اقول لفظ السریان(۱) وقع غیر موقعہ فانہ یوھم ان المستعمل اولا مالاقی ثم یسری الحکم الی بقیۃ اجزاء الماء بالتجاور وھو مردود صریحا بما تقدم ان العبرۃ للغلبۃ ولو سری لسری بالملقی کما توھم العلامۃ عبدالبر فیبطل الفرق ویعود الکلام علے مقصود بالنقض وھذا ھوالذی حمل البحر علی قصر الاستعمال علی مالاقی بل نقول انہ اذا انغمس فیہ وھو قلیل فقد استعمل کلہ معا لان جمیعہ شیئ واحد فلا قصر ولا سریان ولقد احسن العلامۃ الشامی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ اذقررہ بقولہ فی المنحۃ یعنی انہ لما انغمس اوادخل یدہ مثلا صار مستعملا لجمیع ذلک الماء حکما لان المستعمل حقیقۃ ھو مالاقے جسدہ بخلاف مااذا صب المستعمل فیہ فان المستعمل حقیقۃ وحکما ھو ذلک الملقی فلا وجہ للحکم علی الملقی فیہ بالاستعمال مالم یساوہ اویغلب علیہ اذلم یدخل فیہ جسدہ حتی یحکم علیہ بالاستعمال حکما، یدل علیہ مافی الاسرار للدبوسی وقولھم فی مسألۃ البئر جحط لوانغمس بقصد الاغتسال للصلاۃ صار الماء مستعملا اتفاقا ۱؎ اھ فھذا ھو التحقیق واللّٰہ تعالی ولی التوفیق۔
میں کہتا ہوں ''سریان'' کا لفظ بے موقع استعمال ہوا ہے اس سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ مستعمل اوّلا تو وہ ہے جو بدن سے ملاقی ہے پھر حکم بقیہ اجزاء کی طرف جائے گا کیونکہ یہ ایک دوسرے کے قریب ہیں، اور یہ صریحا مردود ہے، جیسا کہ گزرا کہ اعتبار غلبہ کو ہے اور اگر سرایت کرے گا تو ملقی میں کرے گا، جیسا کہ علامہ عبدالبر کو وہم ہوا ہے تو فرق باطل ہوجائے گا اور کلام مقصود بالنقض کی طرف لوٹے گا، اور یہی چیز ہے جس نے بحر کو اس پر مجبور کیا وہ استعمال کا حکم صرف اس پر لگائیں جو ملاقی ہو، بلکہ ہم کہتے ہیں جب کوئی شخص پانی میں غوطہ لگائے اور پانی کم ہو تو سب یک دم مستعمل ہوجائیگا کیونکہ وہ سارے کا سارا شیئ واحد ہے، تو نہ قصر اور نہ سرایت ہے، علّامہ شامی نے اس کو برقرار ر کھ کر اچھا کیا، وہ منحہ میں فرماتے ہیں یعنی جب اس نے غوطہ لگایا یا مثلاً اس نے اپنا ہاتھ ڈبویا تو سارا پانی مستعمل ہوگیا حکما، کیونکہ حقیقۃً مستعمل تو صرف وہی ہے جو بدن سے متصل ہو، اور اگر مستعمل اس میں ڈالا گیا تو دوسرا حکم ہے، کیونکہ حقیقۃً وحکماً مستعمل یہی ملقی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ملقی فیہ پر استعمال کا حکم لگایا جائے تا وقتیکہ وہ اس کے برابر نہ ہو یااس پر غالب نہ ہو کیونکہ اس کا جسم تو اس میں داخل نہیں ہوا کہ اس پر حکما استعمال کا حکم لگایا جائے، اس پر دبوسی کی اسرار دلالت کرتی ہے اور ان کا مسئلۃ البئر جحط میں یہ کہنا کہ اگر کسی شخص نے کنویں میں اس نیت سے غوطہ لگایا کہ نماز کیلئے غسل کرے گا تو پانی اتفاقاً مستعمل ہوجائے گا اھ تو تحقیق یہی ہے اور اللہ تعالیٰ توفیق دینے والا ہے۔
(۱؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۲)
