| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
اقول الاحتیاط(۱) العمل باقوی الدلیلین وقد علمت ان مامالا الیہ لادلیل علیہ والتوسعۃ(۲) قد تبیح المیل الی روایۃ لغیرھا رجحان علیھا درایۃ وھھنا لاروایۃ ولا درایۃ نعم ان تحققت الضرورۃ ففی العمل بقول امامی الھدی مالک والشافعی رضی اللّٰہ تعالی عنہما مندوحۃ ان الماء المستعمل طاھر وطھور۔
میں کہتا ہوں احتیاط تو اس میں ہے کہ دو دلیلوں میں سے جو زیادہ قوی ہو اس پر عمل کیا جائے، اور آپ کو معلوم ہے کہ جس طرف ان کا رجحان ہے اس پر کوئی دلیل نہیں، اور گنجائش میں کبھی مرجوح روایت کو بھی درایۃً اختیار کرنا پڑتا ہے، اور یہاں تو نہ روایت ہے اور نہ درایت، ہاں اگر ضرورت پائی جاتی ہے تو بقول امام مالک اور امام شافعی عمل کی حد تک پائی جاتی ہے، اور ان کے نزدیک یہ پانی طاہر وطہور ہے۔ (ت)
فائدہ ۸: قال ش فی المنحۃ علی قول البحر لامعنی للفرق بین المسألتین یرید الملقی والملاقی مانصہ قال بعض مشائخنا یدل علیہ ایضا روایۃ النجاسۃ فان النجس ینجس غیرہ سواء کان ملقی اوملاقیا فکذا علی روایۃ الطہارۃ واذا کان کذلک فلیکن التعویل علیہ سیما وقد اختارہ کثیرون وعامۃ من تأخر عن الشارح تابعہ علی ذلک حتی صاحب النھر مع مافیہ من رفع الحرج العظیم علی المسلمین ۱؎ اھ۔
فائدہ ۸: "ش" نے منحہ میں بحر کے قول پر فرمایا دونوں مسئلوں میں کوئی فرق نہیں، یعنی ملقی اور ملاقی میں، ان کی عبارت یہ ہے کہ ہمارے بعض مشائخ نے فرمایا اس پر نجاست کی روایت دلالت کرتی ہے کیونکہ نجس دوسرے کو بھی نجس کرتا ہے خواہ وہ ملقی ہو یا ملاقی، اسی طرح طہارت کی روایت پر۔ اور جب صورتِ حال یہ ہے تو اسی پر اعتماد ہونا چاہئے بالخصوص ایسی صورت میں جبکہ بہت سے علماء نے اس کو اختیار کیا ہے اور شارح کے بعد آنے والے علماء نے حتی کہ صاحب نہر نے بھی ان کی متابعت کی ہے، پھر مسلمانوں کو تنگی سے نکالنا ہے اھ (ت)
اقول اوّلا: ان کان(۱) للقیاس علی روایۃ النجاسۃ مساغ کان الشیخ ابن الشحنۃ احق بھذا منکم فان التسویۃ علی روایۃ النجاسۃ انما ھی فی التاثیر لافی عدمھا فکما استویا علیھا فی التاثیر بسلب الطھارۃ فکذا علی روایۃ الطھارۃ بسلب الطھوریۃ لا فی عدم التاثیر اصلا وثانیا صرحوا(۲) ان ماء ورد علی نجس نجس کعکسہ ای ان التنجس یحصل للماء القلیل کلہ سواء کان ھو الوارد علی نجاسۃ او بالعکس واذن نقول بمثلہ ھھنا فکما ان الماء الوارد علی نجاسۃ حکمیۃ یصیر کلہ منسلب الطھوریۃ کذلک النجاسۃ الحکمیۃ اذا وردت علی ماء قلیل تجعل جمیعہ مسلوب الطھوریۃ وقیاس احدی النجاستین علی الاخری احق بالقبول من قیاس روایۃ الطہارۃ علی روایۃ النجاسۃ،
