Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
59 - 176
وھذا ھو الواقع ھھنا کما تری وباللّٰہ العصمۃ علی(۲) ان کلام کثیر منھم فی الباب لم یسلم عن اضطراب وھذا البحر نفسہ قد اکثر من نقول ماقدمنا من حججنا وفیھا نقل الاجماع ونص فی مسألۃ البئر ان المذھب المختار ان الماء طاھر غیر طھور ۲؎
اور یہاں ایسا ہی ہوا ہے جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں، علاوہ ازیں ان میں سے اکثر کا کلام اضطراب سے خالی نہیں، اور خود بحر نے بہت سے نقول ذکر کی ہیں جنہیں ہم نے اپنے دلائل میں بہت پہلے ذکر کیا ہے اور اس میں اجماع کو نقل کیا ہے اور کنویں کے مسئلہ میں یہ صراحت کی ہے کہ مذہب مختار یہ ہے کہ پانی طاہر غیر طہور ہے،
 (۲؎ بحرالرائق    مسئلۃ البئر جحط      ایچ ایم سعید کمپنی کراچی   ۱/۹۸)
والنھر قال فی عبارۃ الاسرار ما قال ولما تمسک البحر بعبارۃ المحیط والتوشیح والتحفۃ اذا وقع الماء المستعمل فی البئر۔۔۔الخ کتب علیہ لایخفاک ان العبارۃ فی وقوع الماء لاالمغتسل وکذا فیما بعدہ ۱؎ اھ۔ والدر استدرک علی البحر بکلام الحسن وکذا ابو السعود وقدمنا کلمات ش وھم جمیعا والحلیۃ قبلھم عللو اسقوط حکم الاستعمال بالضرورۃ وھو کما علمت اعتراف بالحق بالضرورۃ۔
اور نہر نے اسرار کی عبارت میں فرمایا ہے جو گزرا، اور جب بحر نے محیط، توشیح اور تحفہ کی عبارت سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا ''جب مستعمل پانی کنویں میں گرجائے۔۔۔الخ'' تو اس پر لکھا کہ آپ پر مخفی نہ رہے کہ عبارت پانی کے گرنے میں ہے نہ کہ دھوون کے گرنے میں، اور اس طرح اس کے بعد کی عبارت اھ۔ اور در نے بحر پر حسن کے کلام سے استدراک کیا ہے، اور اسی طرح ابو السعود نے، اور ہم نے "ش" اور ان سب کے اور حلیہ کے کلمات نقل کئے ان تمام حضرات نے حکم استعمال کے ساقط ہونے کی وجہ ضرورت کو قرار دیا ہے، اور جیسا کہ آپ نے جانا یہ اعتراف حق ہے۔ (ت)
 (۱؎ نہرالفائق)
فائدہ ۹: اقول ذکرت فی الطرس المعدل مسألۃ ادخال المحدث رأسہ اوخفہ اوجبیرتہ فی الماء وانہ یجزئہ عند الامام الثانی ولایصیر الماء مستعملا وان الصحیح وفاق محمد فیھا وان المراد لایصیر ماء الاناء مثلا مستعملا بل البلۃ الملتصقۃ بالرأس ای الممسوح فقط فاعلم ان ھذا الخصوص المسح فلا یقاس علیہ المغسول قال ملک العلماء فی البدائع ادخل رأسہ اوخفہ اوجبیرتہ فی الاناء وھو محدث قال ابو یوسف یجزئہ فی المسح ولا یصیر الماء مستعملا سواء نوی او لم ینو لوجود (عہ۱) احد سببی الاستعمال وانما کان لان فرض المسح یتأدی باصابۃ البلۃ اذھو اسم للاصابۃ دون الاسالۃ فلم یزل شیئ من الحدث الی الماء الباقی فی الاناء وانما زال الی البلۃ وکذا اقامۃ القریۃ تحصل بھا فاقتصر حکم الاستعمال علیھا ۱؎ اھ۔
