Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
53 - 176
وفرع الخانیۃ قال محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی اذا کان علی ذراعیہ جبائر فغمسھا فی الماء اوغمس رأسہ فی الاناء لایجوز ویصیر الماء مستعملا ۱؎ اھ۔
خانیہ کی فرع، محمد نے فرمایا کسی کے ہاتھ پر پٹیاں ہوں، پھر وہ ہاتھ پانی میں ڈبودے یا سر ڈبودے تو جائز نہیں، اور پانی مستعمل ہوجائیگا اھ۔
 (۱؎ فتاوی خا نیۃ المعروف بقاضی خان    فصل فی الماء المستعمل    نولکشور لکھنؤ    ۱/۸)
قال وانما قدمت ھذا التنبیہ تنبیھا لمن یظن ان الفتوی علی قول محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی ذلک لاطلاق اصحاب الکتب ان الفتوی علی قولہ فی الماء المستعمل وانما مرادھم ان الفتوی علی قولہ فی کونہ طاھرا لافیما یصیر بہ مستعملا علی انہ سیرد علیہ فی الفصل الثانی ان التحقیق ان ھذا (ای طہارتہ) مذھب ابی حنیفۃ ایضا وانما اشتھرت نسبتہ الی محمد لکونہ فی جملۃ من رواہ عن الامام ۲؎ اھ۔
اور فرمایا میں نے یہ تنبیہ اس لئے کی ہے تاکہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ فتوٰی محمد کے قول پر ہے وہ متنبہ ہوجائیں کیونکہ اصحاب کتب نے اطلاق فرمایا ہے کہ فتوٰی ان کے قول پر ہے مستعمل پانی میں۔ حالانکہ ان کی مراد یہ ہے کہ فتوٰی محمد کے قول پر ہے پانی کے طاہر ہونے میں نہ کہ مستعمل ہونے میں۔ علاوہ ازیں آپ دوسری فصل میں دیکھیں گے کہ تحقیق یہی ہے کہ یہ (یعنی اس کی طہارت) مذہب ابی حنیفہ بھی ہے، اس کی نسبت محمد کی طرف محض اس لئے مشہور ہوگئی ہے کہ وہ بھی اس کے راویوں میں ہیں اھ۔
 (۲؎ رسالہ ابن الشحنۃ)
اقول: ای انہ اجل من رواہ وقد اخذ بہ وھذا اول التصحیحین الموعود بیانھما ثم اتی علی سرد الفروع وفیھا مما یفیدنا فرع الخلاصۃ ان ادخال الکف مجردا انما لایصیر مستعملا اذالم یرد الغسل فیہ بل اراد رفع الماء فان اراد الغسل ان کان اصبعا اواکثر دون الکف لایضرومع الکف بخلافہ ۳؎ اھ
میں کہتا ہوں وہ اس کے راویوں میں بزرگ تر ہیں اور انہوں نے اس کو اختیار کیا ہے اور یہ پہلی تصحیح ہے جن دو کا ہم نے وعدہ کیا تھا، پھر فروع کا بیان کیا۔ خلاصہ کی فرع، ہاتھ کا داخل کرنا محض پانی لینے کیلئے، بلا ارادہ غسل، پانی کو مستعمل نہیں کرتا ہے، اور اگر بہ نیتِ غسل ہو تو اگر ایک ہتھیلی سے کم ہے تو مضر نہیں، اور اگر ایک ہتھیلی ہے تو مضر ہے اھ۔
 (۳؎ خلاصۃ الفتاوی        فصل فی الماء المستعمل    نولکشور لکھنؤ    ۱/۶)
قلت: وقدمنا تحقیق ان الانملۃ والظفر والکف سواء وفرع الخلاصۃ عن فقہ الامراء ھذا اذاکان الذی یدخل یدہ فی الاناء اوالبئر بالغا فان کان صبیا ان علم ان یدہ طاھرۃ بان کان مع الصبی رقیب فی السکۃ یجوز التوضی بذلک ۱؎ ۔۔۔الخ
