Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
57 - 176
قلنا صورتان صورۃ وقوع ماء مستعمل فی غیرہ فیعتبر غلبۃ الذی لیس بمستعمل والثانیۃ ماء واحد توضاء بہ شخص اوادخل یدہ لحاجۃ ۲؎ صار مستعملا کلہ حکما کما رأیت ۳؎ اھ
ہم کہتے ہیں یہاں دو صورتیں ہیں ایک تو مستعمل پانی کا غیر مستعمل میں واقع ہونا تو اُس پانی کے غلبہ کا اعتبار ہوگا جو مستعمل نہیں دُوسرا وہ پانی جس سے ایک شخص نے وضو کیا ہو یا بوجہ حاجت اس نے اپنا ہاتھ اس میں ڈالا تو کُل حکماً مستعمل ہوگیا جیسا کہ آپ نے دیکھا اھ
 (۲؎ کذا فی نسختی المنحۃ وصوابہ لالحاجۃ اولغیر حاجۃ اھ منہ (م(
میرے پاس موجود منحہ کے نسخہ میں اسی طرح ہے اور مناسب ''لَا لِحَاجَۃٍ'' یا ''لغیرِ حاجَۃٍ'' ہے۔ (ت(
 (۳؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق    کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۱)
نقلہ فی المنحۃ واقرہ ولذلک لم یتأت للبحر الانتفاع باولہ والتجأ الی ردہ ببنائہ علی روایۃ ضعیفۃ والعبد الضعیف قدم التوفیق بین اولہ واٰخرہ بحیث جعلہ کلاما واحدا منتظما والشیخ العلامۃ عبدالبر سلک فی شرح الوھبانیۃ مسلکا اٰخر فجعل اولہ سؤالا واٰخرہ جوابا اذقال والحاصل ان ابازید الدبوسی فی کتاب الاسرار اوردماذکرہ فی البدائع علی سبیل الالزام من ابی یوسف لمحمد رحمہما اللّٰہ تعالی وذکر جواب محمد عنہ فکشف اللبس واوضح کل تخمین وحدس فانہ قال بعد ماذکر مذاھب علمائنا فی الماء المستعمل والااستدلال لمحمد رحمہم اللّٰہ تعالی عامۃ مشایخنا ینصرون قول محمد وروایتہ عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ ثم قال یحتج للقول الاٰخر (ای نجاستہ) بما روی فذکر حدیث'' لایبولن احدکم'' ثم قال ومن قال ان الماء المستعمل طاھر طھور لایجعل الاغتسال فیہ حراما الی اٰخر ماتقدم عن الدّبّوسی ۱؎۔
اس کو منحہ میں نقل کیا اور برقرار رکھا، اس لئے بحر کو اس عبارت کے اول سے کوئی فائدہ نہ ہوا اور اس کے رد میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک ضعیف روایت پر مبنی ہے، اور ناچیز نے اس قول کے اول وآخر میں تطبیق دی ہے اور اس کو منظّم کلام کی حیثیت سے پیش کیا ہے اور شیخ علامہ عبدالبر نے وہانیہ کی شرح میں ایک دوسری راہ اختیار کی ہے اور وہ یہ کہ اس کے اول کو سوال اور آخر کو جواب قرار دیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حاصل یہ ہے کہ ابو زید الدبّوسی نے کتاب الاسرار میں وہ ذکر کرلیا ہے جو بدائع میں ابویوسف کی طرف محمد پر الزام ذکر کیا ہے اور محمد کا جواب ذکر کیا ہے جس سے تمام بات واضح ہوگئی انہوں نے پہلے تو ہمارے علماء کا مذہب مستعمل پانی کی بابت ذکر کیا اور امام محمد کا استدلال ذکر کیا پھر کہا کہ عام مشائخ امام محمد کے قول اور ان کی روایت جو امام ابو حنیفہ سے ہے کی تائید کرتے ہیں _____ پھر فرمایا دوسرے قول پر (یعنی اُس کی نجاست پر) اُس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے جو مروی ہے، پھر ''لایبولن احدکم'' والی حدیث سے استدلال کیا۔ پھر فرمایا جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ مستعمل پانی طاہر وطہور ہے وہ اس سے غسل کو حرام قرار نہیں دیتے ہیں الی اخر ماتقدم عن الدبوسی۔ (ت(