فائدہ ۹: میں نے ''الطرس المعدل'' میں محدث کا پانی میں اپنا سر، موزہ یا پٹی ڈبونے کا مسئلہ ذکر کیا ہے اور یہ کہ دوسرے امام کے نزدیک اس کو یہ کفایت کرے گا، اور پانی مستعمل نہ ہوگا، اور اس میں صحیح یہی ہے کہ محمد کو اس سے اتفاق ہے، اور یہ کہ مراد یہ ہے کہ برتن کا پانی مستعمل نہ ہوگا بلکہ وہ تری جو سر سے لگی ہوئی ہے یعنی صرف ممسوح، تو جاننا چاہئے کہ یہ خاص مسح کیلئے ہے تو اس پر مغسول کو قیاس نہ کرنا چاہئے، ملک العلماء نے بدائع میں فرمایا کسی نے اپنا سر، موزہ یا پٹی پانی میں داخل کی اور بے وضو تھا، تو ابو یوسف نے فرمایا اس کے مسح کو کافی ہے، اور پانی بہرحال مستعمل نہ ہوگا خواہ نیت کرے یا نہ کرے کیونکہ استعمال کے دو۲ سببوں میں سے ایک پایا جارہا ہے اور یہ اس لئے ہوا کہ مسح کا فرض ادنیٰ تری سے ادا ہوجاتا ہے کیونکہ مسح لگانے کو کہتے ہیں نہ کہ بہانے کو، تو حَدث میں سے کوئی چیز چھُوٹ کر برتن میں پانی تک نہیں آتی صرف تری تک منتقل ہوئی اور اسی طرح اس سے قربۃ قائم ہوتی ہے تو اس پر استعمال کا حکم محدود ہوگیا اھ ۔
 (عہ۱) اقول قولہ لوجود متعلق بالمنفی ای صیرورۃ الماء مستعملا لوجود ازالۃ الحدث وان لم ینو واقامۃ القربۃ ایضا ان نوی منتفیۃ فلا یصیر مستعملا وان وجد السببان وانما کان ھذا الانتفاء لانہ لم یستعمل الماء بل البلۃ وذلک لان فرض المسح۔۔۔الخ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)

اقول اسکا قول لوجود، منفی سے متعلق ہے یعنی پانی کا مستعمل ہونا حَدث کے ازالہ کی وجہ سے اگرچہ نیت نہ کرے، اور قربۃ ادا کرے سے بھی اگر نیت کرے منتفی ہے، تو مستعمل نہ ہوگا اگرچہ دونوں سبب پائے جائیں، اور یہ انتفاء اس لئے ہے کیونکہ اس نے پانی استعمال نہیں کیا صرف تری استعمال کی اور یہ اس لئے ہے کہ مسح کا فرض الخ ۱۲ منہ (ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۰)
وھذا ینادی باعلی نداء ان عدم انتقال الحدث الٰی باقی الماء فی الاناء واقتصار حکم الاستعمال علی البلۃ فی صور المسح انما کان لانہ لایحتاج الا الی بلۃ فبھا یتأدی فرضہ وبھا تقوم قربتہ فھو لم یستعمل الماء بل البلۃ بخلاف ماوظیفتہ الغسل فانہ اسالۃ فکان استعمالا للماء لالمجرد بلۃ فیزول بہ الحدث الی جمیع ما فی الاناء لقلتہ ولا یقتصر حکم الاستعمال علی البلۃ الملاقیۃ لسطح البدن الظاھر لان البلۃ لایحصل بھا اسالۃ ولا غسل فظھر الامر وباللّٰہ التوفیق فلا حجۃ فیہ للمسوین بین الملاقی والملقی ولیس مبناہ علی تلک المسألۃ۔
