| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
قال والتحقیق ھنا ان المسألۃ مبنیۃ علی اصل ذکرہ ائمتنا فی کتاب الایمان ونقلوہ الی الرضاع قال فی الذخیرۃ حلف لایشرب لبنا فصب الماء فی اللبن فالاصل فی ھذہ المسألۃ واجناسھا ان الحالف اذا عقد یمینہ علی مائع فاختلط بمائع اخر خلاف جنسہ ان کانت الغلبۃ للمحلوف علیہ ۲؎
فرمایا دراصل یہ مسئلہ ایک اور اصل پر مبنی ہے جس کو ہمارے ائمہ ثلٰثہ نے کتاب الایمان میں ذکر کیا ہے اور اس کو رضاع کے بیان میں نقل کیا، ذخیرہ میں فرمایا کہ کسی شخص نے حلف اٹھایا کہ وہ دودھ نہیں پئے گا تو اس نے پانی دُودھ میں ملایا، تو اس مسئلہ میں اور اس کے نظائر میں اصل یہ ہے کہ حلف اٹھانے والے نے جب کسی سیال چیز پر حلف اٹھایا اور وہ کسی اور مائع سے مل گیا جو اس کی جنس سے نہ ہو تو اگر محلوف علیہ غالب ہے
(۲؎ رسالہ ابن شحنۃ)
(وسقط بقیۃ الکلام من نسختی زھر الروض(
(اور باقی کلام میرے زہرالروض کے نسخہ سے ساقط ہے) (ت(
اقول: سبحٰن(۱) اللہ یذکر الشیخ رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی اول الکلام ان الصحیح والمذھب المختار ھو اعتبار الغلبۃ وقد نص فی شرحہ للوھبانیۃ انہ الصحیح عن ائمتنا الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم وان علیہ الفتوی ثم یعود یحتج بفرعی النزح والانتضاح ویقول ذاک اصرح شیئ فی اتفاق الائمۃ الثلثۃ وھذا اصرح منہ وای مساغ بقی لھما بعدما تبین الحق الصحیح المذہب المختار المفتی بہ المطبق علیہ من ائمتنا الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالی عنھم وما فتح(۲) بابہ من بیان المبنی وھو فرع الحلف فھو اصرح شیئ فی ان المدار علی الغلبۃ فان کان اقرہ فی اٰخر کلامہ الذاھب من نسختی فھو کرعلی مااحتج بہ بالنقض والا فاعجب واعجب وسیمکث الشیخ غیر بعید ویعود الی الحق کما سیأتی بتوفیقہ تعالی فلولا انہ اورد ھذا الکلام واحتج بھذین الفرعین ھنا وذینک التعلیلین ثمہ لکان کل کلامہ صحیحا سدیدا ولکن اللّٰہ یفعل مایرید۔
میں کہتا ہوں سبحان اللہ شیخ کلام کی ابتداء میں ذکر کرتے ہیں کہ صحیح اور مذہب مختار غلبہ کا اعتبار ہی ہے اور شرح وہبانیہ میں اس پر نص ہے کہ ہمارے ائمہ ثلٰثہ سے یہی صحیح ہے، اور اسی پر فتوٰی ہے پھر انہوںنے نزح اور انتضاح کی دونوں فرعوں پر کلام کیا، اور فرمایا کہ یہ ائمہ ثلثۃ کے اتفاق میں صریح چیز ہے اور یہ اس سے زائد صریح ہے اور مذہب حق وصحیح، اور مذہب مختار مفتی بہ اور ائمہ ثلثہ (حنفی مذہب کے) کا متفق علیہ مذہب معلوم ہوجانے کے بعد اُن دونوں کیلئے کیا وجہ جواز رہ گئی ہے! اور بیان مبنی کا جو دروازہ کھولا ہے اور وہ حلف کی فرع ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دارومدار غلبہ کو ہے، اگرا نہو ں نے اس کو برقرار رکھا ہے اپنے اس کلام میں جو میرے نسخہ سے ساقط ہے تو یہ اسی طرف رجوع ہے جس پر نقض سے استدلال کیا ہے، ورنہ بہت ہی تعجب خیز بات ہے، اور عنقریب آجائے گا کہ شیخ نے حق کی طرف رجوع کیا بتوفیق تعالیٰ، اگر وہ یہ کلام یہاں نہ لاتے اور ان دو فرعوں سے استدلال نہ کرتے اور وہاں دو تعلیلیں بیان نہ کرتے تو کل کلام صحیح ہوتا، لیکن اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