میں کہتا ہوں ہم پہلے تحقیق پیش کر آئے ہیں کہ پورا ناخن اور ہتھیلی حکم میں برابر ہیں۔ خلاصہ کی فرع فقہ الامراء سے، یہ اُس وقت ہے جبکہ ہاتھ داخل کرنے والا بالغ ہو اور اگر نابالغ ہے تو اگر یہ معلوم ہے کہ اس کا ہاتھ پاک تھا مثلاً بچّہ گلی میں اپنے کسی محافظ کے ہمراہ تھا تو اس سے وضو جائز ہے۔۔۔الخ
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوی    الماء المستعمل        نولکشور لکھنؤ    ۱/۸)
سساقول: وبہ فارق البالغ فافاد ان لو ادخل البالغ یدہ فی اناء اوبئر لم یجزالوضوء بہ(۱) ھذا کنص کتاب الحسن لایبقی لتاویل البحر مساغا ثم عقد الفصل الثانی فی حکم الماء المستعمل ومتی یصیر مستعملا وقال بعد ما بین ماھو بین بنفسہ ومسلم عند الکل اعنی عدم جواز الوضوء بالماء المستعمل عند ائمتنا جمیعا مانصہ ھذا مع عمومہ یشہد للفصل الاول قال وکفی بذلک ۲؎ حجۃ اھ۔
میں کہتا ہوں اس سے بالغ ونابالغ میں فرق ظاہر ہوگیا، اس سے معلوم ہوا کہ اگر بالغ نے برتن یا کنویں میں اپنا ہاتھ ڈالا تو اس سے وضو جائز نہیں اور یہ حسن کی کتاب کے نص کی طرح ہے۔ اس میں بحر کی تاویل کی کوئی گنجائش نہیں، پھر دوسری فصل مستعمل پانی کے حکم کے بیان میں قائم کی، اور یہ بتایا کہ پانی کب مستعمل ہوگا، اور پھر جو انہوں نے اس کو واضح کرنے کے بعد جو خود واضح ہے اور تمام کے نزدیک مسلّم ہے یعنی مستعمل پانی سے وضو کا جائز نہ ہونا ہمارے تمام ائمہ کے نزدیک کہا اس کی نص یہ ہے ''یہ اپنے عموم کے ساتھ پہلی فصل کیلئے شہادت دیتی ہے'' اور یہ کافی حجت ہے اھ۔ (ت)
 (۲؎ رسالہ ابن الشحنۃ    )
اقول: ھذا نظیر(۲) تمسک البحر بالاطلاق فنظر الی اطلاق ان العبرۃ للغلبۃ ولم یلاحظ ان الشأن فی قصر الاستعمال علی ماالتصق بالجلد فقط والشیخ نظر الی ھذا العموم ولم یلاحظ ان الکلام فی تعمیم الاستعمال جمیع الماء القلیل بدخول نحو ظفر من محدث ثم اورد خاتمۃ فی حکم ملاقاۃ الماء الطاھر للماء الطھور وبین ان العبرۃ للغلبۃ ونقل تصحیحہ عن التوشیح والتحفۃ وعنھا انہ المذھب المختار۔
میں کہتا ہوں یہ بحر کے اطلاق کو دلیل بنانے کی ایک نظیر ہے تو انہوں نے اطلاق کو دیکھتے ہوئے فرمایا کہ اعتبار غلبہ کا ہے اور یہ نہیں دیکھا کہ مستعمل ہونا اُسی پانی کیلئے ہے جو جلد سے متصل ہو، اور شیخ نے اس عموم کی طرف دیکھا اور یہ نہ دیکھا کہ گفتگو اس امر میں ہے کہ تھوڑا پانی مکمل طور پر مستعمل ہوجائے گا خواہ بے وضو اپنا ایک ناخن ہی کیوں نہ ڈالے۔ پھر خاتمہ اس امر کے بیان میں ہے کہ طاہرپانی طہور پانی سے جب ملے گا تو اعتبار غلبہ کو ہوگا، اور اس کی تصحیح توشیح اور تحفہ سے نقل کی اور اسی سے نقل کیا کہ یہ مذہب مختار ہے۔