 (۱؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق    کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۲)
اقول: ھذا التقریر وان لم(۱) یکن ظاھرا من سوق عبارۃ الاسرار بیانہ یتوقف علی ماذکر فی البدائع ثم البحر ان اخراج الماء من ان یکون مطھرا من غیر ضرورۃ حرام ۲؎ اھ
میں یہ کہتا ہوں کہ یہ تقریر اسرار کی عبارت کے سیاق سے ظاہر نہیں ہے، اس کا بیان اُس پر موقوف ہے جو بدائع پھر بحر میں مذکور ہے کہ پانی کو مطہّر ہونے سے بلا ضرورت خارج کرنا حرام ہے اھ
 (۲؎ بحرالرائق    کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۰)
فیستفاد منہ ان اغتسال المحدث فی الماء القلیل حرام عند محمد ایضا فکأنّ الامام ابا یوسف یلزمہ بان المستعمل طاھر عندک والطاھر لایسلب الطھور طھوریتہ مادام الطھور غالبا کلبن یقع فیہ فلایصح لک تحریم الاغتسال فیہ الا ان تقول بقول وتحکم بنجاسۃ الغسالۃ فح یفسد الکل ویصح الحکم فاجاب محمد بان الکل لکونہ قلیلا شیئ واحد فصار الکل ملاقیا لبدن المحدث فصار الکل مستعملا حکما بخلاف اللبن فلیس فیہ الااختلاط طاھر بطھور ولیس سبب الاستعمال فلا یسلبہ الطھوریۃ مادام الماء غالبا علیہ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بے وضو کا تھوڑے پانی میں غسل کرنا محمد کے نزدیک بھی حرام ہے، گویا امام ابو یوسف بطور الزام اُن سے یہ کہتے ہیں کہ تمہارے نزدیک مستعمل پانی پاک ہے اور پاک پانی دوسرے پانی کی طہوریت کو سلب نہیں کرتا ہے جب تک کہ طہور غالب ہو، جیسے کہ دودھ اس میں گر جائے، تو آپ اُس میں غسل کو حرام نہیں کرسکتے ہیں، صرف اس کی یہی صورت ہے کہ آپ میرے قول کو اختیار کرلیں، اور دھوون کی نجاست کا قول کریں، اس صورت میں کُل پانی فاسد ہوجائے گا اور حکم صحیح ہوگا، محمد نے اس کا جواب یہ دیا کہ کل پانی بوجہ قلیل ہونے کے چونکہ شیئ واحد ہے تو کل بے وضو کے بدن سے متصل ہوا، تو حکما کل مستعمل ہوگیا، دُودھ میں یہ چیز نہیں اُس میں ایک طاہر کا طہور سے ملنا ہے اور یہ استعمال کا سبب نہیں ہے تو اُس کی طہوریت کو سلب نہ کریگا جب تک پانی اس پر غالب رہے۔(ت)
قلت وملک العلماء لم یجعلہ الزاما من ابی یوسف لمحمد بل دفع یرد علی استدلال ابی یوسف بالحدیث کما تقدم نقلہ فی صدر الفصل الاول ولکل وجہۃ ھو مولیھا وبالجملۃ اولہ علی کلا الوجھین تأیید لروایۃ ضعیفۃ وکفی باٰخرہ جوابا عنہ والاولی مافعل العبد الضعیف کما علمت وللّٰہ الحمد۔
میں کہتا ہوں ملک العلماء نے اس کو ابو یوسف کی طرف سے امام محمد پر بطور الزام ذکر نہیں کیا ہے، بلکہ ایک درمیانی اعتراض کا جواب ہے جو ابو یوسف کے حدیث سے استدلال پر پیدا ہوتا ہے جیسا کہ فصل اول کی ابتداء میں گزرا، ہر شخص کا اپنا اپنا طرز استدلال ہوتا ہے، خلاصہ یہ کہ اس کا اوّل دونوں صورتوں میں ایک ضعیف روایت کی تائید ہے اور اس کا آخر اس کا جواب شافی ہے، اور بہتر وہ صورت ہے جو ناچیز نے اختیار کی ہے، جیسا کہ آپ نے جان لیا وللہ الحمد۔ (ت(