فائدہ ۳: سبق العلامۃ ابا الاخلاص فی تعبیر الفرق ھکذا بعض معاصری العلامۃ زین فاوردہ وردہ وھذا نصہ فی البحر اذا عرفت ھذا ظھر لک ضعف من یقول فی عصرنا ان الماء المستعمل اذا صب علی الماء المطلق وکان المطلق غالباً یجوز الوضوء بالکل واذا توضأ فی فسقیۃ صار الکل مستعملا اذلا معنی للفرق بین المسألتین وما قد یتوھم فی الفرق من ان فی الوضوء یشیع الاستعمال فی الجمیع بخلافہ فی الصب مدفوع بان الشیوع والاختلاط فی الصورتین سواء بل لقائل ان یقول القاء الغسالۃ من خارج اقوی تاثیرا من غیرہ لتعین المستعمل فیہ بالمعاینۃ والتشخیص وتشخص الانفصال ۱؎ اھ
فائدہ ۳: علامہ نے ابو الاخلاص سے پہلے فرق کوبیان کیا، اسی طرح علّامہ زین کے بعض معاصرین نے فرق بیان کیا، اور اس کو رد کیا، اور یہ بحر میں ان کی عبارت ہے، جب تم نے یہ جان لیا تو ہمارے بعض معاصرین کے اس قول کا ضعف ظاہر ہوگیا کہ مستعمل پانی جب مطلق پانی میں ڈالا جائے اور مطلق غالب ہو تو سارے پانی سے وضو جائز ہے اور جب چھوٹے حوض میں وضو کیا تو کل مستعمل ہوگیا، کیونکہ دونوں مسئلوں میں فرق کی کوئی وجہ نہیں، اور یہ فرق جو بیان کیا جاتا ہے کہ وضوء کی صورت میں استعمال تمام پانی میں عام ہوجاتا ہے اور ڈالنے میں یہ صورت نہیں ہوتی، اس لئے ناقابلِ لحاظ ہے کہ شیوع اور اختلاط دونوں صورتوں میں برابر ہے، بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ دھوون کا باہر سے ڈالنا زیادہ مؤثر ہے، کیونکہ اس میں مستعمل دیکھنے اور علیحدہ پہچان کرنے سے متعین ہوجاتا ہے اھ
وھذا الکلام ارتضاہ السیدان ط وش حتی قال ط بعد ذکرکلام الشرنبلالی ھذا التوھم قدذکرہ فی البحر واعرض ۲؎ عنہ اھ۔
اور اس کلام کو سیدان 'ط' اور 'ش' نے پسند کیا یہاں تک کہ 'ط' نے شرنبلالی کا کلام ذکر کرنے کے بعد فرمایا، اس وہم کو بحر میں ذکر کیا اور اس سے اعراض کیا اھ
(۲؎ طحطاوی علی الدر باب المیاہ بیروت ۱/۱۰۴)
اما المدقق العلائی فاستدرک علی ا لبحر بکلام الشرنبلالی فقال فراجعہ متاملا ۳؎ اھ
اور مدقق علائی نے بحر پر شرنبلالی کے کلام سے استدراک کیا اور فرمایا پورے غور سے اس کی طرف مراجعت کریں اھ۔
(۳؎ الدرالمختار علی حاشیۃ الطحطاوی باب المیاہ بیروت ۱/۱۰۴)
اقول لقول القائل یشیع فی(۱) الجمیع ثلثۃ محامل وذلک لان الشیوع الامتزاج من دون امتیاز فلا یمکن التعیین بل الکل یحتملہ علی البدلیۃ کھبۃ المشاع والمعنی علیہ انہ اذا توضأ فی الفسقیۃ اختلط ماء وضوئہ بسائرھا بحیث لایمکن التمییز فای غرفۃ تأخذھا تحتمل ان تکون من المستعمل فیکون حکم الاستعمال شائعا فی جمیع الاجزاء شیوع ھبۃ نصف شائع فی النصفین والشیوع(۲) السریان ای اذا توضأ فیھا استعمل مالاقاہ وتعدی الحکم منہ الی جارہ وھکذا فصار الکل مستعملا والشیوع(۳) العموم ای ان فی الوضوء یعم الاستعمال لجمیع وانت تعلم ان المعنی الثالث حق صحیح لاغبار علیہ اصلا ولا یمسہ مافی البحر لان عموم الحکم لعموم السبب فان الکل ملاق کما سبق مرارا،