ثمّ کتب تتمۃ قال فیھا ان من ادل الدلیل علی انہ لایجوز التوضی فی ھذا الحوض عند واحد من علمائنا رحمھم اللّٰہ تعالٰی مافی کتاب الاصل لمحمد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ روایۃ الامام ابی سلیمن الجوزجانی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ عنہ فی باب الوضوء والغسل قلت ارأیت جنبا اغتسل فانتضح من غسلہ شیئ فی انائہ ھل یفسد علیہ الماء قال لا قلت لم قال لان ھذا مالا یستطاع الا متناع منہ قلت ارأیت ان افاض الماء علی رأسہ اوجسدہ اوغسل فرجہ فجعل ذلک الماء کلہ یقطر فی الاناء قال ھذا یفسد الماء ولا یجزئہ ان یتوضأ ولا یغتسل بہ ۱؎
پھر انہوں نے ایک تتمہ لکھا اور فرمایا کہ پھر اس پر سب سے بڑی دلیل اس پر کہ ہمارے کسی امام کے نزدیک اس حوض سے وضو جائز نہیں۔ امام محمد کی اصل میں وار دشدہ روایت ہے جو اما ابو سلیمان الجوزجانی کی روایت ہے اور باب الوضوء وباب الغسل میں مذکور ہے، روایت یہ ہے کہ میں نے کہا اگر ایک جنب نے غسل کیا اور اس کے چھینٹے ایک برتن میں گرے تو کیا پانی خراب ہوگیا، فرمایا نہیں، میں نے کہا کیوں؟ فرمایا یہ ایسی چیز ہے جس سے بچنا محال ہے، میں نے پوچھا اگر جنُب نے اپنے سر یا جسم پر پانی ڈالا یا اپنی شرمگاہ دھوئی اور یہ پانی برتن میں جمع ہوتا رہا فرمایا اس سے پانی فاسد ہوجائیگا، نہ اس سے وضو جائز ہوگا نہ غسل،
(۱؎ کتاب الاصل المعروف بہ المبسوط امام محمد باب الوضوء والغسل من الجنابۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/۲۴)
قال وقال فی باب البئر وما ینجسھا قلت ارأیت رجلا طاھرا وقع فی بئر فاغتسل فیھا قال افسد ماء البئر کلہ قلت وکذلک لوتوضأ فیھا قال نعم قلت وکذلک لو استنجی فیہا قال نعم قلت فما حال البئر قال علیھم ان ینزحوا ماء البئر کلہ الا ان یغلبھم الماء قلت ارأیت الرجل ھل یجزئہ وضوئہ ذلک قال لا ۱؎
فرمایا انہوں نے کنویں اور اس کی نجاستوں کے باب میں فرمایا، میں نے پُوچھا اگر ایک پاک شخص کنویں کے پانی میں گر گیا اور اس میں غسل کیا، فرمایا کل پانی خراب ہوجائیگا، میں کہتا ہوں یہی حکم کنویں میں وضو کا ہے؟ فرمایا ہاں، میں نے کہا اسی طرح اگر کنویں میں استنجا کیا؟ فرمایا ہاں، میں نے پوچھا اور کنویں کی بابت کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا کنویں کا سارا پانی نکالنا چاہئے، الا ّیہ کہ نکالتے نکالتے تھک جائیں، میں نے پوچھا کیا اُس شخص کیلئے یہ وضو کافی ہوگا؟ فرمایا نہیں،
(۱؎ کتاب الاصل المعروف بہ المبسوط امام محمد رجل طاہر وقع فی البئر ادارۃ القرآن کراچی ۱/۸۳)