فائدہ ۵: من کلام الشیخ ابن الشحنۃ فی الشرح علی مسألۃ محدث وقع فی بئر مانصہ والذی تحرر عندی انہ یختلف الحکم فیھا باختلاف اصول ائمتنا فیہ والتحقیق نزح الجمیع عند الامام علی القول بنجاسۃ الماء المستعمل وقیل اربعون عندہ وتحقیق مذھب محمد انہ یسلبہ الطھوریۃ وھو الصحیح عن الامام والثانی وعلیہ الفتوی فینزح عشرون لیصیر طھورا وھذا علی القول بعدم اعتبار الضرورۃ امالو اعتبرت لایصیر مستعملا فی کل موضع تتحقق الضرورۃ فی الانغماس فی الماء اوادخال الید فیہ واعتبار الضرورۃ فی مثل ذلک مذکور فی الصغری وغیرھا،
فائدہ ۵: یہ شیخ ابن الشحنہ کے کلام سے ماخوذ ہے جو اُنہوں نے اُس بے وضو کی بابت کیا ہے جو کنویں میں گر پڑا ہو، فرماتے ہیں اس کا حکم ہمارے ائمہ کے اصول کے مختلف ہونے کی وجہ سے مختلف ہے اور تحقیق یہ ہے کہ امام صاحب کے نزدیک تمام کنویں کا پانی نکالا جائے گا کیونکہ ان کے نزدیک مستعمل پانی نجس ہے، ایک قول یہ ہے کہ چالیس ڈول نکالے جائیں گے، اور مذہب امام محمد کی تحقیق یہ ہے کہ وہ پانی سے طہوریت کو سلب کرلیتا ہے، اور امام صاحب سے صحیح یہی ہے اور دُوسرے امام سے بھی، اور اسی پر فتوٰی ہے تو اُس سے بیس ڈول نکالے جائیں گے تاکہ وہ طہور ہوجائے اور یہ عدم اعتبار ضرورت کے قول پر ہے، اور اگر ضرورت کا اعتبار کیا جائے تو ہر اس جگہ جہاں پانی میں غوطہ لگانے کی یا ہاتھ ڈبونے کی ضرورت ہو وہاں پانی مستعمل نہ ہوگا اور ضرورت کا اعتبار اس کی مثل میں صغری وغیرہا میں مذکور ہے،
فلا تغتر بما ذکرہ شیخنا العلاّمۃ زین الدین قاسم تغمدہ اللّٰہ برحمتہ فی رسالتہ المسماۃ برفع الاشتباہ فانہ خالف فیھا صریح المنقول عن ائمتنا واستند الی کلام وقع فی البدائع علی سبیل البحث وتبعہ (یعنی القاسم) علی ذلک بعض من ینتحل مذھب الحنفیۃ ممن لارسوخ لہ فی فقھھم وکتب فیہ کتابۃ مشتملۃ علی خلط وخبط ومخالفۃ النصوص المنقولۃ عن محمد رحمہ اللّٰہ تعالی وقد بینت ذلک فی مقدمۃ کتبتھا حققت فیھا المذھب فی ھذہ المسألۃ (ثم قال والحاصل ان ابازید الدبوسی الی اخر ماقدمنا عنہ اٰنفا ثم قال) وفی البدائع ایضا التصریح بان الطاھر اذا انغمس فی البئر للاغتسال صار مستعملا عند اصحابنا الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالی عنھم وصرح فی فتاوی قاضیخان بان ادخال الید فی الاناء للغسل یفسد الماء عند ائمتنا الثلثۃ وتکفل بایضاح ھذا وتحریرہ رسالتی زھر الروض ۱؎ اھ
تو شیخ علّامہ زین الدین نے اپنے رسالہ رفع الاشتباہ میں جو کچھ فرمایا ہے اس سے مغالطہ نہ ہونا چاہئے کہ وہ ہمارے ائمہ کی صریح نقول کے مخالف ہے، وہ محض اُس بحث کے سہارے پر ہے جو بدائع نے کی ہے اور ان کی (یعنی علامہ قاسم کی) پیروی محض بعض ناپختہ کار حنفی فقہاء نے کی ہے، اور اسی پر ایک بے سروپا کتاب جو امام محمد سے منقول نصوص کے مخالف ہے لکھی ہے، میں نے یہ تمام بحث ایک مقدمہ میں کی ہے، اور اس میں مذہب کی تحقیق کی ہے (پھر فرمایا خلاصہ یہ کہ ابُو زید دبّوسی الیٰ اخر ماقدمنا عنہ اٰنفا پھر فرمایا) اور بدائع میں بھی یہ تصریح کی ہے کہ پاک انسان جب کُنویں میں غوطہ لگائے غسل کی نیت سے، تو ہمارے اصحابِ ثلٰثہ رضی اللہ عنہم کے نزدیک پانی مستعمل ہوجائیگا، اور فتاوٰی قاضیخان میں یہ تصریح موجود ہے کہ پانی میں بہ نیت غسل ہاتھ ڈالنا پانی کو فاسد کردیتا ہے، ہمارے ائمہ ثلٰثہ کے نزدیک، میں نے اس کی مکمل ایضاح وتحریر اپنے رسالہ زہرالروض میں کی ہے (ت)