مَیں کہتا ہوں ''یشیع فی الجمیع'' والے قول میں تین تاویلات ہوسکتی ہیں کیونکہ شیوع(۱) امتزاج بلا امتیاز ہو توتعیین ممکن نہیں بلکہ کل میں اس کا احتمال علی سبیل البدلیۃ ہے جیسا کہ مشاع کاہبہ، اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب چھوٹے حوض میں وضو کیا تو اس کا پانی تمام پانی میں ملے گا اور امتیاز ممکن نہیں، تو جو چُلّو لیا جائے گا اس میں احتمال ہے کہ مستعمل پانی سے ہو، تو استعمال کا حکم تمام پانی کو اس طرح شامل ہوگا جیسا کہ غیر ممتاز دو۲ حصوں والی چیز کے نصف کا ہبہ ہو، اور شیوع(۲) سریان یعنی جب اس میں وضو کیا تو جو اس کے ملاقی ہے وہ مستعمل ہوجائیگا پھر اس کے ساتھ والے اجزاء تک یہی حکم چلے گا اور اس طرح سارے کا سارا مستعمل ہوجائیگا، اور شیوع(۳) عموم کے معنی میں بھی آتا ہے یعنی وضو کی صورت میں استعمال کا حکم تمام پر لاگو ہوجاتا ہے، اور آپ جانتے ہیں کہ تیسرا معنی حق اور بے غبار ہے، اور بحر کا اعتراض اس پر نہیں ہوتا، کیونکہ حکم کا عموم سبب کے عموم کی وجہ سے ہے کیونکہ کل ملاقی ہے جیسا کہ کئی مرتبہ گزرا،
والمعنی الثانی ھو ماجنح الیہ العلامۃ الشرنبلالی فی متبادرکلامہ وقد علمت مالہ وعلیہ والمعنی الاول مثلہ فی البطلان کفی ردا علیہما مسألۃ الملقی ولزوم اثبات الفرق بابطالہ والبحر حملہ علی الاول ففسر الشیوع بالاختلاط وحکم انہ فی الصورتین سواء وانما ذلک عندہ للمعنی الاول دون السریان والعموم الا ان یرید بالشیوع سببہ ویفسرہ بالاختلاط فیکون المعنی ان سبب السریان اوالعموم عندک وھو الاختلاط سواء فی الصورتین مع تخلف الحکم فالملقی وفاقا وقد علمت جوابہ علی الحق نعم من یزعم السریان یرد علیہ ولا یرُدّ۔
اور دوسرے معنی کی طرف علّامہ شرنبلالی کا میلان ہے جیسا کہ اُن کے کلام سے متبادر ہے اور اس کا مالہ وما علیہ آپ جان چکے ہیں اور پہلا معنی بھی اسی کی طرح باطل ہے، ان کی تردید میں اور اس کے ابطال کو فرق کے اثبات کا لازم ہونا کافی ہے اور بحر نے اس کو پہلے پر محمول کیا ہے اور شیوع کی تفسیر اختلاط سے کی ہے اور حکم لگایا ہے کہ یہ دونوں صورتوں میں برابر ہے اور ان کے نزدیک یہ پہلے معنی کے باعث ہے سریان وعموم کی وجہ سے نہیں ہے، ہاں اگر شیوع سے مراد اس کا سبب لیں تو ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ اور اس کی تفسیر وہ اختلاط سے کریں تو معنی یہ ہوں گے کہ سریان یا عموم کا سبب تمہارے نزدیک اختلاط ہی ہے اور وہ دونوں صورتوں میں یکساں ہے حالانکہ ملقی میں حکم مختلف ہے اتفاقاً، اور اس کا حق جواب آپ جان چکے ہیں، ہاں جو سریان کا گمان کرتا ہے اس پر رد کیا جائے گا اور وہ رد نہ کرے گا۔ (ت(