میں کہتا ہوں، اوّلاً اگر قیاس کو نجاست والی روایت پر گنجائش موجود ہو تو شیخ ابن الشحنہ اس کے بہ نسبت آپ کے زائد مستحق ہیں کیونکہ نجاست والی روایت پر برابری تاثیر میں ہے نہ کہ عدمِ تاثیر میں جیسے وہ دونوں سلب طہارت کی تاثیر میں برابر ہیں، اسی طرح طہارت کی روایت پر سلب طہوریت میں برابر ہونا چاہئے نہ کہ اصلاً عدمِ تاثیر میں مساوات ہو۔ثانیاً اس امر کی علماء نے تصریح کی ہے جو پانی نجس پر وارد ہوتا ہے وہ بھی نجس ہوجاتا ہے جیسا کہ اس کا عکس ہے، یعنی ناپاک ہونا کل تھوڑے پانی میں ہوتا ہے خواہ وہ نجاست پر وارد ہو یا نجاست اس پر وارد ہو، اس لئے اسی قسم کا قول ہم یہاں کرتے ہیں تو جس طرح وہ پانی جو نجاستِ حکمیہ پر وارد ہوتا ہے اس کی طہوریت ختم ہوجاتی ہے اسی طرح نجاست حکمیہ جب تھوڑے پانی پر وارد ہو تو تمام پانی کی طہوریت ختم ہوجائے گی، اور ایک نجاست کو دوسری نجاست پر قیاس کرنا زیادہ بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ طہارت کی روایت کو نجاست کی روایت پر قیاس کیا جائے۔
وثالثا وھو(۳) الحل الحکم انما یثبت بثبوت سببہ وسبب التنجس ھو ملاقاۃ النجس وھو حاصل فی الملقی کالملاقی وسبب الاستعمال ملاقاۃ بدن محدث اومتقرب سواء کان بورود الماء علی الحدث اوالحدث علی الماء وھو حاصل فی الملاقی منتف فی الملقی فیہ لان الماء المستعمل اذا القی فی الحوض فلا ماؤہ ورد علی حدث ولا الحدث ورد علیہ انما ورد علیہ ماورد علی الحدث ولیس ھذا سبب الاستعمال۔
ثالثاً، یہی حل ہے، حکم جب ثابت ہوتا ہے تو وہ اس کے سبب کے ثابت ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے،اور ناپاک ہونے کا سبب ناپاک سے ملاقات ہے، تو وہ ملقی میں بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح ملاقی میں ہے اور استعمال کا سبب محدث کے بدن سے ملاقات ہے یا متقرب کے بدن سے ملاقات ہے خواہ حدث پر پانی وارد ہو یا پانی پر حدث وارد ہو، اور یہ چیز ملاقی میں تو ہے ملقی فیہ میں نہیں کیونکہ مستعمل پانی جب حوض میں ڈالا جائے تو نہ تو اس کا پانی حدث پر وارد ہوا اور نہ ہی حدث اس پر وارد ہوا، اور اس پر وہ چیز وارد ہوئی ہے جو حدث پر وارد ہوئی ہے اور یہ سببِ استعمال نہیں۔
(۱؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۴)
ورابعا سمعت(۱) حدیث رفع الحرج ودفعہ وخامسا لیس(۲) ھؤلاء الکثیرون الاالمتأخرون عن البحر ولیس فیھم من یکون لہ قول فی المذھب لاسیما علی خلاف المذھب الصحیح المعتمد المذیل بطراز الاجماع وھذا صاحب البحر قائلا فیہ لایفتی ولا یعمل الا بقول الامام الاعظم ولا یعدل عنہ الی قولھما اوقول احدھما اوغیرھما الالضرورۃ من ضعف دلیل اوتعامل بخلافہ کالمزارعۃ وان صرح المشائخ بان الفتوی علی قولھما ۱؎ اھ ۔فاذا کان ھذا فی قول امامی المذھب وقد افتوا بہ فما ظنک بما لیس قول احدھما ولا قول احد ولا روایۃ عن احد وما صححہ احد ولا لہ فی الدرایۃ مستند، فکیف یعدل الی مثلہ عن مذھب جمیع الائمۃ الصحیح المعتمد،