 (۱؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق    کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۲)
اقول:ھو کلام طیب لخص فیہ مقاصد رسالتہ وخلصہ مما خلط بہ فی زھر الروض من تسویۃ الملقی والملاقی فی عدم الجواز الا حدیث(۱) نزح عشرین والتحقیق(۲) عندہ علی مذھبہ المعتمد لا نزح اصلا مالم یساو اویغلب لان الطہور لایطھر۔
میں کہتا ہوں یہ کلام بہت خوب ہے، اس میں انہوں نے بڑی وضاحت سے اپنے رسالہ کے مقاصد کو ظاہر کیا ہے، اور زہرالروض نے جو ملقی اور ملاقی میں خلط مبحث کیا ہے عدمِ جواز میں، اُس سے بھی چھٹکارا دلایا ہے صرف بیس ڈول والی حدیث کا معاملہ باقی ہے اور ان کے مذہب معتمد میں تحقیق یہ ہے کہ جب تک مستعمل پانی برابر یا غالب نہ ہو اس وقت تک پانی بالکل نہیں نکالا جائیگا کیونکہ طہور پاک نہیں ہوتا ہے۔ (ت)
فائدہ۶: قال فی الدر ان المطلق اکثر من النصف جازالتطہیر بالکل والا لا وھذا یعم الملقی والملاقی ففی الفساقی یجوز التوضی مالم یعلم تساوی المستعمل علی ماحققہ فی البحر والنھر والمنح قلت لکن الشرنبلالی فی شرح الوھبانیۃ فرق بینہما فراجعہ متأملا ۱؎ اھ۔

فائدہ ۶: دُر میں ہے کہ مطلق پانی آدھے سے زائد ہے تو کُل سے پاکی حاصل کرنا جائز ہے ورنہ نہیں، اور یہ چیز ملقی اور ملاقی کو عام ہے تو چھوٹے حوضوں میں وضو جائز ہے جب تک مستعمل پانی کا برابر ہونا معلوم نہ ہو، اس کی تحقیق بحر، نہر اور منح میں موجود ہے، میں کہتا ہوں شرنبلالی نے شرح وہبانیہ میں دونوں میں فرق کیا ہے وہ بغور دیکھا جائے اھ
 (۱؎ درمختار    باب المیاہ    مجتبائی دہلی        ۱/۳۴ )
وذکر ش عند قولہ حققہ فی البحر استدلالہ علی ذلک باطلاقھم المفید للعموم وبقول البدائع وفتوٰی قارئ الھدایۃ المذکورۃ قال وقد استدل فی البحر بعبارات اخرلاتدل لہ کما یظھر للمتأمل لانھا فی الملقی والنزاع فی الملاقی کما اوضحناہ فیما علقناہ علیہ فلذا اقتصرنا علی ماذکرنا ۲؎ اھ ورأیتنی کتبت فی جدالممتار علی قولہ المفید للعموم مانصہ۔
اور ''ش'' نے ان کے قول حققہ فی البحر کے پاس ان کا استدلال ذکر کیا ہے کہ ان کا اطلاق مفید عموم ہے، اور بدائع کے قول اور قارئ الہدایہ کے مذکورہ فتوٰی سے، فرمایا بحر میں دوسری عبارات سے بھی استدلال کیا ہے مگر وہ ان کے حق میں مفید نہیں، جیسا کہ غور کرنے پر ظاہر ہوتا ہے، کیونکہ وہ عبارات ملقی سے متعلق ہیں اور جھگڑا ملاقی میں ہے، جیسا کہ ہم نے واضح کیا ہے، اپنی تعلیقات میں اس پر ہم نے روشنی ڈالی ہے، اس لئے ہم نے اس پر اکتفاء کیا، اور میں نے اپنی کتاب ''جدّ المحتار'' میں لکھا ہے، یہ ان کے قول "المفید للعموم" کے تحت لکھا گیا ہے۔
 (۲؎ ردالمحتار     باب المیاہ  مصطفی البابی مصر    ۱/۱۳۴)