ثم اقول: ما ترقی بہ لااحصلہ فاولا(۱) لیس من شرط الاستعمال رؤیۃ مرورہ علی البدن ولا معاینۃ انفصالہ ولا لمرئیہ مزیۃ علی غیرہ مع تحقق العلم القطعی بہ ولا شک انہ شیئ متشخص بنفسہ فلا یضرہ عدم قدرتنا علی تمییزہ وثانیا لیس الاستعمال مقولا(۲) بالتشکیک لیکون المرئی اقوی من غیرہ وثالثا انما مبناہ(۳) علی ما ارتکز فی ذھنہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی ان الملاقی ھی الاجزاء الملاصقۃ ولیس کذلک بل الکل کما حققنا فکما ان المصبوب کان ممتازا منحازا متشخصا عاینا مرورہ علی البدن ثم انفصالہ عنہ کذلک کل الماء فی الفسقیۃ ممتاز منحاز متعین معاین ورود الاعضاء فیہ ثم انفصالہا منہ۔
میں کہتا ہوں برسبیل ترقی جو کچھ انہوں نے فرمایا ہے وہ درست نہیں، اولاً مستعمل ہونے کی یہ شرط نہیں ہے کہ اس کو بدن پر گزرتا ہوا دیکھا جاسکے، نہ اس کے جُدا ہونے کا دیکھنا ضروری ہے اور نہ ہی دیکھنے کے قابل ہونا اس کیلئے دوسروں پر وجہ فضیلت ہے، جبکہ اس کا علم قطعی ہو اور اس میں شک نہیں کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جو متشخص بنفسہ ہے تو ہمارا اس کی تمییز پر پر قادر نہ ہونا اس کو مضر نہیں، ثانیاً استعمال تشکیک کے قبیلہ میں سے نہیں تاکہ مرئی دوسروں سے اقوی ہو۔
ثالثاً اُس کا مبنیٰ صرف یہ ہے کہ اُن کے (رحمہ اللہ تعالیٰ) ذہن میں یہ بات مرکوز ہوگئی ہے کہ مُلاقی صرف وہ اجزاء ہیں جو متصل ہیں، حالانکہ یہ درست نہیں بلکہ تمام اجزا میں، جیسا کہ ہم نے تحقیق کی ہے جیسا کہ بدن پر ڈالا جانے والا پانی الگ اور ممتاز نظر آتا ہے اور جسم سے جدا ہوتا بھی دکھائی دیتا ہے اسی طرح حوض کا کُل پانی الگ اور ممتاز ہے جو نظر آتا ہے، اس میں اعضاء کا ڈوبنا اور جُدا ہونا بھی نظر آتا ہے۔ (ت(
فائدہ۴: کلام الاسرار المار برمتہ فی الفصل الثانی وقع اولہ موافقا لما وقع فی البدائع من ان المستعمل ھی الاجزاء الملاصقۃ بالبدن واٰخرہ نص صریح علی ماھو الحق حتی ان اخا صاحب البحر العلامۃ عمر بن نجیم رحمہم اللّٰہ تعالی مع اقتفائہ فی المسألۃ اٰثار البحر انصف فیما نقل عنہ فی ھامش البحر حین عقب عبارۃ الاسرار بقولہ فھذہ العبارۃ کشفت اللبس الخ فکتب علیہ نعم کشفت اللبس من حیث اٰخرھا الا ان محمدا یقول لما اغتسل بالماء القلیل صار الکل مستعملا حکما ۱؎
فائدہ ۴: اسرار کا مکمل کلام جو گزرا دوسری فصل میں اس کی ابتدأ بدائع کے مطابق ہے کہ مستعمل وہی اجزأ ہیں جو بدن سے متصل ہیں اور اس کا آخر حق پر نص صریح ہے، یہاں تک کہ صاحب البحر کے بھائی علامہ عمر ابن نجیم جو اس مسئلہ میں ان کے پیروکار ہیں،بحر کے حاشیہ میں نقل کرتے ہیں، اور نقل میں انصاف کیا ہے جہاں انہوں نے اسرار کی عبارت کے بعد کہا اس عبارت نے غبار صاف کردیا الخ اس پر کہا ہاں غبار صاف کردیا اُس کے آخر تک، صرف اتنا ہے کہ محمد کہتے ہیں کہ جب تھوڑے سے پانی میں غسل کیا تو کل حکماً مستعمل ہوگیا،
(۱؎ بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۱)