اور اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسح میں حدث کا برتن میں باقی پانی کی طرف منتقل نہ ہونا اور استعمال کے حکم کا صرف تری تک محدود رہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں محض تری کی ضرورت ہے اسی سے فرض ادا ہوجاتا ہے اور اسی سے قربۃ ادا ہوجاتی ہے، تو اس نے پانی کو استعمال نہیں کیا بلکہ اس نے تری کو استعمال کیا بخلاف اس کے جس میں دھونا ضروری ہے کیونکہ اس میں بہانا ضروری ہے تو وہاں پانی کا استعمال ہوگا محض تری کا نہیں ہوگا، تو حدث برتن کے تمام پانی کی طرف منتقل ہوگا کیونکہ وہ کم ہے اور استعمال کا حکم اس تری تک محدود نہ رہے گا جو بدن کے ظاہر کی سطح سے متصل ہے کیونکہ تری سے نہ بہانا حاصل ہوتا ہے نہ غسل، تو معاملہ بتوفیق اللہ ظاہر ہوگیا، اس میں ان لوگوں کیلئے حجۃ نہیں جو ملقی اور ملاقی میں فرق نہیں کرتے تو اس کی بنیاد اس مسئلہ پر نہیں۔ (ت)
ۤاقول والدلیل القاطع علیہ ان ابایوسف القائل بنجاسۃ الماء المستعمل لم یقل ھھنا بالسریان قال الامام فقیہ النفس ابو یوسف رحمہ اللّٰہ تعالٰی قال انما یتنجس الماء فی کل شیئ یغسل اما ما یمسح فلا یصیر الماء مستعملا ۱؎ اھ۔ مع اجماع اصحابنا ان النجاسۃ تسری فی القلیل بلا فرق بین الکثیر منھا والقلیل وقد تقدم التصریح بہ عن البدائع فاندفع ماکان ذھب الیہ وھلی فی بادی الرأی ان سبیل المسألۃ سبیل الخلف فی الملقی والملاقی واستنار ماذکرت جوابا عنہ من الفرق بین الغسل والمسح اما توقفی فی وجہہ فالوجہ عند المجتہد ولیس علینا ابداؤہ۔
میں کہتا ہوں، اس پر قطعی دلیل یہ ہے کہ ابو یوسف جو مستعمل پانی کی نجاست کے قائل ہیں وہ یہاں سرایت کا قول نہیں کرتے، امام فقیہ النفس نے فرمایا کہ امام ابو یوسف نے فرمایا ''پانی ہر اس چیز میں نجس ہوتا ہے جو دھوئی جاتی ہے اور جس پر مسح کیا جاتا ہے اس سے مستعمل نہ ہوگا اھ،۔ حالانکہ ہمارے اصحاب کا اجماع ہے کہ نجاست تھوڑے پانی میں سرایت کرتی ہے خواہ کم ہو یا زائد، بدائع سے اس پر تصریح گزر چکی ہے تو ان کا جواب ہوگیا، اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ خلف کی طرح ہے ملقی اور ملاقی میں اور جو جواب میں نے ذکر کیا وہ بھی واضح ہوگیا یعنی یہ کہ غسل اور مسح میں فرق ہے، اور اس کے استدلال میں میرا توقف کرنا اس لئے ہے کہ دلیل پیش کرنا مجتہد کا کام ہے، اور ہمیں اس کا ظاہر کرنا لازم نہیں۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان    الماء المستعمل    نولکشور لکھنؤ    ۱/۸)
