Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
55 - 176
اقول: ھذا لعمری من الحسن بمکان، تنشط بہ الاٰذان، وتبتھج بہ النفوس، ولا عطر بعد عروس، وقد وفقنی المولی، سبحٰنہ وتعالٰی، لمعناہ فیما مضی، واتقنت بیانہ، وشیدت ارکانہ، وبہ ظھر الفرق بین الملاقی والملقی، بحیث لایعتری وھم ولاشک یبقی، والعجب(۱) من الشیخ مشی علی التسویۃ بینھما محتجابا لتعلیلین ثم نقضہ بنقل تصحیح الصحیح، عن التحفۃ والتوشیح، ثم بعد اسطر عاد الیہ وجعل فرعی النزح والانتضاح اصرح صریح، ثم نقضہ بنقل الاصل الاصیل، عن ذخیرۃ الامام الجلیل، ثم لم یلبث ان عاد الیہ بنقل فرع الاصل، ثم نقضہ بنقل کلام العصام متصلا بہ من غیر فصل، وبہ ختم وانما العبرۃ للخواتیم، ختم اللّٰہ تعالی لنا علی الدین القویم، والصراط المستقیم، وبکل حسنی، وعلی نبینا الکریم والہ الکرام الصّلاۃ الزھرا والسلام الاسنی، والحمدللّٰہ رب العٰلمین۔
میں کہتا ہوں یہ بحث ذہنوں کو جِلا بخشنے والی ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اس کی تقریر کی ہے، اس سے ملقی اور ملاقی کے درمیان فرق ظاہر ہوگیا اور شک باقی نہ رہا، اور شیخ پر تعجب ہے کہ انہوں نے ان دونوں کو ایک قرار دیا ہے اور دو تعلیلوں سے استدلال کیا ہے پھر ایک صحیح کی تصحیح نقل کرکے اس پر نقض وارد کیا، یہ تحفہ اور توشیح کی نقول ہیں، پھر چند سطور کے بعد اس بحث کا اعادہ کیا اور نزح اور انتضاح کی دونوں فروع کو بہت صریح قرار دیا، پھر اس پر ذخیرہ سے نقض وارد کیا، پھر اصل کی فرع کو نقل کیا، پھر اس پر عصام کی نقل سے نقض وارد کیا اور اس پر کلام کو ختم کیا .......اللہ تعالیٰ ہمارا خاتمہ دینِ قویم صراطِ مستقیم اور تمام حسنات پر کرے، اور ہمارے نبی کریم ان کی آل مکرم پر صلاۃ وسلام نازل فرمائے آمین والحمدللہ رب العالمین۔
ۤ    الفصل الرابع فی فوائد شتی وتحقیق حکم الوضوء فی الحوض الصغیر

الحمدللّٰہ فرغنا عن الرسائل الثلاث بل الکتب الخمسۃ ھذہ والبحر والبدائع واتینا علی جمیع مافیھا والاٰن نذکر مابقی من الفوائد تکمیلا للعوائد وباللّٰہ التوفیق۔
        چوتھی فصل میں مختلف فوائد اور چھوٹے اور حوض سے وضو کا حکم۔

الحمداللہ کہ ہم تینوں رسائل بلکہ ان پانچوں کتب اور بحر وبدائع سے فارغ ہوگئے، اور ان میں جو کچھ تھا وہ بیان کردیا اور اب باقیماندہ فوائد تکمیل بحث کیلئے ذکر کرتے ہیں۔
فائدہ(۱):قال المحقق علی المقدسی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ فی شرح نظم الکنز ردا علی البحر مانصہ واما تاویل الکلام بان المراد بصیر ورتہ مستعملا صیرورۃ مالاقی اعضائہ منہ مستعملا فھذا بعید جدا اذلا یحتاج الی التنصیص علی ذلک اصلا ۱؎ اھ نقلہ فی منحۃ الخالق من الماء المستعمل واقرہ قلت قدمنا ثمانیۃ ردود علیہ وھذا تاسع وازیدک(۱) عاشرا فاقول اذا انغمس احد فی الماء ثم خرج ینقسم الماء الی خمسۃ اقسام قسم یبقی فی الحوض ولا ینفصل عن الماء بانفصال البدن والثانی یخرج مع البدن وینحدر عنہ بلامکث والثالث یمکث ویذھب بالتقاطر والرابع بلل یذھب بالنشف والخامس نداوۃ تبقی بعد النشف ایضا ولا تذھب الا بالجفاف بعمل الشمس والھواء ولا شک انھا ایضا اجزاء مائیۃ ولا تداخل فی الاجسام بل لا تلاصق فی الاجزاء کما تقدم فکان کل قسم فوق الاخر منفصلا عنہ وکان تحت الکل ذاک الندی فھو الذی لاقی البدن وھو لایقبل الانفصال ولا استعمال الابہ فلا استعمال تلک عشرۃ کاملۃ ۔