وسکت علیہ ولم یعزہ لاحد من شیخیہ وھذا شأنہ فی المتفق علیہ کما صرح بہ اول الکتاب ۲؎ اھ
اس پر وہ خاموش ہوگئے اور اپنے شیوخ میں سے کسی کی طرف اس کو منسوب نہ کیا، اور متفق علیہ مسائل میں ان کا یہی طریقہ تھا جیسا کہ کتاب کے شروع میں ذکر کیا اھ (ت(
(۲؎ رسالہ ابن شحنۃ )
اقول: الفرع الاخیر فی الملاقی وھو لاشک صحیح، والتمسک بہ نجیح، وھو اصرح تصریح، اما الاول ففی(۱) الملقی ولا محید من ابتنائہ علی احد ضعفین ولیس الاصل ھذا کتاب المبسوط احدالکتب الستۃ الظاھرۃ بل من الکتب النادرۃ فکیف یعارض بہ مذھب ائمتنا جمیعا الصحیح المختار المفتی بہ وباللّٰہ التوفیق ثم قال رحمہ اللّٰہ تعالٰی ونقل عصام الدین فی شرح الھدایۃ بعد الکلام علی مسألۃ انغماس الجنب فی البئر ھذا مبنی علی ان اجزاء ماء الذی فی محل واحد بمنزلۃ شیئ واحد فی حکم الاستعمال لانہ ینسب الی الجمیع عرفا بل لغۃ ایضا اذ لا تذھب افھام اھل العرف واللغۃ الی ان المستعمل بعض ھذا الماء والباقی ممتزج بہ الا تری ان الماء المستعمل عند من یجعلہ طاھرا غیر طہور اذا وقع فی ماء اٰخر لایفسدہ حتی یغلب علیہ بھذا قطع فی الاسرار جعلہ فی التحفۃ اصح ولو صب ماء کثیر علی العضو یصیر الکل مستعملا عندھم مع ان الملاقی للبشرۃ مغلوب بناء علی ان الکل واحد فی حکم الاستعمال وقد اشیر الی ھذا المعنی فی الاسرار ۱؎
میں کہتا ہوں فرع اخیر ملاقی میں ہے اور وہ بلاشبہ صحیح ہے اور یہ تمسک کے قابل اور واضح تصریح ہے اور پہلی فرع ملقی میں ہے، اور سوائے اس کے چارہ کار نہیں کہ دو میں سے ایک ضعیف پر بِنا کرنا چاہئے، اور اصل سے مراد وہ مبسوط نہیں جو چھ ظاہر کتب میں سے ایک ہے بلکہ کتب نادرہ سے ہے، تو جو اس میں مذکور ہے وہ ہمارے ائمہ کے صحیح مختار مفتی بہ سے کیسے معارض ہوسکتا ہے وباللہ التوفیق، پھر فرمایا، عصام الدین نے شرح ہدایہ میں، جنب کے کنویں میں غوطہ لگانے کا مسئلہ ذکر کرنے کے بعد فرمایا یہ اس پر مبنی ہے کہ پانی کے تمام اجزاء جو ایک جگہ ہیں وہ حکم استعمال میں بمنزلہ شیئ واحد کے ہیں، کیونکہ وہ عرفاً تمام ہی کی طرف منسوب ہوتا ہے بلکہ لغت میں بھی ایسا ہے، کیونکہ اہلِ عرف اور اہلِ لغت یہ لفظ سن کر یہ نہیں سمجھتے ہیں کہ کچھ پانی تو مستعمل ہے اور کچھ اس میں ملا ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ جن حضرات کے نزدیک مستعمل پانی طاہر غیر طہور ہے جب کسی دوسرے پانی میں گر جائے تو اس کو اس وقت تک فاسد نہ کرے گا جب تک اس پر غالب نہ ہوجائے۔ اسرار میں اس پر قطعی حکم لگایا اور تحفہ میں اس کو اصح قرار دیا ہے اور اگر کسی عضو پر بہت سا پانی ڈالا تو ان کے نزدیک سارا پانی مستعمل ہوجائے گا، حالانکہ جو پانی جلد سے متصل ہے وہ مغلوب ہے کیونکہ حکمِ استعمال میں سب ایک ہی ہے اور اسی معنی کی طرف اسرار میں اشارہ کیا ہے۔
(۱؎ رسالہ ابن شحنۃ )