واقول یخطر ببالی واللّٰہ تعالٰی اعلم ان الاجسام کما قدمت جواھر فردۃ متراکمۃ متفرقۃ حقیقۃ متصلۃ حسا وامرالغسل لایتأدی الابجسم مائی ذی ثخن صالح یری سائلا علی البدن سیلانا فلابد فیہ من اعتبار المحسوس وفی الحس الماء الکائن فی محل واحد شیئ متصل واحد فحصل الاستعمال للکل لحصول اللقی للکل کما فی نجاسۃ ترد علی الماء وانما سقط الحکم عن الکثیر لان الشرع جعلہ کالجاری فلا یتأثر مالم یتغیر کما سبق تقریر کل ذلک اما المسح فمجرد اصابۃ من دون اسالۃ فتکفی فیہ جواھر قریبۃ تفید بلۃ وھی منفصلۃ عمافوقھا فیقتصر اللقاء علیھا ولا یتعدی الی سائر الاجزاء لعدم الحاجۃ الی ترک الحقیقۃ وبہ استبان ما قالوا ھنا من قصراللقاء علی البلۃ،
میں کہتا ہوں اللہ بہتر جانتا ہے میرے دل میں یہ خطرہ گزرا کہ اجسام جیسا کہ ہم نے پہلے لکھا ہے جواہر فردہ ہیں تہ بہ تہ ہیں حقیقۃً متفرق ہیں اور حِسّاً متصل ہیں، اور دھونا ایسے جسم سے ہوسکتا ہے جو پانی کا ہو اور اس میں حجم ہو اور جسم پر بہتا ہوا نظر آئے، تو اس میں محسوس کا اعتبار ضروری ہے اور جس میں وہ پانی جو ایک جگہ ہو متصل واحد ہے تو کل پانی مستعمل ہوگیا کیونکہ ملاقاۃ کل سے ہی ہے، جیسے کہ وہ نجاست جو پانی پر وارد ہو اور حکم کثیر سے اس لئے ساقط ہوگیا کیونکہ شریعت نے اس کو جاری کے حکم میں رکھا ہے، تو جب تک اس میں تغیر نہ ہو متاثر نہ ہوگا جیسے کہ اس کی تقریر گزری، اور مسح میں صرف پانی کا لگانا ہے نہ کہ بہانا ہے، تو اس کیلئے قریب جواہر ہونا کافی ہے جن سے تری پیدا ہوتی ہے اور وہ جواہر اوپر والوں سے جدا ہیں تو ملاقاۃ اسی پر منحصر رہے گی اور باقی اجزاء کی طرف منتقل نہ ہوگی کیونکہ ترک حقیقۃ کی حاجت نہیں اور یہیں سے معلوم ہوا کہ ملاقاۃ صرف تری تک محدود ہے جیسا کہ فقہاء نے فرمایا،
وظھر الجواب عما ذکرت فیہ من النظر واشار(۱) الیہ المحقق حیث اطلق ابن الھمام بقولہ فیہ نظر ھذا ما عندی فی تقریرہ وجہدالمقل دموعہ ویحتاج الی تلطیف القریحۃ وکیف ماکان لاحجۃ فیہ للمسوّین بل ھو حجۃ علیھم لدلالۃ فحواہ ان قصرالحکم علی البلۃ دون بقیۃ ما فی الاناء لعدم الحاجۃ فی المسح الی الاسالۃ فافاد ان فیما وظیفتہ الاسالۃ یعم الحکم جمیع مافی الاناء وھو المقصود۔
اور جو نظر میں نے ذکر کی ہے اس سے جواب ظاہر ہوگیا، اور محقق نے اس کی طرف اشارہ کیا کیونکہ ابن ہمام نے فرمایا اس میں نظر ہے میرے نزدیک اس کی تقریر یہی ہے، بہرصورت ان کیلئے اس میں کوئی حجۃ نہیں جو ملقی اور ملاقی میں برابری کے قائل ہیں، بلکہ یہ اُن کے خلاف حجۃ ہے، کیونکہ اس کا فحویٰ اس پر دلالت کرتا ہے کہ حکم تری پر مقصور ہے، جو برتن میں باقیماندہ پانی ہے اس پر نہیں ہے کیونکہ مسح میں اسالۃ کی ضرورت نہیں، تو انہوں نے بتایا کہ جہاں بہانا ہوتا ہے وہاں حکم برتن کے تمام پانی کو عام ہوتا ہے اور یہی مقصود ہے۔ (ت)
Flag Counter