اقول:نعم یفید علی فرض ان المستعمل فی الملاقی ھو السطح الملاصق من الماء بجسد المحدث لاغیر وھو اول النزاع وانا اقول لوکان کذلک لارتفع المستعمل من صفحۃ الدنیا لانک اذا صببت الماء علی یدک مثلا فانما یلاقی یدل سطح من الماء وسائر جرمہ منفصل عنہا کما ان التلاقی یکون بسطح من یدک وسائر جرمھا لم یمسہ الماء والجسم ابدا یکون اکبر من السطح فتکون الغلبۃ لغیر المستعمل فلا یصیر مستعملا ابدا واذا جعلت کلہ مستعملا لتلاقی سطحہ سطح الجسد فلا نعلم فرقا بین جرم وجرم فان اسلت اسالۃ ضعیفۃ صار الکل مستعملا وان صببت صبا شدیدا حتی کان ثخن الماء اضعاف الاول کان ایضا کلہ مستعملا فلا دلیل علی التفرقۃ بین ثخن وثخن مالم یبلغ حد الکثرۃ،
میری عرض یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔ ہاں فائدہ دیتا ہے اس مفروضہ پر کہ مستعمل ملاقی میں وہ سطحِ آب ہے جو مُحدِث کے جسم سے ملی ہوئی ہے، اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے اور وہ پہلا نزاع ہے، اور میں کہتا ہوں اگر ایسا ہی ہوتا تو روئے زمین پر مستعمل پانی کا وجود ہی ناپید ہوجاتا کیونکہ مثلاً اگر آپ نے اپنے ہاتھ پر پانی بہایا تو آپ کا ہاتھ پانی کی سطح سے ملے گا اور اس کا باقی حصّہ اس سے الگ رہے گا، جس طرح تلاقی آپ کے ہاتھ کی سطح سے ہوتی ہے اور اس کا باقی حصّہ پانی سے کبھی نہیں لگتا ہے اور جسم ہمیشہ سطح سے بڑا ہی ہوتا ہے، تو غلبہ غیر مستعمل کو ہوگا تو وہ مستعمل کبھی نہ ہوگا، اور جب آپ نے کل کو مستعمل قرار دیا کہ اس کی سطح جسم کی سطح سے مل رہی ہے تو ہم ایک جرم اور دوسرے جرم میں فرق نہیں پاتے ہیں، تو اگر آہستہ سے بہایا جائے تو کُل مستعمل ہوجائے گا، اور اگر سختی سے بہایا جائے اس طور پر کہ پانی کا حجم پہلے سے کئی گنا زائد ہو تو بھی کل مستعمل ہوجائے گا تو پانی کے ایک حجم اور دوسرے حجم کے فرق پر کوئی دلیل نہیں، تاوقتیکہ وہ حدِ کثرت کو نہ پہنچ جائے،
وقول البدائع بحث منہ ذکرہ فی سؤال وجواب لانقل عن الاصحاب بخلاف کلام الامام الدبوسی فانہ نقل صریح ومن النصوص الصرائح کذلک مسائل ادخال الید والرجل ودخول المحدث فی البئر المصرح بھا نقلا عن الائمۃ الثلثۃ فی المتون والشروح والفتاوی وحمل کلھا علی روایۃ ضعیفۃ مما لایعقل ولا یحتمل وعبارۃ الفتوٰی صریحۃ فی ان الماء المستعمل یقع فیھا فیکون من الملقی دون الملاقی ولا تغتر بانھم لابدلھم ان یغترفوا منھا فیدخلوا ایدیھم قبل الغسل وذلک تلاق لان الاغتراف معفو عنہ بالاتفاق لاجل الحاجۃ اھ ماکتبت علیہ،
اور بدائع کا قول تو محض ایک بحث ہے جس کو انہوں نے ایک سوال وجواب کے ضمن میں ذکر کیا ہے یہ اصحابِ امام ابی حنیفہ سے نقل نہیں ہے جبکہ امام دبّوسی نے نقل پیش کی ہے اسی طرح ہاتھ پیر داخل کرنے، اور بے وضو کے کنویں میں داخل ہونے کے مسائل صراحۃً متون وشروح میں مذکور ہیں اور فتاوٰی میں بھی مذکور ہیں، ان کو ہمارے ائمہ ثلٰثہ سے نقل کیا گیا ہے، اب ان تمام چیزوں کو ایک ضعیف روایت پر محمول کرنا انتہائی غیر معقول بات ہے، اور فتوٰی کی عبارت سے صراحۃً معلوم ہوتا ہے کہ مستعمل پانی اس میں گرتا ہے تو وہ ملقی سے ہوگا نہ کہ ملاقی سے، تجھے یہ دھوکا نہ ہو کہ ان کیلئے یہ ضروری نہیں کہ وہ اس سے چُلّو کے ذریعہ پانی نکالیں تو وہ ہاتھ دھونے سے قبل داخل کرینگے اور اسی کو تلاقی کہتے ہیں، کیونکہ اس طرح چُلّو سے پانی نکالنا بالاتفاق معاف ہے، کیونکہ اس میں حاجۃ ہے اھ یہاں تک میرا حاشیہ ختم ہوا،
