح عدۃروایات واقوال مفصلۃ فے البدائع وغیرھا ان الماء المستعمل یفسد المطلق مطلقاوان قل اواذااستبان مواقع القطراواذاسال سیلاناوالکل حاصل فی الوضوء فے الحوض الصغیر بالمعنی الاول بخلاف ھٰؤلاء الجلۃ فلیس بایدیھم الابحث وقع فے البدائع علی خلاف النصوص المتواترۃ واجماع ائمۃ المذھب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم والحق،ھوھذاالفرق،الذی وفق المولی سبحنہ وتعالی عبدہ الذلیل،بتحقیقہ الجلیل، بحیث احاط ان شاء اللّٰہ تعالٰی بکل کثیر وقلیل،وبلغ الغایۃالقصوی فی التفریع والتاصیل، فلہ الحمدعلی مااولی،وافضل الصلوات العلی،والتسلیمات الزاکیات المبارکات علی المولی،والہ وصحبہ،وابنہ و حزبہ ، کمایحب ربناویرضی اٰمین والحمد للہ رب العٰلمین، واللّٰہ سبحنہ وتعالٰی وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اور اسی سے ظاہر ہوگیا کہ علّامہ عبدالبر نے پہلی چار صورتوں کے بیان میں کوئی غلطی نہیں کی مگر پانچویں میں غلطی کی اور علامہ قاسم اور بحر اور ان کے متبعین نے برعکس کیا پھر ان کے ساتھ ان صورتوں میں جن میں مخالفت کی،متعدد روایات واقوال ہیں جن کی تفصیل بدائع وغیرہ میں ہے، مثلاً یہ کہ مستعمل پانی مطلق پانی کو مطلقافاسد کردیتاہے خواہ کتناہی کم کیوں نہ ہو،یا قطروں کے مقامات ظاہر ہوں یاجبکہ خوب بہے اور یہ سب چھوٹے حوض میں وضو کرنے سے حاصل ہے، لیکن پہلے معنی کے اعتبار سے، بخلاف ان جلیل القدر علماء کے کہ ان کے ہاتھ میں سوائے اُس بحث کے کچھ نہیں جو نصوص متواترہ،اجماعِ ائمہ مذہب کے خلاف بدائع میں واقع ہے،اور حق وہ فرق ہے جس کی اپنے ذلیل بندے کو مولیٰ سبحٰنہ نے توفیق دی تحقیق جلیل کی کہ اس نے کثیر وقلیل کااحاطہ کیااور انتہا کو پہنچااُس کی حمد سب سے اولیٰ ہے بہتر صلوٰۃ وسلام افضل مبارک مز کی آقا پر ان کے آل اصحاب اولاد جماعت پر جیسا کہ ہمارا رب پسند فرمائے آمین والحمدللہ رب العالمین الی اٰخرہٖ۔
مسئلہ ۳۰: مرسلہ مولوی نذر امام صاحب مدرس سہسوانی ۲۹ ربیع الاول شریف ۱۳۱۵ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص غسلِ جنابت کی حاجت میں غسل حوض میں کرے توحوض پلید ہوجائے گایا نہیں؟ زید کہتا ہے کہ حوض میں کوئی شخص متواتر گھُسے توپلید ہوجاتاہے بکر کہتا ہے آدمی پاک صاف گھُساتونہ پلید ہوتاہے نہ مکروہ،ہاں نجاست سے رنگ بُومزہ بدل جائیگا تو پلیدہوجائیگا۔ بینوّا توجروا۔
الجواب :حوض کتناہی چھوٹاپانی کتناہی کم ہو کسی پاک صاف آدمی کے جانے نہانے سے جس کے بدن پرکوئی نجاست حقیقیہ نہ لگی ہوہرگزناپاک نہیں ہوتااگرچہ اسے نہانے کی حاجت ہی ہواگرچہ وہ خاص ازالہ جنابت ہی کی نیت سے اُس میں گیاہو ہمارے ائمہ کے صحیح ومعتمد ومفتی بہ مذہب پر غسل بھی اُترجائے گا اورحوض بھی بدستور پاک رہے گا اور اگر آبِ حوض مائے کثیرکی مقدارپرہے جب توجنب کے نہانے سے مستعمل ہونادرکنارباجماعِ تمام ائمہ کرام کسی نجاست حقیقیہ کے گرنے سے بھی ہرگز ناپاک نہ ہوگاجب تک اس قدرکثرت سے نجاست نہ گرے کہ اس کے رنگ یا بُویامزہ کوبدل دے اسی پرفتوٰی ہے یا ایک قول پر اُس کانصف یااکثرنجاستِ مرئیہ پرہوکر گزرے بہتاپانی توباجماع قطعی تمام اُمتِ محمدیہ علی سیدہا افضل الصّلوٰۃ والتحیۃآبِ کثیرہے کہ بغیراُس تغیریامرورکے کسی طرح ناپاک نہیں ہوسکتا جیسے دہلی میں مسجد فتحپوری کا حوض جس میں جمنا سے لائی ہوئی نہر پڑی ہے اور ٹھہرے ہوئے(۱) پانی میں ہمارے علماء کے دو قول ہیں:
(۱)جس پرآدمی کا دل شہادت دے کہ ایک کنارے کی پڑی ہوئی نجاست کااثردوسرے کنارے تک نہ پہنچے گااُس کے حق میں وہی کثیرہے اور اثر نہ پہنچنے کامعیاریہ کہ ایک کنارے پر وضو کیا جائے تو دوسرے کنارے کاپانی فوراً تلے اوپر نہ ہونے لگے نری حرکت یادیر کے بعد پانی کے اُٹھنے بیٹھنے کااعتبار نہیں۔ (۲)جس کی مساحت سطح بالائی دہ دردہ یعنی اُس کے طول وعرض کامسطح سَوہاتھ ہو اورگہرا اتناکہ لَپ میں پانی لینے سے زمین نہ کھُلے وہ کثیرہے ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کااصل مذہب وہی قولِ اول ہے اورعام متون مذہب نے قولِ ثانی اختیار کیااوربکثرت مشائخ اعلام نے اُس پرفتوٰی دیابہرحال یہ قول بھی باقی تمام مذاہب کے اقوال سے زیادہ احتیاط رکھتا ہے ہاں اگرپانی مقدارکثیرسے کم ہے تو البتہ کتنی ہی ذرا سی نجاست اگرچہ خفیفہ کے گرنے یاکسی ایسے شخص کے نہانے سے جس کے بدن پرکچھ بھی نجاست حقیقیہ لگی تھی ضروربالاتفاق ناپاک ہوجائیگااورہمارے جمیع ائمہ مذہب کے مذہب صحیح ومعتمدپرجبکہ اُس سے کوئی فرض طہارت ساقط ہو(مثلاًجنب نہائے یامحدث وضو کرے یابضرورت طہارت مثلاًچلّو میں پانی لینے کے سواصاحب حدث کے کسی بے دھوئے عضوکاجسے دھوناضرور تھاکوئی جُزکسی طرح اگرچہ بلا قصد اُس سے دُھل جائے)یابہ نیت قربت استعمال میں لایاجائے(مثلاًباوضو آدمی وضوئے تازہ کی نیت سے اُس میں کسی عضوکو غوطہ دے کردھوئے)ساراپانی مستعمل ہوجائیگاکہ پاک توہے مگرغسل ووضو کے قابل نہ رہاجب حوض(۱)صغیرمیں یہ صورت واقع ہوتواس کے مطہرکرنے کیلئے دوباتوں میں سے ایک کرناچاہئے یاتومطہرپانی مستعمل پرغالب کردینایاحوض کو لبریزکرکے مطہرپانی سے بہادینااول کی صورت یہ ہے کہ حوض میں خود ہی اُس شخص کے نہاتے یابے دُھلاعضوبلا ضرورت ڈالتے وقت نصف حوض سے کم پانی تھا تواب مطہرپانی سے بھردیں کہ یہ مستعمل سے زیادہ ہوگیااوراگر اس وقت نصف یا زیادہ حوض میں پانی تھاتو پہلے اتناپانی نکال دیں کہ حوض کااکثرحصّہ خالی ہوجائے پھرمنہ تک بھردیں مثلاً ہموار حوض کہ زیروبالایکساں مساحت رکھتاہے دوگزگہراہے اوراس شخص کے نہاتے وقت اُس میں گز بھر پانی تھاتوپاؤگرہ پانی نکال دیں اورسترہ گرہ تھاتوسوا گرہ کھینچ دیں کہ بہرحال سواسولہ گرہ خالی اورپونے سولہ میں پانی رہے پھرنئے پانی سے لبالب بھردیں اوردوم کی شکل یہ کہ حوض میں اُس وقت پانی کتناہی ہو اُس میں سے کچھ نہ نکالیں اورنیا پانی اُس میں پہنچاتے جائیں یہاں تک کہ کناروں سے اُبل کربَہ جائے یہ دوسراطریقہ ناپاک حوض کے پاک کرنے میں بھی کفایت کرتاہے جبکہ ناپاک چیزنکالنے کے قابل نکال کرپانی سے اُبال کربہادیں ظاہرہے کہ اُس وقت حوض میں پانی نصف سے جتناکم ہوپہلا طریقہ آسان ترہوگادوگزگہرے حوض میں اُس وقت چارہی گرہ پانی تھا تو صرف چارگرہ پانی اور پہنچا کر چند ڈول زیادہ ڈال دیں کہ مستعمل سے مطہراکثرہوگیااوراس وقت پانی نصف سے جتنازائدہودوسرا طریقہ سہل ترہوگاکہ اُس میں نکالناکچھ نہ پڑے گااورکم حصہ خالی ہے جسے بھرکرابالناہوگااورجہاں(۲) دونوں صورتیں دشواری وحرج صریح رکھتی ہوں وہاں اگرقول بعض علماء پر عمل کرکے اُس میں سے بیس ہی ڈول نکال دیں توامیدہے کہ اِن شاء اللہ تعالٰی اسی قدرکافی ہویریداللّٰہ بکم الیسرولایریدبکم العسر(اللہ تعالٰی تم پرآسانی چاہتاہے تنگی نہیں چاہتا۔ت)اورسب سے زیادہ صورت ضرورت یہ ہے کہ وہاں کنواں نہ ہومینہ سے حوض بھرتاہواورہوگیامستعمل اب اُس کے بہانے یامستعمل پر مطہربڑھانے کیلئے پانی کہاں سے لائیں لہٰذا اس صورت ثالثہ پرعمل ہوگا وباللہ التوفیق۔