فائدہ ۱: محقق علی المقدسی نے کنز کی نظم کی شرح میں بحر پر رد کرتے ہوتے فرمایا، ان کی عبارت یہ ہے اور کلام کی یہ تاویل کرنا کہ پانی کے مستعمل ہونے سے مراد یہ ہے کہ جو پانی اس کے اعضاء سے ملا ہے وہ مستعمل ہوجائے گا، تو یہ بہت بعید ہے کہ یہ اس پر تنصیص کا قطعاً محتاج نہیں، اس کو منحۃ الخالق میں نقل کیا ہے مستعمل پانی کی بحث میں، اور اس کو برقرار رکھا ہے۔

میں کہتا ہوں ہم نے اس پر آٹھ رد کئے ہیں اور یہ نواں ہے اور اب دسویں کا اضافہ کرتے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ جو شخص پانی میں غوطہ لگائے اور پھر نکلے، تو پانی کی اس صورت میں پانچ قسمیں ہیں، ایک تو وہ جو حوض ہی میں رہتا ہے اور بدن سے جُدا ہونے کی وجہ سے پانی سے جُدا نہیں ہوتا ہے، اور دُوسرا بدن کے ساتھ نکلتا ہے اور بلا ٹھہرے اس سے نیچے آتا ہے،اور تیسرا ٹھہرتا ہے اور ٹپک کر ختم ہوجاتا ہے، اور چوتھا وہ تری ہے جو کپڑے کے ذریعے جذب کرنے کے بعد ختم ہوجاتی ہے۔پانچواں وہ تری جو کپڑے کے ذریعے جذب کرنے کے بعد بھی باقی رہتی ہے اور آفتاب یا ہوا سے خشک ہوجانے کے بعد ہی ختم ہوتی ہے اور بلاشبہ یہ بھی پانی کے اجزاء ہیں اور یہ اجسام میں تداخل نہیں بلکہ'' تلاصق فی الاجزائ'' بھی نہیں جیسا کہ گزرا، تو ہر قسم دوسری سے اوپر ہوئی اس سے جدا ہوئی اور ہر ایک کے نیچے وہ تری ہوتی ہے تو یہ وہ ہے جو بدن سے ملاقی ہے اور یہ انفصال کو قبول نہیں کرتا ہے اور استعمال بلا انفصال نہیں ہوتا ہے، تو مستعمل نہ ہوا، تو یہ دس مکمل ہوگئے۔
 (۱؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق    کتا ب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۸)
فان قلت: الامر کما وصفتم ولکنا نعدی الحکم الی ماعدا الاول لتعلقہ بالبدن ولذا انتقل بانتقالہ اقول اولا لانسلم انہ لتعلقہ بہ والا لکان لہ استمساک علیہ کالمتقاطر بل اندفع بدفعہ وانحدر بطبعہ الا تری ان المنغمس ان اندفع بعنف قوی صحبہ ماء کثیر او برفق فقلیل وان استدرج فی الخروج بحیث لایتحرک الماء حتی الامکان لم یکد یخرج معہ الا مایزول بالتقاطر مع ان اللقاء کان واحدا فعلم انہ لحرکۃ الدفع یختلف باختلافھا۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ درست ہے لیکن ہم حکم اوّل کے علاوہ دوسروں پر لگاتے ہیں کیونکہ اس کا تعلق بدن سے ہے اور اسی لئے اس کے منتقل ہونے سے وہ منتقل ہوجاتا ہے۔ میں کہتا ہوں اولاً ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ یہ اس کے تعلق کی وجہ سے ہے ورنہ وہ اس پر رکتا، جیسا کہ ٹپکنے والا، بلکہ اس کے دفع کرنے سے مندفع ہوگیا اور بالطبع منحدر ہوگیا مثلاً پانی میں غوطہ کھانیوالا اگر قوت سے نکلے تو اس کے ساتھ بہت پانی آئے گا اور اگر آہستگی سے ہو تو کم پانی آئیگا اور اگر اتنا آہستہ نکلے کہ حتی الامکان پانی میں حرکت نہ پیدا ہو تو اس کے ساتھ صرف اتنا پانی آئیگا جو ٹپک کر زائل ہوجائے حالانکہ ملاقاۃ ایک ہی ہے، تو معلوم ہوا کہ دفع کی حرکت میں اس سے اختلاف ہوتا ہے۔