وقد علمت مما قدمناہ فی الفصول الثلثۃ ان الفحول الثلثۃ کلھم قد اغفلوا محل النزاع ولکن لاعجب فی الاغفال انما العجب(۱) من العلامۃ الشامی تنبہ لھذا وترک جل مافی البحر لکونہ فی الملقی ثم اورد عبارۃ الفتوی مع انھا کما علمت صریحۃ فی الملقی فکان یجب اسقاطھا ایضا وقد علمت مافی الاستدلال بالعموم من نوع مصادرۃ علی المطلوب فلیس بایدیھم شیئ اصلا سوی بحث البدائع الواقع مناضلا لمتواترات النصوص والروایات الظاھرۃ الصحیحۃ عن الائمۃ الثلثۃ مصادما لاجماعھم المنقول فی الکتب المعتمدۃ حتی البدائع والبحر فتثبت ولا تزل ثبتنا اللّٰہ وایاک والمسلمین بالقول الثابت فی الحیٰوۃ الدنیا وفی الاٰخرۃ انہ ولی ذلک والقدیر علیہ ولا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ العلی العظیم وصلی اللّٰہ تعالٰی علی سیدنا ومولٰنا واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین اٰمین!
اور جو کچھ ہم نے فصول ثلٰثہ میں ذکر کیا ہے اس سے آپ کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ تینوں جلیل القدر علماء اصل محلِ نزاع سے غافل رہے، لیکن اس غفلت پر تعجب نہیں، تعجب تو اس امر پر ہے کہ علامہ شامی اس پر متنبہ ہوگئے اور جو بحر میں تھا اس کو ترک کردیا کیونکہ اس کا تعلق ملقی سے تھا، اور پھر بھی فتوٰی کی عبارت ذکر کی، حالانکہ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے وہ ملقی میں صریح ہے تو اس کا اسقاط بھی ضروری تھا اور آپ کو معلوم ہے کہ عموم سے استدلال میں ایک قسم کا مصادرہ علی المطلوب ہے تو اُن کے پاس بدائع کے بحث کے علاوہ کچھ نہیں ہے جبکہ یہ عبارت نصوصِ متواترہ اور روایاتِ ظاہرہ صحیحہ کے مخالف ہے اور ائمہ ثلٰثہ کا جو اجماع کتب معتمدہ حتی کہ بدائع اور بحر میں بھی منقول ہے اُس کے بھی خلاف ہے لہٰذا اس کو خوب ذہن نشین کرلینا چاہئے، اللہ تعالیٰ تم کو ہم کو تمام مسلمانوں کو دنیا وآخرت میں حق پر ثابت قدم رکھے وہ اس کا والی اور قادر ہے اس اللہ علی وعظیم کے سوا کسی کو طاقت نہیں ہے اور صلوٰۃ ہمارے سردار ان کی آل اصحاب بیٹے جماعت تمام پر ہو، آمین! (ت)
فائدہ ۷: ختم ھذا المبحث ش بقولہ قلت وفی ذلک (ای مامال الیہ العلامۃ والبحر) توسعۃ عظیمۃ ولا سیما فی زمن انقطاع المیاہ عن حیاض المساجد وغیرھا فی بلادنا ولکن الاحتیاط لایخفی ۱؎ اھ
فائدہ ۷: "ش" نے اس بحث کو ان الفاظ پر ختم کیا ہے ''میں کہتا ہوں اور اس میں (یعنی جس کی طرف علامہ اور بحر کا میلان ہے) بڑی وسعت ہے خاص طور پر اُس زمانہ میں جبکہ ہمارے بلاد کی مساجد وغیرہ سے حوضوں کا پانی ختم ہوتا جاتا ہے، لیکن احتیاط مخفی نہیں'' اھ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب المیاہ    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۳۵)
Flag Counter