قلت: وھذا ھو ثانی التصحیحین الموعود بیانھما فاعترف(۱) الشیخ بالحق، وذھب تسویۃ الملقی بالملاقی وزھق، ثم نقل فرع الخانیۃ ومثلہ عن شرح القدوری لمختصر الکرخی فی نزح عشرین دلوا اذا القی الوضوء فی البئر قال فھذا اصرح شیئ فی اتفاق الائمۃ الثلثۃ علٰی تاثیر الماء المستعمل فی الماء الطھور وان کان اقل منہ وذکر عن شرح الجامع الصغیر لقاضی خان انتضاح الغسالۃ فی الاناء اذا قل لایفسد الماء وتکلموا فی القلیل عن محمد ماکان مثل رؤس الابر قلیل وعن الکرخی ان کان یستبین مواقع القطر فی الماء فھو کثیر وان کان لایستبین کالطل فقلیل قال وھذا رحمک اللّٰہ اصرح مما تقدم وقد حکی ھذا فی الفوائد الظہیریۃ وعلیہ مشی القدوری وحکی عن ابی سلیمن انہ سئل عن ماء الجنابۃ اذا وقع وقوعا یستبین وتری عین القطرات ظاھرۃ قال انہ لیس بشیئ ۱؎
میں کہتا ہوں یہ دوسری تصحیح ہے جن دو کا ہم نے وعدہ کیا تھا، تو شیخ نے حق کا اعتراف کرلیا، اور ملقی اور ملاقی کی برابری ختم ہوئی، پھر خانیہ کی فرع نقل کی اور اسی قسم کی شرح قدوری مختصر کرخی کی فرع نقل کی۔ یہ بیس ڈول کھینچنے سے متعلق ہے یہ اس صورت میں ہے جبکہ وضو کا پانی کنویں میں ڈالا ہو، فرمایا پاک پانی میں مستعمل پانی کے اثر انداز ہونے کی ائمہ ثلثہ کے نزدیک یہ واضح مثال ہے، اگرچہ وہ اُس پانی سے کم ہو، اور قاضی خان کی شرح جامع صغیر سے یہ نقل کیا کہ اگر دھوون کے کچھ قطرات برتن میں گر جائیں اور کم ہوں تو پانی کو فاسد نہ کریں گے، اور قلیل میں کلام کیا ہے، اس میں محمد سے منقول ہے کہ جو سوئی کے ناکوں کے برابر ہو وہ قلیل ہے اور کرخی سے یہ منقول ہے کہ پانی کے قطرے اگر پانی میں ظاہر ہوں تو یہ کثیر ہے اور اگر ظاہر نہ ہوں جیسے شبنم کے قطرے ہوتے ہیں تو یہ قلیل ہے فرمایا یہ گزشتہ مثال سے بھی زائد صریح ہے، یہ فوائد ظہیریہ میں مذکور ہے، اسی پر قدوری چلے ہیں، اور ابو سلیمان سے کسی نے جنابت کے پانی کی بابت دریافت کیا کہ اگر اس کے قطرے پانی میں پڑ جائیں اور واضح نظر آئیں، فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں،
 (۱؎ رسالہ ابن الشحنۃ)
وفی فتاوی قاضیخان خلاف ھذا وفی خزانۃ المفتین جنب اغتسل فانتضح من غسلہ فی انائہ لم یفسد الماء اما اذا کان یسیل فیہ سیلانا افسدہ ۱؎
فتاوٰی قاضیخان میں اس کے برعکس ہےاور خزانۃ المفتین میں ہے کہ ایک ناپاک آدمی نے غسل کیا اور اس کے چھینٹے برتن میں گرے تو پانی فاسد نہ ہوگا اور اگر اس میں بہنے لگا تو پانی فاسد ہوجائے گا،
 (۱؎ بحرالرائق        کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۱)
Flag Counter