فان قلت اذن لاریب فی تعلق المتقاطر فنحکم علیہ بالاستعمال وھو لاشک قابل الانفصال فیصح التاویل ولا ینتفی الاستعمال ۔
اگر یہ اعتراض ہو کہ اس صورت میں ٹپکنے والے کے تعلق میں کوئی شک نہیں تو ہم اس پر مستعمل ہونے کا حکم لگائیں گے اور بلاشبہ وقابلِ انفصال ہے تو تاویل صحیح ہوگی اور استعمال منتفی نہ ہوگا۔
اقول: شأن ما انحدر بلامکث عند الخروج بعد الانغماس شأن مامر وانحدر فورا من غسالۃ الوضوء والغسل فلا یستعمل الا مابقی بعدہ متساقطا بالتقاطر وھو خلاف الاجماع۔
میں کہتا ہوں غوطہ سے نکلنے کے فوراً بعد جو پانی بدن سے بہتا ہو اگرتا ہے اس کا حال اس پانی جیسا ہے جو وضو اور غسل کے فوراً بعد بہتا ہوا گرتا ہے تو مستعمل وہی ہوگا جو اس کے بعد قطرات کی صورت میں ٹپکتا رہے اور یہ اجماع کے خلاف ہے۔
وثانیا: شتان ما التعلق والتلاصق فالتعلق یشمل الدثار والتلاصق یختص بالشعار وھو الفرق بینہما فان قلت ھما ثوبان فیعد احدھما حاجزا للاٰخر عن التلاق، بخلاف الماء فانہ شیئ واحد فلا یحجز بعضہ بعضا بل الکل ملاق، اقول ذلک ماکنا نبغ فالماء کلہ واحد عندالانغماس، فالکل ملاق بلاوسواس،
دوسرا، تعلق اور تلاصق میں بہت فرق ہے، تعلق اَستر کو شامل ہے اور تلاصق اوپر والے حصہ کے ساتھ مختص ہے، اور یہی دونوں میں فرق ہے، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ تو دو کپڑے ہیں تو ان میں سے ایک دوسرے کی ملاقات کیلئے رکاوٹ ہے، اور پانی تو شے واحد ہے، اس کا ایک حصہ دوسرے حصّہ کیلئے رکاوٹ نہیں بن سکتا ہے وہ تو سارے کا سارا ایک دوسرے سے ملا ہوا ہے، میں کہتا ہوں یہ تو ہمارے حسبِ منشأ ہے، جب انسان پانی میں غوطہ لگائے گا تو پانی شیئ واحد ہوگا اور بغیر رکاوٹ آپس میں ملے گا۔
فائدہ ۲: قال العلامۃ الشیخ حسن الشرنبلالی فی شرحہ علی الوھبانیۃ ردا علی البحر مانصہ وما ذکر من ان الاستعمال بالجزء الذی یلاقی جسدہ دون باقی الماء فیصیر ذلک الجزء مستہلکا فی کثیر فھو مردود لسریان الاستعمال فی الجمیع حکما ولیس کالغالب بصب القلیل من الماء فیہ ۱؎ اھ
فائدہ ۲: علامہ شرنبلالی نے شرح وہبانیہ میں فرمایا بحر پر رد کرتے ہوئے، نص یہ ہے، اور یہ جو ذکر کیا ہے کہ استعمال اس جزء سے ہے جو بدن سے ملاہوا ہو نہ کہ باقی پانی سے، تو وہ جزئئ کثیر اجزا میں مل کر ختم ہوجائیگا، تو یہ مردود ہے کیونکہ حکماً تو استعمال تمام پانی میں سرایت کریگا، اور یہ اس غالب پانی کی طرح نہیں جس میں تھوڑا سا پانی مل گیا ہو اھ۔
 (۱؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق    کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۲)
Flag Counter