رابعاً آپ حرج رفع کرنے کا معاملہ اور اس کا رَد سُن چکے ہیں۔خامساً یہ کثیر علماء بحر سے متأخر ہیں، اور ان میں کوئی اس پایہ کا نہیں کہ مذہب میں اس کا قول سند ہو، خاص طور پر قول صحیح کے مقابل جس پر اجماع ہوچکا ہو، خاص طور پر جبکہ صاحبِ بحر فرمارہے ہوں، فتوٰی امامِ اعظم کے قول پر ہی دیا جائے نہ کہ صاحبین یا کسی ایک صاحب کے قول پر سوائے ضرورت کے، مثلاً یہ کہ دلیل ضعیف ہو یا اس کے خلاف تعامل ہو ، جیسے مزارعۃ کے معاملہ میں ہوا، خواہ مشائخ نے تصریح کی ہو کہ فتوٰی صاحبین کے قول پر ہے اھ جب یہ معاملہ دو ائمہ مذہب کے ساتھ ہے اور وہ اس پر فتوٰی دے چکے ہیں تو جہاں کسی کا قول ہی نہ ہو اور نہ روایت ہو، اور نہ کسی نے اس کی تصحیح کی ہو اور نہ اس کیلئے مستند درایت ہو، تو تمام ائمہ کا اجماعی مذہب چھوڑ کر اس کو کیسے اختیار کیا جاسکتا ہے،
(۱؎ بحرالرائق اوقاتِ نماز سعید کمپنی کراچی ۱/۲۴۶)
وما مثل ھٰؤلاء بین ایدی ائمۃ المذھب الا کمثل احدنا عند ھؤلاء بل اقل وابعد، لاستوائنا جمیعا فی وجوب الاستسلام للائمۃ وردا وصدرا وان لا تکون لنا الخیرۃ من انفسنا اذا قضوا امرا، اما کثرۃ من تبع البحر فقد(۱) قال البحر فی ماھو اعظم کثرۃ واشد قوۃ من الوف امثال ھذا لدورانہ فی متون المذھب والشروح والفتاوٰی اعنی عد الاعتکاف مما لایصح تعلیقہ مانصہ ھذا الموضع مما اخطؤا فیہ والخطأ ھنا اقبح لکثرۃ الصرائح بصحۃ تعلیقہ وانا متعجب لکونھم تداولوا ھذہ العبارات متونا وشروحا وفتاوی وقد یقع کثیرا ان مؤلفا یذکر شیأ ا خطأ فیأتی من بعدہ فینقلون تلک العبارۃ من غیر تغییر ولا تنبیہ فیکثر الناقلون واصلہ لواحد مخطیئ ۱؎ اھ۔
ائمہ مذہب کے سامنے ان کی قدر وقیمت اتنی نہیں جتنی کہ ہماری ان حضرات کے سامنے ہے بلکہ اس سے بھی کمتر، کیونکہ ہم سب پر ائمہ کے حکم کا ماننا لازم ہے اور ان کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہے اور جب کسی معاملہ کا وہ فیصلہ کردیں تو ہمیں اپنی طرف سے کوئی اختیار نہیں اور رہا یہ معاملہ کہ بحر کی اتباع بہت سے مشائخ نے کی ہے ایک مسئلہ میں جو شدت وقوت کے لحاظ سے اس سے ہزار گنا زیادہ ہے کیونکہ وہ متون مذہب اور شروح اور فتاوٰی میں موجود ہے، یعنی اعتکاف کی تعلیق کے صحیح نہ ہونے کے بارے میں خود بحر نے فرمایا کہ یہاں ان کو غلطی لگی ہے، اور یہاں خطأ زیادہ قبیح ہے کیو نکہ اس کی تعلیق کی صحت پر بکثرت تصریحات موجود ہیں اور مجھے تعجب ہے کہ فقہاء نے ان عبارات کو متون وشروح اور فتاوٰی میں قبول کیا ہے، عام طور پر ایسا ہوتا رہتا ہے کہ ایک مؤلف ایک چیز ذکر دیتا ہے غلطی سے، پھر بعد والے اس غلطی کو بلا نکیر نقل کرتے رہتے ہیں، اس طرح ایک خطا کار کے ناقل بکثرت ہوجاتے ہیں اھ ۔
(۱؎ بحرالرائق متفرقات من البیوع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/۱۸۵)